Skip to main content

My writing journey

آمنہ آفتاب کی پوسٹ پڑھی مائیں سب سمجھ جاتی ہیں وہ جینئس ہوتی ہیں اور بچے لکھنے لکھانے کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہوتے۔۔ میرا بھی تجربہ کچھ ایسا ہے۔۔۔میں کالج میں تھی جب لکھنا شروع کیا۔شوق تھا،ولولہ تھا،نئے نئے خیال اور کہانیاں تھیں سب کچھ تھا مگر تجربہ اور ہمت کم تھی۔پہلا مرحلہ جو لکھنے کا تھا بہت مشکل سے طے ہوا کیونکہ تینوں بہنوں کا کمرہ مشترکہ تھا اور اکیلے ہونے کا سکون میسر نہ تھا اوپر سے میرے ابو ہمارے خاص طور سے میرے اوپر بہت نظر رکھتے تھے انہیں لگتا تھا یہ لڑکی کوئی بڑا کارنامہ کرے گی۔اوپر سے کچھ ایسا چھپ چھپا کے لکھنا انہیں مزید شک میں ڈال دیتا۔۔۔خیر اس کے بعد کسی طرح دو کہانیاں ڈائجسٹ میں بھجنے کا مرحلہ بھی طے کیا۔۔۔اور ماشااللہ ایک کہانی تو کئی مہینوں کے انتظار کے بعد کرن ڈائجسٹ میں چھپ گئی البتہ دوسری جوابی لفافحے میں واپس آگئی۔میں نے کبھی امی ابو کو نہیں بتایا کہ میں لکھنا چاہتی ہوں نہ ہی وہ کہانی دکھائی۔(فرضی نام سے چھپوائی تھی)یہ شاید کوئی 12 سال پرانی بات ہے۔میں پڑھتی رہی ماسٹرز کیا شادی ہوئی الحمد اللہ بیٹا ہوا مگر کچھ نہ لکھا دل ٹوٹا تھا حوصلہ نہیں تھا۔ناکامی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔ پھر ایک دن ہماری شدید لڑائی ہوئی(اس دن پتہ لگا لڑائی بھی ایک نعمت ہے وجہ تو مجھے یاد نہیں بس اتنا پتہ ہے کہ اس وقت مجھے اپنے میاں ایک دیو لگے اور اپنا آپ پری۔۔۔جو ایک دیو کے پاس قید ہو۔سو فٹ سے ایک کہانی دماغ میں آ کے وجی اور کاغذوں کی زینت بن گئی میں روتی رہی لکھتی رہی۔) دراصل سعودیہ میں سسرال میں رہنے کی وجہ سے کوئی میکہ نہیں رشتےدار نہیں دوست نہیں کوئی ہم زبان نہیں سو میں شدید ڈیریشن کا شکار رہتی اسی ڈپریشن میں میں نے لکھنا شروع کر دیا اپنے دل کی کہانی کاغذ پہ لکھ دی اس نے سن لی۔دن گزرتے گئے ایک دن الف کتاب کا ایڈ دیکھا ادھر کہانی بھیجی اور پاکستان میں میری بہن کو فون آ گیا ایڈیٹر کا بہت حوصلہ آفزائی کی۔اور میری پہلی کہانی ڈیجیٹل میگزین کی زینت بنی۔میاں پیدا ہی یہاں پہ ہوئے ہیں انہیں ادب سے لگاو نہیں۔شعر بھی سناو تو کہتے یہ فراز کون ہے؟اور میں سڑ کے کہتی میری پھپھی کا بیٹا(اصل میں ایک فراز ہے بھی میری پھپھی کا بیٹا😊) خیر اس کے بعد سے لکھنے کی راہیں کھل گئی میاں نے جب جب رات میں لکھتے دیکھا تو کچھ نہ بولے بس جو چھپتا ہے انہیں بھیج دیتی معلوم نہیں پڑھتے ہیں کے نہیں۔۔۔مگر الحمدللہ ایک خاموش میاں جو بغیر احساس دلائے آپ کی حوصلہ آفزائی کرے ایک نعمت ہے جو مجھے میسر ہے۔۔ الحمدللہ لکھنے کا سفر جاری ہے مجھے کسی انعام سے کوئی غرض نہیں۔۔۔بس میرا لکھنا صرف میرے نفس کی تسکین کا باعث ہے ۔۔۔میرے ڈپریشن کو نکالنے کا ایک ذریعہ ہے۔۔۔۔اللہ میری اس مقصد میں مدد فرمائے آمین سارہ عمر

Comments

Popular posts from this blog

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...