جواب
اس نے جلدي جلدي کپڑے دھو کر تار پہ لٹکاے تھے. کھانا بنا ہوا تھا.جھاڑو بھی لگا لی تھی.منے کو نہلا کر ابھی صحن میں بیٹھایا تھا.وہ ابھی چلنا شروع ہوا تھا.ہر وقت دھیان ہی رکھنا پڑتا تھا.بڑا بیٹااسکول سے گھر آیا تو جلدی جلدی کپڑے بدلاے.منہ ہاتھ دھو نے کا کہہ کر وہ کچن میں آئ.وہ روٹی بنا کر فارغ ہوئ تھی کہ میاں صاحب گھر میں گھسے .چھوٹابیٹا کیاری میں گھسا مٹی سے کھیل رہا تھا.ٍسارے کپڑوں اور منہ پہ مٹی مل لی تھی جبکہ بڑا بیٹا منہ ہاتھ دھو کرٹونٹی کھلی چھوڑ آیا تھا.چھوٹے نے مٹی اٹھا اٹھا کر صحن میں بھی پھینکی تھی.تبھی دھلا ہوا صحن بھی گندا لگ رہا تھا.صفدر نے دروازہ دھاڑ سے مارا.
ایک تو سکون کے لیے گھر آؤ وہ بھی ادھر میسر نہیں.
اس نے جلدی سے سالن روٹی میز پہ رکھی.
پھوہڑ عورت کرتی کیا ہو سارا دن؟
روز اس سے ایک ہی سوال پوچھاجاتاجس کا جواب اسے کبھی نہیں آتا تھا.
وہ بس آسمان کی طرف دیکھ کر رہ گئ.
سارہ عمر
انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال میزبان سارہ عمر ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...
Comments
Post a Comment