Skip to main content

میری ماں میری جنت

میری ماں میری جنت
سارا دن میں ان بچوں کے ساتھ خوار ہوتی رہتی ہوں مجال ہے کہ کوئی میرا ہاتھ بٹائے۔۔۔
ثانیہ خوب غصے سے چلا رہی تھی۔غصہ تو کافی دن کا چڑھا ہوا تھا اس لیے بول بول کر ہی اپنا غصہ نکال رہی تھی۔
ثانیہ کی شادی کو پانچ سال ہوئے تھے اور اس کے چار بچے تھے۔ان دونوں کی پسند کی شادی تھی اور دونوں کو بچوں کا بہت شوق تھا مگر اوپر تلے بچوں نے اسے نہایت چڑچڑا بنا دیا تھا۔پورا دن وہ کام میں لگی رہتی کھانا پکانا بچے سنبھالنا کپڑے دھونا صرف صفائی کے لیے ماسی آتی جو ایسی صفائی کرتی کہ گزارا ہی تھی۔میاں صاحب کو تو فضول کا خرچہ لگتی۔مگر ثانیہ کے لیے غنیمت تھی کچھ باتیں کر لیتی تو دل ہلکا ہو جاتا۔وہ بھی بچوں کے کچھ کام کر لیتی۔مگر دو دن سے ماسی بیمار تھی اور چھٹی پہ تھی۔گھر پھیلا ہوا تھا۔میاں صاحب کافی صفائی پسند واقع ہوئے تھے اور خیر سے اس کی ساس بھی ساتھ تھیں جو بوڑھی تھیں اور انکے کام بھی اس کے ذمے تھے۔
آج کچھ مہمانوں نے آنا تھا اور وہ کبھی کچن سے صفائی کرتی کبھی بچوں کو کھانا دیتی۔کبھی ڈسٹنگ کرتی چھوڑ کر بچے کا پیمپر بدلنے لگ جاتی۔میٹھا بنا کر رکھ لیا تھا۔برتن بھی دھو کے صاف کر لیئے تھے۔دو سالن ابھی بنانے تھےچاروں بچوں کو نہا کر اس نے کمرے میں بیٹھایا۔
۔ابھی باتھ روم کچن دھو کر وہ بیٹھی تھی۔سانس پھول رہا تھا صبح سے بغیر ناشتہ کیے وہ بس کاموں میں لگی ہوئی تھی۔ماسی کی چھٹی کی وجہ سے بھی غصہ آ رہا تھا۔پنکھے کی ہوا نے اسے ٹھنڈا کیا تھا جب اسکا چار سالہ بیٹا چلاتا ہوا آیا۔۔۔
کیا ہوا؟؟؟
وہ بوکھلائی تھی۔
ماما اریان نے بوتل تور دی۔۔
ثانیہ بھاگ کر کچن میں گئی تو اسکا ایک سال کا بیٹا کچن میں ننگے پیر کھڑا تھا اور دوائی کی بوتل فرش پہ چکنا چور ہوئی پڑی تھی۔یقینا بڑے بیٹے نے پانی پینے کے لیے فریج کھولا تھا۔تبھی اس نے بوتل اٹھا لی۔
چم چم کرتے فرش کا حال دیکھ کر ثانیہ کا پارہ ہائی ہو گیا تھا اس نے او دیکھا نہ تاو ایک تھپڑ کھینچ کے اریان کو مارا اور کچن کے باہر پٹخا۔۔۔وہ بھاں بھاں کر کے رو رہا تھا۔۔۔
وہ پھر کچن دھونے لگی اگر کانچ چبھ جاتا تو؟؟؟
اریان نے دو ماہ پہلے چلنا شروع کیا تھا۔
وہ بڑبڑاتی ہوئی کچن دھو کر باہر نکلی تو تینوں بچے اپنی زبان میں اسے چپ کروا رہے تھے مگر اریان بھاں بھاں ہی کر رہا تھا۔اس نے کچن سے نکلی ثانیہ کو دیکھا تو قدم قدم چلتا اس تک آیا اور ماما کہہ کر اس سے لپٹ گیا۔اس کا دل بھر آیا تھا اس نے ایک نظر ان چاروں کو دیکھا اور اپنی باہوں میں بھر لیا۔۔۔
بچے کتنے سادے ہوتے ہیں مار کھا کے بھی اپنی ماں کے پاس ہی آتے ہیں ان کی ماں انکی جنت جو ہے۔۔۔۔
اس نے روتے ہوئے اریان کی پیشانی چومی تو بچوں نے ننھے ننھے ہاتھوں سے ماما کے آنسو پونچھ دئیے۔۔۔
سارہ عمر

https://www.alifkitab.com/read-book/5b5bb1479860b502b69e341d


Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...

لائبریری

یونیورسٹی شروع ہوئے تھوڑے ہی دن ہوئے تھے۔ڈیپارٹمنٹ نیا تھا۔لوگ نئے شہر بھی تو نیا تھا۔وہ تو ایک دور دراز کے چھوٹے سے قصبے سے آئی تھی۔ہوسٹل بھی اچھا تھا۔بس ابھی اس کے ہوسٹل میں کوئی بھی کلاس فیلو نہیں تھی سب کے الگ الگ ہوسٹل تھے۔یہاں آ کر اپنے سارے کام تو خود کرنے آ گئے تھے۔۔ چند ہی ہفتے گزرے تھے کہ پہلی اسائمنٹ آ گئی اس نے نہایت جوش سے ٹاپک سنا لکھا اور ازبر کیا۔کلاس ختم ہوتے ہی وہ رجسٹر اٹھائے لائبریری کی طرف بڑھ گئی۔ ڈیپارٹمنٹ کی اپنی بھی لائبریری تھی مگر مرکزی لائبریری کی تو بات ہی کچھ اور تھی۔۔ وہ پندرہ منٹ کی واک کے بعد لائبریری پہنچی۔۔کشادہ لان ہری ہری گھاس اونچے اونچے سرو کے درخت۔۔وہ کافی پرسکون محسوس کرنے لگی۔اس نے تازی ہوا اپنے اندر اتاری تھی۔دماغ بھی تروتازہ ہو گا تھا۔ لائبریری کے اندر داخل ہوتے ہی ایک طرف استقبالیہ تھا جس پہ بیٹھا شخص کسی کتاب میں منہمک تھا۔۔۔تھوڑے فاصلے پہ کمپیوٹر لیب بنی ہوئی تھی۔آج ادھر بہت رش تھا۔کمپیوٹر لیب میں بھی طلبہ اپنی اسائمنٹ بنانے کے لیے آتے تھے ۔زیادہ تر وہ لوگ جو ہاسٹل میں تھے اور ان کے پاس کمپیوٹر لیپ ٹاپ یا نیٹ کی سہولت موجود نہ تھی۔اس نے شی...