خواب امیراں دے
تے کم فقیراں دے
سارہ عمر
آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔
کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔
نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس کا ہاٹ آئر بیلون اڑا جا رہا ہوتا۔کبھی خواب میں اسے حسین وادیاں اور جھرنے نظر آتے تو کبھی سمندر کے بیچوں بیچ واقع جزیرے کا وہ اکلوتا وارث بن کر بڑے سے محل کی کھڑکی سے سمندر کی لہروں کا نظارہ کرتا۔صحیح کہتے ہیں تخیلات کی پرواز اتنی وسیع ہوتی ہے کہ جتنی شاہین کی بھی نہیں ہوتی۔وہ بھی ہوا کے دوش پہ جھوم ہی رہا ہوتا کہ اماں کی چپل اس کی کمر سینک جاتی۔
”دن چڑھے سونا نحوست ہوتی ہے۔چل اٹھ اور کوئی کام کاج کر۔“
اماں کا الارم صبح نو سے دوپہر دو بجے تک بجتا تھا۔دو بجے کے بعد الارم جواب دے جاتا اور باقاعدہ جوتیوں سے سیوا ہوتی۔
”ہائے اماں!اس گھر میں پہلے کم نحوست ہے جو مزید مجھے کوستی رہتی ہو۔“
وہ کمر سہلاتا اٹھ بیٹھا۔
”مجھے تو دور دور تک تیرے علاوہ کوئی نحوست نظر نہیں آتی جو دن رات منجی توڑتی رہے۔“
اماں نے آنکھوں کے آگے ہاتھ سے چھجا بنا کر ایسے کہا جیسے واقعی نحوست کو ڈھونڈ رہی ہوں۔
”ایک دن آپ کا یہی پتر آپ کو ڈالر لا کر دے گا ڈالر۔“
اس نے جتاتے ہوئے کہا۔
”نکڑ کی دکان سے دہی تو لا کر دیتا نہیں ڈالر لا کر دے گا۔“
اماں نے فوراً اس کو دوبدو جواب دیا۔
”بس اماں! دیکھتی جاؤ۔میں بھی فری لانسنگ کی ویب سائٹس پہ اکاؤنٹ بنا لیے ہیں۔بس دو چار بڑے بڑے پراجیکٹ پکڑنے دو۔پھر میں ہوں گا اور پیسے، یہ بڑی بڑی گاڑیاں، باہر کے ملکوں کی سیر۔۔۔“
”بس اب زمین پہ واپس آ جا۔یہ موئے اکاؤنٹ وکاونٹ بنانے سے کچھ نہیں ہوتا۔کام کرنا پڑتا ہے کام۔بنا کام کے تو کوئی پیسے کی جھلک بھی نہیں دیکھنے دیتا۔“
”واہ اماں واہ! تمہاری باتوں سے لگتا ہے کہ کوئی ڈیجیٹل گرو ہو۔“
اس نے اماں کی بات سن کر ستائشی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”ایسی باتیں کرنے کے لیے ڈیجیٹل گرو بننے کی ضرورت نہیں ہوتی۔تیرے جیسے نکموں کی ماں بنتے یہ سب باتیں، خودی ہی سمجھ آ جاتی ہیں۔“
وہ بدمزہ ہو کر پاؤں میں چپل اڑس کر اماں کے قدموں کے پاس آ بیٹھا، جہاں ابھی اماں چاولوں سے کنکر چن چن کر نکال رہی تھی۔
”اماں تو میرے لیے دعا کر، مجھے بس امیر بننا ہے۔وہ بھائی شوکت کہتا ہے کہ ماں کی دعا تو عرش ہلا دیتی ہے۔“
وہ اماں کو ایموشنل بلیک میل کرتے ہوئے بولا۔
”ماں دعا تو تب کرے نا جب نکمی اولاد بھی کچھ دوا کرے،یا فالتو میں دعا کر کر کے عرش ہلاتی رہے؟بڑا آیا امیر بننے۔“
اماں نے اس کی عرضی چٹکیوں میں اڑا دی۔
”دیکھ اماں!تیرا نہیں دل کرتا تیرا پتر بھی بابو بن جائے بس سارے لوگ اس کی ٹور ویکھیں۔“
وہ خوشامدی لہجے میں گویا ہوا۔
”بابو بنے سے بہتر ہے تو بندے کا پتر بن جا۔بس اتنا ہی کافی ہے۔“
”مجھے سمجھ نہیں آتا ساری دنیا کے لوگ امیر ہو سکتے ہیں، سوائے میرے۔حالانکہ میں نے وہ ساری کتابیں پڑھی ہیں۔امیر ہونے کے سو طریقے،شرطیہ امیر ہونے کے ایک سو باون طریقے اور۔۔“
وہ زچ ہو کر بول رہا تھا۔
”بیٹا جی!یہ کتابیں پڑھ کر کوئی امیر نہیں ہو سکتا جب تک ان کتابوں پہ عمل نہ کر لے۔تو کچھ ہاتھ پاؤں مار تو کیا پتہ کوئی دال گل ہی جائے۔“
”پتہ ہے کیا!امیر بنے کا سب سے پہلا اور آسان نسخہ کیا ہے؟“
اس نے جوش سے اماں کو بتایا اور جواب سنے بغیر خود ہی بولنے لگا۔
”فقیر بن کر بھیک مانگنا۔بس اس کام کا بڑا اسکوپ ہے۔ہینگ لگے نا پھٹکری رنگ بھی چوکھا آئے۔“
”تیری پھٹکری کو تو میں پھینٹی لگاتی ہوں بے غیرت۔“
اماں نے پھر سے جوتی اتار کر کھینچ کر اس کی کمر پہ رسید کی تھی۔
”شرم نہیں آتی تجھے؟
خواب امیراں والے
تے کم فقیراں والے؟“
اماں نے غصے میں دو چار لگائی تھیں۔
”اماں جوتی نوں بھی آرام لینے دے۔“
وہ ہائے ہائے کرتا بولا تو اماں نے جوتی چھوڑ کر اس کا منہ دیکھا۔
”یہ جب سے موئے موبائل میں باہر والوں کی ویڈیو آنے لگی ہیں، ساری نوجوان نسل کو پر لگ گئے ہیں۔بس بیٹھے بیٹھائے ڈالر چاہیں اور ملک چھوڑ چھوڑ کر باہر جانا ہے جیسے وہ ٹرنپ مفت میں ڈالر بانٹ رہا ہے۔“
اماں نے غصے میں پھر سے سنانا شروع کر دیں۔
”اماں ولاگ بولتے ہیں ان ویڈیوز کو اور ٹرنپ تو شلجم کو بولتے ہیں، وہ صدر تو ٹرمپ تھا اب تو اس کی جگہ بائڈن ہے۔“
اس نے اماں کی تصحیح کی تھی۔
”چل ہٹ!بائڈن ہے یا بادام ہے۔میری بلا سے۔اپنی ماں کو پٹیاں پڑھا رہا ہے۔اتنی تجھے عقل ہوتی تو صبح اٹھ کر باپ کے ساتھ کام پہ نہ جاتا؟دونوں بھائیوں کی طرح ان کے کاروبار میں ہاتھ نہ بٹاتا؟یا بستر پہ لیٹ لیٹ کر امیری کے خواب دیکھتا رہتا؟
کوئی انسان آج تک بستر پہ لیٹے لیٹے امیر ہوا ہے؟“
”بس اماں کل سے میں نے صبح صبح اٹھ کر کام پہ لگ جانا ہے۔بس دیکھنا میری پھرتیاں۔“
وہ کل کے خواب آنکھوں میں سجاتے بولا۔
”دیکھ لیا تجھے بھی اور تیری پھرتیوں کو بھی۔“
اگلے دن واقعی وہ صبح آٹھ بجے منہ ہاتھ،دھو کر ناشتہ کر کے، کمپیوٹر لے کر تیار بیٹھا تھا جیسے ابھی کوئی میگا پراجیکٹ اس کو ملنے والا ہے اور وہ ملتے ہی اس کے دن بدل جائیں گے۔
اماں بھی اس کی پھرتیاں دیکھ کر حیران تھیں مگر اپنے کاہل بیٹے کو بہت اچھی طرح جانتی تھیں۔تبھی اس کے سرہانے چائے کا کپ رکھتے دھیرے دھیرے مسکرا بھی رہی تھیں۔
بالآخر اس کی اسکرین پہ کسی باہر کے کلائنٹ کا میسج چمکا۔بات چیت شروع ہوئی تو اس نے واقعی پھرتیاں دیکھائی تھیں،مگر یہ کیا؟ایک ایک مسیج جانے میں کئی منٹ لگ جاتے۔بڑی مشکل سے مسیج پہ بات ہوئی لیکن اب اس کی آئی ڈی پہ کال آنا شروع ہو گئی۔آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے۔
”آ۔۔آ۔۔۔آ۔۔گرگرگر۔۔۔ٹی ٹوں۔۔“کال میں عجیب عجیب آوازیں ساتھ ہی سنائی دیں۔شاید سگنل کا مسئلہ شدید تھا۔پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔
”کلائنٹ نے اسے میسج کیا کہ اس تھکے ہوئے انٹرنیٹ کے ساتھ فری لانسنگ تمہیں ہی مبارک۔“
اور بس اسی وقت سارا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔
”اماں یہ پوری کائنات مل کر اپنا پورا زور لگا رہی ہے کہ میں غریب ہی رہوں۔ سو بہتر ہے کہ میں غریب ہی ٹھیک ہوں۔کم از کم غریب انسان سکھ کی نیند سو تو سکتا ہے نا“
ساتھ ہی منجی پر لیٹ کر چادر منہ تک تان لی۔
اماں ٹھنڈی آہ بھر کر بولیں:
”پتر میں تے پہلے ہی دسیا سی،امیر ہونا سوکھا کم نہیں۔“

Comments
Post a Comment