یہ آج سے کوئی ساڑھے چار سال پہلے کی بات ہے جب میں وزٹ پہ سعودیہ آئی اور اپنا پہلا عمرہ کیا۔۔سفر کو قلمبند کرنے کا سوچا تو پہلا خیال یہی آیا کہ وہ سفر لکھوں گی۔۔۔
جس دن سے آئی تھی اس دن سے عمرے کا بیگ تیار تھا کہ کب جانا ہو۔اس وقت میرا بڑا بیٹا نو دس ماہ کا تھا۔ساس سسر کے ساتھ ہم سفر پہ روانہ ہوئے۔۔سارے راستے پیٹرول بھروانے اور کھانے پینے روکتے رہے۔۔بس سعودیہ میں سفر میں بس ریت ہی ریت صحرا ہی صحرا پہاڑ ہی پہاڑ دکھائی دیتے ہیں۔۔بہرحال رات طائف پہنچ کر ہوٹل لیا اور سو گئے۔صبح وہیں سے احرام پہنا اور نیت کر کے سفر پہ روانہ ہوئے۔
طائف میں مختلف ہوٹل بنے ہوئے ہیں اور دکانیں بھی ہیں لوگ آرام کی غرض سے ادھر رکتے ہیں۔اکثر لوگ ادھر سے احرام باندھتے باقی میقات پہ پہنچ کر پہنتے۔۔طائف کی میقات کو سیل الکبیر کہا جاتا ہے۔یہ مکہ سے 75 کلو میٹر دور ہے۔
حالت احرام میں مکہ کی جانب روانہ ہوئے گاڑی میں لبیک اللہ کی صدائیں گونج رہی تھیں اور دل اللہ کے گھر کو دیکھنے کو بے قرار تھا۔۔
مکہ میں داخل ہوتے ہی کلاک ٹاور دور سے نظر آتا ہے۔۔۔سڑک پہ بڑی سی اسکرین پہ کعبہ کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔۔گاڑی پارکنگ میں کھڑی کر کے حرم کی جانب روانہ ہوئے۔۔ساس سسر کے لیے ویل چئیر لی تو شرتے نے صحن کی جانب جانے سے روک دیا اور اس عارضی پل کی جانب اشارہ کیا کہ ادھر طواف کریں۔اس لیے پہلا طواف پہلی منزل کے پل پہ کیا۔۔
باہر کے صحن سے خانہ کعبہ دکھائی نہیں دیتا۔۔۔جیسے ہی اس لمبے سے راستے سے گزرتے ہوئے اندر داخل ہوئے ٹھنڈی ہوا اور خوشبوں کے جھونکے آئے۔۔۔اندر پنکھے اے سی چلتے ساتھ ہی ساتھ ہر وقت خوشبو کا غسل دیا جاتا۔جیسے ہی خانہ کعبہ پہ پہلی نظر پڑی تو بے اختیار آنکھیں نم ہو گئیں کہ
میں اس کرم کے کہاں تھی قابل۔۔
وہ سات چکر تو کیسے شروع ہوئے اور کیسے ختم کچھ پتہ نہ چلا۔پھر مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھ کے زم زم پیا اور سعی شروع کی۔
سعی میں بھی یہ حال تھا کہ میں ویل چئیر لے کر اتنی تیز چل رہی تھی کہ میرے میاں بار بار پیچھے رہ جاتے۔۔ایسی حالت تھی کہ بیان سے باہر لگتا تھا جسم میں بے پناہ طاقت آ گئی ہے خوشی اور مسرت کی عجیب سی کیفیت تھی۔الحمد اللہ سعی ختم ہوئی تو نے بال کٹوائے اور اس طرح پہلا عمرہ مکمل ہوا۔۔
بس ایک چیز بہت مشکل لگی کہ چلنا بہت پڑتا ہے جو آج بھی ہوتی ہے کیونکہ ماشااللہ حرم بہت بڑا ہے کہ بہت کا لفظ بھی چھوٹا لگتا ہے۔
اللہ تعالی ہر مسلمان کو اپنا گھر دکھائے اور یہ مبارک سفر بار بار کروائے آمین۔
جس دن سے آئی تھی اس دن سے عمرے کا بیگ تیار تھا کہ کب جانا ہو۔اس وقت میرا بڑا بیٹا نو دس ماہ کا تھا۔ساس سسر کے ساتھ ہم سفر پہ روانہ ہوئے۔۔سارے راستے پیٹرول بھروانے اور کھانے پینے روکتے رہے۔۔بس سعودیہ میں سفر میں بس ریت ہی ریت صحرا ہی صحرا پہاڑ ہی پہاڑ دکھائی دیتے ہیں۔۔بہرحال رات طائف پہنچ کر ہوٹل لیا اور سو گئے۔صبح وہیں سے احرام پہنا اور نیت کر کے سفر پہ روانہ ہوئے۔
طائف میں مختلف ہوٹل بنے ہوئے ہیں اور دکانیں بھی ہیں لوگ آرام کی غرض سے ادھر رکتے ہیں۔اکثر لوگ ادھر سے احرام باندھتے باقی میقات پہ پہنچ کر پہنتے۔۔طائف کی میقات کو سیل الکبیر کہا جاتا ہے۔یہ مکہ سے 75 کلو میٹر دور ہے۔
حالت احرام میں مکہ کی جانب روانہ ہوئے گاڑی میں لبیک اللہ کی صدائیں گونج رہی تھیں اور دل اللہ کے گھر کو دیکھنے کو بے قرار تھا۔۔
مکہ میں داخل ہوتے ہی کلاک ٹاور دور سے نظر آتا ہے۔۔۔سڑک پہ بڑی سی اسکرین پہ کعبہ کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔۔گاڑی پارکنگ میں کھڑی کر کے حرم کی جانب روانہ ہوئے۔۔ساس سسر کے لیے ویل چئیر لی تو شرتے نے صحن کی جانب جانے سے روک دیا اور اس عارضی پل کی جانب اشارہ کیا کہ ادھر طواف کریں۔اس لیے پہلا طواف پہلی منزل کے پل پہ کیا۔۔
باہر کے صحن سے خانہ کعبہ دکھائی نہیں دیتا۔۔۔جیسے ہی اس لمبے سے راستے سے گزرتے ہوئے اندر داخل ہوئے ٹھنڈی ہوا اور خوشبوں کے جھونکے آئے۔۔۔اندر پنکھے اے سی چلتے ساتھ ہی ساتھ ہر وقت خوشبو کا غسل دیا جاتا۔جیسے ہی خانہ کعبہ پہ پہلی نظر پڑی تو بے اختیار آنکھیں نم ہو گئیں کہ
میں اس کرم کے کہاں تھی قابل۔۔
وہ سات چکر تو کیسے شروع ہوئے اور کیسے ختم کچھ پتہ نہ چلا۔پھر مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھ کے زم زم پیا اور سعی شروع کی۔
سعی میں بھی یہ حال تھا کہ میں ویل چئیر لے کر اتنی تیز چل رہی تھی کہ میرے میاں بار بار پیچھے رہ جاتے۔۔ایسی حالت تھی کہ بیان سے باہر لگتا تھا جسم میں بے پناہ طاقت آ گئی ہے خوشی اور مسرت کی عجیب سی کیفیت تھی۔الحمد اللہ سعی ختم ہوئی تو نے بال کٹوائے اور اس طرح پہلا عمرہ مکمل ہوا۔۔
بس ایک چیز بہت مشکل لگی کہ چلنا بہت پڑتا ہے جو آج بھی ہوتی ہے کیونکہ ماشااللہ حرم بہت بڑا ہے کہ بہت کا لفظ بھی چھوٹا لگتا ہے۔
اللہ تعالی ہر مسلمان کو اپنا گھر دکھائے اور یہ مبارک سفر بار بار کروائے آمین۔




Comments
Post a Comment