یونیورسٹی شروع ہوئے تھوڑے ہی دن ہوئے تھے۔ڈیپارٹمنٹ نیا تھا۔لوگ نئے شہر بھی تو نیا تھا۔وہ تو ایک دور دراز کے چھوٹے سے قصبے سے آئی تھی۔ہوسٹل بھی اچھا تھا۔بس ابھی اس کے ہوسٹل میں کوئی بھی کلاس فیلو نہیں تھی سب کے الگ الگ ہوسٹل تھے۔یہاں آ کر اپنے سارے کام تو خود کرنے آ گئے تھے۔۔
چند ہی ہفتے گزرے تھے کہ پہلی اسائمنٹ آ گئی اس نے نہایت جوش سے ٹاپک سنا لکھا اور ازبر کیا۔کلاس ختم ہوتے ہی وہ رجسٹر اٹھائے لائبریری کی طرف بڑھ گئی۔
ڈیپارٹمنٹ کی اپنی بھی لائبریری تھی مگر مرکزی لائبریری کی تو بات ہی کچھ اور تھی۔۔
وہ پندرہ منٹ کی واک کے بعد لائبریری پہنچی۔۔کشادہ لان ہری ہری گھاس اونچے اونچے سرو کے درخت۔۔وہ کافی پرسکون محسوس کرنے لگی۔اس نے تازی ہوا اپنے اندر اتاری تھی۔دماغ بھی تروتازہ ہو گا تھا۔
لائبریری کے اندر داخل ہوتے ہی ایک طرف استقبالیہ تھا جس پہ بیٹھا شخص کسی کتاب میں منہمک تھا۔۔۔تھوڑے فاصلے پہ کمپیوٹر لیب بنی ہوئی تھی۔آج ادھر بہت رش تھا۔کمپیوٹر لیب میں بھی طلبہ اپنی اسائمنٹ بنانے کے لیے آتے تھے ۔زیادہ تر وہ لوگ جو ہاسٹل میں تھے اور ان کے پاس کمپیوٹر لیپ ٹاپ یا نیٹ کی سہولت موجود نہ تھی۔اس نے شیشے کے دروازے سے ہی اندر کی صورتحال کا اندازہ لگایا اور سہج سہج چلتی کتابوں کے شیلف کی طر ف آ گئی۔۔
کئی سو لکڑی کے شیلفوں میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں کتابیں موجود تھیں۔۔لگتا تھا وہ کتابوں کی جنت میں آ گئی ہے۔بڑے بڑے بورڈز کے اوپر مضامین لکھے تھے ۔جن کے متعلق کتابیں اس شیلف پہ موجود تھیں۔۔وہ اپنے مضمون کا نام دہراتی ایک ایک ریک کے پاس سے گزرتی گئی۔۔کتنی دنیا تھی اندر مگر پھر بھی سوئی گرنے کی حد تک خاموشی کا پہرہ تھا۔کچھ اسٹوڈنٹ کتابیں دیکھ رہے تھے کچھ اس میں سے نوٹس لے رہے تھے۔۔اسے بھی کچھ متعلقہ کتابیں نظر آئیں تھیں وہ کافی دیر انہیں کھول کر اس کا جائزہ لیتی رہی۔کبھی ایک کتاب کھولتی کبھی دوسری تو کبھی تیسری۔۔سامنے تین چار گول میزوں کے گرد کرسیاں لگی تھیں وہ کچھ دیر وہیں بیٹھ کر نوٹس لکھتی رہی۔لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اس وقت کسی کی نظروں کے حصار میں ہے۔
وہ دوپہر کا وقت تھا مگر لائبریری کے اندر احساس نہیں ہو رہا تھا کہ دن ہے یا رات۔۔اسے بھی وقت گزرنے کا پتہ نہ چلا تھا۔پہلی اسائمنٹ تھی کوئی مذاق تھوڑی تھا۔اتنی محنت کرنی تھی کہ سب کو پتہ چل جائے۔۔ٹیچر پہ امپریشن پڑ جائے۔کلاس میں بھی واہ واہ ہو جائے اور گھر والے بھی خوش ہو جائیں اتنی دور جو آئی تھی۔۔۔
کتابیں ہاتھ میں پکڑے پکڑے وہ آخری ریک تک آئی۔ادھر بھی اس مضمون کی کتابیں تھیں۔مگر اس ریک کے دو طرف دیوار تھی اور تیسری طرف ریک۔وہ چلتی چلتی ریک کے آگے رکی اور ایک ایک کر کے کتابیں دیکھنے لگی کہ اچانک کوئی ریک کے سرے پہ آ کر کھڑا ہو گیا۔اب اس کا باہر نکالنے کا راستہ بند ہو چکا تھا۔گھبراہٹ میں کتابیں ہاتھ سے گر گئیں۔اس نے نظر اٹھا کر دیکھا۔وہ درمیانے سے قد کا ایک قبول صورت لڑکا تھا۔وہ لڑکا بھی اب کتابوں پہ وات گزاری کے لیے نظر ڈالنے لگا۔
اس نے دوپٹہ دوبارہ سے ٹھیک کر کے سر پہ جمایا۔ماتھے پہ آتا پسینہ پونچھا ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے تھے۔۔وہ بہت گھبرا رہی تھی۔اس کی کیفیت مد مقابل سے چھپی نہ رہ سکی تھی۔دماغ سے اسائمنٹ کلاس ٹیچر سب گم ہو گیا بس یہ یاد رہا تھا کہ اس تنگ گلی سے باہر کیسے نکلنا ہے جس کے سرے پہ یہ شخص اس پہ نظریں جمائے کھڑا تھا۔
وہ کتابیں رکھتی پلٹی تھی۔جب وہ اس کے راستے میں کھڑا ہو گیا۔اس نے غائب دماغی سے اس شخص کو دیکھا۔۔
میڈم۔۔۔پلیز ۔۔۔
وہ رکا۔۔
یہ میرا نمبر ہے ۔۔ایک پرچی اس نے آگے بڑھائی۔پرچی جیب میں موجود تھی کہ اسی وقت لکھی گئی اسے کچھ نہ پتہ تھا۔وہ تو بس کانپ کے ہی رہ گئی
اگر کسی نے دیکھ لیا تو۔۔
دوسری طرف پرچی پکڑاتا ہاتھ بھی کانپ رہا تھا۔شاید اسکا پہلا تجربہ تھا یا صنف نازک کی جانب سے تھپڑ کا امکان تھا۔۔
وہ چپ چپ کھڑی رہی۔۔آگے بڑھی ۔۔
میڈم پلیز۔۔
وہ پھر منمنایا تھا۔۔
وہ اسے نظر انداز کرتی تیزی سے اس کے قریب آئی اور دیوار کے ساتھ لگتی ہوئی اس تھوڑی سی جگہ سے گزر گئی۔۔
چہرے پہ خون سمیٹ آیا تھا۔ہاتھ پاوں برف ہو رہے تھے۔وہ بیگ سنبھالتی۔رجسٹر پہ گرفت مضبوط کئے تیزی سے باہر نکلتی چلی گئی۔ایک بار مڑ کر دیکھا وہ پیچھے تو نہیں آ رہا۔وہ نہیں تھا۔مگر دروازے سے نکلتے ہی دماغ سن ہو گیا تھا۔۔
یہ کیا؟؟؟
وہ تو دوپہر میں آئی تھی مگر اب۔۔
اب رات ہو رہی تھی۔۔
رات اور وہ اکیلی لڑکی اور پیچھے لائبریری اور اس کے اندر ایک شخص جو کبھی بھی آ کر اسے دبوچ لیتا۔۔۔
اس نے خوف سے جھرجھری لی۔
وہ تیزی سے شڑک پہ آئی سڑک سنسان تھی۔نہ بندہ نہ بندے کی ذات۔۔وہ اب بھاگنا شروع ہو گئی۔۔
اگر اس وقت تہمارے ساتھ کچھ ہو جائے تو ہزاروں میل دور بیٹھے تمہارے گھر والوں کو کون تمہاری پارسائی کا حساب دے گا؟؟اس سوچ کے بعد اس نے خود کو جی بھر کے برا بھلا کہا۔۔
اب وہ بھاگتی جا رہی تھی اور آیت الکرسی بھی پڑھتی جا رہی تھی۔لمبے لمبے درخت رات کی تاریکی میں اور بھیانک لگ رہے تھے۔کوئی بھوت بھی چمٹ سکتا تھا۔مگر انسان بھوتوں سے زیادہ خوفناک ہیں۔۔
وہ دوڑتی گئی۔۔دوڑتی گئی۔ہوسٹل کے پاس ایک مارکیٹ تھی وہاں جا کر اس نے رفتار ہلکی کر دی۔۔۔مگر بھاگ بھاگ کر سب خون چہرے پہ سمٹ آیا تھا۔جسم پسینے سے شرابور تھا۔بال بکھر گئے تھے۔پاوں میں درد ہو گیا تھا۔چال غیر متوازن تھی مگر وہ رکی نہیں۔
بازار میں کچھ لوگوں نے تعجب سے دیکھا تھا مگر وہ تیزی سے گرلز ہوسٹل کا مرکزی دروازہ پار کر گئی۔۔۔اس نے سکھ کا سانس لیا تھا۔۔۔
آج اللہ نے اسے بچا لیا تھا مگر آئیندہ اس نے اکیلے لائبریری جانے سے توبہ کر لی تھی۔۔
سارہ عمر
انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال میزبان سارہ عمر ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...


Comments
Post a Comment