Skip to main content

میری ذات زرہ بے نشاں

آج بالاخر اسے میری ضرورت پڑ ہی گئی۔۔کتنی عجیب بات ہے جب اسے میری ضرورت ہوتی ہے تبھی مجھے یاد کرتا ہے ورنہ اسے زحمت نہیں ہوتی کے مجھے یاد کر لے اور تو اور سب لوگوں سے بھی میری برائی کرتا ہے کہ مجھ سے واسطہ نہ ہی پڑے تو اچھا ہے کیوں بھئی مجھے کیڑے لگے ہوئے ہیں کیا؟
بس انسان ہے ہی نا شکرا جو مصیبت میں اس کے کام آتا ہے راحت میں اسے ہی بھول جاتا ہے۔
تکلیف میں اسے سب سے پہلے میری ہی یاد آتی ہے میں ہی اسے سکون پہنچاتی ہوں مگر وہ مجھ سے ہی بھاگتا رہتا ہے آخر کتنا بھاگے گا آئے گا تو آخر میرے ہی پاس ناں۔۔
ارے ارے وہ آ رہا ہے۔۔۔مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے اس کے کام آ کر مجھے خوشی ہی ملتی مگر وہ کھا کر کبھی خوش نہیں ہوتا۔۔دوائی ہوتی ہی اتنی کڑوی چیز ہے۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...

خیالِ یار

 خیالِ یار  (افسانہ) سارہ عمر ۔ ہم سفر من پسند ہو تو اس کے سنگ ہر سفر حسین اور خوشگوار لگتا ہے۔محبوب کی محبت بھری اک نگاہ ہی دن بھر کی سب تھکان اتار دیتی ہے۔موسموں کا بدلنا،کونپلوں کا کھلنا،ہر رت،ہر برکھا،اس کی سنگیت میں مکمل لگتی ہے جیسے کوئی وجود صدیوں سے ادھورا ہو اور کسی کا ساتھ جگسا پزل کے ٹکڑے کی طرح اسے مکمل کر دے۔ عدیل کی سنگت نے بھی اس کے لیے ہر دن عید اور ہر رات شب برات بنا دی تھی۔وہ اس وقت لانگ ڈائیو کے لیے نکلے ہوئے تھے۔طویل تارکول کی سڑک جس کے اطراف میں تاحد نگاہ سرسبز کھیت تھے۔دل کا موسم رنگین تھا سو اسے باہر کے موسم سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا تھا۔ گاڑی کا فرنٹ مرر ٹھیک کرتے عدیل کی مسکراتی نگاہیں بار بار وقفے وقفے سے نائلہ کے رخ روشن کا طواف کرتیں۔وہ کبھی شرمائی شرمائی نظروں سے اسے دیکھتی تو کبھی رخ پھیر کر نظروں سے اوجھل ہوتے نظاروں پہ دھیان دینے کی کوشش کرتی۔ ان کی محویت کو فون کال کی گھنٹی نے توڑ دیا تھا۔عدیل کا موبائل فون نائلہ نے فوراً ہاتھ بڑھا کر اٹھایا لیکن کال کٹ چکی تھی۔شاید مس کال تھی۔عدیل کے چہرے پہ اب مسکراہٹ کی جگہ سنجیدگی نے لے لی تھی۔ ”مجھ پہ ...