Skip to main content

دوسری شادی

دوسری شادی
یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ جس پہ بحث لا حاصل ہے۔جو مرضی بحث کر لو مثبت سوچ والے کئی دلیلیں دیں گے اور منفی سوچ والے یا مخالف کسی ایک بات پہ اڑے رہیں گے۔ان دو لفظوں کو اگر سمجھنا ہے یا بحث کرنی ہے تو پہلے اپنے آپ کو غیر جانبدار بنا لیں۔یعنی اب آپ نہ مردوں کی طرف ہیں نہ عورتوں کی طرف اب بس آپ نے دونوں کے موقف سننے ہیں۔
جب آپ نے ایک فیصلہ کرنا ہو ایک رائے قائی کرنی ہو تو ایک قاضی کی طرح دونوں فریقین کا موقف بغیر ان کی طرفداری کیے سننا ہے۔حقیقت جاننے کے لیے دونوں فریقین کو صفائی کا موقع دیا جاتا ہے۔۔
چلیں پہلے موقع دیتے ہیں مرد حضرات کو۔۔۔۔
اگر کسی بھی مرد کے پاس آپ بیٹھیں اور اس موضوع کا ذکر کریں تو ہر مرد ہی نہایت خوش نظر آئے گا۔بالکل ایسے وہ جوش و خروش سے بات کرتے نظر آئیں گے جیسے ان کی بیوی ان کے فرائض سے غافل ہے یا پھر ان کو توجہ نہیں دیتی۔۔۔یہ تو وہ موضوع ہے جس پہ بڑے بڑے کم گو اور خاموش طبع مرد حضرات بھی بحث کرتے اور ہلکا ہلکا تبسم فرماتے دیکھائی دیتے ہیں۔۔
اب ان تمام حضرات سے سوال کیا جائے کہ دوسری شادی کا موقع ملے تو کیا کریں گے تو مختلف نوعیت کے جوابات سنائی  دیتے ہیں۔۔
اے کاش! ہماری ایسی قسمت کہاں۔۔۔
جناب یہ خوش نصیبی تو ہر ایک کو نصیب نہیں۔۔۔۔
نہیں جناب میں تو باز آیا مجھ سے تو ایک نہیں سنبھالی جاتی۔۔
نہ بھائی انصاف نہیں کر سکتا۔۔۔
نہیں نہیں ایک کے ہی خرچے پورے نہیں ہوتے۔۔۔
کوئی فرمائش کریں گے نیکی اور پوچھ پوچھ ۔۔۔کوئی نظر میں ہے تو بتاو بسم اللہ کریں۔۔۔
ایک کہیں گے ایک تو ماں باپ کی مرضی سے خاندان میں کر لی اب دوسری اپنی مرضی سے کروں گا۔۔۔
ایک کہیں گے میری شادی تو کچی پڑھی سے ہو گئی اب ماسٹرنی سے کروں گا بے شک خود مڈل فیل ہوں۔۔۔
ایک کہیں گے مجھے بہت دنیا دار بیوی ملی ہے اب دین دار سے کروں گا تاکہ خود بھی پردہ کرے اور بچوں کو بھی کچھ سکھائے۔
ایک کہیں گے مجھے تو کرنی ہی کرنی ہے چاہے کوئی بھی ہو بس کرنی ہے۔۔
ایک کہیں گے اگر مرد شادیاں نہ کرے تو سنت کیسے پوری ہو گی دنیا کی آبادی میں عورتیں زیادہ ہیں تو ان کو سہارے کی ضرورت ہے۔۔
ایک کہیں گے کسی بیوہ یا طلاق یافتہ سے ہو جائے تو میری بھی آخرت سنور جائے۔
غرضیکہ جتنے منہ اتنی باتیں۔۔
اب عوتوں کی طرف چلتے ہیں یہی سوال خواتین سے کریں کی آپ کے میاں دوسری شادی کر لیں تو آپ کیا کریں گی۔۔۔؟؟؟
اب ان کے موقف سننئے۔۔۔
اففف کیا بات کر دی آپ نے۔۔۔۔؟
بھئی یہ موضوع مت چھیڑنا ہر وقت گھر میں چھڑا رہتا ہے۔۔۔
ارے بھئی میں تو قتل کر دوں گی میاں کو۔۔۔
اچھا اگر کرے گا تو الگ گھر لے کر دے۔۔۔
میری ساس کو تو بہت شوق ہے اتنے بچوں سے دل نہیں بھرا ۔۔بس میں ہی بری لگتی ہوں انہیں۔۔۔
میں گھر چھوڑ کر چلی جاوں گی ماں باپ پہ بوجھ نہیں ہوں۔۔۔
ارے میرے چھ بھائی ہیں کر کے تو دکھائیں ۔۔۔لگ پتہ جائے گا۔۔
کیسے کریں گے؟؟مجھے چھوڑیں گے تو کریں گے اور کوئی صورت نہیں۔۔۔
ارے بی بی میرا تو میں مجھے نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔پچیس لاکھ تو خالی مہر ہے میرا۔۔۔زیور الگ۔۔
میں تو اپنے بچے لے کر چلی جاوں گی۔۔
یہ وہ ایسے ویسے۔۔۔عورتوں کی طرف سے شدید رد عمل کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے گھر کر گھر بنانے کے لیے دن رات محنت کرتی ہیں۔۔گھر کے کام،ساس سسر بچوں میاں کے کام،صفائی کپڑے کھانا پکانا اور بعض عورتیں جاب کے ساتھ ساتھ سارا سارا گھر سنبھالتی ہیں۔۔۔ایسے میں یہ اقدام ان کے دل ہی نہیں توڑتا انکو ذہنی طور پہ مفلوج بھی کر دیتا ہے۔۔
یہ خبر ہر عورت کے دل پہ بم کی طرح گرتی ہے کہ اس کے شوہر نے دوسری شادی کر لی ہے۔۔۔اس کے دل کی تمام امنگیں اور خوشیاں ادھر ہی مر جاتی ہیں ایسا کیوں ہے؟؟
مرد دوسری شادی کیوں کرتے ہیں اور عوتیں اس کو قبول کیوں نہیں کرتیں یہ سب جانتے ہیں۔۔۔سمجھنا یہ ضروری ہے کہ ہمارا دین کیا سکھاتا ہے؟
اسلام نے چار شادیوں کی اجازت صرف مرد کو دی اور عورت کو صرف ایک۔۔اس میں پہلا جواز تو حمل کی وجہ سے ہے تاکہ ایک باپ ہو تو بچے کا حسب نسب معلوم کیا جا سکے کہ وہ کس کی اولاد ہے۔۔(جیسا کے زمانہ جہالیت میں عورت کی ایک سے زائد شادی ہوتی تو وہ کسی بھی مرد تو بچے کا باپ قرار دے دیتی)۔دوسرا جواز یہ ہے کہ ایک عورت کو ایک مرد تمام عمر کے لیے کافی ہوتا جبکہ مرد کی فطرت ایسی ہے جو ایک عورت پہ ساری زندگی اکتفا کرنے پہ قادر نہیں۔۔بہت سے شریف النفس لوگ ہیں جو ایک ہی عورت کے ساتھ ساری زندگی گزار دیتے ہیں۔لیکن ہم شریعت کی بات کریں گے کہ اس کے پیچھے مصلحت کیا ہے۔۔
اللہ تعالی نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت دے کر عورت پہ احسان کیا ہے۔اگر مرد کو ایک وقت میں ایک ہی بیوی رکھنے کی اجازت ہوتی تو وہ شادی کے بعد کسی لڑائی پہ یا اگلی مل جانے پہ اسے چھوڑ دیتا۔ایسی حالت میں وہ خود اور اس کے بچے دربدرکی ٹھوکریں کھاتے۔جیسا کہ ہندوں کا رواج ہے کہ ایک وقت میں ایک ہی بیوی رکھی جائے اس لیے ان کے خاندانی نظام کی بنیاد اتنی مضبوط نہیں جتنی مسلمانوں میں ہے۔۔
ایک مسلمان مرد ایک وقت میں چار عورتوں کو نکاح میں رکھ سکتا ہے۔اس میں بھی یہ مصلحت ہے کہ چونکہ مرد حاکم ہے،مضبوظ ہے اور کمانے والا ہے سو وہ ایک وقت میں چار خاندان پال سکتا ہے ان کا خرچہ اٹھا سکتا ہے مگر یہ عورت کے بس کی بات نہیں۔۔سو اللہ تعالی نے اس کے ناتواں کندھوں پہ وہ بوجھ نہیں ڈالا جو وہ اٹھا نہ سکے وہ گھر کی ملکہ ہے بس گھر میں رہے اور اپنے بچوں کی کفالت اور نگرانی کرے۔
بہت سے لوگ دوسری شادی اولاد کے حصول کے لیے کرتے ہیں۔ایسی صورت میں کہ پہلی بیوی سے اولاد نہیں تو دوسری سے اولاد ہو جائے گی۔کافی لوگوں کی اس طرح اولاد ہو بھی جاتئ۔
اسی طرح کچھ لوگ اولاد نرینہ کی خواہش کے لیے شادی کرتے ہیں۔اگر دوسری شادی ان دونوں صورتوں کے علاوہ اس صورت میں کی جائے کی بیوی کا انتقال ہو گیا یا طلاق ہو چکی ہے تو گھر بہت جلدی بس جاتے۔یعنی ایک میان میں ایک تلوار ہی صحیح رہتی ہے۔
لیکن ان صورتوں کے علاوہ جب بھی شادی کی جائے تو پہلی بیوی کبھی دوسری کو خوش نہیں رہنے دیتی۔حالانکہ معاشرہ یہ سمجھتا ہے کہ دوسری پہلی کے مقابلے پہ ہے ۔بعض حالات میں ایسا ہوتا بھی ھو گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر لڑائی اور سرد جنگ کا آغاز پہلی کی طرف سے کیا جاتا ہے۔
حضور صلی علیہ واله وسلم کی ازواج مطہرات کی زندگی تمام امت کو سبق سکھانے کے لیے کافی ہے۔انہوں نے ہر بیوی کے ساتھ کس طرح انصاف کیا۔یہاں یہ بات قابل غور اور قابل تحسین ہے کہ آپ صلی علیہ واله وسلم  نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کی زندگی میں شادی نہیں کی اور ان کی وفات کے بعد بھی انکو یاد رکھا۔ان کی عمروں میں پندرہ سال کا فرق تھا یعنی بھرپور جوانی میں انہوں نے پندرہ سال بڑی خاتون سے شادی کی اور تمام جوانی ان کے ساتھ گزاری۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا ان سے بے حد چھوٹی تھیں اور ان کی واحد کنواری بیوی تھیں۔اس کم عمری کے باوجود ان کا باہمی تعلق لازوال ہے۔۔
دراصل ہم معاشرے سے میڈیا سے لوگوں سے تو سیکھتے ہیں مگر جہاں سے ہمارا اصل جوڑا ہے وہاں سے نہیں سیکھتے۔
اگر تمام مرد دوسری شادی سے پہلے اپنے پیارے نبی صلی علیہ واله وسلم کی سیرت طیبہ پڑھ لیں تو جان جائیں کہ عورت میں انصاف کرنا اتنا آسان نہیں جتنا دوسری شادی کرنا۔اسی طرح جو خواتیں دوسری شادی سے خائف رہتی ہیں انہیں بھی چائیے کہ سیرت نبوی صلی علیہ واله وسلم کا مطالعہ کریں تاکہ وہ اس شادی کو باعث زحمت نہیں باعث رحمت سمجھیں۔
اللہ ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فرمائے آمین۔
تحریر۔سارہ عمر.ہ



Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...