Skip to main content

گول روٹی،مزاحیہ تحریر


*گول روٹی*

سارہ عمر

 الریاض، سعودی عرب۔



زمانۂ قدیم سے اب تک عورت کے سگھڑاپے کی واحد نشانی گول روٹی قرار دی جاتی ہے۔ روٹی جتنی نرم، گول، خستہ، پھلکے کی مانند ہوگی عورت اتنی ہی سگھڑ ہوگی۔ بھلا بندہ پوچھے کہ عورت کے سگھڑاپے کا معیار جانچنے کے لیے اسے کیا نان بائی کی بیٹی بنانا ضروری ہے؟ گول روٹی کے بغیر کیا عورت سگھڑ نہیں کہلائی جا سکتی؟لیکن نہیں بھئی!

زمانہ بدل گیا، دنیا چاند پہ پہنچ گئی، مریخ پہ زندگی کے آثار مل گئے۔جدید سے جدید ٹیکنالوجی آ گئی مگر نہیں بدلی تو دیسی ساسوں اور شوہروں کی سوچ نہیں بدلی۔ گول روٹی ہوگی تو بہو کو پورے نمبر ملیں گے ورنہ جتنا بھی پڑھ لے، جتنے مرضی میڈل حاصل کر لے، جتنی مرضی ڈگریوں کے ڈھیر لگا دے۔ گھر داری میں تو اسے کاٹا مار کر بڑا سا انڈا ہی ملے گا۔ یعنی سگھڑاپہ زویرہ بالکل زویرہ۔ گول روٹی نہیں تو کچھ نہیں۔

ارے بھئی لڑکی ڈاکٹر ہے، انجینئر ہے، قابل استانی ہے، سائنسدان ہے، آفیسر ہے یا جہاز اڑاتی ہے۔

ہماری بلا سے جو بھی کرتی ہو روٹی تو ہمیں بس گول ہی چاہیے۔ اب چاہے ہاتھ سے چھنڈ کر پتلی کرے یا بیل کر، کوئی قید تھوڑی ہے بس روٹی گول ہو۔ بالکل چاند کی طرح گول مٹول یا زمین کی طرح گول ہو یا سورج کی طرح گول بس گول بالکل گول۔ ذرا بھی ٹیڑھی میڑھی ہوئی اور یہ لو سارے نمبر ضائع۔

آفیسر ہوگی، ڈاکٹر ہوگی، انجئینر ہوگی بھئی اپنے لیے ہوگی ساس کی نظر میں تو بس نکمی ہی کہلائی جائے گی۔ کیونکہ بہو کو گول روٹی جو بنانی نہیں آتی۔

برصغیر میں رہنے والے ان دیسی لوگوں کی سوچ ابھی تک روٹی پہ ہی اٹکی ہوئی ہے بقول دیسی شوہروں کے کہ وہ گھر بھی کیسا گھر ہوتا ہے جہاں روٹی نہ پکتی ہو؟اگر گول روٹی نہ کھائی تو سمجھو کچھ نہیں کھایا۔کوئی ان شوہروں سے پوچھے کہ کیا امریکہ، کینڈا، یورپ، چائنہ والے روٹیاں پکا کر کھاتے ہیں؟وہ تو برگر، بن اور ڈبل روٹی پہ ساری زندگی گزار لیتے ہیں تبھی ان کے گھر میں ہر عورت نوکری کر کے ملک کی معیشت میں ہاتھ بٹاتی ہے۔ گرمی میں چولہے کے آگے کھڑی روٹیاں نہیں سینک رہی ہوتی۔ اگر روٹی کھانا ہی کھانا کہلاتا ہے تو لکھوا لو ہم سے آج تک برصغیر کے مردوں کے علاوہ پوری دنیا کے مردوں نے کھانا ہی نہیں کھایا وہ بے چارے بنا کھانا کھائے ہی زندہ ہیں۔

پاکستان میں تو گول روٹی کی وجہ سے نجانے کتنی ہی لڑکیاں گھروں میں بیٹھی رہ گئی ہیں جنہیں گول روٹی بنانی نہیں آتی اور ان کے ابا بڑے فخر سے کہتے پھرتے ہیں کہ دو وقت کی روٹی میری بیٹی پہ بھاری نہیں ہے۔میں خود کھلا دوں گا۔

کچھ یہی حال ریما کا بھی تھا۔ اس زمانے میں ریما کی فلموں کا دور عروج پہ تھا سو اماں نے نام اپنی بیٹی کا ریما رکھ دیا مگر جب فلم اسٹار ریما کا دور ختم ہوا اور ریما کے کرتوت بھی ریما والے نکل آئے تھے یعنی نازک اندام حسینہ کی طرح بستر توڑتے رہنا اور گھر کا ایک کام بھی نہ کرنا۔ مؤقف تو ریما کے ابا کا بھی یہی تھا مگر کیا کرتے گھر بیٹھے بیٹھائے ورک فرام ہوم کرنے والا فری لانسر لڑکا مل گیا تھا جو ڈالرز میں کماتا تھا۔ اب کیا اس مہنگائی میں بھی کوئی سرکاری ملازم کے خواب دیکھ سکتا ہے؟ سو ابا نے کہا فوراً ہاں کر دی مگر لڑکے کی بس صرف ایک ہی ڈیمانڈ تھی لڑکی کو گول روٹی بنانی آتی ہو۔

اب شادی کے دن قریب آئے تو اماں نے پکڑ کر چار کام سیکھا دئیے کہ کہیں سسرال میں ناک نہ کٹ جائے مگر روٹی کا کیا کرتیں جو ریما کو بنانی ہی نہ آتی تھی۔ رشتہ طے کرتے وقت تو فخر سے بتا دیا تھا کہ ایسی روٹی بناتی ہے کہ بھلے آپ گول پیمانہ رکھ کر ماپ لو جو ذرا بھی کونے ٹیڑھے ہوں۔ تبھی اس کی ساس نے فوراً جھٹ سے ہاں کر دی مگر اب وہ تو بری پھنس گئی تھیں۔ گول تو دور کی بات ریما کو تو روٹی تک بنانی نہیں آتی تھی اور اگر جو اس کی ساس نے واقعی محدب عدسہ لے کر روٹی کی جانچ کر لی تو؟

اب روٹی سیکھانے کا مرحلہ شروع ہوا تو ریما کی ہائے ہائے نکل گئی۔

”ہائے یہ روٹی کے لیے آٹا گوندھنا ضروری ہے کیا؟“

”یہ آٹا کیا مجھے گوند کی طرح چپکے جا رہا ہے؟“

”پانی ڈالو تو پتلا ہو جاتا ہے، زیادہ آٹا ڈالو تو سخت ہو جاتا ہے۔ آخر چکر کیا ہے؟“

وہ ہاتھوں کو آٹے میں بری طرح لتھڑے آٹے کے ساتھ کشتی کر رہی تھی۔

بیلنے کی بھی الگ کہانی تھی۔ جب روٹی بیلو تو چپک جائے، کبھی ایک طرف سے موٹی تو ایک دوسری جانب سے پتلی۔

عجب ہی نقشے بن رہے تھے۔ 

”کیا روٹی کو بیل کر توے پہ ڈالنا ضروری ہے؟“

اس نے احتجاج کیا تو اس کی اماں نے اسے گھوری ڈالی تھی۔

”نہیں میرا مطلب ہے کہ جلتے ہوئے توے پہ روٹی ڈالنی ضروری ہے، اس طرح تو کلائی جل جائے گی۔“

”تو ٹھنڈے توے پہ روٹی کیسے پکے گی؟“

”پہلے چولہا بند کر لیں اور پھر روٹی ڈال کر دوبارہ سے چولہا جلا لیں، کیسا؟“

ریما کی حاضر جوابی پہ اماں نے اپنا سر پیٹ لیا تھا۔

”سارا وقت چولہا بند کرنے اور دوبارہ جلانے میں لگا دینا۔ روٹی تمہاری ساس پکا لیں گی۔“

انہوں نے سڑ کر کہا تو ریما نے نعرہ مارا۔

”یاہو! یہ ہوئی نا بات“ اور اماں کا دل چاہا کہ سر پیٹ لیں۔

ان کی کوششیں تو بری طرح ناکام ہوئی تھیں۔

کبھی روٹی کی جگہ آسڑیلیا کا نقشہ بن گیا تو کبھی روٹی کی بجائے پاپڑ۔

کبھی موٹی اور کچی پکتی تو کبھی اکڑی اور جلی ہوئی۔

”یاللہ! یہ گول روٹی بنانا بھی ایک محاذ ہی ہے جو سر ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔“

ریما کی تو ہمت اب جواب دینے لگی تھی مگر اس نے بھی ہمت نہیں ہاری اور فوراً گوگل آنٹی کی مدد لی تھی۔

”کاش آے آئی کا ایک فیچر ایسا بھی آ جائے کہ میں گول روٹی کہوں اور بن جائے“

وہ حسرت سے بولی۔

گول روٹی بنانے کے لیے روٹی شیپر اور روٹی میکر کا ذکر سنا تھا جن سے گول اور پھولی پھولی روٹیاں بن جاتی مگر ان آلات کو اپنے سسرالیوں کی عقابی نظروں سے کیسے چھپاتی؟ 

اگر ساس کے کان میں اس کی بھنک بھی پڑ جاتی تو بقیہ زندگی طعنے سنتے ہی گزر جاتی کہ بہو جہیز میں روٹی میکر لے آئی۔

کسی نے اپنے حسین تخیل کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا۔

جب آدمی کے پیٹ میں جاتی ہیں روٹیاں

سو سو طرح سے دھوم مچاتی ہیں روٹیاں

کسی نے اپنی رائے دی تھی کہ ہمارے معاشرے میں گول روٹی پکانے اور کھانے کا رواج ہے۔ لوگ اسی شک میں مبتلا ہیں کہ پتہ نہیں گول کے علاوہ باقی اشکال کی روٹیاں ہضم ہو بھی سکتی ہیں یا نہیں؟

اگلے نے اس سے بھی بڑی مت دی تھی کہ جناب!روٹی تو روٹی ہوتی ہے چاہے گول ہو یا چوکور۔پیٹ میں جا کر اس نے ہضم ہی ہونا ہے کوئی مقابلۂ حسن میں تھوڑی شریک ہونا ہے۔

کیا بات ہے!

اب یہ بات ان ساسوں کو کون بتلائے کہ جن کے دل و دماغ کو گول روٹی کے علاوہ کسی بھی شکل کی روٹی قبول ہی نہیں۔

کسی نے اپنی حکمت بھگارتے ہوئے مشورہ دیا کہ جس بھی شکل کی روٹی بنے، بننے دیں بس بعد میں پلیٹ الٹی رکھ کر کنارے کاٹ لیں گول روٹی تیار۔

اگلی بار ریما نے اسی طریقے سے روٹی بنائی تھی۔ روٹی تو قدرے بہتر بن گئی مگر کنارے کچھ بے ڈھنگے سے بنے تھے۔اس نے بھی مشق جاری رکھی تھی۔ پھر اسی کی ایک سگھڑ دوست نے بتایا کہ آٹے میں پانی ملا کر ایسا مکسچر بناؤ اور اسے پین میں ڈال کر چمچے سے پھیلاؤ۔ بالکل جیسے پین کیک بناتے ہیں۔صدیوں سے نکمے لوگ ایسے ہی روٹیاں پکا کر ماہر ہوئے ہیں۔ گول روٹی کا مسئلہ حل ہوا تو ریما نے بالآخر تین مہینے کی سخت محنت ومشقت کے بعد سچ میں گول اور خستہ روٹی بنانی سیکھ لی تھی اور کیا آپ جانتے ہیں ریما کی شادی کے اگلے ہی دن ساس نے اس کی روٹی دیکھ کر کیا کہا؟

”سو بیوٹی فل۔

سو ایلی گینٹ۔

جسٹ لوکنگ لائک آ واؤ!“

اور آگے سے ریما ہنس ہنس کر داد وصول کرتی رہی کیونکہ اسے پتہ ہے اس گول روٹی کے چکر میں کتنے مہینے اس کا دماغ گول گول ہی گھومتا رہا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...