Skip to main content

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو

معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال

            میزبان سارہ  عمر 




ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔

آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔

ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔

ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔

ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ ان کی وجہ شہرت ان کی مشہور کتاب ”داڑھی والا“ ہے اور یہ اپنے منفرد انداز و اسلوب بیاں کی بدولت جانے جاتے ہیں۔

چلیے اب مزید انتظار کروائے بغیر آپ کی ملاقات حسنین صاحب سے کرواتے ہیں۔حالانکہ یہ انٹرویو سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔

السلام علیکم! حسنین جمال صاحب!کیسے ہیں آپ؟

وعلیکم السلام!

الحمدللہ بالکل خیریت سے۔

س:آپ کے تعارف سے تو ہر قاری واقف ہے لیکن آپ یہ بتائیے کہ آپ ”حسنین جمال“ کی تعریف کن الفاظ میں کرنا پسند کرتے ہیں؟

جواب:

سب سے پہلے تو آپ کا بے حد شکریہ کہ آپ نے میرے انٹرویو کے لیے اتنی محنت سے سوالنامہ ترتیب دیا۔

حسنین جمال کا تعارف یہ ہے کہ حسنین ایک سادہ آدمی نظر آنا پسند کرتا ہے اور اسے زندگی بہت زیادہ پچیدہ پسند نہیں ہے۔

س: آپ کے مطابق،آپ کے قلمی سفر کا آغاز 2002 میں ہوا،تو 2002 سے 2024 تک آپ نے مستقل لکھا یا لکھنے میں کئی ماہ و سال کا وقفہ دیا؟

جواب:

قلمی سفر کا باقاعدہ آغاز آن لائن پلیٹ فارم ’دنیا پاکستان‘ سے 2011 میں ہوا۔ آن لائن لکھنے کی پہلی شرط یہ ہوتی ہے کہ آپ قارئین کی نظروں سے غائب نہ ہوں، وقتا فوقتا کچھ نہ کچھ لکھا ہوا قارئین کی نظروں کے سامنے آنا چاہیے۔ ویسے تو 2002 میں لکھنا شروع کیا تھا یکن وہ چند تحریریں ہی تھیں، مستقل مزاجی سے لکھنے کا باقاعدہ آغاز 2011 میں ہی ہوا۔

س:ایسا کونسا محرک تھا جو مستقل لکھنے کا باعث بنا؟

جواب:

بنیادی طور پر ان لائن لکھنا ہی میرے لیے باقاعدگی سے لکھنے کا باعث بنا۔ چونکہ ان لائن لکھتا تھا لوگ پسند کر رہے تھے اور خدا کا شکر ہے کہ اچھا رسپانس مل رہا تھا تو بس پھر لکھنا شروع کر دیا۔

اگر پبلشڈ روائتی میگزین والا سلسلہ ہوتا اور مجھ تک براہ راست لوگوں کا رسپانس نہ ملتا تو شاید میں اس طرح مستقل مزاجی سے نہ لکھ پاتا۔

س:آپ نے کئی سال اخبارات میں کالم لکھے،آخر کیا وجہ ہے کہ آپ نے پہلی کتاب شائع کروانے میں کئی سال لگا دئیے۔کیا یہ تاخیر ارادی تھی یا غیر ارادی؟

جواب:

میں کتاب شائع نہیں کروانا چاہتا تھا، اس کی اہمیت سے بھی واقف نہیں تھا۔ مجھے میرے مہربان عامر ہاشم خاکوانی صاحب نے ہمیشہ سمجھایا کہ میرے بہت سے کالم بہت اچھے ہیں اور کتاب کی اشاعت انہیں بڑے پیمانے پر لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ بن سکتی ہے، تو اس بات کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، لہذا ان کے بار بار سمجھانے پہ کہ کتاب شائع کرنے کا بیڑا اٹھایا۔

میں کتاب کو معمولی نہیں سمجھتا تھا لیکن مجھے سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کوئی بھی انسان اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے کتاب چھپوائے اس کے بعد لوگوں میں مفت تقسیم کرئے اور بعد میں انہی لوگوں سے یہ امید بھی رکھے کہ یہ لوگ کتاب پہ اچھا تبصرہ کریں گے تو یہ چیز میری سمجھ سے باہر تھی کہ بندہ پیسے اپنے لائف سٹائل کو بہتر بنانے کے لیے کماتا ہے۔ ان سب کے درمیان مڈل کلاس کا آدمی ایسے شوق پورے نہیں کر سکتا بس پھر اس کے بعد انتظار کیا اور طویل انتظار کیا مگر خدا کی مہربانی تھی کہ میرے پبلشر نے مجھے میری شرائط پر چھاپ دیا۔ اگر میرے بک کارنر کے امر اور گگن بھائی میری کتاب نہ چھاپتے تو شاید میں خود سے یہ کتاب نہ چھپواتا۔

س: آپ کے مطابق کسی مصنف یا کالم نگار کو اپنی پہلی کتاب کم از کم کتنے سال مستقل لکھنے کے بعد شائع کروانی چاہیے؟آج کل لکھاری کچھ ماہ یا سال بھر لکھ کر کتاب شائع کروا لیتے ہیں۔اس متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب:

میرے خیال سے کم ازکم آٹھ دس سال کے بعد ہی اس بارے میں سوچا جائے۔ عموماً ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ اردو ادب اور سنجیدہ ادب پینتیس چھتیس سال کی عمر کے بعد کے لوگ ہی لکھ پاتے ہیں میرے اندازے کے مطابق۔

س:سب سے زیادہ شہرت کس تحریر سے ملی جو بے پناہ وائرل ہوئی ہو؟

جواب:

 میری جس تحریر کو سب سے زیادہ شہرت ملی وہ تھی مستنصر حسین تارڑ اپنے پرانے گھر کو چھوڑ رہے تھے اور نئے گھر منتقل ہو رہے تھے۔ ان کی اس منتقلی پہ میں نے ایک آرٹیکل لکھا تھا۔ وہ میری کتاب 'داڑھی والا میں شامل ہے' ۔اس کا عنوان ہے ” جب ہم اپنا پہلا گھر چھوڑتے ہیں“بہت مشہور ہوا تھا۔ اس کے بعد الحمداللہ بہت سے کالم ایسے تھے جن کو بہت پزیرائی ملی بہرحال پہلا مشہور آرٹیکل " جب ہم اپنا پہلا گھر چھوڑتے ہیں"یہی تھا ۔

س:آپ کی پہلی کتاب آئی اور آ کر چھا گئی۔پہلی بار کتاب کو دیکھ کر کیا تاثرات تھے؟کیا آپ جانتے تھے کہ ”داڑھی والا“ اس قدر پسند کی جائے گی؟

جواب: مجھے بالکل بھی امید نہیں تھی کہ کتاب اس طرح سے سپر ہٹ ہو جائے گی۔ آپ یقین کیجئے مجھے ایک فیصد بھی امکان نہیں تھا اس کو اتنی پزیرائی ملے گی ۔جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ میں اپنی کتاب چھپوانے کے حق میں بھی نہیں تھا وجوہات میں آپ کو بتا چکا ہوں مجھے بالکل بھی امید نہیں تھی یہ سب خدا کی مہربانی ہے۔

س: آپ کی تحاریر کی برجستگی نوجوان نسل کو بے حد متاثر کرتی ہے لیکن آپ کی گفتگو اور تحریر میں اس قدر روانی اور برجستگی کا راز کیا ہے؟

جواب

روانی اور برجستگی کا راز تو پہلے میں لکھتے ہوئے بھاری بھرکم الفاظ استعمال کرتا تھا، ثقیل الفاظ، اَدَقَ الفاظ …ایسے الفاظ جو کہ اب استعمال نہیں ہوتے۔ ہر لکھنے والا شروع میں کوشش کرتا ہے مُفَرَّس معرب اور مُقَفّیٰ و مُسَجَّع زبان استعمال کرے۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اسے سمجھ میں آجاتا ہے کہ نہیں بھئی سامنے والا قاری آسان الفاظ پڑھنا چاہتا ہےاور آسان گوئی مشکل گوئی سے زیادہ مشکل کام ہے۔وقت کے ساتھ جب آپ کو پتا چلتا ہے تو آدمی خودبخود اپنا ایک اسلوب ایک انداز اپنا لیتا ہے خدا کی مہربانی سے یہ کام ہو گیا۔

س:آپ کی تحاریر سے زیرک مشاہدہ جھلکتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے آپ ایک حساس دل انسان ہیں۔کیا آپ کو لگتا ہے کہ حساس دل لوگوں کا ہمارے معاشرے میں سروائیو کرنا مشکل ہے۔

جواب:

حساس دل لوگوں کا ہمارے معاشرے میں گزارا کرنا مشکل ہے۔ہمارے معاشرے میں خود حساسیت بھی حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔آج سے تیس سال پہلے یہ سب کچھ نہیں ہوتا تھا۔ ابھی ہم لوگ لے دے کے اور کچھ نہیں ہیں ہاں مگر حساس ضرور ہیں۔

س:کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ کتاب لکھنا بہت آسان ہے حالانکہ اس میں بے حد وقت اور محنت درکار ہے۔آپ کو اپنی کتاب لکھتے اور شائع کرواتے کن مسائل سے دوچار ہونا پڑا؟

جواب:

خدا کی مہربانی تھی تو مجھے کوئی ایسی مشکل نہیں ہوئی، اس وقت میں تقریبا تین چار اخبارات میں چھپ رہا تھا۔ محتلف اردو ڈائجسٹ اور سنجیدہ ڈائجسٹ، ادب کے رسالے، ادب لطیف، ایوان اردو اور تقریباً اسی مزاج کے رسالوں میں میری تحاریر چھپ رہی تھیں، احباب جانتے تھے، تو اس وجہ سے چھپنے میں کوئی ایسی مشکل کا مجھے سامنا نہیں کرنا پڑا۔

س:آپ کے بعض کالم کے عنوانات اور موضوعات بہت اچھوتے ہوتے ہیں،اس کے لیے انسپریشن کہاں سے لیتے ہیں؟

جواب:

موضوعات کے اچھوتے ہونے کا تعلق چونکہ میں صحافت بھی کرتا ہوں جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ صحافت میں سرخی کو بہت دیکھ بھال کے بنانا پڑتا ہے تاکہ آپ قاری کو اپنی خبر پڑھنے پہ آمادہ کر سکیں۔ آپ کے اندر یہ قابلیت ہونی چاہئے کہ آپ اپنے قاری کو اپنی تحاریر تک کیسے کھینچ کر لے کر آئیں۔

س:آپ نے اپنی کتاب میں زندگی کے ہر اس پہلو پہ بات کی ہے،جن سے عام آدمی دوچار ہوتا ہے۔آپ کو کیا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی کونسے پہلو ایسے رہ گئے ہیں،جن پہ قلم کشائی نہیں کی گئی؟

جواب:

بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر میں نے بالکل بھی بات نہیں کی اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ، ہماری اقدار، ہماری روایات، ہماری ثقافت ان موضوعات پر کھل کے بات کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اگر آپ بات کر بھی لیں تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ جناب پتا نہیں یہ بندہ کس طبقے سے تعلق رکھتا ہے مطلب اس بندے کو بہت غلط سمجھا جاتا ہے۔ بس اس وجہ سے بچ بچا کے لکھتا ہوں۔

س:لوگ کہتے ہیں کہ کتاب مر رہی ہے،لیکن ”داڑھی والا“ کے ایڈیشنز دیکھ کر لگتا ہے۔کتاب پھر سے جی اٹھی ہے۔آپ کی اس متعلق کیا رائے ہے؟

جواب:

کتاب مر نہیں رہی بس مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی دسترس سے دور ہوتی جارہی ہے اور دوسری بڑی وجہ موبائل فون ہاتھوں میں آگئے ہیں موبائل فون نے کتابوں کی جگہ لے لی ہے۔جو پڑھنے والے ہیں اور جنہیں کتاب پڑھنا پسند ہے وہ ابھی بھی کتاب پڑھتے ہیں اور کتاب بکتی بھی ہے۔

س:بحیثیت مصنف اور کالم نگار آپ کسے اپنا استاد مانتے ہیں کہ اگر یہ فرد یا افراد نہ ہوتے تو حسنین جمال آج یہاں نہ ہوتا؟

جواب:

چار لوگوں کو میں اپنا استاد مانتا ہوں۔

وجاہت مسعود، عقیل عباس جعفری، آصف فرخی اور صدیقہ بیگم، یہ چار لوگ اگر شامل حال نہ ہوتے تو شاید لکھنا شروع کر کے یہاں تک پہنچنا میرے لیے کبھی ممکن نہ ہوتا۔

 س:انسان کو اپنی پہلی کمائی کبھی نہیں بھولتی۔آپ کی پہلی کمائی کتنی تھی اور کہاں خرچ کی؟

جواب :

1996میں میری پہلی کمائی چار سو روپے تھی میں بچوں کو ٹیویشن پڑھانے جاتا تھا جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اس سے میں نے اپنی امی کے لیے میک اپ کا سامان خریدا تھا اور اپنی ہونے والی بیگم کے لئے چاندی کا بریسلیٹ خریدا تھا۔ اس زمانے میں چاندی سستی ہوا کرتی تھی۔


س:آپ نے اپنی زندگی میں کئی ملازمتیں تبدیل کیں،ایسی کونسی ملازمت ہے کہ جس کے متعلق دل سے کہتے ہیں کہ ”اسے کرتے مزہ آ گیا بھئی!“؟

جواب:

الحمداللہ ساری ملازمتوں کا بہت مزا آیا جس ملازمت پہ جب بھی رہا تو بس یہی لگتا تھا کہ یہ سب سے اچھی ملازمت ہے، اس سے اچھی ملازمت کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی ۔ابھی جو ملازمت جاری ہے اس کو بھی بہت انجوائے کرتا ہوں کہ اس سے اچھی ملازمت اور کوئی نہیں ۔بہت شکر ہے اللہ پاک کا بہت مہربانی مالک کی۔ مزے ہی مزے…

س:کہتے ہیں ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے،آپ کی زندگی میں وہ عورت کون ہے؟

جواب:یہ بہت اچھا سوال ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یا تو والدہ ہیں یا پھر بیگم کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہی دو شخصیات ہوتی ہیں جو مستقل آپ کی زندگی میں رہتی ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ شادی سے پہلے والدہ ۔۔کیونکہ ان کو میں نے دیکھا ہے ہمیشہ ہنستے ہوئے کسی بات پہ پریشانی ظاہر نہ کرتے ہوئے۔

اس کے بعد میری بیگم آئیں میری زندگی میں ۔۔میری گرومنگ یا پھر جس حال میں آپ مجھے اب دیکھتے ہیں چاہے وہ ڈریسنگ یا ایکسپویر ہے بہتر چیزیں اور مواقع کھل کے میرے سامنے آئے۔زندگی کے بارے میں بہت سے نظریات بھی انہی کی وجہ سے بدلے۔الحمداللہ یہی دو خواتین ہیں۔ 


س:آپ نے پاکستان کے مختلف شہروں میں قیام کیا۔کون سا شہر دل کے زیادہ قریب ہے؟

جواب :

پاکستان کے محتلف شہروں میں قیام کیا اسلام آباد اور ملتان دل کے بہت قریب ہیں لاہور بالکل بھی نہیں پسند۔ کراچی رہنے کے تو قابل ہے لیکن اب وہاں کون رہے۔ بہاولپور بھی کافی حد تک اچھا شہر ہے۔


س:پاکستان کے کس شہر سے زندگی کی سب سے حسین یادیں وابستہ ہیں؟

جواب:

زندگی کی سب سے حسین یادیں ہر شہر سے وابستہ ہیں مثلا پشاور، لاہور، ملتان اور اسلام آباد وغیرہ سے۔


س:آپ کی پرورش ملتان میں ہوئی،ملتانیوں میں ایسی کون سی منفرد خصوصیت ہے جو انہیں ممتاز کرتی ہے؟

جواب: ملتانیوں میں ایسی منفرد خصوصیات وہ یہ کہ جہاں بھی جاتے ہیں ان کو ملتان کی بہت یاد آتی ہے۔وہ ملتان سے دوسو کلو میٹر بھی دور چلے جائیں تو انہیں ملتان کی یاد آنا شروع ہو جاتی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ پردیس میں ہیں۔یہی ملتان اور ملتانیوں کی خوبصورتی ہے۔


س:اپنے بچپن کا کوئی ایسا واقعہ جسے یاد کر کے آج بھی بے اختیار ہنستے ہوں؟

جواب:

ہمارے ماموں ہمیں کہیں پہ لے گئے غالباً وارث ماما کی دوکان تھی تو انہوں نے مجھے ایک شیزان کی بوتل دی کہ بھئی یہ بختیار کے ساتھ چھوٹا بچہ آیا ہے، اسے بوتل دو، تو پھر میں وہ شیزان کی بوتل بہت آہستہ آہستہ پی رہا تھا ۔تو ماموں نے کہا کہ ختم کرو بیٹا کیوں نہیں پی رہے اتنی دیر ہو گئی ہے ابھی تک پی رہے ہو.... تو میں نے کہا ماموں ختم ہو جائے گی تو میں کیا کروں گا۔

جس پہ سب کو بے ساختہ ہنسی آئی۔ ماموں کو ابھی تک یہ واقعہ یاد ہے۔

س:آپ نے اپنی کتاب میں تقریباً سب ہی گھر والوں کا ذکر کیا ہے،کبھی ایسا ہوا کہ کسی نے خصوصاً کہا ہو کہ اگلی تحریر میں میرا ذکر ضرور کرنا؟

جواب: میں نے سب گھر والوں کا ذکر کیا اپنی کتاب میں ۔ پھر اوما، میری بیگم نے مجھے کہا کہ اس کتاب میں باقی سب کا ذکر تھا میرا ذکر بہت کم تھا، تو پھر میں نے تفصیلا ایک خط انہیں لکھا، وہ بعد میں اگلی کتاب میں شائع ہوا۔


س:بچپن کے حسنین میں اور اب کے حسنین میں کیا فرق بہت واضح ہے؟

بچپن کے حسنین اور اب کے حسنین میں بہت زیادہ فرق ہے زمین آسمان کا فرق ہے۔ مطلب ہر طرح سے فرق ہی فرق ہے طویل داستان ہے بہت زیادہ فرق ہے۔


 س: آپ کے آباؤاجداد میں سب ہی کا تعلق لکھنے لکھانے سے رہا،آپ کو لگتا ہے کہ ایک ادبی گھرانے سے تعلق ہونے کے باعث آپ کی تحاریر میں اس کی جھلک نظر آتی ہے؟

جواب:

ہاں شاید میری تحریر میں اس کی جھلک نظرآتی ہے لیکن میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ لکھنے لکھانے سے زیادہ پڑھنے پڑھانے کی بات ہوتی ہے۔ مجھے بچپن سے ہی پڑھنے کا بہت شوق تھا اگر میں نے پڑھا نہ ہوتا تو شاید میں ایسا نہ لکھ پاتا یہ بات تو طے ہے ۔


س:آپ کے دادا کو فارسی پہ عبور تھا،آپ کو بھی فارسی سے کوئی شغف ہے؟

جواب :

فارسی سے مجھے شغف ہے 100 میں سے اگر آپ مجھے نمبر دیں تو 30 نمبر لے سکوں گا مطلب اتنی فارسی تو میں جانتا ہوں اس سے زیادہ نہیں۔


س:اردو کے علاوہ اور کون سے زبانوں پہ عبور حاصل ہے؟

جواب: اردو کے علاؤہ پنجابی ، سرائیکی اور انگریزی۔ یہ تین زبانیں ان پہ اچھا عبور ہے۔

 عربی بھی جانتا ہوں، عربی میں آپ مجھے 20 نمبر دے سکیں گے۔


س: حال ہی میں آپ کے بھائی خاور جمال صاحب کی کتاب ہوائی روزی شائع ہوئی ہے۔اس کے متعلق بتائیے کہ وہ کس طرح باقی کتابوں سے منفرد ہے اور اسے قارئین کو کیوں پڑھنا چاہیے؟

جواب: حال ہی میں خاور صاحب کی جو کتاب آئی ہے وہ ایسے منفرد ہے کہ خاور صاحب بے ساختہ لکھتے ہیں مطلب یہ کہ وہ جملہ نہیں بناتے ۔قارئین کو خاور صاحب کی کتاب اس لیے پڑھنی چاہئے کہ قارئین نے سفر نامے بھی پڑھے ہوں گے۔ آپ بیتیاں بھی بہت پڑھی ہوں گی لیکن انہوں نے یہ نہیں پڑھا ہوگا کہ ایک فضائی میزبان کی زندگی کیسی ہوتی ہے؟ وہ کیا سوچتا ہے؟ تو اس لحاظ سے یہ کتاب دلچسپ ہو سکتی ہے۔یعنی ایک ائیر ہوسٹس اور ایک سٹیورڈ کیا سوچ سکتا ہے۔






س:آپ کی تحاریر میں واعظ اور نصیحتیں نہیں ہوتیں،آپ کو لگتا ہے کہ یہ غیر ضروری نصیحتیں ہی جنریشن گیپ کا سبب بن رہی ہیں؟

جواب: جی، میری تحاریر میں واعظ اور نصیحتیں نہیں ہوتیں۔ 

جو بیچارہ نصیحت کرتا ہے۔ وہ اپنے خلوص میں کر رہا ہوتا ہے اس کو یہ بیماری ہوتی ہے اسے دور نہیں کیا جاسکتا۔ یہ لاعلاج مرض ہے اس کی دوا نہیں ہے لیکن جنریشن گیپ پھر بھی رہتا ہے۔ آپ نصیحت کریں نہ کریں آپ اپنی طرف سے بہت اچھے بن کر بھی رہیں۔ جنریشن گیپ ہمیشہ موجود رہتا ہے آپ نہ ہی اس کو کم کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کو ختم کر سکتے ہیں ۔


س:اپنی پہلی کتاب سب سے پہلے دستخط کر کے کسے دی؟

جواب: مجھے یاد نہیں یہ شاید والد صاحب کے لیے میں نے کی تھی یا پھر میرے خیال میں زیدی صاحب، مبشر زیدی صاحب کی پہلی کتاب انہی کے پاس گئی تھی کچھ ایسا ہی تھا ۔


س:زمانہ قدیم اور دور حاضر کے کن ادباء کے کام سے بے حد متاثر ہیں؟

بھئی بہت طویل لسٹ ہے بہت طویل ... میر کی شاعری ، یوسفی صاحب کا مزاح، شفیق الرحمن صاحب کا سبھی کچھ پسند ہے ۔ انتظار حسین اور حمید اختر کے کالم پسند ہیں اور خورشید رضوی صاحب کی عربی ادب پہ تحاریر کا سلسلہ بہت پسند ہے۔ وسعت اللہ خان بہت عمدہ لکھتے ہیں میرے لیے وہ استادوں کا درجہ رکھتے ہیں۔ باقی شمس الرحمن فاروقی، اسد محمد خان اور نئیر مسعود، یہ سبھی اساتذہ ہیں، بہت عمدہ لکھا، ان سے اچھا کیا ہی ہو گا کوئی، اور یہ سب تقریباً ہم عصر نام ہیں۔

س: آپ کے مطابق اچھا ادب کیا ہے اور اردو ادب کو اب کس قسم کے مصنفین کی ضرورت ہے؟

جواب: یہ جو میں نے ابھی نام بتائے ہیں اردو ادب کو بس انہی ناموں کی ضرورت ہے ان کے بعد بہت مشکل ہے کہ کوئی نیا مصنف اپنے قدم جما سکے۔


س:قارئین آپ کو پڑھنا چاہتے ہیں مگر آپ خود کس مصنف کو پڑھنا چاہتے ہیں؟

جواب: میں خود اس وقت جس مصنف کو سب سے زیادہ پسند کرتا ہوں ہاروکی موراکامی جاپانی ناول نگار ہیں ان کو بے تحاشا پڑھا ہے۔ یہ واحد رائٹر ہے جن کو پڑھ کے لگتا ہے کہ جیسے میرے ہی بارے میں لکھ رہا ہو۔ مطلب بہت مزے کی تحریر ہوتی ہیں ان کی مجھے لگتا ہے کہ شاید میں انہی کے ہی کسی ناول کا کردار ہوں۔

س :مستقبل میں کن موضوعات پر قلم کشائی کا ارادہ ہے؟

جواب: مستقبل میں بے تحاشا موضوعات ہیں جن پہ مجھ لگتا ہے کہ لکھوں۔ ویسے تو میں لکھتا جاتا ہوں جب وقت ملتا ہے تو قلم کشائی بھی ہو جاتی ہے۔







س:کتاب کی اشاعت میں سب سے بڑا ہاتھ پبلشر کا ہوتا ہے۔آپ کی کتابوں کو جس قدر محنت و محبت سے بک کارنر نے شائع کیا ہے،وہ کتاب ہاتھ میں تھامتے ہی احساس ہو جاتا ہے۔اس متعلق اپنے تاثرات ضرور شئیر کیجیے۔

جواب: بک کارنر کا تو بہت ہی بڑا ہاتھ ہے میری کتاب کی اس خوبصورتی میں داڑھی والا نام امر بھائی نے دیا۔ خاور صاحب والی کتاب کو ہوائی روزی کا نام گگن بھائی نے دیا آپ ناموں سے ہی اندازہ لگا لیں۔ پھر آپ یہ ٹائٹل دیکھ لیں ٹائٹل، پیج ، خطاطی، فونٹس اور پھر پروف ریڈنگ مطلب بے تحاشا محنت اور پھر اس پہ ان کا مخصوص کاغذ بے تحاشا محنت ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پبلشر کے 100/100 نمبر ہیں میری کتاب میں ۔


س: لکھنے کے علاوہ کن مشاغل کو باقاعدگی سے وقت دیتے ہیں؟

جواب: پڑھنا اور نیٹ فلیکس پہ طویل ترین سیریز دیکھنا۔ مجھے فلمیں دیکھنا پسند نہیں ہیں۔ میں نیٹ فلیکس پہ سیریز دیکھتا ہوں۔


س:اپنی ذاتی زندگی میں زیادہ لوگوں سے گھلنے ملنے والے ہیں یا خاموش طبیعت؟

جواب: ذاتی زندگی میں بہت زیادہ خاموش رہنا پسند کرتا ہوں اور بہت ہی کم گھلتا ملتا ہوں آپ اندازہ کیجئے یہ جو اتنا زیادہ میں بول رہا ہوں، انٹرویو کے جوابات کے لیے، گلے پہ زور پڑ رہا ہے اور سر میں درد ہو رہا ہے، یہ حالات ہیں۔ اتنی دیر تک مسلسل بولنا ہرگز میری عادت نہیں ہے، جب فیس بک لائیو پہ بیٹھتا ہوں یا پھر کتاب کے سلسلے میں یا کسی اور جگہ، جہاں جہاں مسلسل بولنا ہوم، تو میں ایڈوانس میں میڈیسن کھا کے جاتا ہوں تاکہ بعد سر درد نہ ہو۔

س:ہر شخص کی اپنی منفرد شخصیت ہوتی ہے جو اس کا سگنیچر اسٹائل ہوتا ہے،حسنین جمال کے سگنیچر اسٹائل کو کیسے ڈیفائن کریں گے؟

میرا سگنیچر سٹائل میری داڑھی اور زیور وغیرہ پہنا ہوتا ہے، یہی میرا سگنیچر سٹائل ہے کیا خیال ہے؟

(جی بالکل! یہی مخصوص سگنیچر اسٹائل ہے جو بے حد منفرد ہے۔)







س:آخر میں اپنے قارئین کو کوئی پیغام دینا چاہیں؟

جواب: قارئین کے لیے یہ پیغام ہے کہ اگر آپ نے کبھی کسی کا انٹرویو کرنا ہے تو سوال اتنی ہی محنت سے تیار کیجئے گا جتنی محنت سے سارہ عمر نے کیے ہیں ۔قسم بخدا میں ان سوالوں پہ تین گھنٹے بولنا چاہتا تھا لیکن میری طبیعت ایسی نہیں تھی۔مطلب آج کل موسم کی زد میں آیا ہوں۔

ابھی بھی زندگی نے وقت دیا تو ان سوالوں پر کافی طویل تحریر میں لکھ سکتا ہوں دوبارہ سے پرزور اصرار کرتا ہوں کہ سوال ایسے ہی تیار کیجئے گا جیسے سارہ عمر نے کیے ہیں ۔

بچے انٹرویو تو کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کے پیچھے یہ نہیں دیکھتے کہ محنت کیا ہونی چاہئے ۔

میں بہت شکر گزار ہوں اور میرے لیے بہت اعزاز کی بات ہے ۔

بہت محنت سے مرتب کیے گئے سوال تھے اور بہت اچھے سوال تھے۔آپ سب کا بہت شکریہ ... سارہ آپ کا بہت شکریہ۔

بہت شکریہ حسنین صاحب یہ میرے لیے، میرے میگزین اور اصحاب قلم کی تمام ٹیم کے لیے باعث اعزاز ہے کہ آپ نے ہمارے میگزین کو اپنا قیمتی وقت دیا اور اپنے تجربات و تاثرات ہم سے شئیر کیے۔

یقیناً ہمارے قارئین بھی اس انٹرویو کو پڑھ کر محظوظ ہوئے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کو بے شمار کامیابیوں سے نوازے۔آمین ثم آمین۔

اگلے ماہ پھر کسی نئی شخصیت کے ساتھ حاضر ہوں گے تب تک کے لیے اللہ حافظ۔

Comments

Popular posts from this blog

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...