Skip to main content

اميد

اس کی سپورٹس کار چمچماتی سڑک پہ رواں تھی. اس نے کالے سوٹ پہ کالا اور سرخ باریک دوپٹہ گلے میں ڈال رکھا تھا جو ہوا سے اڑ رہا تھا. اس کا خوبصورت چہرہ دھوپ میں چمک رہا تھا. اس کے ہونٹوں پر نیچرل کلر کی لپ اسٹک لگی تھی. لمبی لمبی پلکوں پہ نفیس سا لائنر لگائیے. اس نے اپنی آنکھیں ایک ادا سے اٹھائی اور ریان کی جانب دیکھا. اس کے خوبصورت ہونٹ مسکرا رہے تھے. لمبی لمبی مخروطی انگلیوں سے اس نے اپنے سلکی بالوں کو ایک جھٹکا دیا اور ادا سے بولی اور کتنی دیر ہے ریان؟ بس آتا ہی ہوگا. ریان اس کی آنکھوں میں جھانکتا بولا. وہ دلکشی سے مسکرائی. گاڑی میں چلتے گانے میں وہ دونوں ہی کھو گئےتھے. تیرا میرا رشتہ پرانا.... وہ سننے لگی مگر اچانک گاڑی کو بریک لگی اور اس کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکرایا. آہ... اس کے منہ سے کراہ نکلی تھی. کٹ... ویل ڈن.... بیک اپ.... باقی کل... ڈائریکٹر ہدایات دینے لگا. وہ گاڑی سے اتری اور لمبی ہیل سے سہج سہج چلتی چینج روم میں چلی گئی. اس نے جلدی سے کپڑے چینج کیے تھے اگر ڈائریکٹر چلا جاتا تو مسئلہ ہو جانا تھا. کپڑے بدل کر باہر آئی. اس نے سادہ سے لون کے سوٹ کے اوپر چادر لے رکھی تھی. دھلے دھلائے چہرے پر میک اپ کا نام و نشان نہ تھا. اس نے چادر کو سر پر ٹکایا اور ڈائریکٹر کی جانب بڑھی. صاحب میرا چیک... وہ منمنائی. ابھی انہی سے کام چلاؤ میں جلدی میں ہوں. ڈائریکٹر نے جلدی سے جیب میں سے کچھ پیسے نکالے اور اس کی جانب بڑھائے. ماں کی دوائیں، بجلی کا بل، چھوٹی کی فیس، بھائی کا یونیفارم گھر کا کرایہ کئی فکریں ایک ساتھ دامن میں آگری تھیں. وہ یہ سب سوچتی آگے بڑھی. اتنے تھوڑے پیسوں میں نجانے کیا ہوگا بس ایک بار میرا ڈرامہ ریلیز ہوجائے پھر یہ ڈائریکٹر میرا کوئی چیک روک نہیں سکے گا. اس نے پیسے پرس میں رکھے اور اچھے دنوں کی امید لگائے ہے رکشہ لینے کا ارادہ ترک کرتی وہ پیدل ہی گھر کی طرف چل پڑی. سارہ عمر..

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...

لائبریری

یونیورسٹی شروع ہوئے تھوڑے ہی دن ہوئے تھے۔ڈیپارٹمنٹ نیا تھا۔لوگ نئے شہر بھی تو نیا تھا۔وہ تو ایک دور دراز کے چھوٹے سے قصبے سے آئی تھی۔ہوسٹل بھی اچھا تھا۔بس ابھی اس کے ہوسٹل میں کوئی بھی کلاس فیلو نہیں تھی سب کے الگ الگ ہوسٹل تھے۔یہاں آ کر اپنے سارے کام تو خود کرنے آ گئے تھے۔۔ چند ہی ہفتے گزرے تھے کہ پہلی اسائمنٹ آ گئی اس نے نہایت جوش سے ٹاپک سنا لکھا اور ازبر کیا۔کلاس ختم ہوتے ہی وہ رجسٹر اٹھائے لائبریری کی طرف بڑھ گئی۔ ڈیپارٹمنٹ کی اپنی بھی لائبریری تھی مگر مرکزی لائبریری کی تو بات ہی کچھ اور تھی۔۔ وہ پندرہ منٹ کی واک کے بعد لائبریری پہنچی۔۔کشادہ لان ہری ہری گھاس اونچے اونچے سرو کے درخت۔۔وہ کافی پرسکون محسوس کرنے لگی۔اس نے تازی ہوا اپنے اندر اتاری تھی۔دماغ بھی تروتازہ ہو گا تھا۔ لائبریری کے اندر داخل ہوتے ہی ایک طرف استقبالیہ تھا جس پہ بیٹھا شخص کسی کتاب میں منہمک تھا۔۔۔تھوڑے فاصلے پہ کمپیوٹر لیب بنی ہوئی تھی۔آج ادھر بہت رش تھا۔کمپیوٹر لیب میں بھی طلبہ اپنی اسائمنٹ بنانے کے لیے آتے تھے ۔زیادہ تر وہ لوگ جو ہاسٹل میں تھے اور ان کے پاس کمپیوٹر لیپ ٹاپ یا نیٹ کی سہولت موجود نہ تھی۔اس نے شی...