مر کے بھی چین نہ پایا،تو کدھر جائیں گے؟
سارہ عمر
”زندگی مسائل،مصیبت اور قید خانے کا نام ہے۔“
فیاض میاں نے پان چباتے منہ سے روز کی طرح زہر اگلا تھا۔
”تو کیا کریں رہنا تو یہیں ہے نا!کیا مر جائیں؟“
قیصر کو روز کی طرح آج بھی غصہ آیا تھا۔ابھی پچھلے ہفتے فیاض کی دکان سے سودا لینے آیا تھا تو سارا راشن بیس ہزار میں آ گیا تھا اور آج جب وہی چیزیں خریدنے کی نوبت آئی تو پچیس ہزار کا بل بنا کر پکڑا دیا۔
”ارے بھئی یہ کیا مذاق ہے؟“
قیصر نے پوچھا تھا
”مذاق نہیں ہے میاں بل ہے بل۔۔۔“
فیاض میاں نے پان کی پیک تھوکتے اطلاع دی تھی۔
”کبھی تو میں سوچتا ہوں کہ زندہ رہنے سے تو بہتر ہے بندہ مر ہی جائے۔“
قیصر کی تنخواہ میں گزارا کرنا ہی مشکل تھا اوپر سے بل دیکھ کر رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا۔
”تو میاں یہ شغل بھی پورا کر کے دیکھ لو۔۔ہم کہہ رہے ہیں اگر جو تم اس ملک میں سکون سے مر کے بھی دیکھا دیو تو ہمارا نام بدل دیو۔۔۔“
فیاض میاں کا اطمینان اپنی جگہ بدستور قائم تھا۔
”پہلے تو گھبرا کہ یہ کہیے تھے کہ مر جاوئیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جاوئیں گے۔۔۔
بس یہی حال ہے۔اب تو توبہ توبہ قبر ہی اتنی مہنگی ہو رہے ہے کہ مت پوچھیو۔۔۔بندہ قبر میں جانے سے نہیں قبر کی قیمت سے ڈرے ہے۔“
وہ اخبار پڑھتے ایک ہاتھ سے اب ماچس کی تیلی لے کر دانتوں میں خلال کر رہے تھے۔
”زندگی تو مصیبت ہی بن گئی ہے۔اچھا ہو کہ مر کر ادھر سے جان چھوٹ جائے۔“
قیصر نے پچیس ہزار کا بل تو دے دیا مگر خودکشی کرنے کے متعلق سوچ اب دل میں گھر کرنے لگی تھی۔
”غربت،افلاس،رشوت،سفارش،بے ایمانی،دھوکہ ،فریب،یہی سب کچھ تو ہے اس ملک میں اور اس ملک سے باہر نکلنے کی کوئی صورت نہیں تو کیوں نا دنیا سے ہی فلائی کرنے کی سوچیں۔“
خالی دماغ شیطان کا گھر بنا خودک۔ش۔ی کی تراکیب سوچ رہا تھا اور قسمت ان تراکیب پہ دور کھڑی قہقہے لگا رہی تھی۔
اگلے دن قیصر نے سب سے پہلے خود ک۔ش۔ی کرنے کے ایک سو ایک طریقے نام کی کتاب خریدی تھی۔اسے دیکھ کر قیصر کی آنکھیں چمکنے لگی تھیں۔اس بے رحم مہنگی دنیا سے چھٹکارا پانے کا وقت آ چکا تھا۔اس نے سب سے کتاب کھول کر طریقہ نمبر ایک پڑھا تھا۔جسے پڑھ کر اس کا غصہ دو چند ہو گیا تھا۔
بقول مصنف:
”ویسے تو خود ک۔ش۔ی کے بہت سے طریقے ہیں لیکن سب سے عام فہم اور مقبول عام طریقہ شادی ہے۔ دنیا بھر میں لوگ جب طے کر لیتے ہیں کہ انہوں نے خود ک۔ش۔ی کرنی ہے تو وہ فوراً شادی کر لیتے ہیں۔یہ خود ک۔ش۔ی کی بہترین قسم ہے۔اس طریقے سے انسان جب شادی کر لیتا ہے تو وہ جیتے جی مر جاتا ہے۔“
یہ الفاظ پڑھ کر اس نے کتاب کو غصے سے گھورا یہ بھلا کونسا واہیات طریقہ ہے؟اس حساب سے تو اسے خودک۔ش۔ی کیے پانچ سال ہو چکے تھے مگر ان پانچ سالوں میں اس خودک۔ش۔ی نے تین سپوت بھی پیدا کر لیے تھے۔
پہلا سب سے موثر طریقہ تو ناکام ہو چکا تھا۔شاید مصنف نے بھی کنوارے حضرات کو اصل خودک۔ش۔ی سے روکنے کے لیے شادی جیسی خودک۔ش۔ی کرنے کا مشورہ دیا تھا کیونکہ اس کا اپنا بھی یہ تجربہ ناکام رہا ہو گا۔تبھی تو اتنی لمبی کتاب لکھی تھی۔
اس نے تیزی سے ورق پلٹے اور دوسرا طریقہ پڑھا تھا۔
دوسرا طریقہ زہر کھانے کے متعلق تھا۔مصنف کے مطابق نیلا تھوتھا خاصا معروف زہر ہے جو کہ کھلتے ہوئے فیروزی رنگ کا دکھائی دیتا ہے۔اسے کھاتے ہی زندگی کا خاتمہ ممکن ہے۔
قیصر بھاگتے ہوئے فیاض میاں کی دکان پہنچا تھا۔
”فیاض بھائی!نیلا تھوتھا چاہیے۔“
اس نے سر پہ ہاتھ پھیرتے اپنا مدعا بیان کیا تھا جس پہ انہوں نے عینک کے پیچھے سے اسے سر تا پا گھوری لگائی تھی۔
”ارے میاں!یہ تھوتھا وہ تھا ہم نہیں بیچتے۔۔وہ رہی پرلی سائڈ نجیب کیمیکل والے کی دکان۔اس سے مل جاوے گا۔“
ان کی بات سن کر وہ اس دکان پر پہنچا تو نجیب کیمیکل والے نے لمبی انکوائری کی تھی۔
”اچھا!کیوں چاہیے؟کس لیے چاہیے،کس کے لیے چاہیے؟“
اس نے فوراً بچے کے لیب پریکٹیکل کا بہانہ کیا تھا۔جسے سن کر نجیب کیمیکل والے نے ننھی سی پڑیا میں اتنا زرا سا سفوف تھما دیا کہ ایک وقت کی پھکی بھی نہ بنتی۔
”ارے بھائی!یہ کیا اتنا تھوڑا؟“
”آپ کو پریکٹیکل کے لیے چاہیے نا تو بس اتنا کافی ہے۔۔۔ہاں اگر خودک۔ش۔ی ودکشی کا ارادہ ہے تو بتاؤ؟“
اس نے دانت نکوستے قیصر کا جائزہ لیا تو وہ ”نہیں نہیں ایسی بات نہیں “کہہ کر وہاں سے رخصت ہو گیا تھا۔
گھر آتے آتے اس کا جسم پسینے میں شرابور تھا اس نے فوراً نیلا تھوتھا پانی کے ساتھ نگلا تھا مگر یہ کیا؟پانچ۔۔دس۔۔پندرہ منٹ گزر گئے وہ مرا ہی نہیں۔نجیب بھی بہت کائیاں آدمی تھا،اس نے پھٹکری میں نیلا رنگ ملا سفوف اسے تھما دیا تھا۔اس کا روز کا کام تھا سو سب پتہ تھا کہ کون نیلے تھوتھے سے کونسا پریکٹیکل کرنا چاہتا ہے۔
تنگ آ کر اس نے اگلا طریقہ پڑھا تھا جو کہ مینار پاکستان سے چھلانگ لگانے کے متعلق تھا۔
اب اس چھوٹے سے قصبے میں مینار پاکستان کہاں سے لائے؟سو سب سے اونچی عمارت کی تلاش شروع کر دی۔بلآخر اونچی عمارت تو مل گئی مگر اس کی لفٹ اور اوپر کی چھت دونوں پہ سیکورٹی گارڈ موجود تھے۔اس نے بڑے بہانے بنا کر چھت دیکھنے کی خواہش ظاہر کی مگر سیکورٹی گارڈ نے اسے فوراً وہاں سے چلتا کیا تھا۔مر کیا نہ کرتا۔اب اگلے طریقے کو آزمانے کی ٹھانی تھی۔
اگلا آسان طریقہ پنکھے سے لٹک کر جھولنا تھا۔یہ اسے قدرے آسان لگا۔بس پنکھے سے رسی لٹکائی اور جھول گئے مگر جب وہ بڑی مشکلوں سے رسی کا پھ۔ن۔د۔ا بنا کر اسٹول کے اوپر چڑھا اور اسٹول کو دھکا دے کر پھندے میں جھولنا چاہا تو پنکھا اس کا بھاری بھرکم بوجھ نہ سہار سکا اور چھت سے ٹوٹ کر نیچے گر گیا۔پنکھے کا پر اس کے سر پہ لگا تھا اور اب اسے دن میں تارے دکھ رہے تھے۔
”کیا مصیبت ہے،اس ملک میں تو ایک بندہ خودک۔ش۔ی بھی نہیں کر سکتا۔“
اس نے غصے سے کتاب کھول کر اگلا طریقہ پڑھا۔برستی بارش میں ننگی تار یا بجلی کے کھمبے کو چھونا۔ابھی تو نہ بارش برس رہی تھی نہ کوئی ننگی تار دستیاب تھی سو یہ طریقہ منسوخ کر کے اگلے صفحات پلٹے۔
آگے سانپ کے ڈسنے کے بہترین نتائج لکھے ہوئے تھے کہ کیسے سانپ کا زہر لمحوں میں انسان کو م۔ا۔ر دیتا ہے۔اب یہ سانپ کہاں سے میسر ہو گا؟اس نے بلآخر اپنے علاقے کے ایک سپیرے سے سانپ دریافت کر ہی لیا مگر جناب وہ تو انسان دوست سانپ تھا۔زہر سے بالکل پاک۔
”اس میں زہر کیوں نہیں ہے؟“
قیصر سانپ کو پھنکارتا دیکھ کر جھلا کر بولا۔
”سپیرے تو سب سانپوں کا زہر نکال کر ہی شہر میں لاتے ہیں ان کے زہر سے ادویات بھی بنتی ہیں اور کئی زہر کا تریاق بھی۔“
”کیا مصیبت ہے۔۔؟“قیصر نے اپنے بال نوچ لیے تھے۔
اگلا طریقہ ٹرین کے نیچے آ کر مر۔نے کا تھا۔
چلو اب اسے بھی آزما کر دیکھ لیں۔اگلے دن وہ ٹرین کی پٹری پہ جا پہنچا اور سکون سے آنکھیں موندھے پٹری پہ لیٹ گیا مگر گھنٹوں انتظار کے بعد بھی ٹرین پہنچی ہی نہیں تھی۔تنگ آ کر اس نے اگلے دن آنے کا منصوبہ بنایا مگر یہ کیا؟دوسرے شہر میں ٹرین پٹری سے اتر گئی تھی سو اب پٹری کی مرمت ہونے تک ٹرینوں کی آمد و رفت معطل تھی۔
وہ اگلے طریقے پہ عمل کرنے دریا کے اوپر بنے پل پہ جا پہنچا کہ دریا میں گر کر مر۔نا خاصا آسان تھا۔مگر یہاں بھی نئی مصیبت منہ کھولے کھڑے تھی۔دریا میں تو چلو بھر پانی بھی نہ تھا کہ وہ اس میں جا کر ڈوب مرے۔خشک کیچڑ زدہ دریا کو دیکھ کر وہ منہ بسورتا واپس پلٹ آیا۔
اس نے آگے بھی کئی طریقے آزمائے اور ناکام ہی رہا سو آخری طریقہ چوہے مار دوا پیس کر کھانے کا تھا۔اس نے پہلے چوہے مار دوائی چوہے کو پکڑ کر کھلانا چاہی مگر چوہا تو دوائی کھا کر بھی بھلا چنگا اچھل کود رہا تھا۔
اس نے آخری صفحات کا جائزہ لیا جس پہ لکھا تھا۔
اگر آپ ان صفحات کو پڑھ رہے ہیں تو یقیناً ابھی تک آپ مرے نہیں ہیں سو اپنی زندگی کی نعمت کا شکر ادا کریں اور میری طرح اپنے تمام ناکام تجربات پہ کتاب لکھ کر مصنف بن جائیں۔کیا پتہ کسی کا بھلا ہو جائے اور وہ مینار پاکستان سے چھلانگ لگانے کی حماقت،دریا میں کودنے کی بے وقوفی،ٹرین کے نیچے آنے کی سنگین غلطی یا پھا۔نس۔ی کے پھندے سے جھولنے کی جسارت نہ کرے۔
سنا ہے،اب قیصر بھی ایک مشہور مصنف کی حیثیت سے جانا جاتا ہے جس کی ناکام تجربات پہ مشتمل کتاب ہاتھوں ہاتھ بکی مگر وہ بھی اس کتاب کی طرح مذاحیہ کتاب ہے جسے پڑھنے کے بعد ہر کوئی خود ک۔ش۔ی کرنے کا خیال دل سے ہمیشہ کے لیے نکال دیتا ہے۔
#markbchainnapaya
#sarahomer #sundaymagzine #mashriq
#comicfiction
#comic
#sarahomerwriter

Comments
Post a Comment