Skip to main content

میں اور سمیر

میرا اور اسکا ساتھ تب کا ہے جب وہ پیدا ہوا۔میں پہلے دن سے اس کے ساتھ تھی وہ اور اس کی امی مجھے بہت غزیز رکھتے ہر وقت ہر جگہ اپنے ساتھ رکھتے۔کبھی مجھے گھر بھول جاتے تو واپس لینے کے لیے آتے۔۔سمیر تو میرے بغیر ایک لمحہ نہیں رہ سکتا تھا میں اس کی پکی ساتھی جو تھی۔۔
جب وہ میرے ساتھ باہر جاتا تو لوگ کہتے کے اسے پھینک دو یہ تمہیں نقصان ہی پہنچائے گی تو میرا دل ٹوٹ جاتا۔۔
کبھی جو میں گم ہو جاتی تو سمیر رو رو کے سارے گھر میں مجھے تلاش کرتا۔۔اس وقت مجھے اپنی اہمیت کا احساس شدت سے ہوتا۔۔۔
پھر وہ وقت بھی آیا جب سمیر دانت نکالنے لگا تب وہ مجھے کاٹتا رہتا مگر یہ ظلم بھی میں چپ چاپ سہتی رہی۔وقت گزرتا رہا اور سمیر کی امی کو میں کھٹکنے لگی۔۔
وہ اب مجھے سمیر سے دور کرنا چاہتی تھی مگر وہ راضی نہ ہوا۔۔۔تنگ آ کر سمیر کی امی نے مجھے چولہے پہ رکھ کر میرا منہ جلا دیا۔۔۔میں بہت روئی چیخی چلائی۔۔۔کسی نے ایک نہ سنی۔۔
سمیر نے بھی میرا بھیانک چہرہ دیکھا تو دوبارہ چوسنی نہ لینے کی قسم کھا لی۔۔۔اب میرا جلا ہوا وجود ایک کچرے کے ڈھیر پہ پڑا ہے اور میں سمیر کے گھر میں گزارے خوبصورت لمحے یاد کرتی رہتی ہوں۔

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...