Skip to main content

سمندر میں چابی

یہ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ہمارے پورے خاندان نے دمام جانے کا پلان بنایا۔۔تاکہ اچھی سی پکنک کی جائے اور سمندر پہ نہایا جائے۔چار پانچ فیملیز اکھٹے گئیں تھیں۔سب سمندر میں گھسے اور نمکین پانی میں خوب غوطے لگائے۔۔سوائے ہمارے میاں کے جن کو پانی سے زیادہ نیند پیاری ہے سو وہ سکون سے گاڑی میں اے سی لگا کر سوتے رہے اور باقی سب لوگ مزے کرتے رہے۔ جب سب نہا کر فارغ ہوئے تو ہمارے میاں صاحب آنکھیں ملتے اٹھے اور منہ ہاتھ دھونے چل پڑے۔۔ اسی وقت پتہ چلا کہ ان کے بڑے بھائی کی گاڑی کی چابی غائب ہے اور اب گاڑی نہیں کھول سکتی سو سب سامان بھی لوک ہو گیا ہے۔اضافی ابی بھی نہ تھی اور چابی تھی بھی ریمورٹ والی آٹومیٹک گاڑی کی۔اب تو سب کا رخ سمندر کی جانب تھا۔ ہمارے اونگتے ہوئے میاں صاحب نے خبر سننی اور کپڑے بدل کر سکون سے سمندر کے اندر گئے جدھر وہ نہائے تھے پہلا ہاتھ مارا چابی نکالی اور واپس آ گیا۔۔۔ سب لوگ حیرت سے انہیں تکتے ہی رہ گئے اور سب نے کہا کہ اتنی دور سے تم صرف چابی ڈھونڈنے کے لیے ہی آئے تھے۔۔۔ ہم خود یہی فرماتے رہے کہ پکنک تو منائی نہیں سمندر کا پانی توچکھا نہیں۔۔۔پھر اتنے سفر کا فائدہ؟؟ مگر پھر اقبال کا یہ شعر یاد آ گیا نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں واقعی اگر وہ نہ آتے اور چابی نہ ڈھونڈ پاتے تو نئی چابی آنے تک گاڑی ادھر ہی کھڑی رہتی۔۔۔ اب تک ہم سب اس واقعے کو یاد کر کے حیران ہوتے ہیں سمندر میں چابی بھی بھلا کبھی ملتی ہے مگر یہ سب اللہ کی شان ہے جسے ہم سمجھ نہیں سکتے۔۔۔ سارہ عمر

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...

لائبریری

یونیورسٹی شروع ہوئے تھوڑے ہی دن ہوئے تھے۔ڈیپارٹمنٹ نیا تھا۔لوگ نئے شہر بھی تو نیا تھا۔وہ تو ایک دور دراز کے چھوٹے سے قصبے سے آئی تھی۔ہوسٹل بھی اچھا تھا۔بس ابھی اس کے ہوسٹل میں کوئی بھی کلاس فیلو نہیں تھی سب کے الگ الگ ہوسٹل تھے۔یہاں آ کر اپنے سارے کام تو خود کرنے آ گئے تھے۔۔ چند ہی ہفتے گزرے تھے کہ پہلی اسائمنٹ آ گئی اس نے نہایت جوش سے ٹاپک سنا لکھا اور ازبر کیا۔کلاس ختم ہوتے ہی وہ رجسٹر اٹھائے لائبریری کی طرف بڑھ گئی۔ ڈیپارٹمنٹ کی اپنی بھی لائبریری تھی مگر مرکزی لائبریری کی تو بات ہی کچھ اور تھی۔۔ وہ پندرہ منٹ کی واک کے بعد لائبریری پہنچی۔۔کشادہ لان ہری ہری گھاس اونچے اونچے سرو کے درخت۔۔وہ کافی پرسکون محسوس کرنے لگی۔اس نے تازی ہوا اپنے اندر اتاری تھی۔دماغ بھی تروتازہ ہو گا تھا۔ لائبریری کے اندر داخل ہوتے ہی ایک طرف استقبالیہ تھا جس پہ بیٹھا شخص کسی کتاب میں منہمک تھا۔۔۔تھوڑے فاصلے پہ کمپیوٹر لیب بنی ہوئی تھی۔آج ادھر بہت رش تھا۔کمپیوٹر لیب میں بھی طلبہ اپنی اسائمنٹ بنانے کے لیے آتے تھے ۔زیادہ تر وہ لوگ جو ہاسٹل میں تھے اور ان کے پاس کمپیوٹر لیپ ٹاپ یا نیٹ کی سہولت موجود نہ تھی۔اس نے شی...