Skip to main content

جاب

جاب تم جاب کیوں نہیں کرتی؟گھر کیوں بیٹھی ہو؟جب پتہ بھی ہے کہ گھر کے حالات اچھے نہیں ہیں۔بڑی بی نے اسے نصیحت کرتے ہوئے کہا۔ "آنٹی حالات تو ایسے ہی ہیں ہمیشہ سے سادگی سے جواب آیا تھا۔ " پھر بھی گھر کے حالات کی بہتری کے لئے ہی کر لو جاب۔"دوبارہ سے مشورہ آیا تھا۔ انشا اللہ ہو ہی جائیں گے حالات بھی ٹھیک دعا تو کرتے ہیں۔اس نے متانت سے جواب دیا۔ دعا کے ساتھ دوا بھی تو کرنی پڑتی ہے ناں! بڑی بی جوش سے بولیں۔آج وہ بہت موڈ میں تھیں۔ جی بالکل!امید تو کبھی نہیں چھوڑی۔"وہ اب بھی دیھما سا بولی۔ جب پتہ ہے میاں بے روزگار ہے تو کم از کم بیوی ہی ہاتھ بٹا دے ۔کیا حرج ہے بھلا؟" نصیحت کی پٹائی میں سے ایک کے بعد ایک نصیحت حاضر تھی۔ اگر میاں بے روزگار ہے تو یہ مطلب تو نہیں کہ عورت اپنے گھر اپنی چادر چاردیواری کو چھوڑ دے۔اس نے کچھ سمجھانے کی کوشش کی تھی ۔ دیکھو!تمھارے بھلے کی بات ہے ایسے تو گزارا نہیں ہوتا ناں! آنٹی عورت کے گھر سے نکلنے بغیر بھی گزارا ہو سکتا ہے ۔اس نے پھر سے انکا مشورہ ماننے سے انکار کیا تھا۔ تمھیں بھلا اتنا پڑھنے کا کیا فائدہ ہوا؟جب گھر میں بیٹھ کے چولہا ہانڈی ہی کرنی تھی؟بڑی بی جلال میں آ گئیں تھیں۔ آنٹی یہ چولہا ہانڈی تو عورت کا مقدر ہے بھلا جو گھر سے باہر نکلتی ہے سارا دن کھپ کے آتی ہے کیا وہ چولہا ہانڈی نہیں کرتی؟وہ لاجواب ہوئیں تھیں۔ بھئی تمھیں تو سمجھانے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے ۔بس آج کل تو نیکی کا زمانہ ہی نہیں ۔بچے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں عقل ہی نہیں ۔دھوپ میں بال سفید کیے ہیں۔بڑی بی نے اپنا شٹل کال برقع سر پہ رکھ کر باہر نکلنے میں ہی عافیت جانی تھی۔ "آنٹی!"۔۔۔۔اس نے پکارا تو اسکی آنکھوں میں آنسو تھے۔ میری امی کی جاب نے ہم سے ماں کی ممتا چھین لی اور میری جاب نے مجھ سے والدین کی خدمت کا وقت چھین لیا۔ "کیا؟؟؟؟"۔۔۔۔۔۔۔ وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگیں ۔ "جی جب میں چھوٹی تھی تب سے بڑے ہونے تک میری امی گورنمنٹ جاب کرتیں رہیں ساری زندگی دوسروں کے بچوں کو پڑھا پڑھا کے ڈاکٹر انجینئر بنوا تی رہیں مگر اپنے بچوں کے لئے انکے پاس وقت نہ تھا۔اسکول میں بچوں کے ساتھ دماغ کھپا کر آتیں تو گھر آ کر ہانڈی روٹی میاں بچوں ،ساس سسر کے کام۔ایک چھٹیلوگوں کے آنے جانے ملنے ملانے یا کپڑے دھونے میں نکل جاتی۔بڑی ہوئی تو پاس کے پرائیویٹ سکول میں نوکری مل گئی۔ جو وقت میں نے اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کرنی تھی وہ سارا وقت میں نے جاب کو دے دیا۔بچوں کو پڑھا پڑھا کے گھر آو تب بھی آدھا کام گھر لاو۔ کبھی کوئی چارٹ بنانا ہے،کبھی کاپیاں چیک کرنی ہیں،کبھی رجسٹر مکمل کرنے ہیں تو کبھی کچھ اور کام۔ آج شادی ہو کر سسرال آئی ہوں تب بھی میاں اور ساس سسر کو چھوڑ کے کام پہ نکل جاوں؟تاکہ میرے سر پہ گھر اور باہر کی دھری ذمہ داری پڑ جائے ۔بتائے کہ کیا میرا رویہ غلط ہے کہ صحیح ہے؟ اس نے آنسوؤں کی جھڑی میں بات مکمل کی اور بڑی بی کو دیکھا۔ انہوں نے خاموشی سے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا اور اسے اپنے گلے سے لگا لیا ۔ ہاں بیٹی تو سچ کہتی ہے اصل جاب تو یہی ہے "اپنا گھر اور بچے"۔۔۔ تحریر سارہ عمر .

Comments

Popular posts from this blog

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...