ہر لکھاری ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔کوئی کسی مخصوص اوقات میں لکھتا ہے۔۔کوئی روز۔۔مجھے تو جب نزول ہو تبھی لکھتی ہوں۔۔ویسے اب تک میں نے سماجی معاشرتی موضوعات پہ ہی زیادہ لکھا ہے۔لیکن جب ایالف کتاب کی جانب سے خوفناک اور پرسرار کہانیاں منگوائیں گئیں تو سوچا اس پہ بھی قلم اٹھایا جائے۔۔
میںخود نہایت ڈرپوک واقع ہوئی ہوں اور مجھ سے کچھ بھی ہارر نہیں دیکھا جاتا۔۔پھر بھی ناجانے کیوں ایک حویلی کا قصہ لکھنا شروع کر دیا۔مری میں واقع ایک حویلی جس میں ایک پرسرار روح موجود تھی۔ساری کہانی دن کے اوقات میں لکھی تبھی اتنا خوف محسوس نہ ہوا۔قصہ اس حویلی کا مکمل ہوئی تو بھجوانے کے کچھ دن بعد ایک ایڈیٹر کا فون آیا کہ اس کو تھوڑا طویل کر دیا جائے تاکہ پڑھنے والے محظوظ ہو سکیں۔۔
اس دن میرے میاں صاحب حج پہ روانہ ہو رہے تھے۔ان کے جاتے ہی رات کا سکون میسر آتے ہی میں کاغذ قلم پکڑے بیٹھ گئی۔۔سوچ سوچ کر لکھ رہی تھی کہ لگا باہر دروازے پہ کھٹکا ہوا ہے۔ڈر ڈر کے دیکھا کوئی نہ تھا۔پھر کچھ لکھا تو لگا پہ دروازہ بج رہا ہے اس بار بھی کوئی نہیں تھا۔پھر بیٹھی ہی تھی کہ کمرے کا دروازہ بند ہو گیا۔۔مجھے لگا کہ مری کی چڑیل اس کمرے تک پہنچ گئی ہے۔دروازے کو تو کنڈی لگا دی۔اب اے سی میں سے آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔۔حالانکہ کہ وہ معمول کے مطابق ہی تھیں مگر جب اکیلے ہوں تنہائی ہو۔رات کا وقت ہو اور ایک بدروح کی کہانی پڑھی لکھی یا سوچی جا رہی تو ڈر خوبخود لگنے لگ جاتا ہے۔۔اب کبھی پن چلتے چلتے رک جاتا۔۔۔کبھی کوئی کٹھکا ہوتا۔۔۔پھر ایک دم لیمپ بند ہو گیا۔۔۔(کیونکہ وائرنگ ایسی ہے کہ اے سی اور لیمپ کا کنکشن ایک ہی ہے تبھی کبھی کبھی اے سی کروٹیں بدلتا آوازیں نکالتا ہے تو لیمپ بھی بجھ جاتا ہے)مگر اس دل کو کون سمجائے جو سینہ توڑ کے باہر آنے والا ہے۔۔بالاخر کاغذ قلم چھوڑا اور چادر میں منہ چھپا لیا مگر تب بھی یہی احساس تھا کہ ساتھ کوئی ہے۔۔۔اگر میاں ساتھ ہوتے تو یقینا کوئی جن بھوت چڑیل ادھر پھٹکنے کی ہمت نہ کرتا۔۔۔واقعی دو لوگ ہوں تو ایک اور ایک گیارہ ہو جاتے۔۔۔
اسی طرح وہ چند راتیں جو یہ کہانی مکمل کرنے میں صرف ہوئیں اسی طرح کی چیزیں ہوتیں کہ کمرے میں میرے علاوہ بھی کوئی ذی روح موجود ہے۔کافی ڈر ڈر کے کہانی بھجوا دی گئی۔تبھی توبہ کی تھی کہ آئیندہ نہیں لکھوں گی۔۔۔مگر برا ہوا کہ پھر ایک مقابلے کا انقاد ہوا جس میں خوف ناک کہانی بھیجی جائے۔تبھی اپنے قلم کی طاقت آزمانے کا سوچا مگر اس بار دن دن میں ہی کہانی لکھی۔رات میں تو خودی ڈر کے مر جاتی۔اس طرح سونم نگر کی سونی پایا تکمیل کو پہنچی۔
ایک لمحے کو سوچتی ہوں کہ جو دو کہانیاں لکھی ہیں اگر ان کی بدروحیں مجھ سے ملنے آ جائیں تو میرا کیا حال ہو گا؟؟؟
ان تمام احباب سے معذرت جن کو میں اپنی کہانیوں سے ڈراتی رہی۔لیکن اگر پڑھ کے بھی بندے کو ڈر نہ لگے تو کہانی کا مزہ تو نہ آیا ناں؟؟۔۔۔۔۔
سارہ عمر
#horror stories#horror nights#horrible memories
انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال میزبان سارہ عمر ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

Comments
Post a Comment