Skip to main content

Posts

ہائے گرمی۔(طنز و مزاح)

 ہائے۔۔گرمی سارہ عمر  الریاض، سعودی عرب۔ اگر ملک میں اس وقت چاہت فتح علی خان کے گانے ”آئے ہائے،اوئے ہوئے بدو بدی“ کے علاوہ کوئی بات موضوع گفتگو ہے تو وہ ہے بلا کی گرمی اور ہیٹ ویو۔جس کے باعث ہر کوئی گھر سے باہر قدم نکالتے ہی یہی گانا گنگناتے پہ مجبور ہے۔”آئے ہائے،اوئے ہوئے۔۔گرما گرمی۔۔گرما گرمی۔“ پہلے ہی ہمارے ملک میں ہر شخص جلا،بھنا اور تپا رہتا ہے جیسے سب کے سب جلتے توے پہ بیٹھے ہوئے ہیں باقی کسر ہیٹ ویو نے پوری کر دی ہے۔ذرا سا گھر سے باہر نکل کر دیکھو تو لگتا ہے کہ سورج سر پہ کھڑا آپ کے دروازے پر ہی دستک دے رہا ہے۔بلکہ سورج کا بس چلے تو وہ بھی گھر کے اندر آ کر کچھ دیر اے سی کی ٹھنڈی ہوا کا مزہ لے لے۔ نوکری پیشہ افراد اور مزدور طبقہ تو خاص طور سے گرمی میں جلی کٹی سنانے پہ مجبور ہوتے ہیں۔سبزی والے سے بات کرو تو وہ کڑوے کریلے جیسی باتیں کرتا دکھائی دے گا۔گاہک اگر پوچھ بیٹھے: ”بھائی یہ آلو کتنے روپے کلو ہیں؟شکل سے تو مریل سے لگ رہے ہیں۔“ آگے سے وہ صافے سے پسینہ پوچھتے جواب دے گا: ”نہیں آپ نے ان کو اے سی لگوا کر دیا ہوا ہے کہ ان کا منہ سیدھا ہو؟اتنی گرمی میں تو بندوں کا منہ ڈینگ...

انٹرویو ہمایوں ایوب

      انٹرویو  ناول نگار، تجزیہ نگار و پبلشر ہمایوں ایوب   میزبان: سارہ عمر    دنیا میں بے شمار گم نام ہیرے موجود ہیں۔بالکل اسی طرح ہمارے اردگردبھی ایسے کئی گم نام ہیرے موجود ہوتے ہیں جنہیں کھوجنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ان کی چمک دمک صرف مخصوص حلقے تک ہی محدود ہوتی ہےتبھی ان ہیروں کی چکا چوند سے اکثریت محروم رہ جاتی ہے۔ آج ہم آپ کو ایک ایسے ہیرے سے ملوانے جا رہے ہیں جنہوں نے بحیثیت تجزیہ نگار اپنے نام کا لوہا منوایا مگر وہ دیگر سرگرمیوں میں بھی پیش پیش ہیں۔ان کا نام انسٹاگرام کی دنیا میں بے حد مشہور و مقبول ہے ۔جہاں کتب تبصرے کا نام لیا جائے وہاں ہمایوں ایوب کا نام لازم و ملزوم ہے۔یہ نئے دور کے مصنف ہیں جن کی یکے بعد دیگرے کئی کتب نے قارئین کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ان کے ناول منفرد اسلوب کے باعث خاصے مقبول ہوئے۔اب تک پانچ ناول اور کئی افسانے لکھ چکے ہیں۔ چلیں اب مزید انتظار کروائے بغیر آپ کو ان سے ملواتے ہیں تاکہ ان کو مزید جاننے کا موقع مل سکے۔ س: السلام علیکم ہمایوں بھائی!کیسے ہیں آپ؟ جواب: وسلام ! الحمد اللہ ٹھیک ٹھاک۔ آپ لوگوں کی دعائیں ہیں۔ س:اپنا مختصر...

بڑھاپا ،سیاپا

 بڑھاپا،سیاپا از سارہ عمر  سیانے کہتے ہیں  ”بڑھاپا اور سیاپا کبھی بتا کر نہیں آتا۔“ درحقیقت تو بڑھاپا خود ایک بہت بڑا سیاپا ہے اور مرد حضرات کے لیے تو شاید اسے سیاپا سمجھا بھی نہ جاتا ہو مگر خواتین کے لیے تو اس سے بڑا کوئی سیاپا پیدا ہی نہیں ہوا۔بڑھاپا اتنا خطرناک اور ہیبت ناک نہیں ہوتا جتنا یہ انکشاف ہولناک ہوتا ہے کہ بڑھاپے نے اب ہماری دہلیز پر دستک دے دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عورتوں کی عمر اور مرد کی تنخواہ کبھی نہیں پوچھنی چاہیے۔نہ عورت نے کبھی اپنی عمر صحیح بتانی ہے اور نہ کبھی مرد نے اپنی تنخواہ۔ بلکہ یوں کہیے کہ عورت کی عمر تو چلو پھر بھی چہرے مہرے،چال ڈھال یا بچوں کی عمر سے اندازہ لگائی جا سکتی ہے مگر مرد کی تنخواہ تو آپ مرتے دم تک نہیں اگلوا سکتے کیوں کہ وہ جتنا کماتے ہیں اس سے زیادہ اڑاتے ہیں۔پھر بھی مرد کی تنخواہ اتنا سنگین موضوع اب بھی نہیں جتنا رنگین و سنگین موضوع عورتوں کی عمر ہے۔ ڈاکٹر یونس بٹ صاحب کیا خوب منظر کشی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ”عورتوں کی آدھی عمر تو اپنی عمر کم کرنے میں گزر جاتی ہے۔ ایک ملازمت کے انٹرویو کے دوران انٹرویو لینے والے نے پوچھا، ”محترمہ!...

سرکس ہی سرکس

 سرکس ہی سرکس از سارہ عمر  الریاض، سعودی عرب۔ ایک زمانہ تھا کہ زندگی میں ٹی وی اور موبائل نام کی کوئی تفریح نہیں تھی سو دور دراز گاؤں اور شہروں میں کچھ کچھ عرصے کے لیے میلے اور سرکس کا انعقاد کیا جاتا۔کہیں بندر کا تماشا ہوتا تو کہیں بھالو کا،کہیں کوئی رسی پہ دونوں ہاتھ چھوڑے چل رہا ہوتا تو کہیں کوئی ٹانگیں لکڑی کے پٹے میں پھنسائے الٹا لٹک رہا ہوتا۔کہیں کوئی بازی گر منہ سے آگ نکال رہا ہے تو کہیں کوئی شعبدہ باز ٹوپی سے کبوتر نکال کر شائقین سے داد سمیٹ رہا ہے۔ان سب میں موت کا کنواں، سر کٹا آدمی اور سر الگ دھڑ الگ والی مخلوق کو دیکھنے کے لیے سب سے زیادہ رش ہوتا تھا۔ پھر زمانہ بدلہ،پہلے ٹی وی آیا پھر موبائل اور پھر انٹرنیٹ کی چکاچوند نے سب کو حیران کر دیا۔ اب تو کسی سرکس کو دیکھنے کے لیے نہ پیسے دینے کی ضرورت ہے،نہ مہینوں کا انتظار۔جس جانب منہ اٹھائیے ایک سرکس لگا ہوا ہے اور مقامی شائقین اپنا قیمتی وقت بھرپور طور سے اس کو دے رہے ہیں۔ سڑک پہ نکلیے تو ایک سے بڑھ کر ایک تماشا آپ کا منتظر ہے۔سڑک پہ جہاں گاڑیوں کا اژدھام ہے،وہاں بیچ میں کوئی دو چار موٹر سائیکل سوار زگ زیگ موٹر سائیکل گز...

انٹرویو عبد اللہ وسیم

 انٹرویو  مصنف و ناول نگار   عبداللہ وسیم  میزبان:سارہ عمر  دنیا کے عظیم رہنماؤں میں سکندر اعظم کا نام بے حد مقبول ہے۔سکندر اعظم نے نہایت کم عمری میں دنیا فتح کی اور اس کے نام کی بازگشت آج تک تاریخ کے اوراق میں سنائی دیتی ہے۔کچھ ایسے ہی کم عمر،اعلی صلاحیتوں کے مالک افراد ہمارے اردگرد موجود ہیں جن سے ہم بے خبر رہتے ہیں۔ان باصلاحیت نوجوانوں کا کام ہی ان کے نام کا لوہا منواتا ہے۔آج ہماری نشست میں بھی ایک نامور شخصیت شامل ہیں جن کا کام اتنا منفرد ہے کہ ان کے نام کی بازگشت آپ کو جلد ہی ہر سو سنائی دے گی۔ عبداللہ وسیم نئے دور کے مصنف ہیں جن کی یکے بعد دیگرے کئی کتب نے قارئین کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ان کے ناول منفرد اسلوب اور نئے یونرا کے باعث قارئین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ ہماری بھی عبداللہ سے حال ہی میں ملاقات ہوئی ہے سو چلیے آج آپ کو ان سے ملواتے ہیں اور ان کی شخصیت کے بہت سے پہلو جن سے ابھی ہم روشناس نہیں ہوئے،اس سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ س:السلام علیکم عبداللہ!کیسے ہیں آپ؟ ج:وعلیکم اسلام! اللہ کا شکر ٹھیک۔ امید ہے آپ بھی خیریت سے ہیں۔(الحمدللہ) س:اپنا مختص...

امی کے نام خط

امی کے نام خط سارہ عمر   السلام علیکم! امید کرتی ہوں آپ جہاں ہوں گی یقینا خوش ہوں گی۔بہت بار سوچا کچھ لکھوں مگر پھر لکھتے لکھتے رک جاتی ہوں ہمت نہیں کر پاتی۔خوشی کو لکھنا آسان ہے غم لکھنا بہت مشکل۔دل پہ جبر کرنا پڑتا ہے۔آج بہت ہمت کر کے کچھ الفاظ لکھنے کی سعی کی ہے۔کاش یہ آپ تک پہنچ پائیں۔ کہنے کو تو آپ کی بیٹی ایک مصنفہ ہے،الفاظ کے موتی پرو کے رنگ برنگ مالائیں تخلیق کر لیتی ہے مگر ماں سے محبت کا اظہار کرنے میں بہت چور ہے۔سال 2021 کا آخری مہینہ بھی اپنے اختتام کو ہے سال پہ سال بیت رہے ہیں مگر میں تو ابھی تک اسی لمحے میں قید ہوں جب آپ کے اس دارفانی سے رخصت ہونے کی خبر ملی تھی۔سنا تھا مرنے والوں پہ صبر آ جاتا ہے مجھے تو لگتا ہے ماں کی موت پہ کبھی صبر آ ہی نہیں سکتا۔یہ تو ساری زندگی کا روگ ہے جسے سینے سے لگائے ہم زندگی بسر کرتے رہتے ہیں۔کہنے کو دنیا کے سامنے ہنستے ہیں مگر چھپ چھپ کے اپنے آنسو اپنے ہی اندر گرا لیتے ہیں۔ دکھ اس بات کا نہیں آپ مجھے چھوڑ گئیں دکھ تو فقط اپنے پچھتاوں کا ہے کہ آپ کی خدمت کا حق ادا نہ کر سکی۔بیماری میں ملنے آئی بھی تو پردیسی بیٹی ہسپتال کے کوریڈور میں م...

انٹرویو عروبہ عامر

انٹرویو مصنفہ و ناول نگار عروبہ عامر میزبان:سارہ عمر  سکندر اعظم نے نہایت کم عمری میں دنیا فتح کی اور اس کے نام کی بازگشت آج تک تاریخ کے اوراق میں سنائی دیتی ہے۔کچھ ایسے ہی کم عمر،اعلی صلاحیتوں کے حامل افراد ہمارے اردگرد موجود ہیں جن سے ہم بے خبر رہتے ہیں۔اگر سکندر اعظم نے آدھی دنیا فتح کی تھی تو ہماری آج کی نشست میں شامل شخصیت نے بھی آدھے پاکستان کے دل تو فتح کر ہی لیے ہیں۔ان کا کام اتنا منفرد ہے کہ ان کے نام کی بازگشت بھی آپ کو جلد ہی ہر سو سنائی دے گی۔ ہماری آج کی شخصیت نہایت کم عمر مصنفہ،ناول نگار اور ایک باخلاق بزنس ویمن عروبہ عامر ہیں۔عروبہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ان کی کتب سراب،جال،امید اور تلاش اپنی مثال آپ ہیں۔عروبہ نا صرف ناول نگار ہیں بلکہ یہ قرآن اکیڈمی کی روح رواں بھی ہیں۔القلم بک اسٹور کے نام سے ان کا کسٹمائز تحائف بنانے کا بزنس بھی ہے جسے یہ بااسلوبی چلا رہی ہیں۔ عروبہ سے میری پہلی بار بات ایک سیشن کے بعد ہوئی جو انہوں نے خصوصی طور پر مسئلہ فلسطین اور تیسری جنگ عظیم کے حوالے سے رکھا تھا۔اس کے بعد کئی بار ہماری ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔میں نے عروبہ کو بہت ہمدرد،ملن...