یہ چار سال پہلے کی بات ہے جب میں وزٹ ویزے پہ سعودیہ آئی تھی۔میں اور میری جٹھانی ساس سسر کے ساتھ جس گھر میں رہتے تھے وہ چوتھی منزل پہ تھا۔میں نے کبھی اپنے گھر میں ویکیوم کلینر نہیں استعمال کیا تھا کیونکہ صفائی کے لیے کام والی تھی۔اب جب ادھر پہلی بار صفائی کی تو ویکیوم بھی صاف کرنا تھا جو کہ مجھے نہیں کرنا آتا تھا۔میں اپنی جٹھانی کے پاس گئی کہ مجھے اسے صاف کرنا سیکھا دیں۔اس وقت میرے بڑے جیٹھ جو الگ گھر میں رہتے تھے ساس سسر سے ملنے آئے ہوئے تھے اسی وقت گھر سے نیچے اترے تھے۔میری جٹھانی مجھے ویکیوم صاف کرنے کا طریقہ بتانے باہر گیلری میں لے گئی اور کہنے لگی اسے کھول کر ایسے جھاڑ دیتے ہیں۔نیچے گاڑیوں کی پارکنگ تھی مگر دن میں عموما خالی ہوتی تھی۔اس نے سارا کوڑا نیچے جھاڑ دیا۔میرے دل میں خیال آیا دیکھوں تو کدھر گرا ہے مگر نیچے دیکھ کے میری ہائے نکل گئی جس پہ جٹھانی نے بھی نیچے دیکھا تو نیچے ہمارے بڑے جیٹھ غصے سے اوپر دیکھ رہے تھے کیونکہ ان کے سفید کپڑوں پہ ہم نے کوڑا پھنک دیا تھا۔اوپر سے میری جٹھانی نے پریشانی میں ویکیوم کی جالی بھی ہاتھ سے چھوڑ دی جو بڑی سی گول سی تھی اور سیدھی جا کے جیٹھ کے سر پہ لگی۔اب ہم ہنس بھی رہے تھے اور ڈر بھی رہے تھے۔
بیچارے جیٹھ صاحب واپس اوپر آئے اور بولے کہ ابھی میری جگہ کوئی سعودی آدمی ہوتا تو پرچہ کٹاتا تم دونوں کے خلاف میری بھابھیوں کے کام دیکھو۔اس دن کے بعد سے آج تک میں نے کبھی ویکیوم صاف نہیں کیا۔ہمیشہ میاں سے کرواتی ہوں اور جب یہ بات یاد آتی ہے بے اختیار بہت ہنسی آتی ہے۔
سارہ عمر
This is the blog of SARAH OMER A new writer from Riyadh KSA. Writing for her passion to write. Writing to make this world a peaceful place to live. Hope you will enjoy her writings
Comments
Post a Comment