ہائے۔۔گرمی
سارہ عمر
الریاض، سعودی عرب۔
اگر ملک میں اس وقت چاہت فتح علی خان کے گانے ”آئے ہائے،اوئے ہوئے بدو بدی“ کے علاوہ کوئی بات موضوع گفتگو ہے تو وہ ہے بلا کی گرمی اور ہیٹ ویو۔جس کے باعث ہر کوئی گھر سے باہر قدم نکالتے ہی یہی گانا گنگناتے پہ مجبور ہے۔”آئے ہائے،اوئے ہوئے۔۔گرما گرمی۔۔گرما گرمی۔“
پہلے ہی ہمارے ملک میں ہر شخص جلا،بھنا اور تپا رہتا ہے جیسے سب کے سب جلتے توے پہ بیٹھے ہوئے ہیں باقی کسر ہیٹ ویو نے پوری کر دی ہے۔ذرا سا گھر سے باہر نکل کر دیکھو تو لگتا ہے کہ سورج سر پہ کھڑا آپ کے دروازے پر ہی دستک دے رہا ہے۔بلکہ سورج کا بس چلے تو وہ بھی گھر کے اندر آ کر کچھ دیر اے سی کی ٹھنڈی ہوا کا مزہ لے لے۔
نوکری پیشہ افراد اور مزدور طبقہ تو خاص طور سے گرمی میں جلی کٹی سنانے پہ مجبور ہوتے ہیں۔سبزی والے سے بات کرو تو وہ کڑوے کریلے جیسی باتیں کرتا دکھائی دے گا۔گاہک اگر پوچھ بیٹھے:
”بھائی یہ آلو کتنے روپے کلو ہیں؟شکل سے تو مریل سے لگ رہے ہیں۔“
آگے سے وہ صافے سے پسینہ پوچھتے جواب دے گا:
”نہیں آپ نے ان کو اے سی لگوا کر دیا ہوا ہے کہ ان کا منہ سیدھا ہو؟اتنی گرمی میں تو بندوں کا منہ ڈینگا ہو گیا ہے یہ آلو بیچارا کس کھیت کی مولی ہے؟“
”چھوڑو بھائی آلو کو تم ٹینڈے کا ریٹ بتا دو۔“گاہک اگر ٹینڈے کا ریٹ پوچھ لے تو اس کے کانوں سے دھواں ہی نکلنے لگتا ہے۔
”سو روپے کلو۔“
”ہائے یہ ٹینڈے کو کونسی آگ لگی ہوئی ہے اتنی زیادہ قیمت؟“
”آگ تو جناب اس ملک میں سب کو لگی ہوئی ہے سوائے سورج کے،آپ نے لینے ہیں تو لو ورنہ اپنا رستہ ناپو۔“
سوال جواب کی بحث سے تنگ ہو کر سبزی فروش ریڑھی لے کر جانے لگے تو انگور کھٹے ہیں کے عین مطابق گاہک یہی کہہ کر دل بہلاتے ہیں کہ:
”ارے! رہنے دو،اس ٹینڈے کو ویسے بھی پوچھتا کون ہے؟“
آگے سے سبزی والا بھی جاتے جاتے ایسے بدذوق گاہک کو دو سنا کر جاتا ہے۔
”تو بھائی آپ بھی نہ پوچھو، ٹینڈے نے کونسی آپ سے لفٹ مانگی ہے؟“
ویگن یا رکشے میں بیٹھ جاؤ تو ڈرائیور نے چھوٹا سا پنکھا اپنے منہ پہ ایسے فٹ کیا ہوتا ہے کہ ذرا سی بھی ہوا ادھر ادھر نہ نکلے اور ایسے میں ڈرائیور کو کہہ دو کہ بھائی ذرا اس پنکھے کا منہ ادھر ادھر گھما دیں یا کوئی پنکھا پیچھے سواری کے لیے بھی لگا دیں تو وہ سڑ کر کہتا ہے:
”پھر گڈی بھی ایسا کرو ایتھے بے کے، تسی خودی چلا لو،اسی تے حکم دے غلام ہیں۔“
غرضیکہ جس سے بات کرنے کی کوشش کرو وہ مرچیں چبائے بیٹھا ہے حالانکہ مرچ کے دام بھی اتنے زیادہ ہیں کہ اسے چباتے بھی دانتوں تلے پسینہ آ جائے اور پسینہ تو اب بات بے بات آنے لگا ہے۔
پہلے پہل تو بس سارا الزام سورج پہ تھا۔سو پسینہ صرف گرمی سے ہی آتا تھا لیکن اب تو ہر بات پہ پسینہ آتا ہے۔گھر کا کرایہ سن کر پسینہ،بچوں کی فیس سن کر پسینہ،پیٹرول کی قیمت سن کر پسینہ،آٹا، تیل، چینی کے ریٹ سن کر پسینہ اور سونے کی قیمت سن کر تو پسینے کا بھی پسینہ بہہ جاتا ہے۔اب غریب بندہ کس کس بات پہ پسینہ بہائے؟
قدرت کی ستم ظریفی بھی عجیب ہے کہ غریب کو یہ پسینے مفت میں مل جاتے ہیں اور امیروں کو یہ پسینہ نکالنے کے لیے کبھی ٹریڈ مل پہ بھاگنا پڑتا ہے تو کبھی جم جا کر کسرت کرنی پڑتی ہے۔
صدیوں سے گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ میں نوکری کرنے کے لیے بہترین پیشہ بنک کی نوکری یا آفس جاب ہی سمجھی جاتی ہے۔جہاں بند کمرے میں بیٹھ کر اے سی کی ٹھنڈی ٹھار ہوا کے جھونکوں سے فیض یاب ہوا جا سکتا ہے۔نوکری کی نوکری، مزے کے مزے۔ورنہ تپتی دوپہر میں بل جمع کرواتے کرواتے ہی اکثر لوگوں کو تو ملک عدم سدھانے کا پروانہ مل جاتا ہے۔
وہ جو اے سی کے عادی ہیں ان کا کچھ منٹ کی لوڈ شیڈنگ سے ہی برا حال ہو جاتا ہے اور جنریٹر چلنے تک ان کی ”ہائے گرمی اف گرمی“ کی پکار ختم نہیں ہوتی اور دوسری جانب وہ طبقہ بھی ہے جو بجلی جانے پہ نہایت سکون سے گھر کے باہر منجی ڈال کر پنکھا جھل رہا ہوتا ہے۔سیانے کہتے ہیں کہ جن گھروں میں ایسے بزرگوار ہوں جنہیں بجلی جانے پہ گھر کے باہر ڈیرہ جمانے کی عادت ہو اس گھر میں کبھی عشق کی پینگیں نہیں لڑانی چاہیں کیونکہ بعد میں انہی پینگوں پہ آپ اکیلے جھولتے رہ جائیں گے کیونکہ گھر کے سامنے سے کبھی مجلس برخاست ہو گی نہیں کہ کبھی محبوب کا دیدار نصیب ہو۔
پہلے پہل ذرائع ابلاغ تک رسائی نہ ہونے کے باعث محبتیں ادھوری رہ جاتی تھیں کہ خطوط ہی رستے میں پکڑ لیے جاتے لیکن اب گرمی کی شدت نے محبتوں کا کچومر نکال دیا ہے۔
عاشق جتنا ایڑی چوٹی کا زور لگا لے،محبوبہ دن کے وقت گھر سے نکلنے سے صاف انکار کر دیتی ہے اور رات کو باہر نکلنے کی اسے اجازت نہیں ملتی۔
سننے میں آیا ہے کہ کسی عاشق نے بڑی منت کر کے محبوبہ کو دن کے وقت ملنے کے لیے بلا ہی لیا جب سورج پچاس ڈگری پہ آگ برسا رہا تھا۔سو محبوبہ کے نقاب الٹنے کی دیر تھی اس کا بہتا ہوا میک اپ دیکھ کر عاشق نامراد نے اس قدر تیز دوڑ لگائی کہ آخری اطلاعات کے مطابق وہ ابھی تک روپوش ہے۔
بس اس کے بعد سے عاشقوں نے موسم گرما میں ملاقاتوں سے کنارا کر لیا اور طے کیا کہ بس سکون سے بیٹھ کر موسم سرما کا انتظار کیا جائے تاکہ کسی قسم کا بھی تعلق ٹوٹنے کی صورت میں سارا الزام دسمبر کی سردی پہ ڈال کر بری الزمہ ہو جائیں۔ہماری قوم بھی عجیب ہے۔جب دسمبر آتا ہے تو لمبے لمبے دکھڑے روتی ہے کہ ٹھنڈ سے ہلنا جلنا محال ہے کب گرمی آئے اور برف پگھلے۔جبکہ برف پگھلتے ہی سورج کی گرمی سے جسم بھی پگھلنے لگتے ہیں۔
اصل رونا تو ان کا نکلتا ہے جو گرمی میں گاڑی کی گرم نشست پہ بیٹھنے پہ مجبور ہیں۔اس وقت نہ صرف گاڑی کے دروازے اور اسٹیرنگ وغیرہ جل رہے ہوتے ہیں بلکہ سیٹ پہ بیٹھ کر لگتا ہے کہ اگر نیچے انڈے رکھ دئیے جائے تو اس گرمی میں کچھ گھنٹوں میں چوزے تک نکل آئیں گے۔
کچھ سالوں سے گرمی کی شدت میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔اس سے نبٹنے کے لیے ضروری ہے کہ عوام شجرکاری کو فروغ دیں اور زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں۔لیکن نہیں بھئی ادھر تو درخت پہ نظر پڑتے ہی یہ سوچنے لگتے ہیں کہ اس کی لکڑی کی الماری اچھی بن سکتی ہے یا میز؟
افسوس کا مقام یہ ہے کہ عرب ممالک نے اپنے صحراؤں کو گلزار میں بدل دیا ہے اور ہم نے اپنے گلزار اپنے ہاتھوں سے صحرا میں تبدیل کر دئیے ہیں۔ان کے ممالک میں گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے سڑکوں تک کو سفید اور نیلا رنگ کیا جا رہا ہے اور ہم ابھی تک تارکول کی سڑک کے کھڈے ہی بھر رہے ہیں۔دیگر ممالک میں گرمی سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر وائرل کی جاتی ہیں اور ہم ابھی تک ”بدو بدی“جیسے گانے دیکھ کر ”آئے ہائے،اوئے ہوئے“ ہی کر رہے ہیں۔
گرمی کا زور عروج پہ ہے سو گرمی لگے گی تو صحیح مگر اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم گرمی کو دیکھ کر ”ہائے ہائے“ کرنے کی بجائے نئی نسل اور چھوٹے بچوں میں شجرکاری کو عام کریں۔انہیں زیادہ ہے زیادہ درخت اور سبزیاں اگانے کی ترغیب دیں تاکہ آئندہ سالوں میں انہیں ایسی ہیٹ ویو کا سامنا نہ کرنا پڑے کہ ان کے منہ سے بھی فقط ”ہائے گرمی،اف گرمی ہی نکلے۔“

Comments
Post a Comment