#عیدی کی قربانی۔۔۔
ماما میری عیدی دیں۔ریان ضد کرنے لگا تو وہ اپنے ماضی میں پہنچ گئی۔
امی امی عیدی دے دیں۔رنگ برنگے کپڑے پہنے وہ عید کی نماز پڑھ کر آئی تھی۔کندھے پہ چھوٹا سا پرس جھول رہا تھا۔سویاں تو بنانے دو بعد میں دوں گی امی ٹال دیتی تھیں اور بعد کبھی نہیں آتی تھی۔ابو تو سب سے پہلے دے دیتے لیکن کبھی جو انہیں ٹوٹے پیسے چائیے ہوتے تو وہ انہی سے مانگ لیتے۔کتنے سال تو سمجھ میں ہی نہیں آئی تھی کہ رات ہوتے ہی یہ عیدی کہاں چلی جاتی ہے؟کبھی کبھی تو وہ عیدی کا پرس تکیے کے نیچے چھپا دیتی مگر ظالم چور کو سب جگہیں معلوم تھیں۔تھوڑی بڑی ہوئی تو بڑی بہن نے حساب رکھنا شروع کر دیا تھا وہ بہت سمجھ دار تبھی چھوٹے بہن بھائیوں کی عیدی لے کے حساب سے رکھتی کہ تایا چاچا اور پھوپھو کی دی ہوئی عیدی کس ترتیب سے ماموں اور خالہ کے بچوں میں تقسیم کرنی ہے۔تب اسے پتہ لگا تھا امی ابو کے پاس عیدی کے الگ سے پیسے نہیں ہوتے تبھی بڑی آپی انکی عیدی جمع کر کے سب تقسیم کے بعد بچنے والے پیسے امی کو دے دیتی بعض اوقات تو عیدی کے وہ نئے نوٹ اگلے سال کی عید کے لیے رکھ لیتی۔اب تو دل بھی نہیں کرتا تھا کوئی عیدی دے کونسا اس کو مل جانی تھی۔مگر اس ساری صورتحال سے وہ جان گئی تھی کہ بڑی عید قربانی کی عید ہوتی ہے اور چھوٹی عید عیدی کی قربانی کی۔
بچے سارا دن غبارے خریدتے اور ٹافیاں کھاتے مگر وہ ان کو دیکھ کے رہ جاتی۔آپی نے بتایا تو تھا پیسے ضائع کرنے سے بہتر ہے کسی کی مدد کرو اور ہم امی ابو کی مدد ہی تو کر رہے ہیں۔
ماما عیدی۔
ریان اسے حال میں واپس لے آیا تھا۔
ہاں دیتی ہوں وہ ہلکے سے مسکرائی۔
ریان کو عیدی دی تو وہ فورا گننے لگا واہ پورے ہزار روپے ہو گئے۔
ریان آپ ان پیسوں کا کیا کرو گے؟وہ ناچاہتے ہوئے پوچھ بیٹھی۔
ماما میں بہت غبارے اور ڈھیر ساری ٹافیاں خریدوں گا۔۔
ماضی کے منظر پھر سے آنکھوں کے سامنے آئے تھے۔۔
نہیں بیٹے یہ تو پیسوں کا ضیاں ہو گا آپ کو چائیے اس پیسے سے کسی کی مدد کریں۔کتنے بچے عید پہ عیدی کی خوشی سے محروم ہوتے ہیں ہمیں ان کی مدد کرنی چائیے۔ان کی جو ہم سے مانگتے نہیں سوال نہیں کرتے۔۔۔
ریان نے کچھ سوچا اور دھیرے سے بولا۔۔
ماما جب میں نماز پڑھنے گیا تھا ناں تو ادھر ہمارے مولوی صاحب کا بیٹا بھی آیا تھا میں مولوی صاحب کو سلام کرنے گیا تو انکا بیٹا چپکے سے باہر چلا گیا۔۔۔
ارے کیوں؟وہ حیران ہوئی۔
ماما اس نے وہی پرانے کپڑے پہنے تھے جس پہ سیاہی کے دھبے تھے جب میں باہر گیا تو وہ کونے میں کھڑا رو رہا تھا۔ماما ان پیسوں سے ہم اس کو کپڑے خرید کے دے دیں۔۔۔اس نے سر اٹھا کر ماما کو دیکھا تو وہ خوشی سے سر ہلانے لگی۔
آج اس کے بیٹے کو بھی عیدی کی قربانی کا اصل مقصد سمجھ آ جائے گا۔
سارہ عمر ۔
This is the blog of SARAH OMER A new writer from Riyadh KSA. Writing for her passion to write. Writing to make this world a peaceful place to live. Hope you will enjoy her writings
Comments
Post a Comment