Skip to main content

انٹرویو مصنف و ڈرامہ نگار امجد جاوید

 ادب اور ادیب

مصنف،ناول نگار اور ڈراما نگار

امجد جاوید

انچارج: سارہ عمر


















ناول نگاری ایک فن ہے اور اس فن کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ہمارے معاشرے میں اردو ادب کی صنف میں ناول کو ایک جداگانہ حیثیت حاصل ہے،مشہور و معروف ڈرامے اکثر و بیشتر مشہور ناولوں کی کہانیوں پہ ہی عکس بند کیے جاتے ہیں۔جنہیں شائقین کی جانب سے بہت پزیرائی حاصل ہوتی ہے۔اردو ادب میں عشقِ حقیقی اور تصوف پہ لکھنے والے خاصے کم ہیں اور ان ادبا میں جن کا نام نمایاں ہے ان میں امجد جاوید صاحب کا نام سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے۔

امجد جاوید صاحب جیسے مصنف،صحافی، کالم نگار، ڈراما نگار، نقاد اور دانش ور کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ان کے لکھے الفاظ اور کتب کے مجموعے ان کے بہترین کام کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔وہ اب تک دو درجن سے زیادہ کتب، جن میں ناول، کہانیوں کے مجموعے، شاعری، تراجم ،دو ڈرامہ سیریل اور نجانے کتنی کہانیاں لکھ چکے ہیں۔ ان کی تخلیقات پر اب تک مختلف مدارج کے چار مقالے لکھے جا چکے ہیں اور بہت سے طالب علم ابھی بھی لکھ رہے ہیں۔ان کے ناول امرت کور، دھوپ کے پگھلنے تک، قلندر ذات، عشق کا قاف اور بے رنگ پیا بہت مشہور ہو ئے ہیں۔

چلیے اب ہم آپ کو مزید انتظار کی زحمت دئیے بغیر ملواتے ہیں آج کی مہمان شخصیت سے جو کہ مشہور مصنف و ناول نگاراور ڈراما نگار امجد جاوید صاحب ہیں

السلام علیکم سر!

کیسے ہیں آپ؟

میں بالکل ٹھیک ہوں ۔

 

س:کچھ اپنا تعارف کروائیے تاکہ ہمارے قارئین آپ کے متعلق جان سکیں مزید یہ بھی بتائیے کس شہر سے تعلق ہے،کہاں پیدا ہوئے؟آج کل کس شہر میں رہائش پذیر ہیں؟

تعارف تو بس یہی ہے کہ امجد جاوید ہوں ۔ شہر حاصل پور ہے جو ضلع بہاول پور کی ایک تحصیل ہے ۔ اسی شہر میں پیدا ہوا اور اسی شہر میں رہ رہا ہوں ۔

 

س:آپ نے تعلیم کہاں سے حاصل کی اور کیا فی الوقت کسی ملازمت سے وابستہ ہیں؟

میں نے اردو و اقبالیات ، اور ابلاغیات میں ایم اے کیا ہے ۔اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور سے ۔میں محکمہ تعلیم سے وابستہ ہوں ۔

س:سب سے پہلے ہمیں کچھ اپنے ادبی سفر کے متعلق بتائیے کہ لکھنے کا آغاز کیسے ہوا اور کس سن میں لکھنا شروع کیا؟

سن 1988ء سے شائع ہونا شروع ہوا ، جب پہلی کہانی لکھی ، پہلی ہی شائع ہو گئی۔ اس سے تین ماہ پہلے یعنی کہانی لکھنے سے پہلے تک میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میں لکھوں گا ۔بس ایک دن اچانک خیال آیا کہ کیا میں بھی کوئی کہانی لکھ سکتا ہوں ۔ کہانی لکھی ، شائع ہو ئی اور بس یہ سفر اب تک جاری ہے ۔  

 

س:سر،آپ کی اب تک کل کتنی کتب شائع ہو چکی ہیں اور کیا تمام کتب ایک ہی پبلشر سے شائع ہوئیں یا مختلف پبلشرز سے؟

اگر صرف کتب کی بات کریں تو 35 کے لگ بھگ تو ہو ہی گئی ہیں ۔ان میں زیادہ تر محترم گل فراز صاحب نے علم و عرفان پبلیشرز لاہور نے شائع کیں ، ایک کتاب جمہوری پبلیکیشن لاہور سے محترم فرخ سہیل گوئندی صاحب نے اور بچوں کے لئے محترم محمد فہیم عالم نے شائع کی ہیں ۔

 

 

س:آپ نے اب تک بے حد مشہور اور شہرہ آفاق ناول تحریر کیے ہیں جو کہ قارئین نے بے حد پسند کیے لیکن آپ کو خود اپنا کون سا ناول سب سے زیادہ پسند ہے؟

مجھے تو سارے ہی ناول پسند ہیں ۔ سبھی میں میرے جگ رتے، میرے احساسات اور محنت پوشیدہ ہیں ۔ ہاں مگر جن ناولوں پر مجھے زیادہ فیڈ بیک ملا ، ان میں عشق کا قاف ،امرت کور ،قلندر ذات اوربے رنگ پیا ہیں ۔

http://lekhari.blogspot.com/ 

 

س: آپ کے مستقبل ناول اب تک کن کن رسائل میں شائع ہو چکے ہیں اور کبھی ایسا ہوا کہ آپ کی تحریر بھی ردی کی ٹوکری کی نذر ہوئی ہو کہ یہ ہمارے معیار کے مطابق نہیں؟

میرے ساتھ خوش قسمتی یہ ہے کہ میں نے آج تک جو لکھا ، وہ کبھی بھی ردی کی ٹوکری میں نہیں گیا ، الحمد للہ ایک تحریر بھی نہیں جو کسی نے رد کی ہو ۔دراصل ہوتا یوں ہے کہ جب آپ تحریر لکھتے ہیں تو وہ یا تو اپنی مرضی کے مطابق لکھتے ہیں یا رسالے کے مزاج و معیار کے مطابق ۔ جب اپنی مرضی سے لکھی گئی تحریر ہو تو یہ دیکھا جا تا ہے کہ یہ تحریر کس رسالے کے مزاج و معیار کی ہے ۔ اسے بھیجیں، اور اگر آپ کسی رسالے کے لئے لکھ ر ہے ہیں تو اسے سامنے رکھیں، اس کا مزاج و معیار دیکھیں ، پھر لکھیں ۔ باقی رہی مستقبل کے ناول تو کئی ابھی کتابی صورت میں شائع نہیں ہوئے ، کئی ابھی چل رہے ہیں ۔  

س:آپ کی تحاریر اب تک جن رسائل میں شائع ہوئیں ان میں سے کس مدیر کے ساتھ کام کرتے بہت اچھا محسوس ہوا کہ یہ میری تحریر کو مجھ سے بہتر سمجھتے ہیں۔

وہ ہیں خالد بن حامد صاحب ۔۔۔۔۔ ماہنامہ آداب عرض لاہور ۔انہوں نے مجھے بہت سکھایا ، میری ان سے لڑائیاں بھی بہت ہوئیں ،لیکن بالاآخر میں مان لیتا تھا کہ وہ درست ہیں ، لیکن اس سے یہ ہوتا تھا کہ مجھے بہت زیادہ سیکھنے کو ملا ۔ دوسری میری سب سے زیادہ لڑائیاں محترم پرویز بلگرامی سے ہوئیں ، لیکن ظاہر ہے اس میں تیز تفنگ تو نہیں اٹھائے جاتے ، سیکھنے سکھانے کا معاملہ ہوتا ہے ۔ مزے کی بات ہے کہ یہ لڑائیاں چائے کے کپ پر ، تہذیب کے دائرے میں اور دلیل کے ساتھ لڑی جاتی تھیں ۔(وہ دور بہت مزے کا تھا ۔)ایک بات جو میں کہنا چاہوں گا ، ایک لکھاری کو دراصل " لکھاری " اس کے قارئین بناتے ہیں ۔ ہم نے یہ سیکھا کہ قاری آپ کا بہترین جج ہے ۔ وہ آپ کوبتا دیتا ہے کہ آپ کیا ہو ۔ اگر لکھاری خود کو بہتر بنانے ، بلکہ ہمہ وقت بہتر بنانے کی دھن میں مگن رہے گا تو وہ انتہائی کامیاب ہو گا ۔ میری خوش قسمتی یہ ہے کہ مجھے بہترین قاری ملے ، میں آج بھی محترمہ شبیہ رانجھا کو یاد کوکرتا ہوں ، وہ ہمیشہ میری تحریر ڈوب کر پڑھتی اور اگلی قسط میں ہونا ہوتا تھا ، اس کا اندازہ لگا لیتی تھیں ۔ میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ اپنے قارئین کی قدر کریں ، یہی آپ کو لکھار ی بناتے ہیں ۔

 

س:آپ کئی کتب کے مصنف ہیں اس لیے میں پوچھنا چاہوں گی کہ آپ نے لکھنے کے لیے کونسا وقت مختص کیا ہوا ہے؟

کوئی خاص وقت نہیں، جب وقت ملتا ہے لکھ لیتا ہوں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ کوئی معمولی کام ہے ۔ دراصل پہلے کہانی آپ کے اندر بن جاتی ہے ۔ بس اسے لکھنا باقی ہوتا ہے ۔

کیا ناول کی قسط مکمل کرنے کے لیے روز بلا ناغہ لکھتے ہیں یا مخصوص اوقات میں ہی لکھتے ہیں؟

میری عادت ہےکہ میں ایک وقت میں ایک ہی کام کرتا ہوں ۔ ایک ناول اگر شروع کیا ہے تواسے ختم کر کےپھر آگے بڑھتا ہوں ۔

س:ہمارے میگزین کے قارئین ضرور یہ جاننا چاہیں گے کہ ایک بہترین ناول تخلیق کرنے کے لیے کن کن لوازمات کا خیال رکھنا ضروری ہے؟

سب سے پہلے تو آپ کو مطالعہ کرنا چاہئے ۔ پھر وہ بنیادی خیال جس پر آپنے ناول لکھنا ہے اس پر بھرپور قسم کی معلومات آپ کے پاس ہوں ۔کردار سازی، کے بعد آپ کی کہانی جس ماھول میں لکھی گئی ہے اس سے آپ خوب واقف ہوں ۔ اسلوب پر پوری توجہ رہے ۔

س:ہر لکھاری کو لکھنے کے لیے انسپریشن چاہیے ہوتی ہے آپ اپنی تخلیقات کے لیے کہاں سے انسپریشن لیتے ہیں؟

پڑھنے سے ۔

 

س:کئی سال پہلے مجھے عشق کا قاف پڑھنے کا اتفاق ہوا،اس حوالے سے میں پوچھنا چاہوں گی کہ عشق کا عین،عشق کا شین علیم الحق حقی کی تحریر ہے تو عشق کے قاف کے لیے آپ کی خدمات کیوں لی گئیں۔میں چاہوں گی کہ آپ ان یادگار لمحات کو ہمارے ساتھ ضرور شیئر کیجیے۔

یہ ان دنوں ایک رواج بن گیا تھا ، قاف ،شین اور عین وغیرہ کا ۔ دراصل میرے ناول کا نام " سکھاں " تھا ۔ انہی دنوں اس ناول پر ڈرامہ سیریل بن گیا " سکھاں کے نام سے ۔ جو میں نے ہی لکھا ۔ تب ناول عشق کے قاف کے نام سے آ گیا ۔ مجھ سے پہلے بھی سرفراز راہی صاحب عشق کا قاف لکھ چکے تھے ۔ 

 

س:عشق کا قاف لکھنے کے لیے کیا آپ نے عشق کا عین یا عشق کے شین کے دیگر حصے بھی پڑھے تاکہ ان کتب کے قارئین آپس میں ربط قائم کر سکیں؟

قاف تو بعد میں آیا پہلے میں عشق کا شین کے دو حصے لکھ چکا تھا ۔ عشق کا عین تو میں پہلے ہی پڑھ چکا تھا ۔ مجھے محترم گل فراز صاحب (علم وعرفان پبلیشرز لاہور ) نے ایک اہم ملاقات میں مجھے بتایا کہ محترم علیم الحق حقی صاحب صاحب فراش ہیں اور انہوں نے مزید لکھنے سے معذرت کر لی ہے ۔ انہوں نے عشق کا شین کا پہلا حصہ لکھا ہے لیکن قارئین اگلا ناول مانگ رہے ہیں ۔ اگر آپ اس ناول کو لکھ دیں تو ۔۔۔۔۔ میں چونکہ خود علیم الحق حقی صاحب کا قاری اور فین ہوں ، میں نے یہ اعزاز سمجھا ۔ یہ یقین کر لینے کے بعد کہ وہ مزید نہیں لکھ رہے تب میں نے عشق کا شین حصہ دوم لکھا ۔جس پر حقی صاحب کا بھی نام تھا ۔(کیونکہ اس میں ان کا بھی کچھ لکھا ہوا شامل تھا ) عشق کا شین دوم کو پذیرائی ملی۔ یہ اصرار بڑھاکہ مزید حصہ لکھوں ، تو عشق کا شین حصہ سوم لکھا ۔ چہارم لکھ رہا تھا کہ خود حقی صاحب کا حصہ دوم مارکیٹ میں آ گیا ۔ میں نے مزید نہیں لکھا ۔ ظاہر ہے ان میں ربط تھا تو قارئین نے پذیرائی بخشی ۔ اصل میں یہ تھی عین شین قاف کی کہانی ۔   

 

س:ناول نگاری میں کیا چیز آپ کو بے حد پسند ہے؟یعنی واقعات کا پھیلاؤ یا پھر کرداروں کا کڑی سے کڑی ملا کر انہیں جوڑنا؟

یہ بنیادی بات نہیں ہے ۔ بنیادی بات ہے آپ کاخیال ۔ آپ کا خیال کیسا ہے ، اس کی طلب کیا ہے ؟ کہتے ہیں ہر خیال اپنے ساتھ اپنے لفظ خود لے کر آتا ہے ۔ اسی طرح جب ہم کسی خیال کو ناول اک روپ دے رہے ہوتے ہیں تو وہ خود اپنا " موڈ " لے کر آتا ہے ۔

 

س:کیا آپ کے ناولوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟کیونکہ ہر تحریر ہر قاری کے مطابق نہیں ہوتی اور تنقید نگاروں کو کیا جواب دیتے ہیں؟

جی بالکل تنقید بھی ہوتی ہے ، لیکن وہ کم ہے ، دوسرا میں کبھی کسی کو کہانی بارے وضاحت نہیں دیتا ۔ میرا اپنا خیال ہے اگر لکھاری اپنے لکھے ہوئے کی وضاحت دے گا تو سمجھیں اس کی اپنی تحریر میں ابلاغ نہیں ہوا کہ وضاحت طلب کر لی گئی ۔ کمی کوتاہی سے سیکھیں ، اگلی تحریر میں اسے نہ دہرائیں ۔

س:ہر کامیاب لکھاری میں اپنی زندگی میں کچھ اصول بنائے ہوتے ہیں جنہیں وہ کسی قیمت پہ بھی نہیں توڑتا چاہے وہ لکھنے کے حوالے سے ہوں یا روزمرہ زندگی کے حوالے سے۔آپ نے بھی کیا اپنی ذات کے لیے کوئی خاص اصول بنائے ہیں جنہیں کبھی نہیں توڑتے؟

بس یہی کہ کسی کے ساتھ ظلم نہ کرو اور نہ دھوکا دو ۔۔۔ وہ بھلے تحریر ہو یا عام زندگی ۔

 

س: بچوں کے لیے کہانی لکھنا آسان ہے یا پھر ناول نگاری؟

 

ج:آسان کچھ بھی نہیں ہوتا، خون جگر دینا پڑتا ہے۔ہاں اگر بچوں کی کہانی اور ناول میں سے کو چننا ہو تو بچوں کی کہانی زیادہ مشکل ہو تی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے میں بڑوں کے لئے لکھتے ہوئے بچوں کے ادب کی طرف آیا ہوں۔دوسرا بچوں کی عمر کا خیال رکھنا ہوتا ہے اور اس مطابق اسلوب اپنانا پڑتا ہے۔

اگر آپ مطالعہ ، مشاہدہ اور مکالمہ جیسے علمی ذرائع سے استفادہ کرتے ہیں تو آپ کے پاس لکھنے کی قوت ہے ، لکھیں ۔جو اپ لکھنا چاہتے ہیں ۔برتن سے وہی باہر آئے گا ، جو برتن میں بھرا گیا ہے ۔

س: بچوں کے ادب کی طرف کیسے آنا ہوا؟

ج: اس کی پہلی وجہ میرے اپنے بچے ہیں۔ایک تو وہ عام بچوں کی مانند کہانی میں دلچسپی رکھتے ہیں، دوسرا ان کے سوال جو وہ مجھ سے اکثر کرتے ہیں۔ہمیں مان لینا چاہئے کہ ہماری اولاد ہم سے آ گے ہے۔جو سوال ان کے دماغ میں اٹھتے ہیں، وہ ہم نے نہیں سوچے تھے۔ دوسری وجہ میں خود انہیں بچوں کا ادب پڑھانا چاہتا تھا۔ میری خواہش ہے کہ وہ ادب پڑھیں، کیونکہ کتاب بہر حال شعور دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ میرے ناول جی بوائے کا کردار، اس کا پلاٹ میرے بیٹے احمد بلال اور کزن عمر ندیم نے مل کر بنایا۔ میری ان کے ساتھ مشاورت رہی۔ اب بھی ان کے پاس کا فی ساری تھیوریز ہیں، جن پر کام کیا جا سکتا ہے۔

 

س:اپنے ناول ”جی ایڈونچر “کے متعلق بتائیے کہ یہ کس موضوع پر ہے اور بچوں کو اسے کیوں پڑھنا چاہیے؟

" جی ایڈونچر"۔۔۔۔۔ میری جی بوائے سیریز کا تیسرا ناول ہے ۔ یہ بھی سائینس فکشن ہی ہے ۔اس ناول میں اے آئی کو موضوع بنایا گیا ہے ۔

:دورحاضر کے کن ادیبوں کی خدمات کو آپ اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں؟

ج :دیکھیں یہاں میں اپنے دوستوں کا نام بڑی آ سانی سے لے سکتا ہوں۔ لیکن میرا اپنا نظریہ ہے، وہ ادیب جو ”انسان اور انسانیت“ کے لئے لکھ رہے ہیں، وہ سب اہم ہیں۔

 

س: قارئین کی پذیرائی کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

جواب:بہت لطف آتا ہے۔ یہی قارئین اکرام ہی تو آ گے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ایک لکھاری ان سے بہت سیکھتا ہے۔دیکھیں کتاب کا حقیقی فیڈ بیک آتے آتے ایک دو برس لگ جاتے ہیں۔ لیکن ڈائجسٹ میں اگلے ماہ آپ کی تحریر پر کھل کر تبصرہ، تنقید ہوجاتی ہے۔میں نے اپنے قارئین سے بہت سیکھا۔ انہوں نے سکھایا کہ اپنی تحریر کے تبصرے تنقید پر کس طرح نہیں گھبرانا۔ ہماری خامی کیا ہے، خوبی کیا ہے، آئندہ کیسا اسلوب رکھنا ہے۔

 

س: آپ نے عشق و تصوف کو ہی بطور خاص موضوع کیوں چنا۔

ج:دیکھیں یہ جو ہماری مٹی ہے نا، عشق و تصوف اس میں گھلا ہوا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم تصوف کو کہاں تک سمجھ پائے ہیں اور عشق کیا ہے۔ایک عرصہ تک میں یونہی مختلف موضوعات پر لکھتا رہا۔پھر میں نے سوچا کہ مجھے وہ لکھنا چاہئے جو مجھے پسند ہے۔ پھر ایک وقت آیا کہ میں ان موضوعات سے بھی آ گے بڑھ گیا۔ کیونکہ مجھے کسی درویش نے کہا تھا کہ ”عشق جو ہے نا، وہ تصوف کا پیش لفظ ہے۔ تصوف کی اصل حقیقت انسان ہے، انسان کو پڑھ، سمجھ اور انسان بن۔“

 

س:کیا اگلے کچھ ماہ میں آپ کا کوئی نیا ناول مارکیٹ میں آ رہا ہے؟

چند دنوں میں ایک کہانیوں کا مجموعہ " حوصلہ رکھنا " مارکیٹ میں آرہا ہے ۔ یہ کہانیاں دراصل اساتذہ سنا رہے ہیں ۔ ان بچوں کے بارے میں جنہیں تھوڑا سا حوصلہ دیا تو کامیاب ہو گئے۔ میرے خیال میں یہ مجموعہ جہاں بچوں کو پڑھانا چاہئے وہاں خود والدین اور اساتذہ کو بھی پڑھنا چاہئے ۔

چلیے اب کچھ اپنی پسند نا پسند کے متعلق بتائیے۔

 

پسندیدہ کتاب: قرآن مجید 

پسندیدہ مصنف:

سعادت حسن منٹو ۔ ابن صفی

پسندیدہ شاعر:

ہر وہ شاعر جو زندگی کی رنگینی کو موضوع بناتا ہے ۔

پسندیدہ کھانا

گوشت ، اور ملک پراڈکٹ 

پسندیدہ خوشبو

صندل اور خس 

پسندیدہ لباس:

شلوار قمیص 

پسندیدہ رنگ:

گہر انیلا 

س:آپ کی سب سے بڑی خوبی کیا ہے؟

کہ میں امجد جاوید ہوں ۔

س:اپنی کس خامی سے بہت نالاں رہتے ہیں؟

یہی کہ میں امجد جاوید ہوں ۔

س:کوئی ایک خواہش بتائیے جس کے پورا ہونے کی حسرت ہے مگر ابھی تک پوری نہیں ہوئی۔

کوئی ایک تو نہیں بہت ساری ہیں ، کس کس کا ذکر کیا جائے

س:کوئی ایسی شخصیت جس سے ملنے کی شدید خواہش ہو؟

بہت بچپن میں میری والدہ محترمہ اللہ کے پاس چلی گئی تھیں ۔ ان سے ملنے کی خواہش شدید تر ہے ۔ اگر وہ ہوتیں تو کیسی ہوتیں ، میں ان سے کیسے باتیں کرتا ، وغیرہ۔

 

س:لکھنے کے علاؤہ دیگر کن مشاغل کو باقاعدگی سے وقت دیتے ہیں؟

مصوری کا شوق ہے ۔ لیکن جو کبھی پورا نہیں ہوا۔ اب کبھی کبھی کمپیوٹر پر ہی یہ شوق پورا کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔

س:نئے لکھنے والے ایسی کون سی غلطی کرتے ہیں جو انہیں نہیں کرنی چاہیے؟

جب کوئی انہیں ان کی غلطی پر بتایا جاتا ہے کہ یون نہیں یوں ہوتا ہے تو وہ ہزار وضاحتیں دیتے ہیں جس کا مقصد یہی ہو تا ہے کہ ہم ٹھیک ہیں ، یہ رویہ سیکھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔غلطی تسلیم کر لینے میں کوئی قباحت نہیں ۔ انسان ساری زندگی سیکھتا ہے کوئی بھی عقل کل نہیں ۔ انسان طالب علم کے موڈ میں رہے ، انکساری دکھائے تو بروں کی شفقت اک حقدار بن جاتا ہے ۔

 

س:آخر میں اپنے قارئین کو کوئی پیغام دینا چاہیں؟

خود بھی بھرپور جیو ، اور دوسروں کو بھی بھرپور جینے دو

آپ کے قیمتی وقت کا بے حد شکریہ۔

آپ سے مل کر ہمیں بہت اچھا لگا ہے اور امید ہے ہمارے قارئین بھی انٹرویو سے بہت لطف اندوز ہوئے ہوں گے۔اب اگلے ماہ تک کے لیے اجازت چاہتے ہیں تاکہ پھر کسی ادیب کی دلچسپ اور کھٹی میٹھی باتوں کے ساتھ حاضر ہو سکیں۔تب تک کے لیے اللہ حافظ

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...