Skip to main content

میرے قاتل

وہ کافی دیر سے پارک میں بیٹھا تھا یوں ہی بے مقصد۔۔۔مگر اس کے پیچھے بھی ایک مقصد تھا۔۔۔دیکھنے والوں کو لگتا کہ وہ اپنا وقت ضائع کر رہا تھا۔۔۔ پارک کے ایک پرسکون کونے میں بیٹھا وہ بہت غور سے وہاں کھیلتے بچوں کو دیکھ رہا تھا مگر کسی کو نہیں پتہ تھا کہ وہ بچوں کو نہیں کم عمر بچیوں کو دیکھ رہا تھا جیسے کوئی شکاری کسی شکار کو دیکھتا ہے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کافی دیر سے بازار میں بے مقصد ٹہل رہا تھا۔وہ نیا نیا ادھر آیا تھا اس لیے اسے ادھر کے رہن سہن کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔ بازار میں چہل پہل تھی وہ حیران تھا کہ سب عورتیں تو برقعوں میں پھر رہی ہیں مگر چھوٹی بچیاں تو بس لباس کا تکلف ہی کیے ہیں۔۔۔بغیر آستین کے کپڑے،کھلے گلے شوٹس،ٹائٹ پنٹس۔۔یہ لوگ اس لباس کے عادی تھے تبھی انہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔۔۔ وہ بہت دیر سے اس بچی کو دیکھ رہا تھا جس کی ماں کپڑوں کی دکان میں کھڑی تھی اور وہ ساتھ والی دکان کے آگے کھڑی کھلونوں میں مگن تھی۔۔۔ وہ ادھر ادھر دیکھتا آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا شکاری پہنچ رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پانچ چھ سال کی لڑکی تھی جس کے ماں باپ کھانا کھا رہے تھے اور وہ جھولا جھول رہی تھی۔۔۔وہ اس کے پاس آیا تھا اور اسے ایک چاکلیٹ دی تھی۔۔۔وہ اسے باتوں میں لگا کے اسی پرسکون گوشے کی طرف لے آیا تھا۔۔۔رات کا وقت تھا اس کے والدین ابھی اسے جاتا دیکھ نہ پائے تھے۔۔اسلم نے تیزی سے ایک رومال اس کی ناک پہ رکھا اور بے ہوش بچی کو ایسے گود میں اٹھایا کہ لگتا تھا سو رہی ہے وہ دوسرے دروازے سے باہر نکل آیا تھا۔۔۔ آگے کا کام تو بہت آسان تھا۔۔۔ہر روز ایسے واقعات ہوتے ہیں بھلا کون پکڑا جاتا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے آہستہ آہستہ قدم بڑھائے وہ اس بچی کے سر پر پہنچ گیا تھا۔۔۔وہ شکل سے مصری لگ رہی ادھر ہر ملک کے ہی لوگ تھے۔۔۔اسے لگا کہ وہ مصری بچی ہے۔۔وہ سوچنے لگا کہ اس سے کس طرح بات کرے کہ ایک دم اس کے کندھے پہ کسی نے ہاتھ رکھا۔۔۔ وہ پیچھے مڑا اس کا روم میٹ سامنے کھڑا تھا۔(وہ اس کے ساتھ کمرے میں رہتا تھا۔جیسے باہر کے ملکوں میں لوگ کرایہ بچانے کے لیے کمرے شئیر کرتے ہیں)اطراف میں بازار بھی بند ہونے لگا تھا۔۔اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔ چلو اسلم۔۔۔ کدھر جانا ہے؟اسلم حیران ہوا تھا۔۔ دیرہ(ریاض کی بڑی مسجد جس کا صحن بہت بڑا ہے اور بازار کے ساتھ واقع ہے) کی مسجد میں سب جمع ہو رہے۔۔۔وہ اس کا ہاتھ کھینچتا اسے مسجد کی طرف لے کر جا رہا تھا۔۔۔ مگر کیوں؟؟؟وہ حیران ہوا تھا۔۔ خودی چل کر دیکھنا۔۔۔ وہ تیزی تیزی چلتے جا رہے تھے سب لوگوں کا رخ اس طرف تھا۔ مسجد کے صحن میں جمع غفیر اکھٹا تھا۔۔وہ دونوں بھی رک گئے۔۔۔ اسلم نے آگے ہو کر دیکھا۔۔۔ ایک مرد جس کے منہ پہ کالا شاپر چڑھا ہوا تھا ہاتھ باندھے زمین پہ بیٹھا تھا جبکہ ایک جلاد تلوار لیے اس کے سر پہ کھڑا تھا۔۔۔ اسلم نے خوف سے جھرجھری لی ۔۔ یہ کون ہے؟؟ یہ یمنی باشندہ ہے اس نے ایک سعودی عورت کو زیادتی کے بعد قتل کیا تھا اس کا جرم ثابت ہو گیا ہے۔۔۔ جلاد نے عربی میں کچھ کہا تھا مجمع میں اللہ اکبر کی آوازیں گونجی تھیں۔۔۔ جلاد نے تلوار بلند کی۔۔ اسلم کی آنکھوں تلے اندھیرا آ گیا۔۔ کچھ چیخوں کی آوازیں آئیں تھیں۔۔۔اس کا سر ایک ہی وار میں تن سے جدا ہو گیا تھا۔۔۔اسلم نے آسمان کی طرف دیکھا اورگر کر بے ہوش ہو گیا تھا۔۔۔ اب باقی زندگی وہ کسی بچی کو بری نظر سے دیکھ نہ پائے گا۔ سارہ عمر ۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...