Skip to main content

خالی ہاتھ

ہال میں روشنیاں جگمگا رہیں تھیں. رقص و سرور کی محفل اپنے عروج پہ تھی. ہر کوئی مست تھا.صرف ایک وہی تھا جسے سوائے اس حسینہ کو دیکھنے کے کوئی اور کام ہی نہ تھا. وہ حسین تھی، خوبصورت تھی اور اس محفل کی جان تھی. اس کے دراز گیسو، لمبی غلافی آنکھیں، سرخ انگارہ سرخی سے سجے ہونٹ جہاں اسکو اپنی جانب کھینچ رہے تھے وہیں اس کے جسم کے نشیب و فراز، اس کے رقص کی رنگینی ہر ایک کے لیے ہی مرکز نگاہ بنی ہوئی تھی. بھلا کوئی اتنا خوبصورت بھی ہوتا ہے؟وہ حیران تھا.. .............................. کالج تک تو کبھی وہ کو ایجوکیشن میں بھی نہیں پڑھا تھا مگر یونیورسٹی میں نہ صرف کو ایجوکیشن تھی بلکہ اسے اپنے آبائی گاؤں کی حویلی چھوڑ کر شہر آنا پڑا تھا. جیسے ماں کی گود سے نکلا بچہ کھو جائے تو پریشان ہو جاتا ہے بالکل ایسا ہی حال منیر نواز ملک کا بھی تھا. جس کی حویلی میں بڑے بڑے زنان خانے اور مردان خانے تھے. وہ لڑکیوں کے ساتھ کلاس میں کیسے بیٹھتا؟ شہر کے لڑکے لڑکیوں کے ساتھ کرسیاں ڈھونڈتے تھے اور وہ کسی الگ تھلگ جگہ کی تلاش میں رہتا.. اوو شرمیلی بنو.. ذرا چوڑیاں پہنا دو.. لڑکوں نے بھی اب مذاق اڑانا شروع کر دیا تھا. لڑکیاں کا تو وہ جگ بھائی بن گیا تھا مگر لڑکے روز ہی اس پہ فقرے کستے.. انہی دنوں یاور انکی کلاس میں آیا تھا. سب کچھ تو تھا اس کے پاس دولت، حسن، لمبا چوڑا باڈی بلڈر. ساری کلاس نے اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا مگر وہ تو بس منیر کا ہی جگری دوست بن گیا تھا. منیر اور یاور کے گاؤں ساتھ ساتھ تھے اور انکے والد بھی دوست تھے. یاور کے والد کو اس کی سب حرکتیں پتہ تھیں تبھی انہوں نے منیر کے والد سے کہہ دیا تھا منیر سے یاور کی رپورٹ لیتے رہیں. یاور نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی تھیں. اس نے آتے ہی منیر سے دوستی کی تھی. اگر منیر نے کچھ غلط سلط بول دیا تو مشکل ہو جائے گی. سو یاور نے اسے شیشے میں اتارنا تھا. یاور کے ساتھ نے جہاں لوگوں کے منہ بند کیے تھے وہیں ڈرے سہمے منیر کو بہادر بنا دیا تھا. کسی کی ہمت نہیں تھی یاور سے پنگا لے وہ ایک منٹ میں دانت توڑ کے ہاتھ میں دے دیتا.. ..................................... دن گزر رہے تھے. منیر میں سے شرمیلا پن کم ہو گیا تھا مگر ابھی تک وہ لڑکیوں سے گریز کرتا تھا جبکہ یاور کا پسندیدہ مشغلہ ہی لڑکیاں تھیں. چل آج تجھے دوسری دنیا کی سیر کرائیں. یاور اپنے ایک اور دوست اسد کے ساتھ شہر کے پوش ایریا میں کسی کلب پارٹی میں جانے کا پلان بنا رہا تھا. سو منیر کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا. وہ بھی اس کے ساتھ اس کام میں لگ گیا تو کم از کم اسکے ابا کو اسکی حرکات کی اطلاع نہ پہنچتی اور پکڑے بھی جاتے تو ابا کا منیر نامہ بھی ختم ہو جاتا جو وہ ہر وقت سنا سنا کر اسے زچ کرتے تھے یعنی ایک پنتھ دو کاج. وہ ڈانس پارٹی تھی جس میں سب نے پی پی کر اچھل کود مچائی ہوئی تھی. منیر کا حال تو چڑیا گھر کے بندر جیسا ہو گیا جو آنکھیں پھاڑے ہر ایک کو دیکھ رہا تھا. پھر وہ حسینہ جلوہ افروز ہوئی تو اس نے تب پلکیں چھپکیں جب وہ چلی گئی. پھر تو بس منیر سب بھول بیٹھا تھا کچھ یاد تھا تو وہ پری چہرہ جو جتنی دیر سامنے رہتا ہے تو دل کی دھڑکنیں اس کے ہاتھ پاؤں کی جنبش کے ساتھ چلتیں ہیں اور جب وہ نظر سے اوجھل ہوتی ہے تو سب خاموشی میں ڈوب جاتا ہے. ..................................... ایک دن منیر نے اس کا پیچھا کر کے اس کا گھر کا پتہ معلوم کر لیا تھا. وہ وہاں بس رقص کے لیے ہی آتی تھی. وہ ایک گنجان آباد پسماندہ سا علاقہ تھا. وہ کون تھی؟ کیوں یہ کام کر رہی تھی؟ وہ بہت متجسس تھا. بالاخر وہ ایک دن اس کے سامنے آ ہی گیا. وہ بڑی سی چادر میں چہرہ چھپائے تیز تیز قدموں سے گھر کی جانب بڑھ رہی تھی. وہ رات کے اس پہر ایک مخصوص رکشے سے آتی تھی جو اسے گلی کے کونے پہ اتارتا کیوں کہ گلی کے اندر پیدل کا راستہ تھا. آپ یہ سب کیوں کر رہی ہیں؟ کون ہو تم؟ اس کا ہاتھ فوراً چادر کے اندر رینگ گیا. آپ کا خیر خواہ. وہ دھیرے سے بولا. شادی کرو گے؟ شادی؟ وہ ہکلایا. اتنا سیدھا سوال؟ مگر یہ امتحان تھا. بس اتنا دم تھا؟ وہ ہنسی. کب کرنی ہے؟ وہ بھی دھن کا پکا تھا. صبح دس بجے اسی جگہ ملنا. وہ کہتی ہوئی گھر کی طرف بڑھ گئی. جاری ہے. سارہ عمر

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...

لائبریری

یونیورسٹی شروع ہوئے تھوڑے ہی دن ہوئے تھے۔ڈیپارٹمنٹ نیا تھا۔لوگ نئے شہر بھی تو نیا تھا۔وہ تو ایک دور دراز کے چھوٹے سے قصبے سے آئی تھی۔ہوسٹل بھی اچھا تھا۔بس ابھی اس کے ہوسٹل میں کوئی بھی کلاس فیلو نہیں تھی سب کے الگ الگ ہوسٹل تھے۔یہاں آ کر اپنے سارے کام تو خود کرنے آ گئے تھے۔۔ چند ہی ہفتے گزرے تھے کہ پہلی اسائمنٹ آ گئی اس نے نہایت جوش سے ٹاپک سنا لکھا اور ازبر کیا۔کلاس ختم ہوتے ہی وہ رجسٹر اٹھائے لائبریری کی طرف بڑھ گئی۔ ڈیپارٹمنٹ کی اپنی بھی لائبریری تھی مگر مرکزی لائبریری کی تو بات ہی کچھ اور تھی۔۔ وہ پندرہ منٹ کی واک کے بعد لائبریری پہنچی۔۔کشادہ لان ہری ہری گھاس اونچے اونچے سرو کے درخت۔۔وہ کافی پرسکون محسوس کرنے لگی۔اس نے تازی ہوا اپنے اندر اتاری تھی۔دماغ بھی تروتازہ ہو گا تھا۔ لائبریری کے اندر داخل ہوتے ہی ایک طرف استقبالیہ تھا جس پہ بیٹھا شخص کسی کتاب میں منہمک تھا۔۔۔تھوڑے فاصلے پہ کمپیوٹر لیب بنی ہوئی تھی۔آج ادھر بہت رش تھا۔کمپیوٹر لیب میں بھی طلبہ اپنی اسائمنٹ بنانے کے لیے آتے تھے ۔زیادہ تر وہ لوگ جو ہاسٹل میں تھے اور ان کے پاس کمپیوٹر لیپ ٹاپ یا نیٹ کی سہولت موجود نہ تھی۔اس نے شی...