Skip to main content

Viral Mania

 

        وائرل مینیا

         (Viral Mania)

                     سارہ عمر۔    







نئے زمانے میں اگر ہر نوجوان کو کوئی خبط پایا جاتا ہے تو وہ وائرل ہونے کا مینیا(جنون) ہے۔بس کچھ بھی ہو جائے ہم کسی طرح وائرل ہو جائیں۔اب اس کے لیے الٹے پلٹے ہاتھ پاؤں مارنے پڑیں یا درخت سے الٹا لٹکنا پڑے،پہاڑ کے کنارے کھڑے ہو کر سیلفی لینی پڑے یا مگر مچھ کے منہ پہ چمی،ہمیں کوئی غرض نہیں۔بس ہم کوئی بھی طریقہ کارگر ثابت ہو اور ہم وائرل ہو جائیں۔


پہلے زمانے میں ”وائرل“ اور ”وائرس“ یہ دونوں الفاظ بہن بھائیوں کی طرح بیماری کے لیے ہی استعمال ہوتے تھے۔ڈاکٹر اکثر کہتے نظر آتے۔


”آج کل نیا وائرس آیا ہے،ہر طرف وائرل پھیل گیا ہے احتیاط کیجئے۔“

مگر اب زمانہ بدل گیا ہے تو وائرس اور وائرل کی تعریف بھی بدل گئی ہے۔پہلے جسم میں اور کمپیوٹر میں وائرس آتا تھا اب وہ ادھر سے نکل کر لوگوں کے دماغوں میں خناس کی صورت بھر گیا ہے۔اب اس نئے وائرس کا نام ہے ”ٹک ٹاک“، ”سنیپ چیٹ“، ”انسٹا“ اور انہی سے ملتے جلتے وائرس جو نزلہ، زکام، کھانسی سے بھی بڑے وائرس ہیں کیونکہ نزلے،زکام کھانسی کو تو دوائیوں سے آرام آ جاتا ہے۔اس وائرس کے ڈسے کو تو کسی دوائی سے آرام نہیں آتا۔جب تک تازی ترین فوٹو اپ لوڈ نہ کی جائے، کھانا حلق سے نیچے نہیں اترتا۔بلکہ کوئی کھانا بھی حلق سے کیسے نیچے جائے جب تک وہ ”اسٹریک“ اور ”اسٹوری“ بن کر سوشل میڈیا پر چپک نہ جائے۔پہلے لوگ کہانیاں سنا کرتے تھے اب لوگوں کو ”اسٹوری“ پڑھنے سے زیادہ دیکھنے میں دلچسپی ہے۔

وائرس جیسی سوشل میڈیا ایپس کا کیڑا جب انسان کے دماغ میں گھس جاتا ہے تو ایسی کیڑا کاڑی شروع کرتا ہے کہ کبھی انسان کیڑا بن کر زمین پہ رینگنا شروع کر دیتا ہے اور اس کی ویڈیو اپ لوڈ کر کے وائرل ہونے کی کوشش کرتا ہے۔حالانکہ اگر کیڑا بن کر رینگنے سے وائرل ہوا جا سکتا تو سب سے زیادہ وائرل تو سانپ،چھپکی،مگرمچھ اور دیگر حشرات ہوتے۔مگر ان مینک(خبطیوں) میں اتنی عقل ہوتی تو ایسی حرکتیں کرتے ہی کیوں کہ انہیں دیکھ کر کیڑے ،مکوڑے، جانور بھی خود کو شیشے میں دیکھ کر کہیں۔”میں اتنا برا تے نہیں!“


اور تو اور وائرل ہونے کے لیے،آپ کو کوئی ٹک ٹاکر کمر پہ ڈھیروں غبارے باندھ کر ہوا میں اڑتی ہوئی بھی نظر آئے گی۔مگر ہوا میں اڑتا دکھائی دینے کے لیے کرین سے کٹکنا پڑا تو بھی لٹکیں گے۔لٹکیں گے،مٹکیں گے، چٹخیں گے مگر وائرل ہونے کے لیے کچھ بھی کریں گے۔


وہ کہتے ہیں نا بدنام نہ ہوں گے


تو کیا نام نہ ہو گا؟


سو وائرل نہ ہوں گے


تو کیا نام نہ ہو گا؟


اگر تھوڑی سی پاگلوں والی حرکات کر کے لاکھوں کے حساب سے ویوز اور فالورز آ جاتے ہیں تو کیا مضائقہ ہے؟یہ وائرل ہونے کا خبط بھی عجیب ہے اچھے بھلے انسان سے کیا کچھ کروا لیتا ہے۔ایسی ایسی ریلز اور ویڈیوز دیکھنے کو ملتی ہیں کہ اگر زمانہ قدیم کے باحیا،باکردار لوگ دیکھ لیں تو سارے ٹک ٹاکرز کو ”چلو بھر پانی“ مفت فراہم کریں کہ ”یہ لو چلو بھر پانی اور فرصت سے اس میں ڈوب کر مر جاؤ۔“اپنی عزت تو مٹی میں ملائی ہے ساتھ ہی ساتھ پوری قوم کی اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے مگر یہ جنازہ بھی ایسا ہے کہ بے گور و کفن پڑا ہے کسی کو اسے دفنانے کا ہوش نہیں۔


ایک وقت تھا پاکستان کو اس کی مصنوعات،نمک کی کان،چمڑے اور بھیڑ کی کھالوں سے بنی اشیا، سیالکوٹ کے فٹ بال اور بہترین کشیدہ کاری کے ملبوسات سے پوری دنیا میں جانا جاتا تھا مگر اس نئے وائرس نے تو پاکستانی قوم کو کسی اور ہی لحاظ سے وائرل کر دیا ہے۔اب کسی باہر والے کے سامنے پاکستان کا نام لو تو وہ کہے گا۔وہ پاکستان جس میں لڑکیاں بہت خوبصورت ہیں، یا وہ پاکستان جس کی فلاں ماڈل مجرا بہت اچھا کرتی ہے۔یا وہ ملک جس کی فلاں فالتو قسم کی ویڈیو آج کل شدید وائرل ہے۔

فرانسیسی کہاوت ہے کہ

”اگر تم کسی قوم کی ترقی دیکھنا چاہتے ہو تو اس ملک کی عورتوں کو دیکھو۔“


تو پھر ساری دنیا پاکستان کی عورتوں کو دیکھ کر درست ہی اندازے لگا رہی ہے۔وہ جو علم،ادب و فنون میں دنیا بھر میں جھنڈے گاڑ کر ملک کا نام روشن کرنے کی کوشش کرتی ہیں ان کے وائرل ہونے کی کبھی نوبت نہیں آتی،لیکن ایک گاؤں کی لڑکی سر پہ گٹھڑی رکھ کر کھیت کی پگڈنڈیوں پہ بل کھاتی پھرے،وہ زیادہ جلدی وائرل ہو جاتی ہے۔


پہلے پہل شادیوں کے گھریلو فنکشن میں کچھ گا بجا لیا جاتا تھا مگر اب تو جناب شادی نہیں ہے، وائرل ہونے کا شارٹ کٹ ہے۔اب تو شادیوں پہ وہ گلوکاروں اور ڈانسرز کی پرفارمینس ہوتی ہے کہ شادی کم میوزیکل کانسرٹ زیادہ لگتا ہے۔صرف یہی نہیں، ایک شادی کئی مینک(خبطیوں)کے لیے وائرل ہونے کا سامان بن جاتی ہے۔


دولہا دلہن ہیں تو انہیں اپنی شادی پہ شادی سے زیادہ اچھے فوٹوشوٹ کی فکر ہے تاکہ اچھی تصاویر پوسٹ کر کے وائرل ہونے میں آسانی ہو۔فوٹوگرافر ہے تو اسے دلہن دلہا سے زیادہ ایسے چہرے تلاش کرنے کی فکر ہے جو آسانی سے وائرل ہو کر اکاؤنٹ ریچ بڑھا سکے۔


کزن ہیں تو انہیں کھانے سے زیادہ طرح طرح کے کھانے کی تصویریں کھینچنے سے غرض ہے۔لڑکیوں نے اپنے آدھے ہاتھ،آدھی آنکھ، آدھی ناک، ایک پاؤں اور ایک کان کی تصویر لگا کر وائرل ہونے کی تیاری کی ہوتی ہے۔غرضیکہ ایک شادی سے ہر کوئی بہتی گنگا کی طرح ہاتھ دھو رہا ہوتا ہے کہ کسی طرح ایک ویڈیو وائرل ہو جائے اور کام بن جائے۔


اب تو خیر سے بڑے بوڑھے بھی پیچھے نہیں رہتے۔بزرگوں نے جو ارمان اپنی شادی اور شادی کے بعد کی زندگی میں نہیں نکالے وہ سب ارمان ٹک ٹاک پہ نکال دیتے ہیں۔پہلے انہیں تھوڑا بہت رقص کرنے کے لیے بلائیں تو صاف منع کر دیتے ہیں کہ

”ارے!اب ان بوڑھی ہڈیوں میں دم کہاں؟“

اور پھر جب بوڑھی ہڈیاں میدان میں اترتی ہیں تو جوانوں کی تو آنکھیں ٹپک پہ زمین پہ گر جاتی ہیں کہ ابھی تو ان سے چلا نہیں جا رہا تھا اب انہوں نے ڈانس میں مائیکل جیکسن کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔بوڑھی دادیوں نے شکیرا کا ریکارڈ توڑنے کی قسم کھائی ہوتی ہے۔بس جیسے ہی چند بوڑھے میدان میں اترتے ہیں نوجوان پارٹی ہاتھ جوڑ کر اسٹیج سے کوچ کر جاتی ہے اور بس پھر ان بوڑھی ہڈیوں کے ذریعے انہیں نیا ”کانٹنٹ“ نچوڑنے کا موقع مل جاتا ہے۔سو یہی ویڈیوز اپ لوڈ کر کے وائرل کی جاتی ہیں۔


بوڑھی ہڈیاں تو مہندی ،شادی پہ کچھ دیر کا شغل لگا کر کچھ دیر کی موج مستی کر لیتی ہیں۔پھر واپس سے اپنے دمے، شوگر،بی پی، جوڑوں کے درد کی دوائیاں لے کر بیٹھ جاتی ہیں مگر اتنی دیر میں ان کی ویڈیو ملین ویوز کراس کر جاتی ہیں۔


شریف لوگ تو کسی بڑی عمر کی خاتون کو شلوار قمیض میں رقص کرتا دیکھ کر شرم سے ہی پانی پانی ہو جاتے ہیں۔جس عمر میں ہماری نانی، دادی سر سے چادر نہیں کھسکنے دیتی تھیں،اس عمر میں بزرگ خواتین پوری کی پوری کھسک چکی ہیں۔اب کیا کریں جناب!پیسہ ظالم شے ہے۔ٹاک ٹاک اور لائیو سے پیسے کمانے والوں کو وائرل ہونے کے لیے تھوڑی سی عزت و غیرت بیچ دینا بڑا آسان لگتا ہے۔

اس نسل کو یہ نہیں پتہ کہ وائرل ہونے کے لیے الٹی پلٹی ویڈیوز سے پیسہ تو کمایا جا سکتا ہے عزت نہیں۔وائرل ہی ہونا ہے تو کچھ اچھا کر کے وائرل ہو لو۔چین کی طرح،تعمیراتی ڈیزائن،نت نئی مصنوعات اور صنعت کاری سے متعلقہ خیالات کو بھی دنیا کے سامنے پیش کر کے اپنی مثبت سوچ سے اپنے ملک و قوم کا نام روشن کیا جا سکتا ہے۔


وائرل ہونے کے لیے نوجوان نسل کے لیے وائرس نہ بنیں بلکہ اپنے کانٹنٹ سے ان کی اصلاح کریں اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...