یہ پچھلے سال کی بات ہے. میری بہن کی شادی تھی میں بہت مصروف تھی. انہی دنوں میں اپنے بیٹے کے ساتھ بازار گئی. گاڑی میں بیٹھے اسے ایک موتی ملا. وہ اسے دیکھ رہا تھا. میں نے بھی زیادہ دھیان نہیں دیا کہ پانچ سال کا بچہ ہے. میرا دھیان کسی دوسری طرف تھا جب اس نے وہ درمیانے سائز کا موتی لے کر اپنی ناک میں ڈال لیا. میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے. وہ موتی سانس لینے کی وجہ سے ناک کی ہڈی تک چلا گیا. مجھے اس نے بتایا تک نہیں کہ ڈانٹ پڑے گی. اگلے دن اس کی ناک سے خون سا نکلا. میں نے پونچھا اور اس کی ناک صاف کرنے لگی تو وہ چیخا. مجھے تب بھی سمجھ نہیں آئی کہ ہوا کیا ہے. صبح اسکول گیا واپس آ کر سویا تو مجھے لگا اس کی ناک میں کچھ سفید ہے لیکن جب ہاتھ لگوں تو وہ چیخے..
شام کو میں نے ہوم ورک کروانے کے لیے بیٹھایا. (میں جب بھی اسے ہوم ورک کرواؤں اور نہ کرے تو بہت غصہ آتا ہے.) اس دن بھی یہی ہوا وہ کام کر ہی نہیں رہا تھا. میں نے غصے میں آ کر ایک تھپڑ اس کے سر پہ رسید کیا کہ ایک دم ناک سے موتی نکل کر فرش پہ گر گیا. یہ دیکھ کر میری چیخیں نکل گئیں...
میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اتنا بڑا بچہ بھی ایسی حرکت کر سکتا ہے. وہ پہلا دن تھا جب مجھے مار لگانے پہ افسوس نہیں ہوا.. بلکہ آج تک یہی سوچتی ہوں اگر اس دن اسے نہ مارتی اور مجھے پتہ نہ چلتا تو کیا ہوتا؟ خوف سے مجھ سے سوچا بھی نہیں جاتا. اللہ تعالیٰ نے میرے بچے کو بڑے حادثے سے بچا لیا الحمد اللہ.. اللہ سب کے بچوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین..
سارہ عمر
This is the blog of SARAH OMER A new writer from Riyadh KSA. Writing for her passion to write. Writing to make this world a peaceful place to live. Hope you will enjoy her writings

Comments
Post a Comment