Skip to main content

حي على الفلاح

ہر شخص کی پیدائش دین فطرت پہ ہے۔ اللہ نے ہر انسان کو فطرت پہ پیدا کیا ہے یعنی پیدا ہونے والے تمام بچے اللہ کے ماننے والے اسی کے پیروکار ہیں۔آہستہ آہستہ بڑے ہو کر ان کے ماں باپ ان کو یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔ اتنی سی بات کیا یہ سمجھانے کے لیے کافی نہیں کہ اللہ نے اپنی مخلوق کو پہلے اپنا بنایا اور پھر چھوڑ دیا کہ جاؤ تم آزاد ہو اس دنیا میں جو چاہو کرو۔لیکن پلٹ کر تمہیں میرے ہی پاس آنا ہے۔ جہاں بھی چلے جاو یہ دنیا بہت بڑی ہے مگر اس کی نظروں سے بچ نہ پاؤ گے۔ نہ موت سے بچ پاؤ گے چاہے جتنے حربے آزما لو، یہ گھیر لے گی کبھی بھی کہیں بھی کیونکہ ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اس دنیا میں آنے کے بعد اکثر مسلمان ہی اپنے دین پہ عمل پیرا نہیں۔ حیرت ہے ان لوگوں پہ جن کے کانوں میں پانچ وقت آذان کی آواز آتی ہے اور وہ سن کر ان سنی کر دیتے ہیں۔ حیرت ہے ان لوگوں پہ جن کے سامنے لوگ اٹھ کر تمام کام چھوڑ کر وضو کرنے نماز پڑھنے جاتے ہیں مگر وہ فائلوں میں ایسے مگن ہو جاتے ہیں جیسے سارا کام نماز کے وقت میں ہی مکمل ہو جائے گا۔ کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو حجاب اور برقعے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں حالانکہ یہ بندے کا حکم نہیں اللہ کا حکم ہے۔ کچھ لبرل مسلمان تو ایسے بھی ہیں جو اپنی بچیوں کو اس لیے پردے سے روکتے ہیں کہ معاذ اللہ ان کے تو چہرے خراب ہیں جو نقاب کیا ہے یا پھر یہ کام ایسے کرتی ہیں کہ انہیں چھپنے اور منہ ڈھانکنے کی ضرورت ہے۔ اس دنیا کے ایسے ہی لوگ فخر سے ایک کلمہ پڑھ کر خود کو مسلمان اور مومن ہونے کا سرٹیفکیٹ دے دیتے ہیں۔ دوسری طرف وہ بھی ہیں جن کا قول و فعل دین ہے۔ جن کے گھر کی عورت با پردہ اور مرد با حیا ہے۔ جو اللہ کے قانون کی پابندی کرتے بھی ہیں اور اس کی شریعت پہ بھی عمل پیرا ہیں۔ کتنا فرق ہے ان دونوں میں۔ دونوں ہی مسلمانہیں، ایک نام کا اور کام کا۔۔۔ ایک دین دار، ایک دنیا دار۔ ایک اللہ کی رضا کے لیے کام کرتا ہے، دوسرا بندوں کی خوشنودی کے لیے۔ دن رات اس دنیا سے جاتے لوگوں کو دیکھتے ہیں مگر اپنی آنکھیں کان بند کر لیتے ہیں جیسے ان پہ یہ وقت کبھی نہیں آنا۔ روز و شب کے میلے میں غفلتوں کے مارے لوگ شاید یہی سمجھتے ہیں ہم نے جس کو دفنایا بس اسی کو مرنا تھا کاش کہ لوگ اس دنیا سے پیارے ہونے سے پہلے اپنے رب کو پیارے ہو جائیں اور اس کی رضا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی چاہ کریں۔۔۔ کاش کہ یہ غافل لوگ خواب غفلت سے بیدار ہوں اور حی علی الفلاح کی آواز پہ لبیک کہتے ہوئے اپنے رب کے حضور سر بسجود ہو کر اپنے کئے سے توبہ کر لیں۔۔۔ تاکہ وہ اگلی زندگی میں بھی کامیاب ہو سکیں آمین۔ سارہ عمر

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...

لائبریری

یونیورسٹی شروع ہوئے تھوڑے ہی دن ہوئے تھے۔ڈیپارٹمنٹ نیا تھا۔لوگ نئے شہر بھی تو نیا تھا۔وہ تو ایک دور دراز کے چھوٹے سے قصبے سے آئی تھی۔ہوسٹل بھی اچھا تھا۔بس ابھی اس کے ہوسٹل میں کوئی بھی کلاس فیلو نہیں تھی سب کے الگ الگ ہوسٹل تھے۔یہاں آ کر اپنے سارے کام تو خود کرنے آ گئے تھے۔۔ چند ہی ہفتے گزرے تھے کہ پہلی اسائمنٹ آ گئی اس نے نہایت جوش سے ٹاپک سنا لکھا اور ازبر کیا۔کلاس ختم ہوتے ہی وہ رجسٹر اٹھائے لائبریری کی طرف بڑھ گئی۔ ڈیپارٹمنٹ کی اپنی بھی لائبریری تھی مگر مرکزی لائبریری کی تو بات ہی کچھ اور تھی۔۔ وہ پندرہ منٹ کی واک کے بعد لائبریری پہنچی۔۔کشادہ لان ہری ہری گھاس اونچے اونچے سرو کے درخت۔۔وہ کافی پرسکون محسوس کرنے لگی۔اس نے تازی ہوا اپنے اندر اتاری تھی۔دماغ بھی تروتازہ ہو گا تھا۔ لائبریری کے اندر داخل ہوتے ہی ایک طرف استقبالیہ تھا جس پہ بیٹھا شخص کسی کتاب میں منہمک تھا۔۔۔تھوڑے فاصلے پہ کمپیوٹر لیب بنی ہوئی تھی۔آج ادھر بہت رش تھا۔کمپیوٹر لیب میں بھی طلبہ اپنی اسائمنٹ بنانے کے لیے آتے تھے ۔زیادہ تر وہ لوگ جو ہاسٹل میں تھے اور ان کے پاس کمپیوٹر لیپ ٹاپ یا نیٹ کی سہولت موجود نہ تھی۔اس نے شی...