Skip to main content

تمہیں کیا معلوم؟؟؟

کل وہ ملا
 تو کہنے لگا 
 بہت بدل گئی ہو تم
 کیا تمہیں پتہ ہے تمہاری پلکوں پہ ستارے ٹمٹماتے ہیں تمہاری آنکھوں میں سمندر ڈوب جاتے ہیں
 تمہاری آنکھوں میں موتی جھلملاتے ہیں
 جگنو جگمگاتے ہیں
 تمہاری آنکھیں جھیل سی گہری لگتی ہیں
 تمہیں کیا معلوم یہ کتنوں کو کتنی پیاری لگتی ہیں
 تمہارے قدموں کے ساتھ کتنوں کی سانسیں چلتی ہیں تمہارا ندامت سے پین کو ہونٹوں میں دبا لینا
 ہنستے ہوئے اپنے چہرے کو چھپا لینا
 کبھی گھبرا کے دھیرے سے نظریں جھکا لینا 
یہ سب انداز تمہارے ہیں
 اور کتنے پیارے ہیں
 تمہیں کیا معلوم 
تم فقط ایک ہو اور کتنے لوگوں کی دھڑکن ہو
 تمہارا وجود صحرا ہے مگر پھر بھی ساون ہو
 تم ایک چمکتا ستارا ہو یا کائینات کا حسن سارا ہو
 تمہیں کیا معلوم 
مجھے معلوم ہے سب کچھ
 بہت بدل گئی ہوں میں
 وہ ہنستے ہوئے بولی
 یہ مکالمے تمہارے 
مجھے یاد ہیں سارے 
جو ہر لڑکی کو سناتے ہو 
پھر اسکا دل دکھاتے ہو
 مجھے معلوم ہے سب کچھ
 بہت بدل گئی ہوں میں
 مگر!! شاید 
تمہیں معلوم نہیں 
تم بالکل بھی نہیں بدلے
 از سارہ عمر

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...