Skip to main content

Fatima i miss u

#humamlibrary Komal Shahab فاطمہ آئی مس یو۔۔۔ پکوڑے کے نام سے تو تمام دنیا ہی واقف ہے اس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں مگر حقیقتا ایسا نہیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میری جٹھانیوں نے عربی مدرسے میں پڑھانا شروع کیا۔ایک ماہ کا دورہ تھا۔انہیں عربی آتی ہے اس لیے وہ پڑھا رہی تھیں اور میں پڑھنے چلی گئی اور میری عربی بس ایک دو لفظ کی ہی ہے۔ خیر تصیح تلاوة کی کلاس تھی اور پہلی ہی دن ایک مصری لڑکی جسے انگلش آتی تھی میری دوست بن گئی اور میری عید ہو گئی۔پورا مہینہ اسی کے دم سے گزرا۔ہر جمعرات کو لڑکیاں کچھ بنا کر لے آتی تھیں۔پھر ایک دن مینا بازار رکھا گیا جس میں ہر ملک کے کھانے لے کر آنے تھے۔یعنی ہر ملک کی لڑکی اپنے ملک کا کھانا لائے۔ میری جٹھانیوں نے بہت کہا بریانی لے جاو۔۔۔مگر مجھے تو بنانی ہی نہیں آتی تھی۔۔ہی ہی ہی۔۔۔ تو بریانی تو جٹھانی سے بنوا لی مگر خود ہم لے کر گئے پکوڑے جی ہاں ۔۔۔۔رمضان اسپیشل۔۔۔میری جٹھانیوں نے بہت کہا کوئی نہیں کھائے گا۔۔کوئی پکوڑے کو نہیں جانتا مگر ہم نے ایک نہ سنی اور ڈھیر سارے پکوڑے لے کر پہنچ گئے۔۔ اسٹال پہ پکوڑے کا نام *باکورہ* لکھوا دیا۔۔۔بس جہ سب باکورے بک گئے اور اگلے دن کلاس میں باکورے باکورے ہو رہے تھے۔میری مصری دوست فاطمہ نے تو ریسپی بھی لی اور جب تک کلاس چلی ہر دوسرے دن باکورے کہ فرمائش آتی اور میں گرمی میں باکورے بنا بنا کر باکورہ ہی بن گئی۔۔۔😊 اتنے پکوڑے ساری زندگی نہیں بنائے۔اب بھی جب میں پکوڑے بناتی ہوں واٹس ایپ پہ بمع تصویر اسٹیٹس ڈال دیتی ہوں فاطمہ آئی مس یو۔۔۔یقینا اسے مصر کے اہراموں تک باکورے کی مہک پہنچ جاتی ہو گی۔۔ سارہ عمر P.c sarah omer

Comments