Skip to main content

کچھ پل کی خوشی ۔حصہ دوئم

 


کچھ پل کی خوشی

حصہ دوم

تحریر: زلیخا واجد مجددی

معاونت: سارہ عمر















گزشتہ کہانی کا خلاصہ:


عمیر اور سبرینہ قطر میں کافی سال سے مقیم تھے اور ان کے دو بچے بھی تھے۔عمیر کے ہر وقت مصروف رہنے اور بیوی کو وقت نہ دینے کے باعث سبرینہ اپنے کیک بیک کرنے کے کاروبار کا آغاز کرتی ہے جہاں انسٹاگرام پہ اس کی ملاقات آزر سجیب نام کے ایک کافی بارٹنڈر سے ہوتی ہے۔وہ دن بدن اس کی محبت میں گرفتار ہوتی چلی جاتی ہے۔آزر سبرینہ کو دوست کے فلیٹ پر بلا کر نشہ آور دوائی پلا دیتا ہے جس کے بعد سبرینہ اپنی عزت سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔عمیر کو اپنے دوست شہریار کے ذریعے فلیٹ سے سبرینہ کا لاکٹ ملتا ہے اور وہ دونوں جب اسے واپس آزر کو دینے جاتے ہیں تو عمیر اسے قتل کر دیتا ہے جس پہ پولیس اسے گرفتار کر لیتی ہے جبکہ سبرینہ کچھ پل کی خوشی کی خاطر اپنے گھر،اپنی محبت،اپنے شوہر اور اپنے بچوں سب کو گنوا دیتی ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اب آگے پڑھیے:


عمیر کا ذہن اس وقت بری طرح منتشر تھا۔


خود کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پا کر وہ بے یقینی کی سی کیفیت میں خود کو بے وجود سا محسوس کر رہا تھا۔اس کو اپنا آپ بے وزن سا لگ رہا تھا ایسے جس طرح وہ ہوا کے دوش پہ چلتا پھرتا وجود ہو۔اس کا ذہن تو کب کا ماؤف ہو چکا تھا۔ کچھ بھی تو اس کے اختیار میں نہیں رہا تھا۔ بس ایک سانس تھی جو خودبخود آ اور جا رہی تھی اگر تو سانس بھی پورے ہوش و حواس میں لی جاتی تو یقیناً وہ اس وقت سانس لینا بھی بھول چکا ہوتا۔


اسے نہیں پتا تھا کہ کیسے اس نے آذر کو طیش میں آ کر گولی مار دی تھی۔اس کا اقرار اتنا جان لیوا تھا کہ اگر اس کا بس چلتا تو شاید وہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا لیکن جانے کب پولیس وہاں پہنچی اور اس کو ہتھکڑیاں لگا کر موقع پہ ہی گرفتار کر کے اپنے ساتھ پولیس اسٹیشن لے گئی۔وہ نہیں جانتا تھا کہ کب اس نے جذبات میں آ کر آذر پہ گولی چلائی اسے یاد تھا تو بس شہریار کے فلیٹ میں سبرینہ کا لاکٹ،جو شہریار کی غیر موجودگی میں اس کے فلیٹ میں تھا۔لاکٹ کو دیکھنے کے بعد تو اس کے ہوش ساتھ ہی نہیں دے رہے تھے۔


ذہن تھا کہ بس ایک ہی بات پہ اٹکا تھا کہ کیسے وہ سبرینہ کی زندگی سے اتنا دور چلا گیا تھا۔ جس انسان پہ کبھی اس نے حکومت کی تھی جس کے دل و دماغ میں صرف وہی بستا تھا پھر وہ کیسے اس کی زندگی سے اتنی دور نکل گیا۔ کبھی وہ خود کو سبرینہ کا غرور سمجھتا تھا پھر آج کیسے وہ غرور چکنا چور ہو گیا وہ خود کو ملامت کرنا چاہتا تھا لیکن آج کے روز شاید ملامت بھی بہت چھوٹا لفظ تھا کیونکہ اس کی دوری ہی تو اس حادثے کا سبب بنی تھی۔آج اسے سبرینہ سے زیادہ خود سے گھن آ رہی تھی کہ کس طرح اس نے سبرینہ کی زندگی میں کسی دوسرے مرد کے لئے راستہ چھوڑ دیا ۔آج اسے سبرینہ کے گناہ سے کہیں زیادہ اپنی لاپرواہی اور بے توجہی بہت بڑا گناہ لگ رہی تھی۔

ابھی وہ انہی سوچوں میں گم تھا کہ اچانک ایک وارڈن جیل کی سلاخوں کا دروازہ کھول کے کھانے کی ٹرے اندر دھکیل کے فورا تالا لگا کر چلا گیا۔ آج عمیر کا جیل میں تیسرا روز تھا۔ عمیر نے سر اٹھا کر اس کھانے کی ٹرے کو دیکھا اس کھانے کو وہ کب سے زندہ رہنے کے لیے زہر مار کر رہا تھا ورنہ دنیا کی رغبتوں سے تو دل ہی اٹھ چکا تھا۔آج اس نے تھوڑے ہوش و حواس میں خود کو اس چار دیواری میں قید پایا ۔خود کو زندان میں دیکھ کر اس کا دم گھٹنے لگا۔سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی۔

عمیر نے اسی وقت وارڈن کو آواز دی ۔وارڈن مرضی سے ٹہلتا ہوا اس کے پاس آیا اور بھنوئیں اچکاتے ہوئے بولا ۔۔


”کیا چاہئے؟“

عمیر اس وقت اپنے گلے پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بے چینی سے بولا


”مجھے سگریٹ کی طلب ہو رہی ہے“


وارڈن پہلے تو چونکا پھر اس کے چہرے کا بغور جائزہ لیتے ہوئے بولا۔


”ویسے تو یہ قانوناً جرم ہے اور ہم یہاں قانون کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے لیکن میں کوشش کروں گا تمہاری کوئی مدد کر سکوں“


دیار غیر میں اپنے ہم وطن کو اس حالت میں دیکھ کر جیل وارڈن کو بھی بہت برا لگا تھا۔قطر میں پاکستانیوں کی کثیر تعداد ملازمت کے پیشے سے وابستہ ہے اس لیے ہر جگہ اردو بولنے اور سمجھنے والے ضرور میسر آ جاتے ہیں۔


عمیر ویسے تو سگریٹ کا عادی نہیں تھا لیکن کبھی کبھار جب اس کی سبرینہ سے کسی بات پہ تکرار ہوتی تو وہ باہر نکل جاتا اور سگریٹ کی پوری ڈبیا پھونک کر ہی گھر لوٹتا۔


وارڈن نے ادھر ادھر دیکھتے رازداری سے اپنی جیب میں سے سگریٹ کی ڈبیا میں سے ایک سگریٹ عمیر کی طرف بڑھایا اور ماچس سے اس کی سگریٹ کو سلگایا تھا جس کے سلگتے ہی عمیر کے اندر بھی یادوں کا سمندر سلگ اٹھا تھا۔_________________________


سبرینہ غائب دماغی سے سڑک کنارے جانے کب سے چلی جارہی تھی کہ اچانک پیچھے سے کسی نے اس کے نام سے اسے پکارا ۔لیکن وہ بے دھیانی میں چلے جارہی تھی اس کو کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا تھا وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھی کہ اچانک پکارنے والے نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر روکنا چاہا تبھی سبرین نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔


___________________


اگلے روز وارڈن نے کھانے کی ٹرے سلاخوں کے اندر دھکیلی تو اس میں سگریٹ کی ڈبیا کے ساتھ ماچس بھی رکھی تھی۔


”اپنے ہم وطن کے لیے اتنی سی مہربانی تو کر ہی سکتے ہیں،اس وقت اندر کے درد کا تو اس سے بہتر کوئی علاج نہیں ہے“


عمیر خالی الذہن اٹھا اسے کھانے کی ٹرے سے کوئی غرض نہیں تھا اس نے سگریٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا سگریٹ کی ڈبیا ہاتھ میں لے کر اس میں سے ایک سگریٹ نکالا اسے اپنے ہونٹوں میں دبا کے ماچس کی تیلی کو آگ لگا کر دونوں ہاتھوں سے دائرہ بنا کے ماچس کی تیلی کو سگریٹ کے قریب لا کر سلگایا اور ہاتھ کے ایک جھٹکے سے تیلی کو بجھا دیا۔ سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے اس کا کڑوا دھواں اپنے اندر انڈیلا.. اگلے ہی لمحے سگریٹ کا دھواں ناک کے نتھنوں سے باہر آ کے ماحول کو بدبودار کر کے غائب ہو گیا۔عمیر نے ایک کش لیتے ہی سگریٹ کو متجس نگاہوں سے دیکھنے لگا ۔ آج کے سگریٹ کا ذائقہ مختلف سا تھا ۔دھواں بھی ضرورت سے زیادہ کڑوا تھا لیکن یہ کیا جوں جوں وہ کش لگاتا اس کے اندر کا شور تھمتا جاتا ۔اس کو سکون آ رہا تھا۔سگریٹ جیسا بھی تھا اچھا تھا۔ سگریٹ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ اس کا دل چاہا سویا جائے.. نیند غالب آ رہی تھی ۔ آنکھوں کی پلکیں زبردستی ایک دوسرے سے مل رہیں تھیں۔ آج بہت عرصے کے بعد وہ خود کو پر سکون سا محسوس کر رہا تھا وارڈن کب رات کا کھانا سلاخوں کے اندر چھوڑ کے گیا اسے کچھ پتا نہ چلا وہ بے سدھ پڑا تھا


اچانک اسے اپنے بالوں میں کسی کی انگلیوں کی حرکت محسوس ہوئی کوئی بہت پیار سے اسے سہلا رہا تھا۔ پلکیں مضبوطی سے ایک دوسرے میں جکڑی ہوئیں تھیں۔ اس نے آنکھوں پہ بہت دباؤ ڈالا لیکن آنکھیں تھیں کہ کھلنے سے رہیں وہ اسی کشمکش میں اس لمس کو کھونا نہیں چاہتا تھا ۔


کسی سرگوشی نے اس کے کانوں میں حرارت پیدا کی۔


”عمیر تم تو کہتے تھے کہ اگر میں چھوڑ کے گئی تو تم تو مر جاؤ گے تو بھلا اب کیسے زندہ ہو؟دیکھو میں تو کب کی تمہیں چھوڑ کے چلی گئی لیکن حیرت ہے تم پھر بھی جی رہے ہو۔۔۔۔۔“


عمیر کو اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوئیں وہ بولنا چاہتا تھا لیکن آواز ساتھ نہیں دے رہی تھی وہ اس پیکر حسن کا ہاتھ پکڑ کے اس کو یقین دلانا چاہتا تھا کہ وہ اب بھی ادھ مویا ہی ہے۔۔۔۔۔جی نہیں رہا۔۔۔۔۔لیکن ہاتھوں میں حرکت محسوس نہیں ہو رہی تھی۔آج کچھ بھی تو نہیں ساتھ دے رہا تھا۔سوائے بے یقینی کی کیفیت کے۔وہ اب کیسے یقین کر لیتا۔۔۔ بے چینی میں اس نے پہلو بدلا تو وہ جا چکی تھی اور وہ حیرت سے اپنے چاروں طرف دیکھنے لگا کچھ بھی تو نہیں تھا وہاں۔


آج اس کو جیل میں پورے تین مہینے ہو گئے تھے ۔اپنے غم کو ختم کرنے کے لئے اس نے اس سگریٹ کو سہارا بنا لیا تھا اس سے دوستی کر لی تھی ۔آج کے دن بھی کچھ بے چینی سی محسوس ہو رہی تھی ۔لیکن سگریٹ تھا نا.. غم گسار... آج اسے سبرینہ ملنے نہیں آئی تھی وہ آج اپنے خیالوں کو کوس رہا تھا کہ کیوں آج وہ عالم تصور میں بھی نہیں آرہی تھی اندر کہیں بے چینی بڑھتی چلی جا رہی تھی اس کا وجود اندر سے آتش فشاں بن چکا تھا۔ مسلسل ہجر نما وصل نے اسے ادھ مویا کر دیا تھا کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا بس اس کے اندر ایک مہیب سی خاموشی تھی۔ بس جی کرتا تھا روئے ،کرلائے ،چیخے تاکہ اس کے اندر سے ساری ویرانیاں اور گھٹن پھٹ کر باہر آجائیں کہ اچانک سے اسے سبرینہ سلاخوں کے اس پار جیل کی سلاخیں پکڑے کھڑی نظر آئی۔پہلے تو وہ حیران ہوا کہ روز تو وہ اسی قید خانے میں میرے ساتھ میرے پاس ہوتی تھی ان سلاخوں کے اندر ، میرے پاس اور بہت سی باتیں کرتی ہے اور چلی جاتی ہے وہ جب بھی آتی ہے تو وہ بھی زندان کی قید میں میرے ساتھ ہی رہتی تھی تو پھر بھلا آج کیوں وہ سلاخوں کے اس پار تھی ...عمیر بہکے ہوئے انداز میں عالم بے ہوشی میں خود سے بولا


”سبرین تم باہر کیا کر رہی ہو اندر آؤ ۔تمہیں کیوں آزادی کا پروانہ مل گیا... گناہ تو تم نے بھی کیا ہے ...تو پھر میں اکیلا کیوں سزا کاٹ رہا ہوں،تمہیں کیوں رہائی مل گئی ہے؟“


وہ لا شعوری سوچتا ہوا اٹھ کے اس کے قریب آیا۔۔۔۔کہ کہیں پھر اس کا وجود ہوا میں نہ بکھر جائے لیکن وہ جاچکی تھی وہ درحقیقت جا چکی تھی... کیوں کہ وہ آج جیل میں آئی تھی عمیر سے ملنے۔۔۔۔اس سے اس کی یہ حالت دیکھی نہ گئی اس کے لئے رکنا محال ہو گیا تھا اور عمیر کی باتیں، اس کا انداز سبرینہ کو اندر سے کاٹ رہا تھا۔


عمیر شعوری طور پہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اس کے ساتھ کونسا سانحہ ہو کے گزر بھی گیا۔۔۔ وہ اسے ابھی بھی اپنا تصور اپنا خیال ہی سمجھ رہا تھا قیامت آ کر گزر بھی گئی اور اسے خبر تک نہ ہوئی۔


لیکن یہ کیسے ممکن تھا کہ جسے وہ یاد کر کے پل پل جی اور مر رہا ہو وہ آئے بھی اور اس کا دل بے چین بھی نہ ہو ۔ وہ اپنے اندر گھٹن محسوس کر رہا تھا،اس کا سر بری طرح چکرا رہا تھا۔۔۔۔ اس نے سمجھا شاید سگریٹ کی طلب ہو رہی ہے۔ اس نے جیب میں سے سگریٹ نکال کر سلگایا لیکن نہیں،اسے کسی طور سکون نہیں مل رہا تھا۔ اس کا وجود اندر سے سلگ رہا تھا۔ سبرینہ اسے اب شدت سے یاد آرہی تھی۔وہ پل پل مر رہا تھا اس کو اپنے سامنے اپنے پاس دیکھنا چاہتا تھا وہ شاید اس وقت اس کی بے وفائی بھول چکا تھا بس یاد تھا تو اتنا کہ وہ کبھی اس کے وجود کا حصہ ہوا کرتی تھی۔ آج کتنی آسانی سے دونوں اس کٹے ہوئے وجود کے ساتھ جی رہے ہیں لیکن نہیں وہ جی تو نہیں رہا تھا ہر لمحہ مر رہا تھا۔سگریٹ کا کش لگاتے دھواں ہوا میں لہرایا ۔نیند غالب آ رہی تھی آنکھوں کی دھندلاہٹ میں سگریٹ کے دھوئیں نے اس پیکر حسن کا وجود تراشا وہ آنکھیں سکیڑتے اس کو دیکھنے لگا۔ ہوا میں خنکی بڑھی... ہوا کے ساتھ اس کے سیاہ بال لہرا رہے تھے۔ وہ چشم تصور سے ابھی بھی سی کو دیکھ رہا تھا کہ وہ اس کے پاس سے ایسے گزری کہ اس کے دوپٹے کی سرسراہٹ عمیر کو مضطرب کر گئی۔وہ عمیر کی آنکھوں میں راستہ بنا کے اس کے وجود میں اتر آئی تھی عمیر نے ہاتھ بڑھا کر اس کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن جیسے ہی عمیر نے ہاتھ بڑھا کر اسے پکڑنے کی کوشش کی اس کا وجود ہوا میں ہی کہیں بکھر گیا۔اس کا خالی ہاتھ ہوا میں ہی کہیں گر گیا۔وہ پاس ہو کر بھی پاس نہیں تھی یہی ہنر تو آتا تھا اسے


عمیر کے دل و دماغ میں ایک طوفان سا اٹھا۔۔۔


ڈبڈباتی آنکھوں کے ساتھ وہ زور سے چیخا۔۔۔


اس کی آواز دھاڑ کی مانند گونج رہی تھی۔۔۔


اسے اندر کہیں تکلیف ہو رہی تھی۔۔۔اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا جی چاہتا تھا کہ اسے دیوار سے دے مارے۔۔


اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں سے اپنے بال نوچے لیکن کسی پل بھی چین نہیں مل رہا تھا اس نے ایک ہاتھ کا مکا بنا کر دھاڑتے ہوئے سامنے دیوار پہ دیوانہ وار مکے مارے جا رہا تھا اس نے سختی سے اپنی آنکھیں بھیچ لیں تھیں۔۔۔۔


آج وہ سبرینہ کو چیخ چیخ کر پکار رہا تھا۔


”کہاں ہو۔۔۔ کہاں ہو تم۔۔۔۔ دیکھو میری حالت۔۔۔میری طرف دیکھو۔۔کیا اسے جینا کہتے ہیں۔تم اب مجھے بہت بے چین کرنے لگی ہو۔کسی پل بھی چین نہیں پڑتا۔۔۔کیوں مجھ سے اتنا دور چلی گئی ہو۔۔۔کیوں مجھ سے خفا ہو۔میں کب سے ان سلاخوں کے اندر گھٹ گھٹ کے مر رہا ہوں ۔۔۔ کیوں نہیں آتی ہو مجھ سے ملنے؟“


وہ اب رو رو کر تھک چکا تھا اس نے اپنا چہرہ دونوں گھٹنوں کے اندر چھپا لیا ۔وہ تھک چکا تھا۔ اب تھکی تھکی سی آواز میں بولا۔


”سبرینہ میں بے بس ہو گیا ہوں... لاچار ہو گیا ہوں... رحم کرو مجھ پہ... کیوں روتا بلکتا چھوڑ گئی ہو مجھے۔۔“


کافی دیر یوں ہی روتے روتے غش کھا کے گر پڑا اور بیہوش ہو گیا۔اردگرد سے گزرتا ہوا عملہ عمیر کی طرف دوڑا تھا۔ وارڈن نے ڈیوٹی آفیسر کو اطلاع دی اور فورا ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ڈاکٹر نے آتے ہی اس کی نبض اور دل کی دھڑکن چیک کی۔ دونوں کی رفتار معمول سے کم تھی۔ناک سے بھی کچھ خون کے قطرے نمودار ہوئے تھے ڈاکٹر نے تشویش میں آنکھیں کھول کر دیکھیں اور فورا بغیر وقت ضائع کیے اس کو ہاسپٹل لے جانے کا کہا۔ عمیر کی طبیعت کافی بگڑ رہی تھی۔ ایس ایچ او صاحب نے اس کے دوست شہریار کو فون پہ اطلاع دی ۔حالت بہت سیریس تھی۔


عمیر کو اعصابی دباؤ کے باعث برین ہیمرج ہوا تھا۔عمیر اس وقت ہاسپیٹل کے بستر پہ بے ہوش پڑا تھا۔ڈاکٹرز کی کوشش اور وقتی علاج کے بعد عمیر کو ہوش آنے لگا۔وہ اندر سے کہیں خاموش تھا ۔اس نے اپنے پہلو میں دیکھا تو شہریار ایس ایچ او صاحب سے اس کے کیس کے سلسلے میں بات کر رہا تھا۔ عمیر کو ہوش آنے کے بعد شہریار اس کے پاس آیا لیکن عمیر اس کو دیکھ کے خاموش ہی رہا وہ اب تنہائیوں کا خواہاں تھا۔ شہریار نے عمیر کی طرف درد بھری نظروں سے دیکھا اور اس کو دلاسہ دیا کہ تم جلد ٹھیک ہو جاو گے اور میں جلد تمہاری رہائی کی کوشش کروں گا۔لیکن شاید عمیر کو ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔بھلا ایک قاتل کو رہائی ملتی بھی تو کیسے؟اب اس دنیا سے رہائی تو پھانسی کے بعد ہی ملنی تھیں۔اس کا درد اور غم شہریار کو سمجھ نہیں آ سکتا تھا۔


عمیر کافی عرصے ہسپتال میں مقیم رہا مگر پھر شہریار نے کافی کوشش کر کے عمیر کو گھر پہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی اجازت لی تھی۔برین ہیمرج کے حملے کے بعد اس کے بائیں حصہ پہ فالج کا اثر ہوا تھا جس کے باعث جیل میں اس کا رہنا ممکن نہ تھا جبکہ ہسپتال میں لمںے عرصے تک قیام سے بہتر تھا وہ اپنے گھر پر ڈاکٹر اور پولیس کی نگرانی میں رہتا۔


سو اس عارضی رہائی کی منظوری کے بعد شہریار عمیر کو سیدھا اپنے فلیٹ میں لے کے آنا چاہتا تھا لیکن پھر کچھ سوچ کے رک گیا۔وہ عمیر کو مزید تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔اسی لئے عمیر کو اسی کے فلیٹ میں ہی چھوڑ دیا۔ہر گزرتے دن کے ساتھ عمیر کی طبیعت میں بہتری آ رہی تھی۔اس کے ساتھ مستقل نرس موجود رہتی اور ڈاکٹر اور فیزیوتھراپست پہ روز ہی اس کا چیک اپ کرتے۔شہریار روز اس کے لئے فروٹس ،کھانا ، ادویات اور ضرورت کی تمام اشیاء لاتا اور گھنٹہ دو گھنٹہ اس کے پاس بیٹھ کر اس کا دل بہلاتا۔


لیکن عمیر کا تو شاید اب خود سے بھی بات کرنے کا دل نہیں چاہتا تھا۔اب وہ تنہا رہنا چاہتا تھا وہ آہستہ آہستہ تنہائی کا اتنا عادی ہو چکا تھا کہ اگر کوئی اس کے پاس آکر بیٹھتا بھی تو اسے اچھا نہیں لگتا تھا۔


اب وہ اکیلا ہی رہتا تھا کیونکہ وہ اکیلا ہی تھا۔اس کی راتیں چھت کو تکتے گزرتی تھیں۔وہ پل پل پچھتاوے کی آگ میں جل رہا تھا کہ کیوں اس نے سبرینہ کی زندگی میں یہ خلاء چھوڑا کہ کوئی دوسرا اس خلاء کو پر کر دے ۔


صرف وہی تو چاہتا تھا سبرینہ کو چاہنا، تو وہ کیسے کسی اور کو چاہنے دیتا ۔۔ سبرینہ کو چاہنا اس پہ حکومت کرنا اور اپنی ملکیت چھوڑ کر اسے کسی اور کی دسترس میں دینا اسے کسی صورت گوارہ نہیں تھا۔


گھر آ کر بھی اسے اپنے چاروں طرف سبرینہ ہی نظر آتی تھی چلتی پھرتی گھر کے کام کرتی بچوں کو سنبھالتی۔۔۔


اسے بچے بھی تو یاد آتے تھے لیکن بچوں کو پاکستان ان کے دادا کے پاس بھیج کر شاید وہ ان کی طرف سے خود کو کچھ ہلکا محسوس کرتا تھا۔


جب سے وہ ہاسپیٹل سے گھر آیا تھا اس کی طبیعت کے باعث سگریٹ کا ساتھ چھوٹ گیا تھا۔اس کا دل سگریٹ سمیت ہر شے ہی اچاٹ ہوگیا تھا۔اب جب بھی اس کا دم گھٹتا وہ راتوں کو اٹھ جاتا،کبھی لمبی سانسیں لیتا،کبھی ٹھنڈا پانی پیتا تاکہ گھٹن تھوڑی کم ہو۔لیکن جو آگ اس کو اندر ہی اندر سلگا رہی تھی اس کو باہر کی ہوا کیسے چین دے سکتی تھی۔


شہریار روز ہی اس کی طرف آتا لیکن عمیر کو اس طرح چپ اور بےسدھ دیکھ کر اس کا دل کٹ کے رہ جاتا۔اب شہریار نے عمیر کو بتائے بغیر سبرینہ کی تلاش شروع کر دی کیونکہ وہ جانتا تھاکہ عمیر کے وجود کے اندر ایک ہی انسان زندگی بھر سکتا ہے۔


شہریار دانستہ طور پہ عمیر کے سامنے سبرینہ کا ذکر کر دیتا کیونکہ وہ عمیر کی خاموشی کو توڑنا چاہتا تھا ۔ عمیر کے ہونٹوں پہ جنبش صرف سبرینہ کے ذکر سے ہی آتی تھی۔


ایک دن شہریار عمیر کا موڈ بہتر کرنے کی کوشش میں بولا عمیر یار تم تو سبرینہ بھابھی کو ایسے یاد کرتے ہو جیسے وہ تمہاری بیوی نہیں تمہاری محبوبہ ہو۔ادھر شہریار کی بات سن کے عمیر کی رگیں تن گئیں وہ آنکھیں سکیڑتے ہوئے اس کو گھورنے لگا۔بولا


”محبوبہ ہی تو تھی وہ میری۔۔وہ میری محبوبہ پہلے اور بیوی بعد میں بنی۔لیکن میں ہی انجانے میں اس کو بیوی بنا کے رکھنے میں یہ تک بھول گیا کہ وہ میری محبوبہ بیوی ہے ۔ محبوبہ کہیں بہت پیچھے چھوڑ آیا وہ صرف مجھے بیوی ہی دِکھتی تھی لیکن میری محبت کا قصور جو میں نے اسے کسی اور کی دسترس میں جانے دیا۔میں نے تو اسے پل پل اپنی سانسیں جوڑ کے کمایا تھا۔میں کیسے اپنی کمائی کو کسی چور ڈاکو کے ہاتھوں لٹنے کے لئے اسے چھوڑ دیا۔“


اس کی باتوں میں درد تھا وہ رونا چاہتا تھا لیکن اب شاید آنسو بھی خشک ہوگئے لیکن اندر ہی اندر وہ پل پل شمع کی مانند جل رہا تھا ۔سبرینہ کی باتوں کے علاوہ عمیر کو کچھ سوجتا ہی کہاں تھا۔اسے صرف یاد تھا تو سبرینہ اور خود کی بے رخی۔اسے وہ لمحے یاد آتے تھے جب سبرینہ اس کے لئے تیار ہوتی اس کا انتظار کرتی اس کے لئے سجتی سنورتی ۔لیکن عمیر کبھی پلٹ کر دوبارہ اس کی طرف دیکھنے کی زحمت نہ کرتا۔ سبرینہ اس سے التجائیں کرتی کہ


”عمیر مجھے تمہارے بغیر یہ سب کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے ۔مجھے یہ تنہائیاں بہت اداس کرتی ہیں تم ہی بتاؤ میں کیسے خود کو تمہارے بغیر جینا سکھاؤ۔ عمیر خدا کے لئے مجھے نظر انداز مت کرو مجھے تمہاری یہ بے رخی جیتے جی مار ڈالے گی“


”عمیر کیوں میری سسکیاں تمہیں بے چین نہیں کرتیں “


”کیوں میرا سجنا سنورنا تم پہ اثر انداز نہیں ہوتا۔“


”کیوں مجھے دیکھ کے ان دیکھا کر دیتے ہو۔“


”عمیر تم تو کہتے تھے میں تمہاری سانسیں ہوں مجھے دیکھے بغیر تمہیں سانس تک نہیں آتی تو آج کیسے ان سانسوں کے بغیر جی رہے ہو۔“


اب عمیر کو فریاد کرتی روتی بلکتی سبرینہ اپنے چاروں طرف نظر آتی اس کی آہیں سسکیاں اس کے کانوں کے پردے پھاڑ کر اس کے وجود میں اترنے لگیں۔ یہ تو وہ خود نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں ہے کس حال میں ہے بس وہ جانتا تھا تو اتنا کہ اگر اس کی سانسیں چل رہی ہیں تو کہیں نہ کہیں اس دنیا میں سبرینہ بھی سانس لے رہی ہے عمیر کی چلتی سانسیں اس بات کی ضامن تھیں کہ سبرینہ بھی کہیں نہ کہیں اس کی طرح بےچین اور تڑپ رہی ہوگی۔آج پھر عمیر کو سبرینہ بہت شدت سے یاد آ رہی تھی ۔ تبھی تو وہ غم سے نڈھال تھا۔ طبیعت پھر بگڑنی شروع ہو گئی۔اس نے اکھڑتی سانسوں اور دھڑکتے دل کے ساتھ شہریار کا نمبر ملایا لیکن وہ کال ریسیو نہیں کر رہا تھا شاید وہ کہیں بہت مصروف تھا ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ عمیر شہریار کو فون کرئے اور شہریار اس کا فون نہ اٹھائے۔


عمیر نے اٹھنے کی کوشش کی،فالج کے بعد اس کے بائیں حصہ میں بہتری تو آئی تھی مگر وہ مکمل طور پر صحت یاب نہ ہوا تھا تبھی ہی وہ لڑھک کر فرش پہ گر گیا۔جب ہوش آیا تو خود کو ہاسپیٹل کے بستر پہ محسوس کیا لیکن ابھی انجکشن اور دوائیوں کے اثر کی وجہ سے غنودگی میں ہی تھا آنکھیں نہیں کھل رہی تھیں۔


شہریار نے بہت پیار سے عمیر کو آواز دی


"عمیر دیکھو آنکھیں کھولوں میں کسے لے کے آیا ہوں"


عمیر نے آنکھیں کھولیں اور اسے مجسم حقیقت کے روپ میں دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


آذر کی موت کے بعد اس کا کیس کی نمائندگی اس کا چچا زاد بھائی نوفل کر رہا تھا۔قطر کے قوانین کے مطابق قتل کی سزا موت ہی تھی مگر شرعی اصولوں کے تحت قاتل قصاص یا خون بہا دے کر قتل معاف کروا سکتا تھا۔


عمیر کو تو اپنی زندگی اور موت کی کوئی پروا نہیں تھی مگر شہریار اس اجڑے ہوئے گھر کو پھر بسانا چاہتا تھا۔


سبرینہ اپنے گھر چھوڑ کر نجانے کہاں بھٹک رہی تھی،آئے دن کی پیشیوں اور انکوائری کے باعث سبرینہ تو تھکی ہی تھی نوفل کی نوکری کا بھی بہت حرج ہو رہا تھا سو وہ بھی چڑا چڑا سا رہتا۔آزر کے ساتھ کزن ہونے کے ناتے دوستی تو تھی مگر جو کچھ اس نے کیا اس کے وجہ سے اس کے اپنے گھر سمیت دوسروں کا بنا بنایا گھر بھی ٹوٹ گیا تھا۔پہلے آزر کی بیوی عائشہ اس بات پہ بضد تھی کہ اس کے قاتل کو سزائے موت دی جائے مگر جب سے شہریار نے نوفل سے رابطہ کر کے قصاص کی صورت بھاری رقم لینے اور عمیر کو معاف کرنے کی گزارش کی تھی نوفل مسلسل عائشہ کو راضی کرنے پر تلا ہوا تھا۔


عائشہ کی کچھ ماہ کی بچی تھی سو آج نہیں تو کل اسے پیسوں کی ضرورت تو تھی ہی اور ویسے بھی اس کی عدت کے بعد شاید اس کے والدین اسے دوسری شادی کے لیے راضی بھی کر لیتے۔نوفل نے پہلے عائشہ کو صحیح سے بتانے کی زحمت بھی نہیں کی تھی کہ اس کے شوہر کو قتل کیوں کیا گیا ہے لیکن جب وہ خود عمیر کی حالت دیکھ کر آیا تو اس نے سارا معاملہ عائشہ کو کھل کر بتایا تھا کہ کیسے اس کے شوہر نے کسی اور کی بیوی کے ساتھ مراسم رکھ کر اس کی قابل اعتراض تصاویر حاصل کیں اور اس عورت کے شوہر نے کیسے اسے سرعام گولی ماری تھی۔اصل صورتحال جان کر عائشہ کی محروم شوہر ڈے محبت جھاگ کی طرح بیٹھ گئی تھی جس نے اس کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کو دھوکہ دیا تھا۔تبھی وہ اپنی بچی کی خاطر قصاص لینے پہ راضی ہو گئی تھی۔


جس شخص نے زندگی میں اس کی محبت کا روگ نہیں پالا تھا اس کی بیوی نے اس کی موت کے بعد بھلا کیوں روگ پالنا تھا۔نوفل اور عائشہ کی رضامندی کے بعد شہریار نے وکیل سے سب کاغذات بنوا لیے تھے۔


قصاص کی رقم کی ادائیگی کے لیے عمیر کی کچھ پراپرٹی بھی بیچنی پڑی تھی مگر اس کی جان بچانا اور اس کے گھر کو دوبارہ سے جوڑنا ہی شہریار کی اولین ترجیح تھی۔


شہریار کی کوشیش رنگ لے آئیں تھیں اور بلآخر سبرینہ بھی محبت کی ڈور میں بندھی عمیر کی جانب کھچی چلی آئی تھی۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ہسپتال کے بستر پہ عمیر کی زرد رنگت، تنا چہرہ ،بڑھی ہوئی شیو کو دیکھ کر سبرینہ کی آنکھوں میں متواتر آنسو آرہے تھے ۔وہ کیسے بھول سکتی تھی اس شخص کو جسے کبھی اس نے جیا ہو۔جس کو دیکھ کے اس کی سانسیں چلتی تھیں۔


سبرینہ کی گھٹی گھٹی سسکیوں کی آواز اس خاموش فضا میں کی لہروں کی مانند بہتی ہوئی عمیر کی سماعتوں سے ٹکرائیں۔عالم بے ہوشی میں بھی عمیر تذبذب سا کروٹیں بدلنا چاہتا تھا یہ کیسے ممکن تھا جس محبوبہ بیوی کے لئے وہ پل پل مر رہا تھا ایک مدت بعد جب وہ اسے میسر ہو تو کیسے وہ سکون سے بے سدھ پڑا رہ سکتا تھا۔شہریار سبرینہ کو عمیر کے پاس چھوڑ کے ضروری ادویات لینے چلا گیا۔


سبرینہ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے آگے بڑھ کر اس کے پاس بیٹھ گئی۔اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کے اس کو سہلانے لگی اور دوسرے ہاتھ سے عمیر کے بڑھتے ہوئے بال چہرے سے ہٹاتے ہوئے گھمبیر لہجے ، والہانہ آنکھوں سے مسلسل بہتے آنسوؤں سے عقیدت و محبت کا اظہار کر رہی تھی ۔عمیر کو سبرینہ کے ہاتھوں کے لمس سے جانی پہچانی حرارت محسوس ہوئی ۔اس نے سختی سے اپنی آنکھیں بھیچتے ہوئے آہستہ آہستہ آنکھیں کھول کر سبرینہ کی طرف دیکھا۔اور غنودگی میں بولا


”روز روز ملنے کا بہلاوا ہی دینے آتی ہو کسی روز تو روبرو آؤ۔۔۔۔تمہیں کیا خبر اسی انتظار کو جی جی کر پل پل مر رہا ہوں۔ ہر بار دانستہ ملاقات ادھوری چھوڑ جاتی ہو۔“


سبرینہ کا دل تھا کہ اچھل کر باہر آنے کو تھا اس نے عمیر کے ہاتھوں پہ اپنی گرفت مضبوط کی۔عمیر کی باتیں سن کے سبرینہ کے سینے میں دبی راکھ نے چنگاڑی پکڑی اور اسے اپنا وجود دہکتا ہوا محسوس ہوا باقی کی تپش تو شاید اس نے اپنے ہاتھوں میں لئے عمیر کے لمس سے لی تھی اب سبرینہ بھی پل پل اس آگ میں جل رہی تھی جسے اس نے بہت پہلے اپنے آنسوؤں سے بجھا دیا تھا۔عمیر کی مدہوشی میں باتیں سن کر اس نے فرط جذبات میں آکر عمیر کے ہاتھوں کو بوسہ دیا ان دہکتے ہونٹوں میں اتنی تپش تھی کہ عمیر کا سارا وجود دہک گیا اس نے بے چینی میں آنکھیں کھولیں۔ سبرینہ کو اپنے سامنے دیکھتے ہوئے بولا


”آ گئی تم؟ مجھے چھوڑ کے کہاں چلی گئی تھی ۔۔کیا میری یاد نے تمہیں بے چین نہیں کیا۔۔بہت التجاؤں اور من میں گھٹے ارمانوں کا تم ثمر ہو ۔۔۔۔دیکھو آج تمہیں اپنے سامنے پا کر بھی بے یقینی کی کیفیت میں ہوں۔۔۔۔مجھے یقین نہیں آرہا ، خود اپنی آنکھوں پہ۔کیسے خود کو سمجھاؤں ۔۔کہ تم لوٹ آئی ہو۔۔۔ تمہاری آنکھوں میں ابھی بھی وہی تشنگی ہے ابھی بھی تمہارے چہرے پہ وہی نزاکت ہے ۔ پتا ہے تمہیں، جب تم نہیں تھی۔۔۔۔۔اِدھر اِدھر ( سینے کے بائیں جانب انگلی ٹھونک کر کہتا) گھٹن ہوتی تھی میری سانسں رکنے لگتی تھی۔ عمیر کی سحر زدہ باتیں سن کر سبرینہ نے اپنے دل میں سرگوشی کی۔۔۔۔تمہیں کیا خبر تمہارے ہونے سے ہی تو میرا دل آباد تھا جب تم نہیں تھی تو یہ ویران ہی رہتا تھا۔“


سبرینہ نے کچھ کہنا چاہا لیکن اس کا گلا رندھ گیا ۔روتے ہوئے بولی


” اتنی محبت کا اظہار پہلے کیوں نہیں کیا تم نے؟جب مجھے ضرورت تھی تمہاری۔کیوں مجھے اکیلے تڑپتا، بلکتا ،سلگتا چھوڑ دیا تھا تم نے ۔اسے تکلیف ہوئی، جب میری تنہائی میری جان پہ بنی ہوئی تھی تب کہاں تھے تم؟ کیوں مجھے تم میسر نہیں تھے؟جب مجھے ضرورت تھی تمہاری۔۔۔۔ بولو جواب دو۔۔۔“


آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔


سبرینہ والہانہ انداز میں عمیر سے بولی ”خود کی حالت دیکھی ہے ؟ کیا حالت بنا لی ہے تم نے اپنی“


عمیر بلا ساختہ جواب دیا، ”جب سے تم چھوڑ کے گئی ہو خود کو دیکھا ہی نہیں ...سوچا تھا جب تم سے ملوں گا تبھی تم میں اپنا عکس دیکھوں گا۔اور آخر کو مجھے اپنی محبت کا یقین بھی تو دلانا تھا،تبھی یہ حالت بنا رکھی ہے۔۔۔۔ دیکھو کتنا تڑپا ہوں میں۔“


سبرینہ ماحول کو تھوڑا خوشگوار کرنے کے لئے بولی


”دیکھو آج اتنے عرصے کے بعد تمہیں دیکھ رہی ہوں اور تم بیمار بستر پر پڑے ہو اور تمہارے لئے کوئی پھولوں کا بکے تک نہیں لائی۔“


ادھر عمیر اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے والہانہ لہجے میں بولا” آج کی ساری فضا پھولوں سے ہی تو معطر ہے اور میرا مہکتا گلاب کا پھول میرے سامنے ہے اور مجھے کیا چاہئے۔“


”عمیر تمہارے لئے دل سے دعا ہے۔۔۔۔ کہ میرا تمہارے بغیر اور تمہارا میرے بغیر دل نہ لگے“سبرینہ نے دل میں ہی سرگوشی کی


عمیر شرارتی آنکھوں سے بولا۔


”اچھا اگر میں صرف آنکھوں سے ہی تعریف کر دوں تو کیا انہی پہ ہی یقین کر لو گی“


عمیر کی بات سن کے سبرینہ نے دھیرے سے مسکراتے ہوئے کچھ کہے بغیر اس کے بازو پہ اپنا سر رکھ دیا تھا


تبھی عمیر سنجیدگی سے بولا


”مجھ سے لڑنا ،جھگڑنا ،بے شک اپنا حق جتل

انا مجھے اچھا لگے گا مگر کبھی مجھے چھوڑ کر مت جانا“


سبرینہ نے اثبات میں سر ہلاتے اسے اپنی محبت کا یقین دلایا تھا۔


ٹوٹا ہوا دل اور ٹوٹا ہوا گھر دیر سے سہی مگر بالآخر جوڑ گیا تھا۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...