بڑھاپا،سیاپا
از سارہ عمر
سیانے کہتے ہیں
”بڑھاپا اور سیاپا کبھی بتا کر نہیں آتا۔“
درحقیقت تو بڑھاپا خود ایک بہت بڑا سیاپا ہے اور مرد حضرات کے لیے تو شاید اسے سیاپا سمجھا بھی نہ جاتا ہو مگر خواتین کے لیے تو اس سے بڑا کوئی سیاپا پیدا ہی نہیں ہوا۔بڑھاپا اتنا خطرناک اور ہیبت ناک نہیں ہوتا جتنا یہ انکشاف ہولناک ہوتا ہے کہ بڑھاپے نے اب ہماری دہلیز پر دستک دے دی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ عورتوں کی عمر اور مرد کی تنخواہ کبھی نہیں پوچھنی چاہیے۔نہ عورت نے کبھی اپنی عمر صحیح بتانی ہے اور نہ کبھی مرد نے اپنی تنخواہ۔
بلکہ یوں کہیے کہ عورت کی عمر تو چلو پھر بھی چہرے مہرے،چال ڈھال یا بچوں کی عمر سے اندازہ لگائی جا سکتی ہے مگر مرد کی تنخواہ تو آپ مرتے دم تک نہیں اگلوا سکتے کیوں کہ وہ جتنا کماتے ہیں اس سے زیادہ اڑاتے ہیں۔پھر بھی مرد کی تنخواہ اتنا سنگین موضوع اب بھی نہیں جتنا رنگین و سنگین موضوع عورتوں کی عمر ہے۔
ڈاکٹر یونس بٹ صاحب کیا خوب منظر کشی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
”عورتوں کی آدھی عمر تو اپنی عمر کم کرنے میں گزر جاتی ہے۔ ایک ملازمت کے انٹرویو کے دوران انٹرویو لینے والے نے پوچھا، ”محترمہ! آپ کی عمر؟“ جواب ملا، ”انیس سال کچھ مہینے“ پوچھا، ”کتنے مہینے؟“ جواب ملا: ”چھیانوے مہینے!“
بالکل ایسے ہی حال ہماری ایک دور کی عزیزہ کا بھی ہے۔اگر انہیں قریبی عزیزہ کہہ دیا تو کہیں آپ ہمیں انہی کی عمر کا نہ تصور کر لیں۔ان سے ہماری دوستی تب سے ہے جب ہم چھوٹے تھے،البتہ وہ اب بڑی ہو چکی ہیں لیکن ہم ابھی بھی چھوٹے ہی ہیں۔
سب سے پہلی بار بڑھاپے کے سیاپے کا احساس انہیں تب ہوا جب ان کے پورے دس بال سفید ہو گئے۔سر میں سفید بالوں کا جلوہ افروز ہونا ایسے ہی ہے جیسے بدلیوں کے بیچ سے چاند اپنی چاندنی چھلکائے مگر جیسے ہی یہ چاندی کسی خاتون کے سر میں چھلکے،ایک عجیب افراتفری کا عالم برپا ہو جاتا ہے اور ہنگامی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔سو مسز فرید بھی دوڑی دوڑی اس مرض کا علاج کروانے آن پہنچیں۔
”ہائے!میرے سر کے دس بال سفید ہو گئے کوئی حل بتاؤ۔آج دس ہوئے ہیں۔کل بیس ہوں گے اور پھر۔۔“
انہوں نے کچھ سوچ کر جھرجھری لی۔
”ارے ہمیں کیا معلوم؟ہمارے تو سر کا ابھی ایک بھی بال سفید نہیں۔“ہم نے عجب شان بے نیازی دکھائی تھی۔
”نہیں ہے تو کیا ہوا؟کل کو ہو جائے گا۔“
”ہائے اللہ نہ کرے۔“ہم ساری بے نیازی کو جھاڑتے ہوئے یک دم کھڑے ہو گئے اور لگ گئے ایک کے بعد ایک نسخے بتانے۔
پھر مسز فرید کے ساتھ پارلر جا کر نہ صرف بال ہلکے سنہری رنگ کے رنگوائے،کٹوائے بلکہ فیشل،پیڈی کیور،مینی کیور کروا کر ان کا حلیہ ہی بدلوا دیا۔بلو ڈرائی کرتی لڑکی نے جب انہیں کہا کہ آپ اپنی عمر سے دس سال کم لگ رہی ہیں تو مسز فرید نے فاتحانہ انداز میں ہماری جانب دیکھتے ایسے منہ بنایا کہ محسوس ہوتا تھا ابھی وہ ہمارا منہ چوم لیں گی۔بس اسی ڈر کے مارے ہم نے اپنا منہ پرے سرکاتے ہوئے پارلر والی کو مسکرا کر غائبانہ شکریہ کہا تھا۔
”اب یہ کہیں ان سے اصل عمر نہ پوچھ لے جس سے یہ دس سال کم نظر آ رہی ہیں۔“گھر پہنچ کر تو الگ ہی کہانی تھی۔فرید صاحب بیگم پہ بری لٹو ہوئے جا رہے تھے۔زیادہ اوور ایکٹنگ کرتے ہوئے انہوں نے تو بیگم کو پہچانے سے ہی انکار کر دیا تو مسز فرید خوشی کے مارے اپنی مصنوعی پلکیں چھپکا کر رہ گئیں۔
”آپ کون سے پارلر سے اپ گریڈ ہو کر آئی ہیں؟مجھے نہیں پتہ مجھے بھی وہیں سے اپنی ڈینڈنگ پینٹنگ کروانی ہے۔گیا پرانا ماڈل اور نکلا نیا ماڈل ارے واہ بھئی واہ!“
میاں بیوی کی یہ ناز برداریاں دیکھ کر ہم پتلی گلی سے کھسک لیے کہ اب ہماری جان چھوٹی مگر کہاں؟کچھ ماہ بعد ہی وہ منہ بسورے پھر ہمارے پاس موجود تھیں۔بھئی ہم نے نجانے کونسی خطا کی تھی کہ سب کو اپنے دکھڑے ہمیں سنا کر ہی سکون آتا تھا۔
”پتہ ہے ہمارے ساتھ کیا ہوا؟“
”جب ہم ساتھ تھے ہی نہیں تو ہمیں کیا پتہ کہ کیا ہوا؟“
”ارے وہ ہماری پھوپھو کی بہو فضیلہ ہے نا!وہ ہماری دوستوں کی پارٹی میں آئی ہوئی تھی۔“وہ خود ہی اپنی رام لیلی سنانا شروع ہو گئیں۔
”اس نے سب کے سامنے کہہ دیا کہ بھابھی جتنی عمر چھپا لیں بچوں کی عمر سے تو سب پتہ چل جاتا ہے۔“
”لو اب اس کا کیا علاج ہے؟بچے تو پیدا ہو گئے اب انہیں کیا ریورس کریں۔“
ہمارا تو دماغ ہی ماؤف ہو گیا تھا کہ کیا کریں مگر اصل دماغ ماؤف ہونا کسے کہتے ہیں یہ تو مسز فرید نے اپنی متوقع ڈیمانڈ میں بتایا تھا۔
”میں نے بھی اسے کہہ دیا میں تمہیں نکاح نامہ دکھا دوں گی۔اب مجھے نہیں پتہ تم میرے ساتھ جعلی نکاح نامہ بنوانے جا رہی ہو۔“
”اللہ اللہ!کیوں بھری جوانی میں ہمیں مارنے کا ارادہ ہے؟“ہم بے ساختہ پلنگ سے اچھلے۔
”اب اتنی بھی بچی نہیں ہو،سچی ہو پر کچی نہیں ہو۔“ان کا اعتراض سن کر ہمیں بے اختیار مشہور ڈائلاگ یاد آیا تھا۔
”چھوٹی بچی ہو کیا؟“
کاش ہم بچے ہوتے تو مسز فرید کے شر سے بچ جاتے مگر وہ بھی ہمیں گھسٹتی نہ جانے کس کس علاقے کے کس کس ایجنٹ کے پاس خوار کرواتی رہیں۔
”پیسے جتنے کہیں میں دوں گی بس نکاح نامے پر تاریخ میری مرضی کی درج کر دیں۔“یہ بندہ تو پتہ نہیں انہیں کہاں سے ملا تھا مگر وہ بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ ساتھ ہی لے آئیں تھیں۔
”شادی کی تاریخ کیا لکھوں؟“
اس نے کاغذات دیکھتے پوچھا۔
”دو ہزار دس لکھ دیں۔“
مسز فرید جس دھڑلے سے بولیں تو ہم کرسی سے گرتے گرتے بچے۔
”لکھ تو میں دوں مگر بیٹا تو آپ کا دو ہزار نو کی پیدائش ہے پھر سب کہیں گے شادی سے پہلے ہی پیدا ہو گیا تھا؟“
اس نے دانت نکوسے عذر بیان کیا تھا۔
”اچھا اچھا دو ہزار سات کر دیں۔“
”چلیں شادی کی تاریخ ہو گئی دو ہزار سات۔اب پیدائش کی تاریخ بھی بتا دیں۔“
”بس آپ دو ہزار پانچ لکھ دیں۔“
اب کی بار کرسی سے گرنے کی باری اس کی تھی۔
”بی بی!دو سال کی عمر میں شادی اور چار سال کی عمر میں بچہ یہ کونسی سائنس ہے؟“وہ منہ کھولے حیرت سے بولا۔
”راکٹ سائنس ہے۔۔“
انہوں نے چڑ کر کہا تھا۔
”کچھ تو سن اوپر کروا لیجیے۔“وہ التجائیہ لہجے میں بولا تھا۔
”اوپر ہی کروانے ہوتے تو تمہیں مفت میں پیسے بھرتی۔اصلی نکاح نامہ نہ دکھا دیتی؟“
وہ غصے سے بولیں تھیں۔
”زیادہ نہ صحیح چودہ سال کی عمر میں شادی کروا لیں،کم از کم دو سال کی عمر سے تو بہتر ہے۔“
جعلی کام کرنے والے نے بھی آج تک اتنا جعلی کام نہیں کیا تھا مگر ایک عورت کی عمر کے آگے اس کی جال بازی فیل ہو کر رہ گئی تھی۔بالاخر بڑی مشکلوں سے مسز فرید تیرہ سال کی عمر میں شادی کروانے پہ راضی ہوئیں تھیں۔نکاح نامہ بنتے ہی ہم دونوں اس جگہ سے ایسے بھاگے تھے کہ کہیں واقعی پولیس اس نکاح نامے کو دیکھ کر ہمارے وارنٹ گرفتاری نہ نکال دے۔
اس جعلی نکاح نامے کے بعد بڑے عرصے تک بھری محفل میں کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ مسز فرید کی عمر پوچھے۔
ان کا تو اب یہ تکیہ کلام بن چکا تھا۔
”اتنی چھوٹی سی تو میں ہوں۔۔“
ان کا یہ بچگانہ پن تب تک خوب چلا جب تک ان کی بچی کی بھی بچی نہیں ہو گئی۔نانی بن کر بھی وہ اکثر یہی کہتی ہیں۔
”ذرا سی بچی ہی تو تھی تب میری شادی ہوئی تھی“اور آگے سے فرید صاحب جل کر کہتے ہیں:
”ہاں منہ میں چوسنی تھی اور ہاتھ میں فیڈر، جب میں بارات پہ تمہیں گود میں اٹھا کر لایا تھا“اور مسز فرید اسے سچ سمجھ کر پہروں ہنستی رہتی ہیں۔
مجھے تو کافی عرصے سے یہ بڑھاپا سیاپا بالکل بھول ہی گیا تھا۔ایسا لگتا تھا ہماری عمر کوئی فریزر میں رکھ کر بھول گیا ہے سو کبھی پگھلے گی ہی نہیں مگر آج آئینہ میں اپنے چار سفید بالوں پہ نظر کیا پڑی۔تب سے میں مسز فرید کا نمبر ڈھونڈ رہی ہوں۔اللہ بھلا کرے ذرا اس ایجنٹ سے اپنا جعلی برتھ سرٹیفکیٹ تو بنوا لوں ناجانے کس محفل میں سب کے سامنے عمر بتانی پڑ جائے۔

Comments
Post a Comment