Skip to main content

Posts

Showing posts from 2018

خالی ہاتھ حصہ دوئم

اگلے دن صبح دس بجے میں اسے جگہ پہنچ گیا. مجھے لے کے ماہ نور ایک پارک میں بیٹھ گئی.اس ماہ جبین کا نام ماہ نور تھا. اس کے والد کے انتقال کو تین سال گزر گئے تھے اور اس کی والدہ ڈائلیسس پہ تھیں. ایک چھوٹی بہن جو پانچویں جماعت میں پڑھتی تھی وہی اس کا واحد سہارا تھی. ایسے حالات میں تنگ آ کر جب گھر سے نکلنے کا سوچا تو میٹرک پاس لڑکی کو کہیں پر بھی اچھی نوکری نہ مل سکی. اسکی کسی جاننے والی نے اسے اس ہوٹل کی نوکری کا بتایا تھا جہاں تماش بین روزانہ ہزاروں روپے لٹا دیتے ہیں. ہوٹل میں اس نے باقاعدہ رقص کی مہارت حاصل کر کے یہ کام شروع کر دیا تھا. اس کام میں اتنا پیسہ تھا کہ جتنا وہ چھ مہینے کی نوکری میں بھی نہ کما سکتی. اس کا ایک مخصوص رکشے والا ہر روز اسے مخصوص وقت پر اس کے گھر سے اٹھاتا اور رات کو گلی کنارے چھوڑ دیتا. اس کا گنجان آباد علاقے میں جلدی سو جانے والے لوگوں کو خبر بھی نہ تھی ان کے پڑوس میں رہنے والے اس گھر میں کفالت کون کر رہا ہے. وہ چاہتی تھی اگر اسے شادی کرکے سہارا دوں تو اس کی والدہ اور بہن کا خرچہ بھی میں اٹھاؤں. میں ان سب چیزوں کے لیے راضی تھا. مجھے ان باتوں پر کوئی اعتراض نہ ت...

موتی

یہ پچھلے سال کی بات ہے. میری بہن کی شادی تھی میں بہت مصروف تھی. انہی دنوں میں اپنے بیٹے کے ساتھ بازار گئی. گاڑی میں بیٹھے اسے ایک موتی ملا. وہ اسے دیکھ رہا تھا. میں نے بھی زیادہ دھیان نہیں دیا کہ پانچ سال کا بچہ ہے. میرا دھیان کسی دوسری طرف تھا جب اس نے وہ درمیانے سائز کا موتی لے کر اپنی ناک میں ڈال لیا. میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے. وہ موتی سانس لینے کی وجہ سے ناک کی ہڈی تک چلا گیا. مجھے اس نے بتایا تک نہیں کہ ڈانٹ پڑے گی. اگلے دن اس کی ناک سے خون سا نکلا. میں نے پونچھا اور اس کی ناک صاف کرنے لگی تو وہ چیخا. مجھے تب بھی سمجھ نہیں آئی کہ ہوا کیا ہے. صبح اسکول گیا واپس آ کر سویا تو مجھے لگا اس کی ناک میں کچھ سفید ہے لیکن جب ہاتھ لگوں تو وہ چیخے.. شام کو میں نے ہوم ورک کروانے کے لیے بیٹھایا. (میں جب بھی اسے ہوم ورک کرواؤں اور نہ کرے تو بہت غصہ آتا ہے.) اس دن بھی یہی ہوا وہ کام کر ہی نہیں رہا تھا. میں نے غصے میں آ کر ایک تھپڑ اس کے سر پہ رسید کیا کہ ایک دم ناک سے موتی نکل کر فرش پہ گر گیا. یہ دیکھ کر میری چیخیں نکل گئیں... میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اتنا بڑا بچہ...

خالی ہاتھ

ہال میں روشنیاں جگمگا رہیں تھیں. رقص و سرور کی محفل اپنے عروج پہ تھی. ہر کوئی مست تھا.صرف ایک وہی تھا جسے سوائے اس حسینہ کو دیکھنے کے کوئی اور کام ہی نہ تھا. وہ حسین تھی، خوبصورت تھی اور اس محفل کی جان تھی. اس کے دراز گیسو، لمبی غلافی آنکھیں، سرخ انگارہ سرخی سے سجے ہونٹ جہاں اسکو اپنی جانب کھینچ رہے تھے وہیں اس کے جسم کے نشیب و فراز، اس کے رقص کی رنگینی ہر ایک کے لیے ہی مرکز نگاہ بنی ہوئی تھی. بھلا کوئی اتنا خوبصورت بھی ہوتا ہے؟وہ حیران تھا.. .............................. کالج تک تو کبھی وہ کو ایجوکیشن میں بھی نہیں پڑھا تھا مگر یونیورسٹی میں نہ صرف کو ایجوکیشن تھی بلکہ اسے اپنے آبائی گاؤں کی حویلی چھوڑ کر شہر آنا پڑا تھا. جیسے ماں کی گود سے نکلا بچہ کھو جائے تو پریشان ہو جاتا ہے بالکل ایسا ہی حال منیر نواز ملک کا بھی تھا. جس کی حویلی میں بڑے بڑے زنان خانے اور مردان خانے تھے. وہ لڑکیوں کے ساتھ کلاس میں کیسے بیٹھتا؟ شہر کے لڑکے لڑکیوں کے ساتھ کرسیاں ڈھونڈتے تھے اور وہ کسی الگ تھلگ جگہ کی تلاش میں رہتا.. اوو شرمیلی بنو.. ذرا چوڑیاں پہنا دو.. لڑکوں نے بھی اب مذاق اڑانا شروع کر دیا تھا....

Collect moments not things

کتنی خوبصورت جگہ ہے.. میں جب پہلی بار ناران گئی تھی تو بس یہی حالت تھی. اونچے پہاڑ، خوبصورت وادیاں، آبشار، سرسبز درخت.. بس دل کرتا ہے دیکھتے ہی رہو.. جھیل سیف الملوک تو قدرتی حسن کا مجموعہ ہے. اسے دیکھ کر کوئی خود پہ اختیار نہ رکھ سکے. سارا وقت موبائیل سے تصویریں لینے میں گزرا اور میرے میاں صرف ان مناظر کو خود میں جذب کرتے رہے. کبھی کیمرے کی آنکھ سے باہر دیکھا ہے یہ دنیا بہت خوبصورت ہے... گھر آنے پہ انہوں نے کہا تھا. تب سے آج تک سارا دھیان ان لمحوں سے لطف انداز ہونے میں گزرتا ہے جو بھی کسی خوبصورت جگہ گزاریں..

اميد

اس کی سپورٹس کار چمچماتی سڑک پہ رواں تھی. اس نے کالے سوٹ پہ کالا اور سرخ باریک دوپٹہ گلے میں ڈال رکھا تھا جو ہوا سے اڑ رہا تھا. اس کا خوبصورت چہرہ دھوپ میں چمک رہا تھا. اس کے ہونٹوں پر نیچرل کلر کی لپ اسٹک لگی تھی. لمبی لمبی پلکوں پہ نفیس سا لائنر لگائیے. اس نے اپنی آنکھیں ایک ادا سے اٹھائی اور ریان کی جانب دیکھا. اس کے خوبصورت ہونٹ مسکرا رہے تھے. لمبی لمبی مخروطی انگلیوں سے اس نے اپنے سلکی بالوں کو ایک جھٹکا دیا اور ادا سے بولی اور کتنی دیر ہے ریان؟ بس آتا ہی ہوگا. ریان اس کی آنکھوں میں جھانکتا بولا. وہ دلکشی سے مسکرائی. گاڑی میں چلتے گانے میں وہ دونوں ہی کھو گئےتھے. تیرا میرا رشتہ پرانا.... وہ سننے لگی مگر اچانک گاڑی کو بریک لگی اور اس کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکرایا. آہ... اس کے منہ سے کراہ نکلی تھی. کٹ... ویل ڈن.... بیک اپ.... باقی کل... ڈائریکٹر ہدایات دینے لگا. وہ گاڑی سے اتری اور لمبی ہیل سے سہج سہج چلتی چینج روم میں چلی گئی. اس نے جلدی سے کپڑے چینج کیے تھے اگر ڈائریکٹر چلا جاتا تو مسئلہ ہو جانا تھا. کپڑے بدل کر باہر آئی. ا...

سمندر میں چابی

یہ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ہمارے پورے خاندان نے دمام جانے کا پلان بنایا۔۔تاکہ اچھی سی پکنک کی جائے اور سمندر پہ نہایا جائے۔چار پانچ فیملیز اکھٹے گئیں تھیں۔سب سمندر میں گھسے اور نمکین پانی میں خوب غوطے لگائے۔۔سوائے ہمارے میاں کے جن کو پانی سے زیادہ نیند پیاری ہے سو وہ سکون سے گاڑی میں اے سی لگا کر سوتے رہے اور باقی سب لوگ مزے کرتے رہے۔ جب سب نہا کر فارغ ہوئے تو ہمارے میاں صاحب آنکھیں ملتے اٹھے اور منہ ہاتھ دھونے چل پڑے۔۔ اسی وقت پتہ چلا کہ ان کے بڑے بھائی کی گاڑی کی چابی غائب ہے اور اب گاڑی نہیں کھول سکتی سو سب سامان بھی لوک ہو گیا ہے۔اضافی ابی بھی نہ تھی اور چابی تھی بھی ریمورٹ والی آٹومیٹک گاڑی کی۔اب تو سب کا رخ سمندر کی جانب تھا۔ ہمارے اونگتے ہوئے میاں صاحب نے خبر سننی اور کپڑے بدل کر سکون سے سمندر کے اندر گئے جدھر وہ نہائے تھے پہلا ہاتھ مارا چابی نکالی اور واپس آ گیا۔۔۔ سب لوگ حیرت سے انہیں تکتے ہی رہ گئے اور سب نے کہا کہ اتنی دور سے تم صرف چابی ڈھونڈنے کے لیے ہی آئے تھے۔۔۔ ہم خود یہی فرماتے رہے کہ پکنک تو منائی نہیں سمندر کا پانی توچکھا نہیں۔۔۔پھر اتنے سفر کا فائدہ؟؟ مگر پھر اق...

قصہ ان راتوں کا

ہر لکھاری ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔کوئی کسی مخصوص اوقات میں لکھتا ہے۔۔کوئی روز۔۔مجھے تو جب نزول ہو تبھی لکھتی ہوں۔۔ویسے اب تک میں نے سماجی معاشرتی موضوعات پہ ہی زیادہ لکھا ہے۔لیکن جب ایالف کتاب کی جانب سے خوفناک اور پرسرار کہانیاں منگوائیں گئیں تو سوچا اس پہ بھی قلم اٹھایا جائے۔۔ میںخود نہایت ڈرپوک واقع ہوئی ہوں اور مجھ سے کچھ بھی ہارر نہیں دیکھا جاتا۔۔پھر بھی ناجانے کیوں ایک حویلی کا قصہ لکھنا شروع کر دیا۔مری میں واقع ایک حویلی جس میں ایک پرسرار روح موجود تھی۔ساری کہانی دن کے اوقات میں لکھی تبھی اتنا خوف محسوس نہ ہوا۔قصہ اس حویلی کا مکمل ہوئی تو بھجوانے کے کچھ دن بعد ایک ایڈیٹر کا فون آیا کہ اس کو تھوڑا طویل کر دیا جائے تاکہ پڑھنے والے محظوظ ہو سکیں۔۔ اس دن میرے میاں صاحب حج پہ روانہ ہو رہے تھے۔ان کے جاتے ہی رات کا سکون میسر آتے ہی میں کاغذ قلم پکڑے بیٹھ گئی۔۔سوچ سوچ کر لکھ رہی تھی کہ لگا باہر دروازے پہ کھٹکا ہوا ہے۔ڈر ڈر کے دیکھا کوئی نہ تھا۔پھر کچھ لکھا تو لگا پہ دروازہ بج رہا ہے اس بار بھی کوئی نہیں تھا۔پھر بیٹھی ہی تھی کہ کمرے کا دروازہ بند ہو گیا۔۔مجھے لگا کہ مری کی چڑیل اس کم...

لائبریری

یونیورسٹی شروع ہوئے تھوڑے ہی دن ہوئے تھے۔ڈیپارٹمنٹ نیا تھا۔لوگ نئے شہر بھی تو نیا تھا۔وہ تو ایک دور دراز کے چھوٹے سے قصبے سے آئی تھی۔ہوسٹل بھی اچھا تھا۔بس ابھی اس کے ہوسٹل میں کوئی بھی کلاس فیلو نہیں تھی سب کے الگ الگ ہوسٹل تھے۔یہاں آ کر اپنے سارے کام تو خود کرنے آ گئے تھے۔۔ چند ہی ہفتے گزرے تھے کہ پہلی اسائمنٹ آ گئی اس نے نہایت جوش سے ٹاپک سنا لکھا اور ازبر کیا۔کلاس ختم ہوتے ہی وہ رجسٹر اٹھائے لائبریری کی طرف بڑھ گئی۔ ڈیپارٹمنٹ کی اپنی بھی لائبریری تھی مگر مرکزی لائبریری کی تو بات ہی کچھ اور تھی۔۔ وہ پندرہ منٹ کی واک کے بعد لائبریری پہنچی۔۔کشادہ لان ہری ہری گھاس اونچے اونچے سرو کے درخت۔۔وہ کافی پرسکون محسوس کرنے لگی۔اس نے تازی ہوا اپنے اندر اتاری تھی۔دماغ بھی تروتازہ ہو گا تھا۔ لائبریری کے اندر داخل ہوتے ہی ایک طرف استقبالیہ تھا جس پہ بیٹھا شخص کسی کتاب میں منہمک تھا۔۔۔تھوڑے فاصلے پہ کمپیوٹر لیب بنی ہوئی تھی۔آج ادھر بہت رش تھا۔کمپیوٹر لیب میں بھی طلبہ اپنی اسائمنٹ بنانے کے لیے آتے تھے ۔زیادہ تر وہ لوگ جو ہاسٹل میں تھے اور ان کے پاس کمپیوٹر لیپ ٹاپ یا نیٹ کی سہولت موجود نہ تھی۔اس نے شی...

Fatima i miss u

#humamlibrary Komal Shahab فاطمہ آئی مس یو۔۔۔ پکوڑے کے نام سے تو تمام دنیا ہی واقف ہے اس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں مگر حقیقتا ایسا نہیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میری جٹھانیوں نے عربی مدرسے میں پڑھانا شروع کیا۔ایک ماہ کا دورہ تھا۔انہیں عربی آتی ہے اس لیے وہ پڑھا رہی تھیں اور میں پڑھنے چلی گئی اور میری عربی بس ایک دو لفظ کی ہی ہے۔ خیر تصیح تلاوة کی کلاس تھی اور پہلی ہی دن ایک مصری لڑکی جسے انگلش آتی تھی میری دوست بن گئی اور میری عید ہو گئی۔پورا مہینہ اسی کے دم سے گزرا۔ہر جمعرات کو لڑکیاں کچھ بنا کر لے آتی تھیں۔پھر ایک دن مینا بازار رکھا گیا جس میں ہر ملک کے کھانے لے کر آنے تھے۔یعنی ہر ملک کی لڑکی اپنے ملک کا کھانا لائے۔ میری جٹھانیوں نے بہت کہا بریانی لے جاو۔۔۔مگر مجھے تو بنانی ہی نہیں آتی تھی۔۔ہی ہی ہی۔۔۔ تو بریانی تو جٹھانی سے بنوا لی مگر خود ہم لے کر گئے پکوڑے جی ہاں ۔۔۔۔رمضان اسپیشل۔۔۔میری جٹھانیوں نے بہت کہا کوئی نہیں کھائے گا۔۔کوئی پکوڑے کو نہیں جانتا مگر ہم نے ایک نہ سنی اور ڈھیر سارے پکوڑے لے کر پہنچ گئے۔۔ اسٹال پہ پکوڑے کا نام *باکورہ* لکھوا دیا۔۔۔بس جہ سب باکورے بک گئے اور...

تمہیں کیا معلوم؟؟؟

کل وہ ملا  تو کہنے لگا   بہت بدل گئی ہو تم  کیا تمہیں پتہ ہے تمہاری پلکوں پہ ستارے ٹمٹماتے ہیں تمہاری آنکھوں میں سمندر ڈوب جاتے ہیں  تمہاری آنکھوں میں موتی جھلملاتے ہیں  جگنو جگمگاتے ہیں  تمہاری آنکھیں جھیل سی گہری لگتی ہیں  تمہیں کیا معلوم یہ کتنوں کو کتنی پیاری لگتی ہیں  تمہارے قدموں کے ساتھ کتنوں کی سانسیں چلتی ہیں تمہارا ندامت سے پین کو ہونٹوں میں دبا لینا  ہنستے ہوئے اپنے چہرے کو چھپا لینا  کبھی گھبرا کے دھیرے سے نظریں جھکا لینا  یہ سب انداز تمہارے ہیں  اور کتنے پیارے ہیں  تمہیں کیا معلوم  تم فقط ایک ہو اور کتنے لوگوں کی دھڑکن ہو  تمہارا وجود صحرا ہے مگر پھر بھی ساون ہو  تم ایک چمکتا ستارا ہو یا کائینات کا حسن سارا ہو  تمہیں کیا معلوم  مجھے معلوم ہے سب کچھ  بہت بدل گئی ہوں میں  وہ ہنستے ہوئے بولی  یہ مکالمے تمہارے  مجھے یاد ہیں سارے  جو ہر لڑکی کو سناتے ہو  پھر اسکا دل دکھاتے ہو  مجھے معلوم ہے سب کچھ ...

جواب

جواب اس نے جلدي جلدي کپڑے دھو کر تار پہ لٹکاے تھے. کھانا بنا ہوا تھا.جھاڑو بھی لگا لی تھی.منے کو نہلا کر ابھی صحن میں بیٹھایا تھا.وہ ابھی چلنا شروع ہوا تھا.ہر وقت دھیان ہی رکھنا پڑتا تھا.بڑا بیٹااسکول سے گھر آیا تو جلدی جلدی کپڑے بدلاے.منہ ہاتھ دھو نے کا کہہ کر وہ کچن میں آئ.وہ روٹی بنا کر فارغ ہوئ تھی کہ میاں صاحب گھر میں گھسے .چھوٹابیٹا کیاری میں گھسا مٹی سے کھیل رہا تھا.ٍسارے کپڑوں اور منہ پہ مٹی مل لی تھی جبکہ بڑا بیٹا منہ ہاتھ دھو کرٹونٹی کھلی چھوڑ آیا تھا.چھوٹے نے مٹی اٹھا اٹھا کر صحن میں بھی پھینکی تھی.تبھی دھلا ہوا صحن بھی گندا لگ رہا تھا.صفدر نے دروازہ دھاڑ سے مارا. ایک تو سکون کے لیے گھر آؤ وہ بھی ادھر میسر نہیں. اس نے جلدی سے سالن روٹی میز پہ رکھی. پھوہڑ عورت کرتی کیا ہو سارا دن؟ روز اس سے ایک ہی سوال پوچھاجاتاجس کا جواب اسے کبھی نہیں آتا تھا. وہ بس آسمان کی طرف دیکھ کر رہ گئ. سارہ عمر

Eid mubarak

Asalmoalikum Eid mubarak to everyone. May Allah accept our prayers in this Holy month and accept our good deeds ameen.

پاکستان بننے کی یادیں

بچپن کی یادیں بہت خوشگوار ہوتی ہیں۔ایسے ہی سردیوں میں رضائی میں گھس کر ہم اپنی دادی کے پاس بیٹھے رہتے۔ہماری دادی کے انتقال کو تین سال ہوئے ہیں اور تقریبا انکی عمر نوے سال ہوگی۔بس ساری زندگی انہوں نے ہمیں خوب قصے سنائے۔ہم ڈھیر سارے کزن اکھٹے ہوتے اور کہتے دادی انڈیا کے قصے سنائیں۔انڈیا کے وقصے سنانا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔وہ سناتی اور ہم سنتے رہتے۔ دادی نے اپنے سامنے پاکستان بنتے دیکھا تھا۔دادا نے علی گڑھ یونیورسٹی سے پڑھا تھا اور جب پاکستان بنا تب انکے تین بچے تھے۔دادی کا گھر تاج محل کے پاس تھا اور تاج محل کے اتنے قصے سننے ہیں کہ ایک کتاب ہی لکھ لی جائے۔وہ اس کے باغوں اور خوبصورتی کا بہت ذکر کرتیں۔ دادا چونکہ آرڈیننس فیکٹری میں تھے سو انکا پہلے ٹرانسفر بنگلہ دیش یعنی مشرقی پاکستان ہوا اور پھر مغربی پاکستان میں ہو گیا۔ دادی اکثر بتاتی تھیں کہ جب ہم پاکستان جا رہے تھے تو ٹرینوں کی ٹرینیں لوگوں کی لاشوں سے بھری ہوئی تھیں۔خوب خون بہا۔خون کی ندیاں بہائی گئیں۔انہی بھی جس ٹرین میں بٹھایا بعد میں کسی دوسری ٹرین میں سوار کرایا گیا۔بعد میں پتہ چلا پہلی والی ٹرین منزل پہ نہ پہنچ سکی کیونکہ مس...

بکرا کہانی

بقرہ عید کی آمد ہو تو بس ہر طرف بکرا بکرا ہو جاتا ہے۔جب عید میں دس دن رہتے ہیں تو کسی کے بکرے چوری ہو جاتے۔کسی کا بیل بھاگ جاتا۔قربانی کے وقت تو اکثر ہی بیل رسی توڑوا کر بھاگ جاتے ہیں۔۔ یہی اس عید کی خوبصورتی ہے۔ایسا ہی واقعہ ایک دفعہ ہمارے ساتھ پیش آیا۔میں اور ابو گاڑی میں گھر جا رہے تھے۔دوپہر کا وقت تھا اور جی ٹی روڑ پہ عین بیچ میں گاڑی چل رہی تھی جب ایک عدد گائے بیچ سڑک میں بھاگتی ہوئی ہماری طرف آنے لگی۔ہماری گاڑی چونکہ لال تھی تو میں ڈر گئی۔پیلی بھی ہوتی تو گائے سے ٹکرا کر کدھر جاتی۔ہم نے چلانا شروع کر دیاگاڑی سائڈ پہ کریں۔گاڑی سائڈ پہ کریں۔شکر ہے وہ ایک معصوم سی گائے تھی جو دوڑتی دوڑتی ہماری گاڑی کے ساتھ سے گزر گئی۔یقینا اگر بیل ہوتا تو جاتے جاتے بھی ٹکر مار کر جاتا۔تب ہمارا روکا ہوا سانس بحال ہوا۔ دوسرا واقعہ تب کا ہے جب ہمارے کزن حج پہ گئے اور اپنی ڈیڑھ سال کی بیٹی دادی کے پاس چھوڑ گئے۔میں اور ابو اسے گھر لیجانے کے لیے آئے۔راستے میں ابو کو دوائی لینی تھی تو ایک میڈیکل سٹور کے باہر گاڑی روکی بالکل کھمبے کے ساتھ۔انہیں پتہ نہیں تھا کہ کھمبے کے ساتھ بکرا بندھا ہے۔جو نواب نیچے بیٹھ...

تیرے سنگ

100 لفظی تیرے سنگ۔۔ کیپٹن ولید سرور گھر میں داخل ہوئے تو پہلی نظر لاؤئج میں بیٹھی اپنی ماں پہ پڑی تھی۔آج ان کے والد کی برسی تھی تبھی وہ چھٹی پہ آئے تھے۔وہ دھیرے سے ماں کے قدموں میں بیٹھے اور ماں کے ہاتھ کا بوسہ لے کر آنکھوں سے لگایا تھا۔ماں نے بھی ان کی پیشانی چومی تھی۔کیپٹن ولید نے کھڑے ہو کر کرنل سرور کی بڑی سی تصویر کو جاندار سلوٹ مارا تھا۔ماں کی آنکھ سے دو موتی نکل کر ہاتھ میں پکڑی وردی میں جذب ہو گئے تھے۔آج وہ نہ ہو کر بھی وہیں موجود تھے۔ تحریر سارہ عمر

دوسری شادی

دوسری شادی یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ جس پہ بحث لا حاصل ہے۔جو مرضی بحث کر لو مثبت سوچ والے کئی دلیلیں دیں گے اور منفی سوچ والے یا مخالف کسی ایک بات پہ اڑے رہیں گے۔ان دو لفظوں کو اگر سمجھنا ہے یا بحث کرنی ہے تو پہلے اپنے آپ کو غیر جانبدار بنا لیں۔یعنی اب آپ نہ مردوں کی طرف ہیں نہ عورتوں کی طرف اب بس آپ نے دونوں کے موقف سننے ہیں۔ جب آپ نے ایک فیصلہ کرنا ہو ایک رائے قائی کرنی ہو تو ایک قاضی کی طرح دونوں فریقین کا موقف بغیر ان کی طرفداری کیے سننا ہے۔حقیقت جاننے کے لیے دونوں فریقین کو صفائی کا موقع دیا جاتا ہے۔۔ چلیں پہلے موقع دیتے ہیں مرد حضرات کو۔۔۔۔ اگر کسی بھی مرد کے پاس آپ بیٹھیں اور اس موضوع کا ذکر کریں تو ہر مرد ہی نہایت خوش نظر آئے گا۔بالکل ایسے وہ جوش و خروش سے بات کرتے نظر آئیں گے جیسے ان کی بیوی ان کے فرائض سے غافل ہے یا پھر ان کو توجہ نہیں دیتی۔۔۔یہ تو وہ موضوع ہے جس پہ بڑے بڑے کم گو اور خاموش طبع مرد حضرات بھی بحث کرتے اور ہلکا ہلکا تبسم فرماتے دیکھائی دیتے ہیں۔۔ اب ان تمام حضرات سے سوال کیا جائے کہ دوسری شادی کا موقع ملے تو کیا کریں گے تو مختلف نوعیت کے جوابات سنائی  دیت...

یمامہ کی سیر۔

ویسے تو ہمیں سفر کرنا اور گھومنا پھرنا بہت ہی پسند ہے لیکن پانی سے ہمیں کچھ خاص ہی عشق ہے۔بس دل کرتا ہے جہاں پانی دیکھو وہاں ڈوبکی لگا لو اور ہمارے شوہر نامدار بالکل مختلف نوعیت کے ہیں۔جہاں پانی دیکھتے ہیں اپنے کپڑے بچا کر سائڈ پہ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں کہ جاو اور کر لو اپنے شوق پورے میرے اوپر چھینٹا بھی نہ آئے۔۔ تو ایسے ہی ایک دن پلان بنایا یمامہ ریزوٹ جانے کا۔یہ ایک واٹر پارک ہے اور ریاض سے 51 کلو میٹر پہ واقع ہے۔یہ چونکہ الخرج کی چیک پوائنٹ کے پاس ہے جو کہ ایک دوسرا شہر ہے سو اقامے کے بغیر سفر نہیں کیا جا سکتا۔ (سعودیہ میں شہر سے باہر جانے کے لیے اقامہ ضروری ہے کیونکہ جگہ جگہ پولیس والے راستہ روکے استقبال کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔سو اقامہ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ہر جمعے کو یہاں چھٹی ہوتی ہے سو ہم صبح صبح اٹھ کر ہی تیاریوں میں لگ گئے۔کھانا بنایا،بچوں کے کپڑے رکھے،نہانے والی ٹیوب رکھی،بڑے بیٹے نے کھیلنے کے لیے فٹ بال رکھی۔ پہلے جمعے کی تیاری کی یعنی بچوں کو نہلا کر ثوب(عربی لباس) پہنائی۔بڑا بیٹا چھ سال کا ہے جو الحمد اللہ مسجد جاتا ہے لیکن چھوٹا ابھی ڈیڑھ سال کا ہوا ہے اسے صرف بھائی کے پی...

میرا پہلا عمرہ

یہ آج سے کوئی ساڑھے چار سال پہلے کی بات ہے جب میں وزٹ پہ سعودیہ آئی اور اپنا پہلا عمرہ کیا۔۔سفر کو قلمبند کرنے کا سوچا تو پہلا خیال یہی آیا کہ وہ سفر لکھوں گی۔۔۔ جس دن سے آئی تھی اس دن سے عمرے کا بیگ تیار تھا کہ کب جانا ہو۔اس وقت میرا بڑا بیٹا نو دس ماہ کا تھا۔ساس سسر کے ساتھ ہم سفر پہ روانہ ہوئے۔۔سارے راستے پیٹرول بھروانے اور کھانے پینے روکتے رہے۔۔بس سعودیہ میں سفر میں بس ریت ہی ریت صحرا ہی صحرا پہاڑ ہی پہاڑ دکھائی دیتے ہیں۔۔بہرحال رات طائف پہنچ کر ہوٹل لیا اور سو گئے۔صبح وہیں سے احرام پہنا اور نیت کر کے سفر پہ روانہ ہوئے۔ طائف میں مختلف ہوٹل بنے ہوئے ہیں اور دکانیں بھی ہیں لوگ آرام کی غرض سے ادھر رکتے ہیں۔اکثر لوگ ادھر سے احرام باندھتے باقی میقات پہ پہنچ کر پہنتے۔۔طائف کی میقات کو سیل الکبیر کہا جاتا ہے۔یہ مکہ سے 75 کلو میٹر دور ہے۔ حالت احرام میں مکہ کی جانب روانہ ہوئے گاڑی میں لبیک اللہ کی صدائیں گونج رہی تھیں اور دل اللہ کے گھر کو دیکھنے کو بے قرار تھا۔۔ مکہ میں داخل ہوتے ہی کلاک ٹاور دور سے نظر آتا ہے۔۔۔سڑک پہ بڑی سی اسکرین پہ کعبہ کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔۔گاڑی پارکنگ میں ک...

انصاف my winning story

Winner For Short Story Competition by YWWF Karachi Chapter Category Urdu: Sara Omer's          انصاف A thought provoking piece on social justice, this story is extremely well-written and will definitely make your heart bleed. سکینہ ادھر آؤ.بیگم صاحبہ نے اسے آواز دی تو وہ بوتل کے جن کی طرح حاضر  ہو گئی۔حالانکہ ابھی اس نے کچن میں برتن دھونے شروع ہی کئے تھے۔اس نے جلدی جلدی اپنے دوپٹے سے اپنے ہاتھ صاف کئے۔ جی بیگم صاحب!                                       ہاں سکینہ آج ذرا موٹر چلا کے اس کے پانی سے پورچ دھونا دیکھو کل آندھی آئی ہے کتنی مٹی پڑی ہے۔کل نھی تم نے صحیح طرح صاف نہیں کیا تھا گاڑی کے ٹائر کے نشان نہیں گئے تھے۔آج ان کے کوئی مہمان آ رہے تھے تبھی ان کی ہدایتیں ختم نہیں ہو رہی تھیں۔عام دنوں میں بھی وہ خوب دھلائی صفائی کرواتی تھیں مگر آج تو ہدایت تھی ٹائلوں میں اپنا منہ نظر آنا چائیے۔ جی بہتر۔وہ اتنا کہہ کر واپس جانے لگی تو انہیں کوئی اور ہدایت یاد آ گئی۔...

میری ذات زرہ بے نشاں

آج بالاخر اسے میری ضرورت پڑ ہی گئی۔۔کتنی عجیب بات ہے جب اسے میری ضرورت ہوتی ہے تبھی مجھے یاد کرتا ہے ورنہ اسے زحمت نہیں ہوتی کے مجھے یاد کر لے اور تو اور سب لوگوں سے بھی میری برائی کرتا ہے کہ مجھ سے واسطہ نہ ہی پڑے تو اچھا ہے کیوں بھئی مجھے کیڑے لگے ہوئے ہیں کیا؟ بس انسان ہے ہی نا شکرا جو مصیبت میں اس کے کام آتا ہے راحت میں اسے ہی بھول جاتا ہے۔ تکلیف میں اسے سب سے پہلے میری ہی یاد آتی ہے میں ہی اسے سکون پہنچاتی ہوں مگر وہ مجھ سے ہی بھاگتا رہتا ہے آخر کتنا بھاگے گا آئے گا تو آخر میرے ہی پاس ناں۔۔ ارے ارے وہ آ رہا ہے۔۔۔مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے اس کے کام آ کر مجھے خوشی ہی ملتی مگر وہ کھا کر کبھی خوش نہیں ہوتا۔۔دوائی ہوتی ہی اتنی کڑوی چیز ہے۔۔۔

میں اور سمیر

میرا اور اسکا ساتھ تب کا ہے جب وہ پیدا ہوا۔میں پہلے دن سے اس کے ساتھ تھی وہ اور اس کی امی مجھے بہت غزیز رکھتے ہر وقت ہر جگہ اپنے ساتھ رکھتے۔کبھی مجھے گھر بھول جاتے تو واپس لینے کے لیے آتے۔۔سمیر تو میرے بغیر ایک لمحہ نہیں رہ سکتا تھا میں اس کی پکی ساتھی جو تھی۔۔ جب وہ میرے ساتھ باہر جاتا تو لوگ کہتے کے اسے پھینک دو یہ تمہیں نقصان ہی پہنچائے گی تو میرا دل ٹوٹ جاتا۔۔ کبھی جو میں گم ہو جاتی تو سمیر رو رو کے سارے گھر میں مجھے تلاش کرتا۔۔اس وقت مجھے اپنی اہمیت کا احساس شدت سے ہوتا۔۔۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب سمیر دانت نکالنے لگا تب وہ مجھے کاٹتا رہتا مگر یہ ظلم بھی میں چپ چاپ سہتی رہی۔وقت گزرتا رہا اور سمیر کی امی کو میں کھٹکنے لگی۔۔ وہ اب مجھے سمیر سے دور کرنا چاہتی تھی مگر وہ راضی نہ ہوا۔۔۔تنگ آ کر سمیر کی امی نے مجھے چولہے پہ رکھ کر میرا منہ جلا دیا۔۔۔میں بہت روئی چیخی چلائی۔۔۔کسی نے ایک نہ سنی۔۔ سمیر نے بھی میرا بھیانک چہرہ دیکھا تو دوبارہ چوسنی نہ لینے کی قسم کھا لی۔۔۔اب میرا جلا ہوا وجود ایک کچرے کے ڈھیر پہ پڑا ہے اور میں سمیر کے گھر میں گزارے خوبصورت لمحے یاد کرتی رہتی ہوں۔

غم

انسان کی زندگی میں غم بھی ہیں اور خوشیاں بھی۔ہر کوئی ہمیشہ خوش رہنا چاہتا ہے لیکن ایسا ممکن نہیں۔میں سمجھتی ہوں اگر زندگی میں غم نہ آئیں تو ہم کبھی خوشی کی قدر نہ کر سکیں۔غم یا دکھ استاد ہے جو ہمیں سکھاتا ہے وہ غلطیاں جو ایک دفعہ کیں ہیں اگلی بار نہ کریں۔۔کہیں شکست کھائیں تو بار بار محنت سے کیسے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔۔ کبھی کسی کے دور جانے کا آپ کو گھائل کر دیتا ہے مگر اس وقت میں اپنے پرائے کا چہرہ واضح ہو جاتا ہے۔۔۔کبھی کسی اپنے سے لڑائی ہو جائے تو ہم دکھ میں گھر جاتے ہیں مگر اس کے بعد ہمیں خود سے چلنا آ جاتا ہے بغیر کسی کی انگلی پکڑے۔۔ دنیا میں ترقی کرنے والے کئی افراد نے زندگی میں سوائے مشکلات کے کچھ نہیں دیکھا۔ اس لیے ان غموں پہ صبر کریں اور خوشی آنے پہ اپنے رب کا شکر تاکہ وہ ہمیں صابریں اور شاکرین میں لکھ دے آمین۔

وہ لڑکی

دکھوں میں آنکھ جو کھولی تھی وہ لب سے کچھ نہ بولی تھی خود چپکے چپکے رو لی تھی وہ لڑکی کتنی بھولی تھی تارے جس کے ہم جولی تھی آتش جس کی بولی تھی وہ لڑکی کتنی بھولی تھی وہ لڑکی کتنی بھولی تھی

میری ماں میری جنت

میری ماں میری جنت سارا دن میں ان بچوں کے ساتھ خوار ہوتی رہتی ہوں مجال ہے کہ کوئی میرا ہاتھ بٹائے۔۔۔ ثانیہ خوب غصے سے چلا رہی تھی۔غصہ تو کافی دن کا چڑھا ہوا تھا اس لیے بول بول کر ہی اپنا غصہ نکال رہی تھی۔ ثانیہ کی شادی کو پانچ سال ہوئے تھے اور اس کے چار بچے تھے۔ان دونوں کی پسند کی شادی تھی اور دونوں کو بچوں کا بہت شوق تھا مگر اوپر تلے بچوں نے اسے نہایت چڑچڑا بنا دیا تھا۔پورا دن وہ کام میں لگی رہتی کھانا پکانا بچے سنبھالنا کپڑے دھونا صرف صفائی کے لیے ماسی آتی جو ایسی صفائی کرتی کہ گزارا ہی تھی۔میاں صاحب کو تو فضول کا خرچہ لگتی۔مگر ثانیہ کے لیے غنیمت تھی کچھ باتیں کر لیتی تو دل ہلکا ہو جاتا۔وہ بھی بچوں کے کچھ کام کر لیتی۔مگر دو دن سے ماسی بیمار تھی اور چھٹی پہ تھی۔گھر پھیلا ہوا تھا۔میاں صاحب کافی صفائی پسند واقع ہوئے تھے اور خیر سے اس کی ساس بھی ساتھ تھیں جو بوڑھی تھیں اور انکے کام بھی اس کے ذمے تھے۔ آج کچھ مہمانوں نے آنا تھا اور وہ کبھی کچن سے صفائی کرتی کبھی بچوں کو کھانا دیتی۔کبھی ڈسٹنگ کرتی چھوڑ کر بچے کا پیمپر بدلنے لگ جاتی۔میٹھا بنا کر رکھ لیا تھا۔برتن بھی دھو کے صاف کر لیئے تھے...

میرے قاتل

وہ کافی دیر سے پارک میں بیٹھا تھا یوں ہی بے مقصد۔۔۔مگر اس کے پیچھے بھی ایک مقصد تھا۔۔۔دیکھنے والوں کو لگتا کہ وہ اپنا وقت ضائع کر رہا تھا۔۔۔ پارک کے ایک پرسکون کونے میں بیٹھا وہ بہت غور سے وہاں کھیلتے بچوں کو دیکھ رہا تھا مگر کسی کو نہیں پتہ تھا کہ وہ بچوں کو نہیں کم عمر بچیوں کو دیکھ رہا تھا جیسے کوئی شکاری کسی شکار کو دیکھتا ہے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کافی دیر سے بازار میں بے مقصد ٹہل رہا تھا۔وہ نیا نیا ادھر آیا تھا اس لیے اسے ادھر کے رہن سہن کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔ بازار میں چہل پہل تھی وہ حیران تھا کہ سب عورتیں تو برقعوں میں پھر رہی ہیں مگر چھوٹی بچیاں تو بس لباس کا تکلف ہی کیے ہیں۔۔۔بغیر آستین کے کپڑے،کھلے گلے شوٹس،ٹائٹ پنٹس۔۔یہ لوگ اس لباس کے عادی تھے تبھی انہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔۔۔ وہ بہت دیر سے اس بچی کو دیکھ رہا تھا جس کی ماں کپڑوں کی دکان میں کھڑی تھی اور وہ ساتھ والی دکان کے آگے کھڑی کھلونوں میں مگن تھی۔۔۔ وہ ادھر ادھر دیکھتا آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا شکاری پہنچ رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پانچ چھ سال کی ...

حي على الفلاح

ہر شخص کی پیدائش دین فطرت پہ ہے۔ اللہ نے ہر انسان کو فطرت پہ پیدا کیا ہے یعنی پیدا ہونے والے تمام بچے اللہ کے ماننے والے اسی کے پیروکار ہیں۔آہستہ آہستہ بڑے ہو کر ان کے ماں باپ ان کو یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔ اتنی سی بات کیا یہ سمجھانے کے لیے کافی نہیں کہ اللہ نے اپنی مخلوق کو پہلے اپنا بنایا اور پھر چھوڑ دیا کہ جاؤ تم آزاد ہو اس دنیا میں جو چاہو کرو۔لیکن پلٹ کر تمہیں میرے ہی پاس آنا ہے۔ جہاں بھی چلے جاو یہ دنیا بہت بڑی ہے مگر اس کی نظروں سے بچ نہ پاؤ گے۔ نہ موت سے بچ پاؤ گے چاہے جتنے حربے آزما لو، یہ گھیر لے گی کبھی بھی کہیں بھی کیونکہ ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اس دنیا میں آنے کے بعد اکثر مسلمان ہی اپنے دین پہ عمل پیرا نہیں۔ حیرت ہے ان لوگوں پہ جن کے کانوں میں پانچ وقت آذان کی آواز آتی ہے اور وہ سن کر ان سنی کر دیتے ہیں۔ حیرت ہے ان لوگوں پہ جن کے سامنے لوگ اٹھ کر تمام کام چھوڑ کر وضو کرنے نماز پڑھنے جاتے ہیں مگر وہ فائلوں میں ایسے مگن ہو جاتے ہیں جیسے سارا کام نماز کے وقت میں ہی مکمل ہو جائے گا۔ کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو حجاب اور برقعے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں حالانکہ ی...

وطن کہانی

شہریار آج ہی لندن سے واپس آیا تھا۔کراچی جیسے بڑے  شاید شہریار چاچو زیادہ عقلمند ہیں تبھی سب ان کی سن رہے ہیں۔ چاچو لندن میں صفائی کون کرتا ہے جو اتنا صاف رہتا ہے؟اس نے کافی سوچ کے پوچھا۔ ارے وہاں بھی صفائی والے ہوتے ہیں۔۔شہریار بولا۔ تو چاچو انہیں ادھر لے آئیں نا تاکہ پاکستان بھی صاف ہو جائے وہ معصومیت سے بولا تو سب ہنس پڑے۔۔۔ ارے چھوٹو ادھر خود صفائی رکھنی پڑتی اتنا جرمانہ ہوتا ہے کہ کوڑا پھیکنا تو دور کی بات کوئی اشارہ بھی نہیں کاٹتا جگہ جگہ تو کیمرے لگے ہوتے ہیں اور پولیس تو اتنی تیز ہے کہ لگتا ہر اینٹ کے نیچے پولیس چھپی ہوئی ہے ادھر کچھ کرو نہیں ادھر سر پہ۔۔۔ مومی سر ہلا کر رہ گیا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ دن بعد ہی سارا خاندان سمندر پہ پکنک کرنے گیا تھا۔وہ ہاکس بے پہنچے تو شہریار نے منہ بنایا تھا کتنا گندا ہو گیا ہے اب یہ ایریا پہلے تو ایسا نہیں تھا۔دیکھو اس ہٹ کے پاس کتنا کوڑا پڑا ہے۔واقعی وہاں کافی بوتلیں ٹن ڈبے اور بچا کچا کھانا پڑا تھا۔صفائی کا کوئی انتظام نہ تھا ورنہ جگہ اچھی تھی۔۔۔ پہلے تو ساری زندگی ادھر ہی گزری تھی مگر لندن سے آنے کے بعد تو ک...

My writing journey

آمنہ آفتاب کی پوسٹ پڑھی مائیں سب سمجھ جاتی ہیں وہ جینئس ہوتی ہیں اور بچے لکھنے لکھانے کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہوتے۔۔ میرا بھی تجربہ کچھ ایسا ہے۔۔۔میں کالج میں تھی جب لکھنا شروع کیا۔شوق تھا،ولولہ تھا،نئے نئے خیال اور کہانیاں تھیں سب کچھ تھا مگر تجربہ اور ہمت کم تھی۔پہلا مرحلہ جو لکھنے کا تھا بہت مشکل سے طے ہوا کیونکہ تینوں بہنوں کا کمرہ مشترکہ تھا اور اکیلے ہونے کا سکون میسر نہ تھا اوپر سے میرے ابو ہمارے خاص طور سے میرے اوپر بہت نظر رکھتے تھے انہیں لگتا تھا یہ لڑکی کوئی بڑا کارنامہ کرے گی۔اوپر سے کچھ ایسا چھپ چھپا کے لکھنا انہیں مزید شک میں ڈال دیتا۔۔۔خیر اس کے بعد کسی طرح دو کہانیاں ڈائجسٹ میں بھجنے کا مرحلہ بھی طے کیا۔۔۔اور ماشااللہ ایک کہانی تو کئی مہینوں کے انتظار کے بعد کرن ڈائجسٹ میں چھپ گئی البتہ دوسری جوابی لفافحے میں واپس آگئی۔میں نے کبھی امی ابو کو نہیں بتایا کہ میں لکھنا چاہتی ہوں نہ ہی وہ کہانی دکھائی۔(فرضی نام سے چھپوائی تھی)یہ شاید کوئی 12 سال پرانی بات ہے۔میں پڑھتی رہی ماسٹرز کیا شادی ہوئی الحمد اللہ بیٹا ہوا مگر کچھ نہ لکھا دل ٹوٹا تھا حوصلہ نہیں تھا۔ناکامی کا سامنا کرن...

میری زندگی کا مشکل ترین وقت

اگر میں اپنی زندگی کے ارواق کی طرف نظر اٹھاوں تو کچھ لوگ زندگی میں ایسے ضرور ہوتے ہیں جو بہت اہم ہوتے ہیں۔ہماری زندگی کا محور انکی ذات کے گرد گھومتا ہے۔جو چلے جائیں تو انکا خلا کبھی پر نہیں ہوتا۔۔ کچھ ایسا ہی معاملہ آج کل میرے ساتھ بھی ہے۔۔۔ساس بہو کا رشتہ ہمیشہ سے ہی کچھ متنازعہ رہا ہے خوش قسمت بہووں ہوتی ہیں جنھیں اچھی ساس ملیں جن میں سے ایک خوش قسمت میں بھی ہوں۔۔۔ میری ساس میری خالہ اور میری تائی بھی تھیں۔ان تین رشتوں کی وجہ سے وہ کبھی ساس نہیں بن سکیں نہ میں نے بہو بن کر دیکھایا۔آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو انکی یادیں اور باتیں ہر وقت ہمارا پیچھا کرتی ہیں۔۔ میری خالہ کو کوئی دس سال پہلے برین ہیمرج ہوا تھا جس کے بعد ڈاکٹر نے انہیں دماغ کی سرجری بتائی مگر ان کے تینوں بیٹوں نے فیصلہ کیا کہ وہ سرجری نہیں کروائیں گے کیونکہ اس میں بچنے کے چانس بہت کم تھے۔ان کے برین ہیمرج کے بعد سارا گھر ان کے بیٹوں اور چھوٹی بیٹی نے سنمبھالا۔میں ان کی تیسری اور چھوٹی بہو ہوں۔مجھے سعودیہ آئے ساڑھے تین سال ہوئے۔میرا انکا ساتھ بہت تھوڑے عرصے رہا۔وہ برین ہیمرج کے بعد کبھی صحیح سے چل نہیں سکتی تھیں باہر وہ...

ایک خوشگوار یاد

یہ چار سال پہلے کی بات ہے جب میں وزٹ ویزے پہ سعودیہ آئی تھی۔میں اور میری جٹھانی ساس سسر کے ساتھ جس گھر میں رہتے تھے وہ چوتھی منزل پہ تھا۔میں نے کبھی اپنے گھر میں ویکیوم کلینر نہیں استعمال کیا تھا کیونکہ صفائی کے لیے کام والی تھی۔اب جب ادھر پہلی بار صفائی کی تو ویکیوم بھی صاف کرنا تھا جو کہ مجھے نہیں کرنا آتا تھا۔میں اپنی جٹھانی کے پاس گئی کہ مجھے اسے صاف کرنا سیکھا دیں۔اس وقت میرے بڑے جیٹھ جو الگ گھر میں رہتے تھے ساس سسر سے ملنے آئے ہوئے تھے اسی وقت گھر سے نیچے اترے تھے۔میری جٹھانی مجھے ویکیوم صاف کرنے کا طریقہ بتانے باہر گیلری میں لے گئی اور کہنے لگی اسے کھول کر ایسے جھاڑ دیتے ہیں۔نیچے گاڑیوں کی پارکنگ تھی مگر دن میں عموما خالی ہوتی تھی۔اس نے سارا کوڑا نیچے جھاڑ دیا۔میرے دل میں خیال آیا دیکھوں تو کدھر گرا ہے مگر نیچے دیکھ کے میری ہائے نکل گئی جس پہ جٹھانی نے بھی نیچے دیکھا تو نیچے ہمارے بڑے جیٹھ غصے سے اوپر دیکھ رہے تھے کیونکہ ان کے سفید کپڑوں پہ ہم نے کوڑا پھنک دیا تھا۔اوپر سے میری جٹھانی نے پریشانی میں ویکیوم کی جالی بھی ہاتھ سے چھوڑ دی جو بڑی سی گول سی تھی اور سیدھی جا کے جیٹھ کے ...

درد

درد کرنا کیا ہے آپ نے پیسوں کا؟۔تیمور نے غصے سے گرم روٹی کا نوالہ واپس رکھ دیا۔والد کی وفات کے بعد وہی گھر کا خرچہ اٹھا رہا تھا۔آج بھی اماں نے پیسوں کا تقاضا کیا تو اسکا پارہ چڑھ گیا تھا۔بوڑھی ماں نے کانپتے ہوئے اپنی اولاد کا چہرہ دیکھا۔کاش ایک لمحے کے لیے وہ اس درد کو محسوس کر سکے جو اس نے اسکی پیدائش کے وقت جھیلا تھا۔ سارہ عمر ۔

جاب

جاب تم جاب کیوں نہیں کرتی؟گھر کیوں بیٹھی ہو؟جب پتہ بھی ہے کہ گھر کے حالات اچھے نہیں ہیں۔بڑی بی نے اسے نصیحت کرتے ہوئے کہا۔ "آنٹی حالات تو ایسے ہی ہیں ہمیشہ سے سادگی سے جواب آیا تھا۔ " پھر بھی گھر کے حالات کی بہتری کے لئے ہی کر لو جاب۔"دوبارہ سے مشورہ آیا تھا۔ انشا اللہ ہو ہی جائیں گے حالات بھی ٹھیک دعا تو کرتے ہیں۔اس نے متانت سے جواب دیا۔ دعا کے ساتھ دوا بھی تو کرنی پڑتی ہے ناں! بڑی بی جوش سے بولیں۔آج وہ بہت موڈ میں تھیں۔ جی بالکل!امید تو کبھی نہیں چھوڑی۔"وہ اب بھی دیھما سا بولی۔ جب پتہ ہے میاں بے روزگار ہے تو کم از کم بیوی ہی ہاتھ بٹا دے ۔کیا حرج ہے بھلا؟" نصیحت کی پٹائی میں سے ایک کے بعد ایک نصیحت حاضر تھی۔ اگر میاں بے روزگار ہے تو یہ مطلب تو نہیں کہ عورت اپنے گھر اپنی چادر چاردیواری کو چھوڑ دے۔اس نے کچھ سمجھانے کی کوشش کی تھی ۔ دیکھو!تمھارے بھلے کی بات ہے ایسے تو گزارا نہیں ہوتا ناں! آنٹی عورت کے گھر سے نکلنے بغیر بھی گزارا ہو سکتا ہے ۔اس نے پھر سے انکا مشورہ ماننے سے...

Eidi ki qurbani...

#عیدی کی قربانی۔۔۔ ماما میری عیدی دیں۔ریان ضد کرنے لگا تو وہ اپنے ماضی میں پہنچ گئی۔ امی امی عیدی دے دیں۔رنگ برنگے کپڑے پہنے وہ عید کی نماز پڑھ کر آئی تھی۔کندھے پہ چھوٹا سا پرس جھول رہا تھا۔سویاں تو بنانے دو بعد میں دوں گی امی ٹال دیتی تھیں اور بعد کبھی نہیں آتی تھی۔ابو تو سب سے پہلے دے دیتے لیکن کبھی جو انہیں ٹوٹے پیسے چائیے ہوتے تو وہ انہی سے مانگ لیتے۔کتنے سال تو سمجھ میں ہی نہیں آئی تھی کہ رات ہوتے ہی یہ عیدی کہاں چلی جاتی ہے؟کبھی کبھی تو وہ عیدی کا پرس تکیے کے نیچے چھپا دیتی مگر ظالم چور کو سب جگہیں معلوم تھیں۔تھوڑی بڑی ہوئی تو بڑی بہن نے حساب رکھنا شروع کر دیا تھا وہ بہت سمجھ دار تبھی چھوٹے بہن بھائیوں کی عیدی لے کے حساب سے رکھتی کہ تایا چاچا اور پھوپھو کی دی ہوئی عیدی کس ترتیب سے ماموں اور خالہ کے بچوں میں تقسیم کرنی ہے۔تب اسے پتہ لگا تھا امی ابو کے پاس عیدی کے الگ سے پیسے نہیں ہوتے تبھی بڑی آپی انکی عیدی جمع کر کے سب تقسیم کے بعد بچنے والے پیسے امی کو دے دیتی بعض اوقات تو عیدی کے وہ نئے نوٹ اگلے سال کی عید کے لیے رکھ لیتی۔اب تو دل بھی نہیں کرتا تھا کوئی عیدی دے کونسا اس کو مل ج...

تتلی اور لڑکی

تتلی اور لڑکی مجھے تتلی اچھی لگتی ہے کیا تمہیں معلوم نہیں مجھے تتلی اچھی لگتی ہے کہ رنگ برنگی نازک نازک اڑتی پھرتی ہر ایک تتلی مجھے لڑکی لگتی ہے مجھے تتلی اچھی لگتی ہے سارہ عمر۔۔۔ ایک ادنی سی کاوش