اگر میں اپنی زندگی کے ارواق کی طرف نظر اٹھاوں تو کچھ لوگ زندگی میں ایسے ضرور ہوتے ہیں جو بہت اہم ہوتے ہیں۔ہماری زندگی کا محور انکی ذات کے گرد گھومتا ہے۔جو چلے جائیں تو انکا خلا کبھی پر نہیں ہوتا۔۔
کچھ ایسا ہی معاملہ آج کل میرے ساتھ بھی ہے۔۔۔ساس بہو کا رشتہ ہمیشہ سے ہی کچھ متنازعہ رہا ہے خوش قسمت بہووں ہوتی ہیں جنھیں اچھی ساس ملیں جن میں سے ایک خوش قسمت میں بھی ہوں۔۔۔
میری ساس میری خالہ اور میری تائی بھی تھیں۔ان تین رشتوں کی وجہ سے وہ کبھی ساس نہیں بن سکیں نہ میں نے بہو بن کر دیکھایا۔آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو انکی یادیں اور باتیں ہر وقت ہمارا پیچھا کرتی ہیں۔۔
میری خالہ کو کوئی دس سال پہلے برین ہیمرج ہوا تھا جس کے بعد ڈاکٹر نے انہیں دماغ کی سرجری بتائی مگر ان کے تینوں بیٹوں نے فیصلہ کیا کہ وہ سرجری نہیں کروائیں گے کیونکہ اس میں بچنے کے چانس بہت کم تھے۔ان کے برین ہیمرج کے بعد سارا گھر ان کے بیٹوں اور چھوٹی بیٹی نے سنمبھالا۔میں ان کی تیسری اور چھوٹی بہو ہوں۔مجھے سعودیہ آئے ساڑھے تین سال ہوئے۔میرا انکا ساتھ بہت تھوڑے عرصے رہا۔وہ برین ہیمرج کے بعد کبھی صحیح سے چل نہیں سکتی تھیں باہر وہیل چئیر پہ ہی جاتی۔انکا بی پی بھی ہائی رہتا تبھی کھانا بھی پرہیزی کھاتیں۔الحمد اللہ اس کے باوجود وہ مسکراتی رہتیں۔اکثر لوگوں کو ان کی باتیں سمجھ نہیں آتیں تھیں کیونکہ کبھی حال میں ماضی کی باتیں جوڑ دیتیں کبھی ایک ہی قصے کو دس بار دہراتیں کبھی بولتے بولتے لفظ منہ سے ادا نہ ہوتے۔ہمارے گھر میں ماشااللہ دس بچے ہیں (میرے تین ہی ہیں الحمداللہ)وہ ہر وقت بچوں میں کھانے پینے کی چیزیں بانٹتیں ہر عید پہ ہدیے دیتیں عیدی دیتیں ٹافیاں بانٹتیں۔میرا ڈیڑھ سال کا بیٹا انکا لاڈلا تھا وہ جب ان کے پاس جاتا تو اسے بسکٹ دے دیتیں اس نے بہت جلد دادی کہنا سیکھ لیا۔وہ اس سے بہت پیار کرتیں۔
پچھلے ہفتے اچانک ان کی ٹانگ نے کام کرنا چھوڑ دیا۔اللہ کی طرف سے ایسا ہوا کہ میرے میاں ہی آفس کی لیے نکل رہے تھے مگر ان کی حالت دیکھ کر رک گئے۔وہ ہل نہیں سکتیں تھیں اس وقت۔ان کے کپڑے بھی میں نے میاں کے ساتھ بدلائے پیمپر لگایا۔کافی عرصے سے پیمپر کا استعمال کر رہی تھیں کیونکہ مثانہ ٹھیک نہیں تھا۔انکے بال کنگی کئے(انہیں کنگی میری جٹھانی کرتی تھیں اکثر مگر اس دن جٹھانی انکا کوئی کام نہ کر سکیں)انکو برقعہ پہنا کے وہیل چیر پہ بیٹھا کے گاڑی تک لے کر گئے۔آخری بار جب میں ان کے پاس آئی تو وہ کچھ پریشان تھیں ۔میں بولی خالہ پریشان نہیں ہونا کیونکہ میں جانتی تھی ٹیسٹ ہوں گے تو ڈر جائیں گی۔وہ آگے سے ہنسنے لگیں میرے میاں بھی کہتے ٹیسٹ کروا کے دوائیاں لے کر آ جاوں گا۔مگر پہلے ہسپتال گئے تو ڈاکٹر نہیں ملا دوسرے ہسپتال ریفر کیا دوسرے میں ڈاکٹر ملا تو کہنے لگا کہ انکی ٹانگ میں خون جم چکا ہے جو درد کر رہا ہے سرجری ہو گی تیسرے ہسپتال بھیج دیا وہاں سرجن آیا اور کہنے لگا کہ ٹانگ ضائع ہو جائے گی فورا آپریشن کروائیں۔اینستھیزیا دینے سے پہلے تک وہ بول رہیں تھیں۔دماغ کام کر رہا تھا۔ہم بہت پریشان تھے مگر دو گھنٹے میں وہ باہر آ گئیں تو سکھ کا سانس لیا میرے میاں اکیس گھنٹے سے جاگ رہے تھے سو گھر آ گئے۔۔وہ آئی سی یو میں تھیں کسی کو ملنے کی اجازت نہ تھی ٹھیک پابچ گھنٹے بعد ہسپتال سے فون آیا کہ انکو ہارٹ اٹیک ہو گیا ہے اور وینٹیلیٹر پہ شفٹ کر دیا ہے۔یہ وقت بہت مشکل تھا کچھ دیر بعد پتہ لگا گردے بھی فیل ہو گئے ہیں تو ڈایلیسس شروع کر دیا۔جب میں نے ان کو دیکھا تو ان کا جسم برف کی طرح سرد تھا۔میں اور میری نند ان کے پاس کھڑے انہیں آواز دیتے۔ان کی آنکھوں کی پتلیوں کے گرد میں نے برف سی جمتی دیکھی تو مجھے احساس ہوا کہ موت کتنی ظالم ہوتی ہے کتنی خاموشی سے کوئی موت کے منہ میں چلا جاتا ہے اور ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے سوائے دعا کے۔پہلے یہی دعا تھی کہ اللہ انہیں صحت دے مگر ان کی اذیت ناک حالت دیکھ کر ہم سب انکی آسانی کی دعا مانگنے لگے انکے بیٹے بیٹی بہوئیں داماد شوہر سب انکے پاس قرآن پڑھتے رہے۔ان کی دل کی دھڑکن ڈوبتی رہی اور جمعے کی رات دو بجے وہ ہم سب کو اکیلا چھوڑ کر چلی گئیں۔
انا اللہ و انا علیہ راجعون۔۔
الحمد اللہ ریاض کی سب سے بڑی مسجد میں انکا جنازہ ہوا۔اللہ انکی آگے کی مشکلیں آسان کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے آمین۔۔۔
میرے ڈیڑھ سال کا بیٹا ایک ہفتے سے رو رہا ہے۔وہ صرف ایک لفظ بولتا ہے دادی۔۔۔وہ کہتا دادی گم تو ہم اداس ہو جاتے وہ ان کے کمرے میں انہیں ڈھونڈتا ہے نانی کو فون میں دیکھ کر دادی دادی کرتا ہے وہ بول تو نہیں سکتا مگر اس کو پیار کرنے والی دادی چلی گئیں تو وہ بری طرح انہیں یاد کر رہا۔۔کہ اب کون اسے پیار سے بسکٹ دے گا۔؟
دعا کیجئے گا کہ ہم سب گھر والوں کو اور میرے بیٹے کو بھی صبر آ جائے آمین۔
This is the blog of SARAH OMER A new writer from Riyadh KSA. Writing for her passion to write. Writing to make this world a peaceful place to live. Hope you will enjoy her writings
Comments
Post a Comment