Skip to main content

انٹرویو ہمایوں ایوب

      انٹرویو 

ناول نگار، تجزیہ نگار و پبلشر

ہمایوں ایوب 

میزبان: سارہ عمر 


















 



دنیا میں بے شمار گم نام ہیرے موجود ہیں۔بالکل اسی طرح ہمارے اردگردبھی ایسے کئی گم نام ہیرے موجود ہوتے ہیں جنہیں کھوجنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ان کی چمک دمک صرف مخصوص حلقے تک ہی محدود ہوتی ہےتبھی ان ہیروں کی چکا چوند سے اکثریت محروم رہ جاتی ہے۔
آج ہم آپ کو ایک ایسے ہیرے سے ملوانے جا رہے ہیں جنہوں نے بحیثیت تجزیہ نگار اپنے نام کا لوہا منوایا مگر وہ دیگر سرگرمیوں میں بھی پیش پیش ہیں۔ان کا نام انسٹاگرام کی دنیا میں بے حد مشہور و مقبول ہے ۔جہاں کتب تبصرے کا نام لیا جائے وہاں ہمایوں ایوب کا نام لازم و ملزوم ہے۔یہ نئے دور کے مصنف ہیں جن کی یکے بعد دیگرے کئی کتب نے قارئین کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ان کے ناول منفرد اسلوب کے باعث خاصے مقبول ہوئے۔اب تک پانچ ناول اور کئی افسانے لکھ چکے ہیں۔
چلیں اب مزید انتظار کروائے بغیر آپ کو ان سے ملواتے ہیں تاکہ ان کو مزید جاننے کا موقع مل سکے۔

س: السلام علیکم ہمایوں بھائی!کیسے ہیں آپ؟
جواب: وسلام ! الحمد اللہ ٹھیک ٹھاک۔ آپ لوگوں کی دعائیں ہیں۔


س:اپنا مختصر سا تعارف کروائیے تاکہ ہمارے قارئین آپ کو جان سکیں۔
جواب: میرا نام ہمایوں ایوب ہے، اور میں پچھلے چھے سالوں سے انسٹاگرام پر کتابوں کے تبصرے لکھ رہا ہوں۔ لوگوں میں کتابوں کی محبت کو اجاگر کرنے اور کتاب دوست لوگوں کو جمع کرنے کی نیت سے یہ کارِ خیر شروع کیا تھا اور الحمداللہ لوگ آتے رہے اور کارواں بنتا چلا گیا۔ تبصروں کے علاوہ میں لکھنے کا شوق بھی پورا کر رہا ہوں اور پبلشنگ کے حوالے سے بھی اپنی اسکلز کا استعمال کر رہا ہوں۔


س: آپ کا تعلق کس شہر سے ہے اور جائے پیدائش کہاں ہے؟کچھ اپنے خاندان کے متعلق بتائیے کہ بہن بھائیوں میں کس نمبر پہ ہیں۔
جواب: میرا تعلق سندھ کے شہر دادو سے ہے۔ میری جائے پیدائش کراچی کی ہے۔ ہم چھے بہن بھائی ہیں، اور میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں۔ ویسے تو خاصا لمبا چوڑا خاندان ہے میرا، مگر بابا کی سرکاری نوکری کی وجہ سے ہم شروع سے ہی اپنے لمبے چوڑے خاندان سے ذرا فاصلے پر رہے ہیں۔ میری ابتدائی زندگی کراچی میں گزری۔ کالج کا زمانہ حیدر آباد، یونیورسٹی کے چار سال خیرپور میرس میں گزرے۔ اب پچھلے پانچ سالوں سے میں اسلام آباد ہوں۔


س: آپ کی کتب سے ہر قاری واقف ہے پھر بھی بتائیے گا کہ اب تک کتنی کتب شائع ہو چکی ہیں اور کتنی تحاریر لکھ چکے ہیں؟
جواب: اب تک چار مکمل ناولز اور ایک مختصر کہانیوں کا مجموعہ شائع کروا چکا ہوں۔میں محبت اور تم، محبت فاتح عالم ٹھہری، لڑک لڑی پیا لار کرے، اور تبدیلی گلے پڑ گئی ، خرافات۔ ان کے علاوہ ایک مکمل ناول ”ہم سب عجیب بلکہ بہت عجیب سے ہیں۔ “ بھی میری تحریر ہے جس کی کتابی صورت پر کام شروع کروں گا بہت جلد۔باقی الحمداللہ جتنی تحاریر منظر عام پر آ چکی ہیں وہ سب ہی کتابی صورت میں ڈھل چکی ہیں۔


س: آپ نے لکھنے کا آغاز چار سال پہلے کیا ،اس آغاز کا محرک کیا تھا؟
جواب: کتاب پڑھنے والوں کو لکھنے کا شوق بھی ’بائے ون گیٹ ون فری ‘ کی طرح ملا ہوتا ہے۔ یاد رہے میں نے شوق کا کہا ہے۔ جب کوئی کتاب پڑھتا، اپنے نظریات اور احساسات کتاب کے پیچھے لکھنے کی عادت سی تھی۔ ایسے ہی لکھنے کی طرف میرا رجحان بڑھا۔ جب کتب کے پیچھے کے صفحات پر جگہ کم پڑی تو انسٹا پر آ گیا۔ جب احساسات انسٹا پر بھی محدود ہوئے تو باقاعدہ خود لکھنے بھی لگ گیا۔ صحیح کہتے ہیں کہ لکھنا خداداد ہنر ہے۔ آپ کے اندر سے یہ ہنر کب نکل کر آپ کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے،آپ کو نہیں پتا چلتا۔


س: کتب تبصرے کرتے کرتے خود لکھنے کی جانب آ جانا بالکل منفرد تجربہ ہے۔آپ اس متعلق کیا کہیں گے؟
جواب: منفرد سے زیادہ یہ ایک ”اپنے ہاتھوں سے پیروں پر کلہاڑا مارنے “ جیسا تجربہ کہا جائے تو بہتر ہے۔ خود لکھنے سے پہلے میں نے بڑے بڑے مصنفین کی تحاریر کی دھجئیاں اڑائی ہوئیں تھیں۔ جب خود لکھنے لگا تو میرا سب سے بڑا خوف یہی تھا کہ مجھے بہت زیادہ ٹرولنگ سے گزرنا پڑے گا۔ لیکن مجھے ایسے کسی حالات سے گزرنا نہ پڑا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ میں نے وہ غلطیاں یا وہی گھسے پٹے موضوعات کو Continue نہیں کیا جن پر میں چڑتا تھا یا عام ریڈر تنگ ہوتا تھا۔ اس لئے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ کتابوں کو پڑھنے سے آپ سیکھتے ہیں۔ آپ کو کیا لکھنا چاہئے ، یہ آپ کو خود کتابیں بتاتی ہیں۔ جب آپ کتابیں ہی نہیں پڑھیں گے تو آپ کبھی خود کو ایک اچھا لکھاری نہیں بنا سکتے۔ (اپنی نظر میں سب اعلیٰ پیمانے کے لکھاری ہی ہوتے ہیں، میں عوامی نظر کی بات کر رہا ہوں۔)


س: ہمارے قارئین کو اپنے ذخیرہ کتب کے متعلق کچھ آگاہ کیجیۓ کہ آپ کے خزانے میں کتنی کتب شامل ہیں؟کتب سے لگاؤ کا یہ شوق کیسے پروان چڑھا؟
جواب: میرا سب سے پہلا تعارف ہمیشہ ”کتابوں کے خزانے “ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ لوگوں کو یقین نہیں آتا کہ کسی کے گھر اور کمرے میں اتنی ساری کتب ہو سکتی ہیں۔ وہ بھی ایک لڑکے کے کمرے میں۔ کیا لڑکے بھی ناولز پڑھتے ہیں؟ جمع کرتے ہیں؟ تو جی ہاں! ہوتے ہیں بھئی۔ میں نے لاسٹ ٹائم جب کتابیں گنی تھیں، تب تقریبا ً سترہ سو کے قریب قریب کتابیں تھیں۔وہ بھی وہ جو اس وقت میرے کمرے میں موجود ہیں، اس کے بعد بھی کتابیں آئیں اور حیدر آباد میں الگ موجود ہیں۔تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کتنی کتابیں ہوں گی۔کتابوں کو بچپن سے اپنے آس پاس دیکھا ہے۔ ایک دلی لگاؤ سا محسوس ہوتا تھا۔ کتابیں باقاعدہ جمع کرنے کا خبط مجھے 2018 سے ہوا جب ہاسٹل میں کرنے کو میرا پاس کوئی خاص کام نہ ہوتا تھا۔ جب ناولز باقاعدہ منگوا منگوا کر میں نے چاٹ ڈالے اور جب یونیورسٹی سے فارغ ہوا تو پتا چلا۔ ”ہائی لہ! اتنی ساری کتابیں! “


س: کیا پہلا ناول لکھنے سے پہلے اندازہ تھا کہ اسے اتنی پزیرائی ملے گی؟
جواب: بالکل بھی نہیں۔ مجھے تو یہی تھا کہ آدھے سے زیادہ عوام کو ناول سمجھ ہی نہیں آئے گا کیونکہ اس طرح کی کہانی کبھی میں نے خود بھی نہ پڑھی تھی، نہ مجھے اندازہ تھا کہ میں لکھ سکوں گا مگر لکھتے لکھتے لکھ ڈالی۔ اس کو جب اتنی زیادہ پزیرائی ملی تو ہمت جمع ہوئی اور پھر باقاعدہ سیکھ کر لکھنا شروع کیا۔ میری پہلی کہانی ”پلکوں کی چھاؤں میں “ کو اب تک لوگ کہتے کہ ایسی منفرد کہانی ہم نے نہیں پڑھی۔ اس کا ٹوئسٹ ون آف دا بیسٹ ٹوئسٹز میں سے ایک ہے۔


س: اکثر اوقات مصنفین لکھنے کا آغاز کسی ڈائجسٹ سے کرتے ہیں،لیکن مرد حضرات کی تحریر کو ڈائجسٹ میں جگہ نہیں دی جاتی۔آپ اس ناانصافی پہ کیا کہیں گے؟
جواب: ناانصافی ہی ہے۔ ویسے تو مرد حضرات کے ڈائجسٹ وغیرہ بھی ہیں مگر وہاں نئے لکھاریوں کی کوئی جگہ نہیں۔وہاں بس انہی نامور لکھاریوں کی مونوپلی ہے جو صدیوں سے لکھتے آ رہے یا ان کے جان پہچان والے۔ میری نظر میں ڈائجسٹ ایک اچھا ذریعہ ہے آپ کی تحاریر کو نکھار کر ایک اچھی اوڈینس تک پہنچانے کا...مگر سوشل میڈیا کے آنے کے بعد ، جہاں لکھاریوں کے لئے آسانی کے در وا ہو چکے ہیں، وہاں اب ڈائجسٹ کا معیار بھی وسطاً رہ گیا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ معیار خراب ہو گیا ہے، مگر ویسا نہیں رہا جیسا ہم بچپن اور نوجوانی سے دیکھتے آ رہے تھے۔ ہر شمارے میں ایک نہ ایک تحریر ایسی ہوتی تھی جو اچانک سے بیٹھے بیٹھے یاد آجانے پر بھی ہمیں اس تحریر کو ڈھونڈنے اور دوبارہ پڑھنے پر اکسایا کرتی ہے۔ جسے جب سوچو تو مسکراہٹ لبوں کا احاطہ کر لیتی یا آنکھ کا ایک کونا نم ہو جاتا۔ اب تو وقت ہو گیا مجھے ڈائجسٹ میں ایسی کوئی تحریر پڑھنے کو نہیں ملی۔ مجھے ذاتی طور پر ڈائجسٹ میں لکھنے کا شوق بہت ہے، مگر میرا نہیں خیال کہ میں کبھی لکھ سکوں گا۔ یہ قسمت میں ہی نہیں شاید...!


س: کچھ اپنی کتب کے متعلق بتائیے کہ ان سب کا موضوع ایک دوسرے سے کس حد تک جدا ہے؟
جواب: میری ہمیشہ کوشش ہوتی کہ ہر بار کوئی نیا موضوع اٹھاؤں۔ ان کی سیٹنگز الگ، کہانیاں الگ، حالانکہ کردار بھی بہت جدا لکھوں۔ ”پلکوں کی چھاؤں میں “ جہاں ایک پرانے زمانے کے دیہاتی طور اطوار کو دکھاتی ہے، وہیں ”میں محبت اور تم “ کرونا کے زمانے میں بدلے ماحول کو طنز و مزاح کی آمزش کے ساتھ قاری کو فیملی کی اہمیت سمجھاتی ہے۔ ”محبت فاتح عالم ٹھہری “ پولیس کے حوالے سے دن رات گزرتے حالات کی ایک مختصر جھلک دکھاتی ہے، وہیں ”لڑک لڑی پیا لار کرے “ دو عورتوں کی مختلف Ideology کو ایک سہل انداز میں قاری کو پیش کرتی ہے کہ آپ ہی فیصلہ کرو کون سی Ideologyآپ کے حساب سے بہتر ہے۔ ”اور تبدیلی گلے پڑ گئی “ ایک روم کوم ، دو خاندانوں کی کہانیوں جن کے بیچ صدیوں کی ایک ناراضگی چل رہی ہے۔ آپ ان تحاریر میں ایک چیز نوٹ کروگے کہ ہر کہانی میں رشتوں کو اہمیت دی گئی ہے مگر پھر بھی ہر کہانی ایک دوسرے سے ہر طور پر جدا ہے۔


س: آپ ہمیشہ اچھوتے موضوعات منتخب کس طرح کرتے ہیں؟کہاں سے موٹیوشن ملتی ہے؟
جواب: اکثر لوگ جانتے ہیں کہ میری ہر کہانی کا موضوع میری امی کا بنایا ہوا ہوتا ہے۔ ان کی سوچ کو کس طرح سے آگے لے کر چلنا ہے، یہ میرا کام ہوتا ہے۔ میں جب بھی کوئی موضوع منتخب کرتا ہوں، اس کی پہلی کوشش ہمیشہ یہی ہوتی کہ اس کو پہلے ناولوں سے جدا کس طرح رکھنا ہے۔ اس کو شیپ کرنے کا مرحلہ مجھے ہمیشہ موٹیویٹ کرتا ہے۔ جو سب لکھ رہے، وہی نہ لکھنے کی چاہ مجھے مزید کچھ نئے کی طرف لے جاتی ہے۔


س: کچھ اپنی جہد مسلسل کے متعلق بتائیے کہ مصنف بنتے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب: مشکلات بس یہی ہوتی کہ الفاظ روٹھ جاتے ہیں تو مہینوں مہینوں مجھ سے دور رہتے ہیں۔ نوکری بھی کرتا ہوں تو اسی میں ساری ذہنی مشقت ختم ہو جاتی ہے اور لکھنے کی طاقت نہیں بچتی۔ لکھنے کو نوکری کے ساتھ لے کر چلنا بہت مشکل کام ہے۔ ہر مصنف / مصنفہ کو شاید یہی چند مسئلے درپیش آتے۔


س: ”لڑک کرےلڑی پیالار“ کا نام اور اس کی تھیم بے حد منفرد ہے کچھ اس کے متعلق بتائیں کہ یہ کس بارے میں ہے؟
جواب: لڑک لڑی پیا لار کرے ، سندھی زبان کا ایک جملہ ہے جس کا مطلب ہے کہ ”آنسو قطار کی طرح نکلتے چلے گئے۔ “ یہ جملہ مجھے بہت پسند تھا۔ ایک سندھی گلوگار ہیں سرمد سندھی۔ سندھیوں کے ساتھ ہو رہی زیادتیوں پر وہ باغیانہ کلام پڑھا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے ان کو قتل بھی کر دیا گیا۔ لڑک لڑی پیا لار کرے کا موضوع ویسے تو دل آراء کا ہے جو پڑھ لکھ کر سندھ کے گاؤں سے نکل کر اپنے خواب پورا کرنا چاہتی ہے، اپنا سب کچھ لٹا کر ...جلا کر...مگر میرا پسندیدہ کردار آئینہ کا ہے جو اصل میں ثابت کرتی ہے کہ کامیابی کہتے کس کو ہے۔ اس ناول کو مکمل کرنے کے بعد آپ محسوس کریں گے کہ یہ تو بہت سادہ سی کہانی ہے، مگر جب آپ یہ کہانی پڑھ رہے تھے، تب یہ اتنی سادہ نہیں لگتی۔ چھوٹے چھوٹے ٹوئسٹ آپ کو آخر تک الجھائے رکھتے ہیں۔


س: آپ کو اپنا کونسا ناول بے حد پسند ہے جس کے متعلق کہیں گے کہ یہ سب کو ضرور پڑھنا چاہیے؟
جواب: یہ مشکل سوال ہے مگر مجھے ذاتی طور پر اپنا ناول ”ہم سب عجیب بلکہ بہت عجیب سے ہیں۔ “ بہت زیادہ پسند ہے۔ یہ اتنا پسند ہے کہ اسے میں نے بیچ میں لکھنا چھوڑ دیا۔ اسے مکمل ہوتے مجھ سے دیکھا ہی نہیں جا رہا تھا۔ ایک مشکل موضوع اور مزاح کا تڑکہ ساتھ ساتھ لے کر چلنا مجھے تھکا دیتا تھا۔ اسے جب قریبِ مستقبل میں ، میں مکمل کروں گا تو یہ ناول میں سب کو پڑھنے کا ضرور کہوں گا۔


س: آپ کا تعلق سندھ سے ہے اس کا اثر آپ کی کہانیوں میں واضح جھلکتا ہے ،آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اپنی ثقافت اور تہذیب سے جڑے رہنا کیوں اہم ہے اور نئی نسل اسے کیوں غیر اہم سمجھتی ہے؟
جواب: میرے والد کی نوکری ہی ثقافت سے منسلک ہے۔ ظاہری بات ہے کہ ثقافت کی محبت سے میں خود کو دور نہیں رکھ سکتا تھا۔ ثقافت آپ کی پہچان بنتی ہے۔ آج کی نسل جو سو کولڈ مغربی دنیا کی ثقافت کو اپنا کر ، اپنے آپ کو روشن خیال ظاہر کرتے ہیں، ثقافت کے اصل رنگوں سے خار کھاتے ہوئے دوسری تہازیب کو اپنا کر فخر محسوس کرتے ہیں...ان سے زیادہ گھٹیا لوگ میری نظر میں اور کوئی نہیں۔ آپ کی شخصیت ، ایک ثقافت کے اثر سے پروان چڑھتی ہے، یہ غیر اہم کیسے ہو سکتا ہے؟


س: نئے لکھاریوں کو ناول لکھنے کے بعد شائع کروانے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے مگر آپ نے اپنے ادارے سے ہی پبلشنگ کا آغاز کیا۔اس کا خیال کیسے آیا اور کچھ اس ادارے کے متعلق ہمارے قارئین کو بتائیے۔

جواب: اپنی لکھی تحریر کو کتابی صورت میں دیکھنے کا شوق ہر لکھاری کا ہی ہوتا ہے۔ مجھے بھی تھا۔ اپنی پہلی تحریر کو جب کتابی صورت میں ڈھالا تو میرا واسطہ چند ایسے لوگوں سے ہوا جو میرے ہم عمر و ہم خیال تھے۔ ان کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی ہوئی تو ہم نے مل کر اس پلیٹ فارم کو تشکیل دیا ۔ اس پلیٹ فارم کا اول مقصد ان کہانیوں کو کتابی صورت میں ڈھالنا تھا جو کتابی صورت اختیار کرنے کا حق رکھتے تھے۔ تین چار اچھے پروجیکٹس کے بعد لوگوں کا اعتماد بڑھا ۔ قارئین کی تعداد میں اضافہ ہوا۔الحمداللہ اب تک پچیس کتابیں ہمارے پلیٹ فارم سے شائع ہو چکی ہیں۔


س: اگر کوئی آپ کے ادارے سے کتاب چھپوانا چاہے تو اسے کن باتوں کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے ؟
جواب: پہلی اور آخری شرط اچھی اور قابلِ اشاعت تحریر کا ہونا لازم ہے۔ باقی باتیں پھر ثانوی ہو جاتی ہیں۔


س: آپ مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ کتابوں کے سرورق بھی ڈیزائن کرتے ہیں،کیا آپ کا بھی یہی نظریہ ہے کہ مصنف اپنی تخلیق کی بہتر منظرکشی کر سکتا ہے ۔
جواب:اپنی کتاب کے بارے میں رائٹر سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ دنیا میں آپ جہاں جائیں گے، کتاب کی جب پبلشنگ ہوتی ہے، اس کے اول و آخری مرحلے تک رائٹر کا ساتھ ہوتا ہے مگر یہاں پاکستان میں حساب الٹا ہے۔ یہا ں بس رائٹس لینے کے بعد پبلشرز ، رائٹر کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال باہر کرتے ہیں۔ پچھلے پانچ چھے سالوں سے ذرا ماحول بہتر ہوئے ہیں۔ اب دیکھیں سر ورق میں کرئیٹو اٹی دکھتی ہے جو کہ ایک اچھی چیز ہے۔


س: کیا کتابیں لکھنا اور بیچنا ذریعہ معاش بن سکتا ہے؟کیونکہ یہ سوال ہر نئے لکھاری کی جانب سے ضرور پوچھا جاتا ہے۔
جواب: کتابیں لکھنا اور بیچنا ذریعہِ معاش بنا ہوا ہے مگر اس میں قسمت شامل ہے۔ ادھر ایک کتاب کو مارکیٹ میں لا کر رائٹر نے لاکھوں کما لئے ہیں اور کچھ نے تین کتابیں مارکیٹ میں لا کر بھی ایک دھیلا نہیں کمایا۔ نئے لکھاریوں کو یہی مشورہ ہے کہ اپنے لکھنے کا احترام کریں۔ آگے کی چیز اللہ پر چھوڑ دیں۔


س: ایسا کون سا سوال ہے جو، جب بھی پوچھا جائے بے حد چڑ ہوتی ہے؟
جواب: ”آپ نے اتنے ناول پڑھے ہیں کوئی ریکمنڈ کر دیں۔ “ یہ سوال بریانی میں الائچی کی طرح مجھے بد مزہ کرنا ہے۔ بہت پہلے ایک دور تھا جب صرف تین کتاب یا تین لکھاری ہی کے بارے میں بکاسٹاگرام پر سننے کو ملتا تھا۔ اب تقریباً ہر کتاب کے بارے میں آپ کو تبصرے مل جاتے ہیں۔ کمینٹس مل جاتے ہیں۔ آپ کو دلچسپ لگ رہا ہے تو بسم اللہ کریں۔ پوچھ پوچھ کر بھی لوگ پڑھتے نہیں ہیں، بس سوال کر کے مجھے تنگ کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے میں ایسےسوال اب دیکھتا ہی نہیں، نہ جواب دیتا۔


س:آپ پیشے کے لحاظ سے انجنئیر ہیں تو کیا ناول نگاری انجنئیرنگ سے متضاد فیلڈ نہیں ؟کیا جاب کبھی لکھنے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے؟
جواب: یقیناً ہے۔


س: ادبی سفر میں کس شخصیت نے سب سے زیادہ حوصلہ افزائی کی ؟
جواب: ایک ہی نام ہے، جس کے بغیر میرا ادبی سفر تو کیا، کوئی بھی سفر ممکن نہیں۔ شائشتہ ایوب! میری امی۔


س: آپ نے مایہ ناز اور شہرہ آفاق مصنفین کوپڑھا ہے تو بتائیے کہ زمانہ قدیم اور دور حاضر کے کن ادباءکے کام سے بے حد متاثر ہیں؟
جواب: ذاتی طور پر میں عمر سعید (قلمی نام بشریٰ سعید کے نام سے مشہور ہیں) اور عنیزہ سید کے کام سے بہت زیادہ متاثر ہوں۔


اچھا کچھ اپنی پسند ناپسند کے متعلق بتائیے۔

پسندیدہ مصنف: بشریٰ سعید / عنیزہ سید ہمیشہ پہلے نمبر پر...!

پسندیدہ شاعر: قتیل شفائی

پسندیدہ شعر: نظم میری یہ پسندیدہ ہے۔

تم مری کون ہو، تم سے ہے تعلق کیسا

تم کسی دھند میں لپتی ہوئی تنہائی ہو

میری شہرت ہو، دعا ہو، میری رسوائی ہو

بات کرتی ہو تو کبھی چپ میں بکھر جاتی ہو

کیوں میری روح کے گوشوں پہ ستم ڈھاتی ہو

تم میری کون ہو، تم سے ہے تعلق کیسا

(وصی شاہ)

پسندیدہ لباس: شلوار قمیص

پسندیدہ خوشبو: لیجنڈ

پسندیدہ کھانا: حلیم

پسندیدہ رنگ: کالا

پسندیدہ ملک: پاکستان


س:مستقبل میں کن موضوعات پر لکھنے کا ارادہ ہے؟
جواب: بہت جلد ایک ہارر کامیڈی ناول شروع کرنے والا ہوں۔ یقینا یہ ایک نئی چیز ہے جس کو ابھی تک قلم بند نہیں کیا گیا، یا اس طرح ایکپلور نہیں کیا گیا جیسا میں اس بار کرنے جا رہا۔ اس کے علاوہ ایک متنازع ٹاپک بھی ہے جس پر میں چپی باندھ کر رکھنا چاہتا ہوں۔ کوئی کاپی ہی نہ کر لے۔ لکھنے کو ڈھیروں موضوعات ہیں، بس اللہ وقت دے۔ ان شاء اللہ ہر بار کچھ مختلف ہی ملنا ہے میری طرف سے۔


س: ان لائن رائٹرز ایسی کونسی غلطی کرتے ہیں جو انہیں نہیں کرنی چاہیے؟
اونلائن لکھاری پڑھنے سے زیادہ بس لکھنے پر فوکس کر رہے ہیں۔ میرے خیال سے ان کی سب سے پہلی اور گھمبیر غلطی یہی ہے۔ اسی وجہ سے ان کی تحاریر نہ دل کو اثر انداز ہوتی ہے، نہ کوئی احساس ہی جگا پاتی ہے۔ نہ نثر یونیک ہوتی ہے نہ دیر تک یاد رہنے والے کردار۔ مشاہدہ اور مطالعہ وسیع کرنے سے یقیناً ان چیزوں کو بہتر کیا جا سکتا ہے مگر افسوس کے ساتھ اس پر عمل پیراہن بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ شاید اس لئے بھی لوگ نئے لکھاریوں سے مایوس ہو چکے ہیں۔


س: آخر میں اپنے پڑھنے والوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں؟
جواب: کتابوں کی اہمیت کو جانیں، اس کی قدر کریں۔ لکھنے والوں کی عزت کریں۔ خرید کر کتابیں پڑھیں، اپنے بچوں کو کتاب پڑھنے کی عادت میں مبتلا کریں۔ اپنے بچوں کو کتاب خریدنے پر Encourage کریں۔ مجھے دعاؤں میں یاد رکھیں۔
جزاک اللہ خیرا ہمایوں بھائی!
آپ سے مل کر بے حد اچھا لگا۔یقینا ہمارے قارئین بھی یہ انٹرویو پڑھ کر بے حد محضوظ ہوئے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کو بے شمار کامیابیوں سے نوازے اور آپ اسی طرح بہترین ادب تخلیق کرتے رہیں۔آمین۔

اب ہمیں اجازت دیجیئے اگلی بار کسی نئی شخصیت کے ساتھ پھر حاضر ہوں گے اللہ حافظ۔

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...