Winner For Short Story Competition by YWWF Karachi Chapter Category Urdu: Sara Omer's انصاف
A thought provoking piece on social justice, this story is extremely well-written and will definitely make your heart bleed.
سکینہ ادھر آؤ.بیگم صاحبہ نے اسے آواز دی تو وہ بوتل کے جن کی طرح حاضر
ہو گئی۔حالانکہ ابھی اس نے کچن میں برتن دھونے شروع ہی کئے تھے۔اس نے جلدی جلدی اپنے دوپٹے سے اپنے ہاتھ صاف کئے۔
جی بیگم صاحب!
ہاں سکینہ آج ذرا موٹر چلا کے اس کے پانی سے پورچ دھونا دیکھو کل آندھی آئی ہے کتنی مٹی پڑی ہے۔کل نھی تم نے صحیح طرح صاف نہیں کیا تھا گاڑی کے ٹائر کے نشان نہیں گئے تھے۔آج ان کے کوئی مہمان آ رہے تھے تبھی ان کی ہدایتیں ختم نہیں ہو رہی تھیں۔عام دنوں میں بھی وہ خوب دھلائی صفائی کرواتی تھیں مگر آج تو ہدایت تھی ٹائلوں میں اپنا منہ نظر آنا چائیے۔
جی بہتر۔وہ اتنا کہہ کر واپس جانے لگی تو انہیں کوئی اور ہدایت یاد آ گئی۔
اور بات سنو اتنی بار کہا ہے جب کپڑے کھنگھلا کرو تو پانی چلتا رہنے دیا کرو۔صاف نہیں ہوتے کپڑے سرف رہ جاتا ہے۔یہ کیا بالٹی میں چلو بھر پانی لیا اور سارے کپڑے اسی سے کھنگھال لیے۔نہ بو جاتی ہے نہ صاف ہوتے ہیں۔
جی۔اس نے ساری ہدایات ازبر کر لی تھیں۔
گھر پہنچ کر اسکا گرمی سے برا حال تھا۔آج کام بھی زیادہ کیا تھا۔
رجو ذرا پنکھا تو چلا دے۔سکینہ نے دوپٹہ اتار کر چارپائی پہ رکھا اور پسینہ پونچھا۔
اماں لائٹ نہیں ہے ۔
اف۔۔۔۔مٹکے سے ہی پانی پلا دے۔
اماں ۔۔۔وہ ۔۔۔وہ بولتے بولتے رکی اسے معلوم تھا اماں غصہ کرے گی۔
اب کیا ہے؟زکینہ تپ کر بولی۔اماں آج بھی تیں کھنٹے لائن میں کھڑی رہی لیکن باری نہیں آئی اور پانی ختم ہو گیا۔
پہلے گھروں میں بلدیہ کا پانی آتا تھا مگر جب سے گرمی شروع ہوئی تھی۔پانی آنا بند ہو گیا تھا۔پینے کے پانی کے لیے بھی کتنے گھنٹے لائن میں لگنا پڑتا تھا پھر دو بالٹی پانی ملتا جسے قطرہ قطرہ کر کے استعمال کرتے۔
سکینہ نے آسمان کی طرف دیکھا اور بولی۔
لگتا ہے ہمارے حصے کا پانی بھی بیگم صاحب کے حصے میں چلا گیا ہے واہ رے مالک تیرا انصاف۔۔۔۔
A thought provoking piece on social justice, this story is extremely well-written and will definitely make your heart bleed.
سکینہ ادھر آؤ.بیگم صاحبہ نے اسے آواز دی تو وہ بوتل کے جن کی طرح حاضر
ہو گئی۔حالانکہ ابھی اس نے کچن میں برتن دھونے شروع ہی کئے تھے۔اس نے جلدی جلدی اپنے دوپٹے سے اپنے ہاتھ صاف کئے۔
جی بیگم صاحب!
ہاں سکینہ آج ذرا موٹر چلا کے اس کے پانی سے پورچ دھونا دیکھو کل آندھی آئی ہے کتنی مٹی پڑی ہے۔کل نھی تم نے صحیح طرح صاف نہیں کیا تھا گاڑی کے ٹائر کے نشان نہیں گئے تھے۔آج ان کے کوئی مہمان آ رہے تھے تبھی ان کی ہدایتیں ختم نہیں ہو رہی تھیں۔عام دنوں میں بھی وہ خوب دھلائی صفائی کرواتی تھیں مگر آج تو ہدایت تھی ٹائلوں میں اپنا منہ نظر آنا چائیے۔
جی بہتر۔وہ اتنا کہہ کر واپس جانے لگی تو انہیں کوئی اور ہدایت یاد آ گئی۔
اور بات سنو اتنی بار کہا ہے جب کپڑے کھنگھلا کرو تو پانی چلتا رہنے دیا کرو۔صاف نہیں ہوتے کپڑے سرف رہ جاتا ہے۔یہ کیا بالٹی میں چلو بھر پانی لیا اور سارے کپڑے اسی سے کھنگھال لیے۔نہ بو جاتی ہے نہ صاف ہوتے ہیں۔
جی۔اس نے ساری ہدایات ازبر کر لی تھیں۔
گھر پہنچ کر اسکا گرمی سے برا حال تھا۔آج کام بھی زیادہ کیا تھا۔
رجو ذرا پنکھا تو چلا دے۔سکینہ نے دوپٹہ اتار کر چارپائی پہ رکھا اور پسینہ پونچھا۔
اماں لائٹ نہیں ہے ۔
اف۔۔۔۔مٹکے سے ہی پانی پلا دے۔
اماں ۔۔۔وہ ۔۔۔وہ بولتے بولتے رکی اسے معلوم تھا اماں غصہ کرے گی۔
اب کیا ہے؟زکینہ تپ کر بولی۔اماں آج بھی تیں کھنٹے لائن میں کھڑی رہی لیکن باری نہیں آئی اور پانی ختم ہو گیا۔
پہلے گھروں میں بلدیہ کا پانی آتا تھا مگر جب سے گرمی شروع ہوئی تھی۔پانی آنا بند ہو گیا تھا۔پینے کے پانی کے لیے بھی کتنے گھنٹے لائن میں لگنا پڑتا تھا پھر دو بالٹی پانی ملتا جسے قطرہ قطرہ کر کے استعمال کرتے۔
سکینہ نے آسمان کی طرف دیکھا اور بولی۔
لگتا ہے ہمارے حصے کا پانی بھی بیگم صاحب کے حصے میں چلا گیا ہے واہ رے مالک تیرا انصاف۔۔۔۔
Comments
Post a Comment