بقرہ عید کی آمد ہو تو بس ہر طرف بکرا بکرا ہو جاتا ہے۔جب عید میں دس دن رہتے ہیں تو کسی کے بکرے چوری ہو جاتے۔کسی کا بیل بھاگ جاتا۔قربانی کے وقت تو اکثر ہی بیل رسی توڑوا کر بھاگ جاتے ہیں۔۔
یہی اس عید کی خوبصورتی ہے۔ایسا ہی واقعہ ایک دفعہ ہمارے ساتھ پیش آیا۔میں اور ابو گاڑی میں گھر جا رہے تھے۔دوپہر کا وقت تھا اور جی ٹی روڑ پہ عین بیچ میں گاڑی چل رہی تھی جب ایک عدد گائے بیچ سڑک میں بھاگتی ہوئی ہماری طرف آنے لگی۔ہماری گاڑی چونکہ لال تھی تو میں ڈر گئی۔پیلی بھی ہوتی تو گائے سے ٹکرا کر کدھر جاتی۔ہم نے چلانا شروع کر دیاگاڑی سائڈ پہ کریں۔گاڑی سائڈ پہ کریں۔شکر ہے وہ ایک معصوم سی گائے تھی جو دوڑتی دوڑتی ہماری گاڑی کے ساتھ سے گزر گئی۔یقینا اگر بیل ہوتا تو جاتے جاتے بھی ٹکر مار کر جاتا۔تب ہمارا روکا ہوا سانس بحال ہوا۔
دوسرا واقعہ تب کا ہے جب ہمارے کزن حج پہ گئے اور اپنی ڈیڑھ سال کی بیٹی دادی کے پاس چھوڑ گئے۔میں اور ابو اسے گھر لیجانے کے لیے آئے۔راستے میں ابو کو دوائی لینی تھی تو ایک میڈیکل سٹور کے باہر گاڑی روکی بالکل کھمبے کے ساتھ۔انہیں پتہ نہیں تھا کہ کھمبے کے ساتھ بکرا بندھا ہے۔جو نواب نیچے بیٹھا ہوا تھا۔ابو کے اندر جاتے ہی وہ مجھے اور چھوٹی بچی کو دیکھ کر احتراما اٹھ کھڑا ہوا۔
ہم بہت خوش ہوئی۔اوپر سے وہ جب کھڑا ہوا تو منہ ہماری کھڑکی تک آنے لگا۔ہم نے شیشہ اوپر کیا محفوظ ہو کر بیٹھ گئے۔اب کافی دیر ہم اسکا وہ ہمارا جائزہ لیتا رہا۔یہ مرحلہ طے ہوا تو اس نے گاڑی کے شیشے سے ہلکے ہلکے سینگ مارنے شروع کیے۔ہم بھی ہلکے ہلکے ڈرے۔ابو آ ہی نہیں رہے تھے۔لیکن شاید اسے شیشے والا بکرا پسند نہیں آیا تبھی خوب زور زور سے سینگ مارے۔ہم نے زور زور سے چیخنا شروع کیا بچی نے رونا شروع کیا۔اس کے سینگ مارنے میں تیزی آئی تو ہم نے ہارن پہ ہاتھ رکھ دیا۔ہارن کی وجہ سے سب لوگ دیکھنا شروع ہو گئے سوائے ابو کے جو شیشے کی دیوار کے پیچھے تھے۔شکر میڈیکل اسٹور والے کو اپنے بکرے کی کاروائی نظر آئی تو اس نے اشارہ کیا۔تبھی ابو بھاگے بھاگے آئے۔ہم تو سوکھے پتے کی طرح کانپ رہے تھے حلانکہ بکرا اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا تھا۔مگر آج
بھی یاد آتا ہے کہ کتنی بزدلی دکھائی تھی۔
یہی اس عید کی خوبصورتی ہے۔ایسا ہی واقعہ ایک دفعہ ہمارے ساتھ پیش آیا۔میں اور ابو گاڑی میں گھر جا رہے تھے۔دوپہر کا وقت تھا اور جی ٹی روڑ پہ عین بیچ میں گاڑی چل رہی تھی جب ایک عدد گائے بیچ سڑک میں بھاگتی ہوئی ہماری طرف آنے لگی۔ہماری گاڑی چونکہ لال تھی تو میں ڈر گئی۔پیلی بھی ہوتی تو گائے سے ٹکرا کر کدھر جاتی۔ہم نے چلانا شروع کر دیاگاڑی سائڈ پہ کریں۔گاڑی سائڈ پہ کریں۔شکر ہے وہ ایک معصوم سی گائے تھی جو دوڑتی دوڑتی ہماری گاڑی کے ساتھ سے گزر گئی۔یقینا اگر بیل ہوتا تو جاتے جاتے بھی ٹکر مار کر جاتا۔تب ہمارا روکا ہوا سانس بحال ہوا۔
دوسرا واقعہ تب کا ہے جب ہمارے کزن حج پہ گئے اور اپنی ڈیڑھ سال کی بیٹی دادی کے پاس چھوڑ گئے۔میں اور ابو اسے گھر لیجانے کے لیے آئے۔راستے میں ابو کو دوائی لینی تھی تو ایک میڈیکل سٹور کے باہر گاڑی روکی بالکل کھمبے کے ساتھ۔انہیں پتہ نہیں تھا کہ کھمبے کے ساتھ بکرا بندھا ہے۔جو نواب نیچے بیٹھا ہوا تھا۔ابو کے اندر جاتے ہی وہ مجھے اور چھوٹی بچی کو دیکھ کر احتراما اٹھ کھڑا ہوا۔
ہم بہت خوش ہوئی۔اوپر سے وہ جب کھڑا ہوا تو منہ ہماری کھڑکی تک آنے لگا۔ہم نے شیشہ اوپر کیا محفوظ ہو کر بیٹھ گئے۔اب کافی دیر ہم اسکا وہ ہمارا جائزہ لیتا رہا۔یہ مرحلہ طے ہوا تو اس نے گاڑی کے شیشے سے ہلکے ہلکے سینگ مارنے شروع کیے۔ہم بھی ہلکے ہلکے ڈرے۔ابو آ ہی نہیں رہے تھے۔لیکن شاید اسے شیشے والا بکرا پسند نہیں آیا تبھی خوب زور زور سے سینگ مارے۔ہم نے زور زور سے چیخنا شروع کیا بچی نے رونا شروع کیا۔اس کے سینگ مارنے میں تیزی آئی تو ہم نے ہارن پہ ہاتھ رکھ دیا۔ہارن کی وجہ سے سب لوگ دیکھنا شروع ہو گئے سوائے ابو کے جو شیشے کی دیوار کے پیچھے تھے۔شکر میڈیکل اسٹور والے کو اپنے بکرے کی کاروائی نظر آئی تو اس نے اشارہ کیا۔تبھی ابو بھاگے بھاگے آئے۔ہم تو سوکھے پتے کی طرح کانپ رہے تھے حلانکہ بکرا اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا تھا۔مگر آج
بھی یاد آتا ہے کہ کتنی بزدلی دکھائی تھی۔

Comments
Post a Comment