اس کی سپورٹس کار چمچماتی سڑک پہ رواں تھی. اس نے کالے سوٹ پہ کالا اور سرخ باریک دوپٹہ گلے میں ڈال رکھا تھا جو ہوا سے اڑ رہا تھا.
اس کا خوبصورت چہرہ دھوپ میں چمک رہا تھا. اس کے ہونٹوں پر نیچرل کلر کی لپ اسٹک لگی تھی. لمبی لمبی پلکوں پہ نفیس سا لائنر لگائیے. اس نے اپنی آنکھیں ایک ادا سے اٹھائی اور ریان کی جانب دیکھا.
اس کے خوبصورت ہونٹ مسکرا رہے تھے. لمبی لمبی مخروطی انگلیوں سے اس نے اپنے سلکی بالوں کو ایک جھٹکا دیا اور ادا سے بولی
اور کتنی دیر ہے ریان؟
بس آتا ہی ہوگا.
ریان اس کی آنکھوں میں جھانکتا بولا.
وہ دلکشی سے مسکرائی.
گاڑی میں چلتے گانے میں وہ دونوں ہی کھو گئےتھے.
تیرا میرا رشتہ پرانا....
وہ سننے لگی مگر اچانک گاڑی کو بریک لگی اور اس کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکرایا.
آہ...
اس کے منہ سے کراہ نکلی تھی.
کٹ...
ویل ڈن....
بیک اپ....
باقی کل...
ڈائریکٹر ہدایات دینے لگا.
وہ گاڑی سے اتری اور لمبی ہیل سے سہج سہج چلتی چینج روم میں چلی گئی. اس نے جلدی سے کپڑے چینج کیے تھے اگر ڈائریکٹر چلا جاتا تو مسئلہ ہو جانا تھا.
کپڑے بدل کر باہر آئی. اس نے سادہ سے لون کے سوٹ کے اوپر چادر لے رکھی تھی.
دھلے دھلائے چہرے پر میک اپ کا نام و نشان نہ تھا. اس نے چادر کو سر پر ٹکایا اور ڈائریکٹر کی جانب بڑھی. صاحب میرا چیک...
وہ منمنائی.
ابھی انہی سے کام چلاؤ میں جلدی میں ہوں.
ڈائریکٹر نے جلدی سے جیب میں سے کچھ پیسے نکالے اور اس کی جانب بڑھائے.
ماں کی دوائیں، بجلی کا بل، چھوٹی کی فیس، بھائی کا یونیفارم گھر کا کرایہ کئی فکریں ایک ساتھ دامن میں آگری تھیں. وہ یہ سب سوچتی آگے بڑھی.
اتنے تھوڑے پیسوں میں نجانے کیا ہوگا بس ایک بار میرا ڈرامہ ریلیز ہوجائے پھر یہ ڈائریکٹر میرا کوئی چیک روک نہیں سکے گا.
اس نے پیسے پرس میں رکھے اور اچھے دنوں کی امید لگائے ہے رکشہ لینے کا ارادہ ترک کرتی وہ پیدل ہی گھر کی طرف چل پڑی.
سارہ عمر..
This is the blog of SARAH OMER A new writer from Riyadh KSA. Writing for her passion to write. Writing to make this world a peaceful place to live. Hope you will enjoy her writings

Comments
Post a Comment