کل وہ ملا
تو کہنے لگا
بہت بدل گئی ہو تم
کیا تمہیں پتہ ہے
تمہاری پلکوں پہ ستارے ٹمٹماتے ہیں
تمہاری آنکھوں میں سمندر ڈوب جاتے ہیں
تمہاری آنکھوں میں موتی جھلملاتے ہیں
جگنو جگمگاتے ہیں
تمہاری آنکھیں جھیل سی گہری لگتی ہیں
تمہیں کیا معلوم
یہ کتنوں کو کتنی پیاری لگتی ہیں
تمہارے قدموں کے ساتھ کتنوں کی سانسیں چلتی ہیں
تمہارا ندامت سے پین کو ہونٹوں میں دبا لینا
ہنستے ہوئے اپنے چہرے کو چھپا لینا
کبھی گھبرا کے دھیرے سے نظریں جھکا لینا
یہ سب انداز تمہارے ہیں
اور کتنے پیارے ہیں
تمہیں کیا معلوم
تم فقط ایک ہو اور کتنے لوگوں کی دھڑکن ہو
تمہارا وجود صحرا ہے مگر پھر بھی ساون ہو
تم ایک چمکتا ستارا ہو
یا کائینات کا حسن سارا ہو
تمہیں کیا معلوم
مجھے معلوم ہے سب کچھ
بہت بدل گئی ہوں میں
وہ ہنستے ہوئے بولی
یہ مکالمے تمہارے
مجھے یاد ہیں سارے
جو ہر لڑکی کو سناتے ہو
پھر اسکا دل دکھاتے ہو
مجھے معلوم ہے سب کچھ
بہت بدل گئی ہوں میں
مگر!!
شاید
تمہیں معلوم نہیں
تم بالکل بھی نہیں بدلے

Comments
Post a Comment