Skip to main content

پاکستان بننے کی یادیں

بچپن کی یادیں بہت خوشگوار ہوتی ہیں۔ایسے ہی سردیوں میں رضائی میں گھس کر ہم اپنی دادی کے پاس بیٹھے رہتے۔ہماری دادی کے انتقال کو تین سال ہوئے ہیں اور تقریبا انکی عمر نوے سال ہوگی۔بس ساری زندگی انہوں نے ہمیں خوب قصے سنائے۔ہم ڈھیر سارے کزن اکھٹے ہوتے اور کہتے دادی انڈیا کے قصے سنائیں۔انڈیا کے وقصے سنانا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔وہ سناتی اور ہم سنتے رہتے۔
دادی نے اپنے سامنے پاکستان بنتے دیکھا تھا۔دادا نے علی گڑھ یونیورسٹی سے پڑھا تھا اور جب پاکستان بنا تب انکے تین بچے تھے۔دادی کا گھر تاج محل کے پاس تھا اور تاج محل کے اتنے قصے سننے ہیں کہ ایک کتاب ہی لکھ لی جائے۔وہ اس کے باغوں اور خوبصورتی کا بہت ذکر کرتیں۔
دادا چونکہ آرڈیننس فیکٹری میں تھے سو انکا پہلے ٹرانسفر بنگلہ دیش یعنی مشرقی پاکستان ہوا اور پھر مغربی پاکستان میں ہو گیا۔
دادی اکثر بتاتی تھیں کہ جب ہم پاکستان جا رہے تھے تو ٹرینوں کی ٹرینیں لوگوں کی لاشوں سے بھری ہوئی تھیں۔خوب خون بہا۔خون کی ندیاں بہائی گئیں۔انہی بھی جس ٹرین میں بٹھایا بعد میں کسی دوسری ٹرین میں سوار کرایا گیا۔بعد میں پتہ چلا پہلی والی ٹرین منزل پہ نہ پہنچ سکی کیونکہ مسلمانوں کی ٹرینوں پہ ہندو اور سکھ حملہ کر دیتے۔کتنے لوگ شہید ہوئے۔جس کا کوئی حساب نہیں۔بوڑھے بچے عورتیں جوان سب ہی نے نئے وطن کے لیے قربانیاں دیں۔
پی او ایف آرڈیننس فیکری پاکستان کی پہلی اسلحے کی فیکڑی ہے جو 1951 میں قائم ہوئی۔یہ واہ کینٹ میں واقع ہے اور اب بھی پورے پاکستان میں اسلحہ ادھر ہی سے سپلائی کیا جاتا ہے۔دادا اس فیکٹری میں کام کرتے رہے۔دادی کے مطابق 1951 میں جب لیاقت باغ پنڈی میں لیاقت علی خان کا جلسہ ہوا اس وقت لیاقت علی کا قاتل ہمارے دادا کے ساتھ کھڑا تھا۔(واللہ واعلم ایسا تھا بھی یا دادی نے خودی مرچ مصالحہ لگا دیا تھا۔)پھر جو اس نے گولی ماری تو لیاقت علی خان ایسے گرے اور خون بہنے لگا۔چیخو پکار مچ گئی۔بھگدڑ مچ گئی۔لوگ رونے لگے وہ منظر کشی کرتیں اور ہم ہر بار یہی کہتے دادا نے پکڑا کیوں نہیں اسے؟
وہ کہتیں وہ تو ایسے بھاگتا ہوا  نکل گیا اور پستول تھی اس کے پاس تبھی نہیں پکڑا۔
خیر بعد میں خود سرچ لیا تو یہی پتہ لگا کہ ان کا قاتل سعد اکبر تھا جسے پولیس نے اسی وقت گولی مار دی تھی۔وہ افغونی باشندہ تھا۔لیاقت علی کو ہسپتال لیجایا گیا مگر وہ بچ نہ سکے۔انا للہ و انا علیہ راجعون۔
دادی کے قصے سن سن کر سارا منظر آنکھوں کے سامنے تازہ ہو جاتا۔لگتا تھا ہم اسی دور میں ہیں۔اس وقت احساس ہوتا ہے ہم نے یہ ملک بہت قربانیوں سے لیا ہے۔نئی نسلوں کو اس ملک کی قدر اس لیے بھی نہیں کہ آج کل کی اولاد نے بزرگوں کے پاس بیٹھ کر ان کی باتیں سننا چھوڑ دیا ہے۔جو سینہ با سینہ ہم تک منتقل ہو رہی ہیں۔آج باجے بجا کر آزادی منانے والوں کو یہ نہیں پتہ کہ 27 رمضان کی مبارک شب یہ وطن آزاد ہوا تھا۔اللہ اسے قائم و دائم رکھے آمین

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...