Skip to main content

یمامہ کی سیر۔

ویسے تو ہمیں سفر کرنا اور گھومنا پھرنا بہت ہی پسند ہے لیکن پانی سے ہمیں کچھ خاص ہی عشق ہے۔بس دل کرتا ہے جہاں پانی دیکھو وہاں ڈوبکی لگا لو اور ہمارے شوہر نامدار بالکل مختلف نوعیت کے ہیں۔جہاں پانی دیکھتے ہیں اپنے کپڑے بچا کر سائڈ پہ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں کہ جاو اور کر لو اپنے شوق پورے میرے اوپر چھینٹا بھی نہ آئے۔۔
تو ایسے ہی ایک دن پلان بنایا یمامہ ریزوٹ جانے کا۔یہ ایک واٹر پارک ہے اور ریاض سے 51 کلو میٹر پہ واقع ہے۔یہ چونکہ الخرج کی چیک پوائنٹ کے پاس ہے جو کہ ایک دوسرا شہر ہے سو اقامے کے بغیر سفر نہیں کیا جا سکتا۔
(سعودیہ میں شہر سے باہر جانے کے لیے اقامہ ضروری ہے کیونکہ جگہ جگہ پولیس والے راستہ روکے استقبال کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔سو اقامہ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ہر جمعے کو یہاں چھٹی ہوتی ہے سو ہم صبح صبح اٹھ کر ہی تیاریوں میں لگ گئے۔کھانا بنایا،بچوں کے کپڑے رکھے،نہانے والی ٹیوب رکھی،بڑے بیٹے نے کھیلنے کے لیے فٹ بال رکھی۔
پہلے جمعے کی تیاری کی یعنی بچوں کو نہلا کر ثوب(عربی لباس) پہنائی۔بڑا بیٹا چھ سال کا ہے جو الحمد اللہ مسجد جاتا ہے لیکن چھوٹا ابھی ڈیڑھ سال کا ہوا ہے اسے صرف بھائی کے پیچھے جانے کا شوق ہے سو دونوں کو تیار کر کے بابا کے ساتھ مسجد روانہ کیا۔۔خود بھی نماز پڑھی اور تیار ہوگئی۔۔
سفر۔۔
بچے گھر آئے تو کپڑے بدلا کر سفر کی تیاری کی۔۔۔آدھے گھنٹے تک تو گاڑی چلنا سفر محسوس نہیں ہوتا۔آدھے گھنٹے بعد ہی سفر والی فیلنگ آتی ہے۔سفر خاموشی سے گزرا کیونکہ جب ہمارے میاں جی نے کھانا نہ کھایا ہو تو ہم بھڑ کے چھتے میں ہاتھ نہیں ڈالتے۔😊😊😁
ساتھ ساتھ موبائیل پہ لوکیشن دیکھتے جا رہے تھے۔بیٹے صاحب پوچھ رہے تھے کب آئے گا کب آئے گا؟؟بالاخر وہاں پہنچ ہی گئے۔مگر جمعے والے دن اس قدر خاموشی دیکھ کر یہی گمان ہوا کہ شاید بند ہی ہو گیا ہے۔مگر دروازے پہ دو تین افراد اونگتے دکھائی دئیے تو تسلی ہوئی۔ہم منزل مقصود پہ پہنچ ہی گئے۔
یمامہ ریزورٹ
یمامہ ایک بہت بڑا زیزورٹ ہے جس کا ٹکٹ 15 ریال تھا سو ہم تین ٹکٹ لے کر اندر چلے گئے۔شکر ہے کھانا لیجانا منع نہیں اس کی وجہ بھی اندر آ کر پتہ لگ گئی۔پہلے تو ہم نے اندر گھوم گھام کے جگہ دیکھی۔ایک طرف پول تھی دوسری طرف ہٹ بنے ہوئے تھے۔لہذا کھانے سے پہلے ہم نے وضو کر کے نماز پڑھی عصر کا وقت ہو گیا تھا۔پھر ایک کھلی سی ہٹ جس سے باہر کا پول دکھتا تھا وہاں بیٹھ۔اس وقت تین چار بلیاں کھانے میں شرکت کرنے پہنچ گئیں جیسے انہیں دعوت پہ بلایا ہے۔بڑے بیٹے نے تو چیخیں ماریں جبکہ چھوٹے والے نے عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واووو واوو بھاو بھاو کی آوازیں نکالنی شروع کر دیں مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئیں سو ہمیں انہیں اپنے کھانے میں شامل کرنا ہی پڑا۔تب پتہ چلا کہ آنے والے لوگ ہی ان بلیوں کے لیے کھانا لے کر آتے ہیں۔
کھانے کے بعد بیٹےکو نہانے کے لیے ٹیوب دی مگر اس نے بڑے پول پہ جانے سے ہی انکار کر دیا کیونکہ پانی گہرا تھا سو چھوٹے پول پہ نہانے کے لیے چلا گیا اور ساتھ ہم بھی چھوٹے بیٹے کے ساتھ پاوں پول میں ڈال کر بیٹھ گئےمیاں صاحب نے حسب عادت کرسی اٹھائی اور سائے میں موبائیل لے کر بیٹھ گئے کہ کرو اب اپنے شوق پورے۔۔۔سو ہم سڑی گرمی میں خوب مزے کرنے لگے۔پھر چھوٹے صاحب نے پانی میں چھلانگ لگا دی۔جلدی سے اسے پکڑا۔شکر ہے ڈوبا نہیں۔تھر تھر کانپنا لگا تو اسے جلدی جلدی کپڑے بدلائے۔۔پھر کافی دیر میاں صاحب کے ساتھ بیٹھے رہے۔بقول ان کے اتنی کوئی خاص جگہ نہیں ہے بس ایویں پسند ہے تمہاری ہم نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔جی آپ کو دیکھ کے اندازہ ہو جاتا ہے۔
کیونکہ اب کھانا کھا لیا تھا اس لیا کوئی بھی بات بری نہ لگتی۔۔جب بڑا بیٹا نہا کر فارغ ہوا۔تو اسے کپڑے بدلا کر ہم نے پھر ادھر ادھر منہ مارنے کی کوشش کی۔ایک طرف جھولے بھی تھے لیکن گرمی میں بیٹے نے جھولنے سے ہی انکار کر دیا سو آگے چلے گئے۔
ایک جانب سے کتوں کی بہت آوازیں آ رہی تھیں معلوم ہوا کے یہ زوو ہے۔
یمامہ زوو۔
زوو تو چڑیا گھر ہوتا ہے مگر یمامہ کے زوو میں کتے بہت زیادہ تھے۔اس کا ٹکٹ 5 ریال تھا جس کا افسوس ہی ہوا کے ضائع ہی کیے پیسے۔بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسا گندا زوو آپ نے اپنی زندگی میں شاید ہی دیکھا ہو۔۔
گول سی عمارت جس کے بالکل بیچ شیروں کے پنجرے تھے جبکہ باقی اطراف میں کتے لومڑی بھیڑیا اور سانپ وغیرہ رکھے۔کیونکہ یہاں لوگ عید تہوار پہ زیادہ آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس زوو کی سارا سال صحیح طور سے دیکھ بھال نہیں ہوتی۔جانوروں کو دیکھ کر ہم نے یہی قیاس کیا۔
کتے دیکھ کر چھوٹا بیٹا تو بہت خوش ہوا اس کا فیورٹ جانور ہے۔🤣🤣🤣
جبکہ بڑے والے کو شیر بہت پسند ہے۔شیروں کے کھانے کا وقت تھا سو ان کو مرغی کھلائی جا رہی تھی۔ہم ادھر موجود تھے کہ مغرب کا وقت ہوا تو زوو کے چوکیدار نے بچوں کا زوق و شوق دیکھتے ہوئے کہا کہ آپ مغرب کے بعد بھی آ سکتے اسی ٹکٹ پہ۔۔مگر ہم تو ایک ہی چکر لگا کر دروازے پہ ٹنگ گئے تھے۔لیکن بچے دروازہ بند ہونے تک شیروں کو دیکھتے رہے۔۔
مغرب کے وقت ہم نے واپسی کا رخت سفر باندھا اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔بچے تو پندرہ منٹ بعد ہی سو گئے۔۔جب کہ ہمیں بھی کافی تھکن ہو گئی تھی۔سو گھر آتے ہی تھکے ٹوٹے بستر پہ گرے اور سو گئے۔
#travelogue
#yama






Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...