Skip to main content

خیالِ یار

 خیالِ یار (افسانہ)

سارہ عمر ۔




ہم سفر من پسند ہو تو اس کے سنگ ہر سفر حسین اور خوشگوار لگتا ہے۔محبوب کی محبت بھری اک نگاہ ہی دن بھر کی سب تھکان اتار دیتی ہے۔موسموں کا بدلنا،کونپلوں کا کھلنا،ہر رت،ہر برکھا،اس کی سنگیت میں مکمل لگتی ہے جیسے کوئی وجود صدیوں سے ادھورا ہو اور کسی کا ساتھ جگسا پزل کے ٹکڑے کی طرح اسے مکمل کر دے۔

عدیل کی سنگت نے بھی اس کے لیے ہر دن عید اور ہر رات شب برات بنا دی تھی۔وہ اس وقت لانگ ڈائیو کے لیے نکلے ہوئے تھے۔طویل تارکول کی سڑک جس کے اطراف میں تاحد نگاہ سرسبز کھیت تھے۔دل کا موسم رنگین تھا سو اسے باہر کے موسم سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا تھا۔

گاڑی کا فرنٹ مرر ٹھیک کرتے عدیل کی مسکراتی نگاہیں بار بار وقفے وقفے سے نائلہ کے رخ روشن کا طواف کرتیں۔وہ کبھی شرمائی شرمائی نظروں سے اسے دیکھتی تو کبھی رخ پھیر کر نظروں سے اوجھل ہوتے نظاروں پہ دھیان دینے کی کوشش کرتی۔

ان کی محویت کو فون کال کی گھنٹی نے توڑ دیا تھا۔عدیل کا موبائل فون نائلہ نے فوراً ہاتھ بڑھا کر اٹھایا لیکن کال کٹ چکی تھی۔شاید مس کال تھی۔عدیل کے چہرے پہ اب مسکراہٹ کی جگہ سنجیدگی نے لے لی تھی۔

”مجھ پہ شک کر رہی ہو؟“

کچھ ماہ کی دلہن کا اس طرح فون اٹھانا اسے ناگوار گزرا تھا۔کم از کم میاں بیوی کو بھی ایک دوسرے کی پرائیویسی کا خیال رکھنا چاہیے۔

”ارے! نہیں مجھے تو خود سے زیادہ آپ پہ یقین ہے۔“

وہ پر اعتماد لہجے میں بولی۔

”پھر اس طرح موبائل اٹھانے کی وجہ پوچھ سکتا ہوں؟“

عدیل کو تعجب ہوا سو اس سے سوال کیا۔

”کچھ باتیں بتانے کی نہیں ہوتیں۔“

”اچھا جی! پھر کون سی بتانے کی ہوتی ہیں؟“وہ شوخ ہوا۔

”گھر چلیں پھر بتاؤں گی۔“

وہ اب سامنے بس سڑک کی جانب دیکھ رہی تھی۔

”جو حکم سرکار کا“اس نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے کہا تو نائلہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ بستر پہ نیم دراز ہو گیا تھا۔

”کیسا رہا آج کا لنچ اور لانگ ڈرائیو؟“

”بہت اچھا۔آپ کے سنگ تو ہر سفر ہی اچھا لگتا ہے۔۔“

اس نے اپنا پرس رکھ کر پاؤں سے ہیل کے سینڈل اتارے تھے۔

”مگر میں آپ کی بے احتیاطی سے بہت ڈرتی ہوں۔“

کانوں سے جھمکے اتارتے وہ کچھ سنجیدہ سی بولی تھی۔

”کیسی بے احتیاطی؟“

عدیل نے حیرت سے پوچھا۔

”گاڑی چلاتے ہوئے کتنے اطمینان سے موبائل فون استعمال کرتے ہیں، میں منع بھی کرتی ہوں۔ضروری کال تو سن سکتے ہیں مگر کم از کم مسیج بھیجنے اور دیکھنے سے تو گریز کیا کریں۔“

وہ کچھ چڑچڑے سے انداز میں بولی۔

”اچھا!تبھی تم نے موبائل فون پہ قبصہ کر لیا تھا تاکہ میں مزید استعمال نہ کر سکوں، اب سمجھ آ رہا ہے مجھے“

وہ کھلکھلا کر ہنسا۔

”آپ کو پتہ ہے اس سے پہلے کتنی بار گاڑی کی ٹکر ہوتے ہوتے بچی۔اگر کوئی حادثہ ہو جاتا تو۔۔؟“

وہ فکرمندی سے گویا ہوئی۔چہرے پہ اب بھی پریشانی کی لکیریں تھیں۔

”ارے بابا!ٹکر ہوئی تو نہیں نا جو گاڑی چلاتا ہے اسے زیادہ اندازہ ہوتا ہے کہ گاڑی کتنی دور ہے اور کتنی قریب۔تم زیادہ فکرمند مت ہوا کرو۔“

”کیسے نہ فکر کروں؟ شادی کے بعد ہر عورت کو ہی اپنے سے جڑے رشتوں کی فکر لاحق رہتی ہے یہ تو لازمی سی بات ہے لیکن سچ پوچھیں تو مجھے ڈر لگتا ہے۔آپ جانتے ہیں نا علیم بھائی کے متعلق۔۔۔۔“

وہ کہتے کہتے رکی۔

”اتنی خوش باش فیملی تھی بس ایک موبائل فون کی کال کی وجہ سے وہ سڑک کی جانب دھیان نہ دے سکے تھے اور ان کی گاڑی ایک درخت سے ٹکرا کر کھائی میں جا گری اور منٹوں میں جیتا جاگتا انسان لقمہ اجل بن گیا“

عدیل نے اس کی جھیل جیسی آنکھوں میں موتی تیرتے دیکھے تو گھبرائی ہوئی نائلہ کو تسلی دینے کے لیے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا۔علیم اس کا بڑا بہنوئی تھا جس کا پچھلے ہی سال کار حادثے میں انتقال ہو گیا تھا اور اس باعث ان کی تمام فیملی کو گہرا صدمہ پہنچا تھا۔

”اچھا بابا! آئندہ احتیاط کروں گا“

 اور پھر اسے ہنسانے کی خاطر اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا

”ملکہ عالیہ!معاف کر دیجیے غلام آئندہ احتیاط کرے گا“

اس کے انداز پہ نائلہ بھی بے اختیار آنسو پونچھتے ہنس پڑی تھی۔

کچھ دن بعد ہی وہ کمرے میں عدیل کے انتظار میں ٹہل رہی تھی۔آج اس کے میکے میں دعوت تھی اور عدیل کی ابھی تک آفس سے واپسی نہ ہوئی تھی۔

 ”کتنی دیر تک آ رہے ہیں؟“

نائلہ نے پریشانی سے مسیج ٹائپ کیا تھا۔گھر سے کئی بار فون آ چکا تھا مگر وہ تو بس عدیل کے انتظار میں تھی۔

نائلہ کا مسیج دیکھتے ہی عدیل کے دل میں خیال آیا کہ کال کر کے اسے بتا دے کہ ابھی اسے پہنچنے میں آدھے گھنٹے سے زیادہ لگے گا لیکن یہ مسیج کا چسکا بھی بہت ظالم شے ہے۔اسے ہمیشہ سے ہی کال سے زیادہ مسیج کرنے میں مزہ آتا تھا تبھی نائلہ اس کی اس عادت سے خار کھاتی تھی اور یہی یادہانی کرواتی کہ گاڑی چلاتے مسیج نہ کیا کریں۔

”آنکھیں بند کریں آپ کے پاس ہوں گے جناب!“

اس نے گاڑی چلاتے مسیج لکھ بھیجا تھا۔حسین بیوی کے تصور سے ہی لب خودبخود مسکرا اٹھے تھے۔

”باتیں نہ بنائیں سچ سچ بتائیں۔“

نائلہ نے بھی مسیج بھیجا تھا۔

”بس آدھے گھنٹے تک آ رہا ہوں۔“

اس نے گاڑیوں پہ نظر ڈالتے پھر مسیج لکھا تھا۔

”آفس میں ہیں ابھی؟“

نائلہ نے پوچھا وہ جانتی تھی آفس بھی تقریباً اتنے ہی دیر کے فاصلے پہ ہے۔

”نہیں گاڑی چلا رہا ہوں۔“

اس نے پھر ٹائپ کیا تھا۔

”تو پہلے کیوں نہیں بتایا اب مسیج مت کیجیے گا“

مسیج پڑھتے ہی وہ بے اختیار مسکرایا۔

تصور میں اس کی پریشان صورت دکھائی دی تھی۔

عورت کا دل بھی اللہ نے عجیب بنایا ہے ساتھ ہو تو قدر نہیں کرتیں اور آنکھوں سے اوجھل ہو تو فکر میں گھلتی رہتی ہیں۔

عدیل دل ہی دل میں بڑبڑایا۔اس نے ایک نظر چلتی ہوئی گاڑیوں پہ ڈالی اور کوئی شوخ سا مسیج ٹائپ کرنے کے لیے موبائل کی جانب متوجہ ہوا مگر اچانک اس کے سامنے موجود ٹرک نے سڑک کے بیچ کسی بلی کے بچے کو بچانے کے لیے بریک لگائی تھی جبکہ عدیل بروقت بریک نہ لگا سکا اور اس کی گاڑی ٹرک کے ساتھ جا ٹکرائی تھی ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی تھی۔ایک لمحے میں اچانک سب منظر بدل چکا تھا۔گاڑی کا اگلا حصہ بری طرح پچک گیا تھا۔لوگوں نے ٹوٹی اور پچکی ہوئی گاڑی سے عدیل کی خون میں لت پت لاش نکالی تو ہاتھ میں پکڑا موبائل فون بھی سڑک پہ جا گرا تھا جس کی ٹوٹی ہوئی اسکرین پر اس کی بیوی کا آخری میسج جگمگا رہا تھا۔

”سنیں! اپنا خیال رکھنا“


#khyaleyar

#sarahomer

#afsana

#sundaymsgzine

#mashriq

#november2023

#sarahomerwrites

#sarahomerwriter

#sarahomerofficial

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...