کتنی خوبصورت جگہ ہے.. میں جب پہلی بار ناران گئی تھی تو بس یہی حالت تھی. اونچے پہاڑ، خوبصورت وادیاں، آبشار، سرسبز درخت.. بس دل کرتا ہے دیکھتے ہی رہو..
جھیل سیف الملوک تو قدرتی حسن کا مجموعہ ہے. اسے دیکھ کر کوئی خود پہ اختیار نہ رکھ سکے. سارا وقت موبائیل سے تصویریں لینے میں گزرا اور میرے میاں صرف ان مناظر کو خود میں جذب کرتے رہے.
کبھی کیمرے کی آنکھ سے باہر دیکھا ہے یہ دنیا بہت خوبصورت ہے...
گھر آنے پہ انہوں نے کہا تھا. تب سے آج تک سارا دھیان ان لمحوں سے لطف انداز ہونے میں گزرتا ہے جو بھی کسی خوبصورت جگہ گزاریں..
خیالِ یار (افسانہ) سارہ عمر ۔ ہم سفر من پسند ہو تو اس کے سنگ ہر سفر حسین اور خوشگوار لگتا ہے۔محبوب کی محبت بھری اک نگاہ ہی دن بھر کی سب تھکان اتار دیتی ہے۔موسموں کا بدلنا،کونپلوں کا کھلنا،ہر رت،ہر برکھا،اس کی سنگیت میں مکمل لگتی ہے جیسے کوئی وجود صدیوں سے ادھورا ہو اور کسی کا ساتھ جگسا پزل کے ٹکڑے کی طرح اسے مکمل کر دے۔ عدیل کی سنگت نے بھی اس کے لیے ہر دن عید اور ہر رات شب برات بنا دی تھی۔وہ اس وقت لانگ ڈائیو کے لیے نکلے ہوئے تھے۔طویل تارکول کی سڑک جس کے اطراف میں تاحد نگاہ سرسبز کھیت تھے۔دل کا موسم رنگین تھا سو اسے باہر کے موسم سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا تھا۔ گاڑی کا فرنٹ مرر ٹھیک کرتے عدیل کی مسکراتی نگاہیں بار بار وقفے وقفے سے نائلہ کے رخ روشن کا طواف کرتیں۔وہ کبھی شرمائی شرمائی نظروں سے اسے دیکھتی تو کبھی رخ پھیر کر نظروں سے اوجھل ہوتے نظاروں پہ دھیان دینے کی کوشش کرتی۔ ان کی محویت کو فون کال کی گھنٹی نے توڑ دیا تھا۔عدیل کا موبائل فون نائلہ نے فوراً ہاتھ بڑھا کر اٹھایا لیکن کال کٹ چکی تھی۔شاید مس کال تھی۔عدیل کے چہرے پہ اب مسکراہٹ کی جگہ سنجیدگی نے لے لی تھی۔ ”مجھ پہ ...

Comments
Post a Comment