Skip to main content

وطن کہانی

شہریار آج ہی لندن سے واپس آیا تھا۔کراچی جیسے بڑے  شاید شہریار چاچو زیادہ عقلمند ہیں تبھی سب ان کی سن رہے ہیں۔ چاچو لندن میں صفائی کون کرتا ہے جو اتنا صاف رہتا ہے؟اس نے کافی سوچ کے پوچھا۔ ارے وہاں بھی صفائی والے ہوتے ہیں۔۔شہریار بولا۔ تو چاچو انہیں ادھر لے آئیں نا تاکہ پاکستان بھی صاف ہو جائے وہ معصومیت سے بولا تو سب ہنس پڑے۔۔۔ ارے چھوٹو ادھر خود صفائی رکھنی پڑتی اتنا جرمانہ ہوتا ہے کہ کوڑا پھیکنا تو دور کی بات کوئی اشارہ بھی نہیں کاٹتا جگہ جگہ تو کیمرے لگے ہوتے ہیں اور پولیس تو اتنی تیز ہے کہ لگتا ہر اینٹ کے نیچے پولیس چھپی ہوئی ہے ادھر کچھ کرو نہیں ادھر سر پہ۔۔۔ مومی سر ہلا کر رہ گیا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ دن بعد ہی سارا خاندان سمندر پہ پکنک کرنے گیا تھا۔وہ ہاکس بے پہنچے تو شہریار نے منہ بنایا تھا کتنا گندا ہو گیا ہے اب یہ ایریا پہلے تو ایسا نہیں تھا۔دیکھو اس ہٹ کے پاس کتنا کوڑا پڑا ہے۔واقعی وہاں کافی بوتلیں ٹن ڈبے اور بچا کچا کھانا پڑا تھا۔صفائی کا کوئی انتظام نہ تھا ورنہ جگہ اچھی تھی۔۔۔ پہلے تو ساری زندگی ادھر ہی گزری تھی مگر لندن سے آنے کے بعد تو کراچی کی ہر چیز میں کیڑے نظر آ رہے تھے۔ سارا دن پانی میں سب نے خوب موج مستی کی تھی شام ڈھلے جب جانے لگے تو بوتلوں جوس ڈبوں اور ریپرز کا کچرا اکھٹا ہو گیا تھا جو اڑ کر سمندر تک جانے لگا۔ مومی نے یہ سب شوپر میں ڈالنا چاہا۔۔ ارے چھوٹو آ جاو ہم جا رہے شہریار نے آواز لگائی ۔۔ چاچو یہ کچرا میں اپنے ساتھ لے کر جاوں گا دیکھیں یہ سمندر کو گندا کر رہا ہے۔۔۔مومی وہیں سے اونچی آواز میں بولا۔ ارے پاگل ہوا ہے کیا ؟؟یہ لندن ہے جو کوئی جرمانہ کرے گا یا ادھر کیمرہ لگا ہے چلو دیر ہو رہی۔۔۔شہریار نے لاپرواہی سے جواب دیا جب کہ وہ بچہ اپنی جگہ سن ہو کر رہ گیا۔۔۔ کیا ہم ایسی قوم ہیں جو صرف کیمرے  یا جرمانے کو دیکھ کر صفائی کریں؟؟؟کیا اللہ ہمیں ہر وقت دیکھ نہیں رہا؟؟جب کچرا ڈالنے میں حصے دار بن سکتے ہیں تو کچرا اٹھانے میں کیوں نہیں۔۔۔ مومی ننھے ننھے ہاتھوں سے پھر سے شوپر بھرنے لگا ۔۔ بعض لوگ جتنے بھی تعلیم یافتہ ہو جائیں ان کی سوچ بدبودار ہی رہتی ہے۔۔۔  سارہ عمر

Comments

Popular posts from this blog

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...