کتنی خوبصورت جگہ ہے.. میں جب پہلی بار ناران گئی تھی تو بس یہی حالت تھی. اونچے پہاڑ، خوبصورت وادیاں، آبشار، سرسبز درخت.. بس دل کرتا ہے دیکھتے ہی رہو..
جھیل سیف الملوک تو قدرتی حسن کا مجموعہ ہے. اسے دیکھ کر کوئی خود پہ اختیار نہ رکھ سکے. سارا وقت موبائیل سے تصویریں لینے میں گزرا اور میرے میاں صرف ان مناظر کو خود میں جذب کرتے رہے.
کبھی کیمرے کی آنکھ سے باہر دیکھا ہے یہ دنیا بہت خوبصورت ہے...
گھر آنے پہ انہوں نے کہا تھا. تب سے آج تک سارا دھیان ان لمحوں سے لطف انداز ہونے میں گزرتا ہے جو بھی کسی خوبصورت جگہ گزاریں..
انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال میزبان سارہ عمر ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

Comments
Post a Comment