درد
کرنا کیا ہے آپ نے پیسوں کا؟۔تیمور نے غصے سے گرم روٹی کا نوالہ واپس رکھ دیا۔والد کی وفات کے بعد وہی گھر کا خرچہ اٹھا رہا تھا۔آج بھی اماں نے پیسوں کا تقاضا کیا تو اسکا پارہ چڑھ گیا تھا۔بوڑھی ماں نے کانپتے ہوئے اپنی اولاد کا چہرہ دیکھا۔کاش ایک لمحے کے لیے وہ اس درد کو محسوس کر سکے جو اس نے اسکی پیدائش کے وقت جھیلا تھا۔
سارہ عمر ۔
This is the blog of SARAH OMER A new writer from Riyadh KSA. Writing for her passion to write. Writing to make this world a peaceful place to live. Hope you will enjoy her writings
Comments
Post a Comment