Skip to main content

سرکس ہی سرکس

 سرکس ہی سرکس


از سارہ عمر 


الریاض، سعودی عرب۔





ایک زمانہ تھا کہ زندگی میں ٹی وی اور موبائل نام کی کوئی تفریح نہیں تھی سو دور دراز گاؤں اور شہروں میں کچھ کچھ عرصے کے لیے میلے اور سرکس کا انعقاد کیا جاتا۔کہیں بندر کا تماشا ہوتا تو کہیں بھالو کا،کہیں کوئی رسی پہ دونوں ہاتھ چھوڑے چل رہا ہوتا تو کہیں کوئی ٹانگیں لکڑی کے پٹے میں پھنسائے الٹا لٹک رہا ہوتا۔کہیں کوئی بازی گر منہ سے آگ نکال رہا ہے تو کہیں کوئی شعبدہ باز ٹوپی سے کبوتر نکال کر شائقین سے داد سمیٹ رہا ہے۔ان سب میں موت کا کنواں، سر کٹا آدمی اور سر الگ دھڑ الگ والی مخلوق کو دیکھنے کے لیے سب سے زیادہ رش ہوتا تھا۔

پھر زمانہ بدلہ،پہلے ٹی وی آیا پھر موبائل اور پھر انٹرنیٹ کی چکاچوند نے سب کو حیران کر دیا۔

اب تو کسی سرکس کو دیکھنے کے لیے نہ پیسے دینے کی ضرورت ہے،نہ مہینوں کا انتظار۔جس جانب منہ اٹھائیے ایک سرکس لگا ہوا ہے اور مقامی شائقین اپنا قیمتی وقت بھرپور طور سے اس کو دے رہے ہیں۔

سڑک پہ نکلیے تو ایک سے بڑھ کر ایک تماشا آپ کا منتظر ہے۔سڑک پہ جہاں گاڑیوں کا اژدھام ہے،وہاں بیچ میں کوئی دو چار موٹر سائیکل سوار زگ زیگ موٹر سائیکل گزار کر سوئی کے ناکے میں سے اونٹ گزارنے کے مترادف اپنی سواری باد باری کو لے کر چلتے بنیں گے۔اسی پہ بس نہیں پاکستان کی سب سے خصوصی سواری تو رکشہ ہے۔بچوں کو جب گاڑی چلانی نہیں آتی تو انہیں تین پہیوں والی سائیکل دی جاتی ہے،یہ رکشہ بھی اسی سائیکل کا بڑا بھائی ہے جسے بڑے ہو کر بھی چلنا نہیں آیا۔جہاں سے سانپ کے گزرنے کا بھی راستہ نہ ہو یہ رکشے والے وہاں سے پورا رکشہ گزار کر لے جاتے ہیں۔اس جاتے جاتے میں کس کا شیشہ،کس کا ہینڈل اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں یا توڑ کر جاتے ہیں ان کی بلا سے۔پیچھے سے نئی کرولا والا چلائے یا ٹریفک میں پھنس کر چیختا رہے انہیں کیا غم؟وہ تو بس اپنی سواری کو ”ٹیم سے“پہنچانے کے ذمے دار ہیں۔

گاڑیاں تو گاڑیاں ٹریفک سگنل کی بھی اپنی ہی زبان ہے۔جس کو سرخ اور ہری بتی کا مقصد پتہ ہے وہ عمل کر لیتا ہے مگر یہ پیلی بتی کیا بیچ میں سجاوٹ کے لیے بنائی ہوئی ہے؟پاکستانی عوام کو تو یہ بالکل ہی بے مصرف لگتی ہے سو جب جس کا دل جاتا ہے اس پہ ”نس پج“ جاتا ہے۔۔اگر آپ سگنل پہ بہت دیر سے کھڑے گرمی سے سڑ رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ ابھی تک کوئی نیا شوشہ کیوں نہیں چھوٹا تو بے فکر رہیے،شوشہ خراماں خراماں آپ ہی جانب چلا آ رہا ہے۔لمبے چوڑے قد والا مرد،جس کے سانولے چہرے پہ دو ٹن میک اپ لدا ہوا ہے،پیلے دانتوں پہ گہری سرخی،لمبی چٹیا والی وگ لگائے یہ شوشہ آپ کی کھڑکی پہ ہی رک کر تھوڑی دیر کو ضرور کہے گا۔

”سونیو!ذرا صبح صبح کچھ دیتے جاؤ آفس میں باس سے ڈانٹ نہیں پڑے گی۔“

بے شک گاڑیوں کی لمبی قطاریں ہوں مگر سگنل پہ موجود سب مردوں کی نظر ایک بار اس مخلوق پہ اٹھیں گی ضرور۔اب بے شک سگنل کھل بھی جائے مگر اس عورت نما مرد کو سب دیکھتے ہوئے گزریں گے۔حالانکہ معلوم بھی ہو گا کہ اس کا تعلق حقیقتا تیسری جنس سے نہیں۔کیوں کہ اب تیسری جنس بھی خود کو انسان سمجھتے ہوئے اتنی باشعور ہو گئی ہے کہ تعلیمی اداروں اور نوکریوں کا رخ کرنے لگی ہے۔مگر غربت کے ہاتھوں پیسا ہوا طبقہ نقلی روپ دھار کر کچھ دیر سڑک پہ تماشا لگا کر اچھی دھاڑی لگا لیتا ہے۔پھر یہ کوئی ایک تماشا تھوڑی ہے؟ہاتھ قمیض کے اندر چھپا کر ہاتھ کٹا ظاہر کرنے کا تماشا،کسی چھوٹی سی لڑکی کو کسی اور کا بچہ مانگ کر گود میں پکڑا کر بھیک مانگنے کا تماشا،منہ پہ لیپ و روغن لگا کر جلے ہوئے ہونے کا تماشا،کبڑا ہونے کا تماشا،بیمار بچے یا بزرگ کی جعلی رپورٹ اٹھا کر چندہ مانگنے کا تماشا۔جب ان مانگنے والوں سے کہیں کہ آپ کا علاج معالجہ کروا دیں یا کسی نوکری پہ لگوا دیں تو یہ بغلیں جھانکتے ہوئے ایسا سر پٹ بھاگتے ہیں جیسے کسی نے ان کی دم پہ پاؤں رکھ دیا ہو۔

مرزا کہتے ہیں نا

بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے 

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے 

سڑک کے تماشے کی بات ہو اور پیدل چلنے والے محروم رہ جائیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔گاڑیاں آ رہی ہوں جا رہی ہوں،پیدل چلنے والے سپر مین ہیں بھئی!یہ فراٹے بھرتی گاڑیوں کے آگے سے فراٹے بھرتے گزر جائیں گے۔اوور ہیڈ برج بنا بھی ہو تو اتنی سیڑھیاں کون چڑھے؟بس دو روکاوٹوں کے اوپر سے کود کر مخالف سمت چلے جاؤ یا پھر لوہے کی ٹوٹی جالیوں کے بیچ میں سے بلی کی طرح نکل جاؤ۔یہ ٹیلٹ بھی صرف پاکستانیوں کے پاس ہے کیونکہ انہیں چالان کا کوئی خوف ہی نہیں۔اگر ہو بھی گیا تو جتنے کا چالان نہیں ہے اس کے آدھے پیسے دے دلا کر چھوٹ جائیں گے۔

سڑک کا چوک ہو یا آفس کے لوگ،ایوان سیاست کا اکھاڑا ہو یا انٹرنیٹ کا مارا۔ہر جگہ سرکس ہی سرکس۔تماشے ہی تماشے،دھوکے ہی دھوکے،فریب ہی فریب۔

عوام کی جانب نظر کرو تو ایک الگ دنگل چل رہا ہے۔کبھی کوئی خاتون، پولیس اہلکار کے اوپر گاڑی چڑھا کر کرتب دکھا رہی ہے تو کبھی کوئی دوست صرف ایک برگر کھانے پہ دوسرے دوست کی جان لے لیتا ہے۔جیسے مداری ڈگڈگی بجاتا ہے تو بندر کا تماشا دیکھنے کے لیے سب اکھٹے ہو جاتے ہیں بالکل ویسے ہی دن رات ہمارے اردگرد یہ ڈگڈگی بجتی رہتی ہے اور ہر روز ایک نیا سرکس،نیا تماشا،نیا بہروپ ہمارا منتظر ہوتا ہے۔

یہاں تو سی ایم کا پولیس یونیفارم پہنا ایک قابل ذکر کارنامہ ہے جس پہ دھڑا دھڑ سوشل میڈیا پوسٹ کی جاتی ہیں جیسے اس سے بڑا کوئی مسئلہ تو ملک کو لاحق ہی نہیں اور تو اور اس ملک میں تو گلوکار کا اپنے اکاؤنٹ سے پوسٹ ڈیلیٹ کرنا بھی ایک خبر ہے جس پہ نہ صرف خبر چلائی جاتی ہے بلکہ ہر جانب سے مختلف قیاص آرائیاں بھی کی جاتی ہیں۔سیاسی ایوانوں میں جھانک کر دیکھیں تو ٹی وی چینل پہ ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلنے والے مخالف پارٹی ممبر، پارلیمنٹ کی کینٹین میں سموسے کھاتے اور چائے کی چسکیاں لیتے باہم شیر و شکر نظر آئیں گے۔اس لمحے عام عوام انہیں دیکھ لے تو ایک دوسرے کے خلاف منہ سے آگ نکالنے والا کرتب بھول جائیں۔یہ سیاسی سرکس تو روز عوام کو ایک نیا تماشا دیکھاتے ہیں اور ہر آنے والے دن کے لیے ایک نئے تماشے کا موضوع تیار رکھتے ہیں۔


ہماری عوام سرکس کے تماشوں کی اس قدر شوقین ہے کہ حکمرانوں نے معیشت کو بھی فقط ایک تماشا بنا کر رکھ دیا ہے۔عوام خاموش تماشائی کی طرح معیشت کو کبھی رسی پہ چلتا دیکھ رہی ہے تو کبھی یہ ہوا میں الٹی لٹکی جھولتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے مگر ہم منہ کھولے حیرت سے اس معیشت کے بخیر و عافیت رسی سے نیچے گرنے کے منتظر ہیں۔ملک کہاں جا رہا ہے کہاں نہیں ہمیں کوئی غرض نہیں،بس ہم آنکھوں پہ پٹی باندھے مہنگائی کے اندھے کنواں میں گاڑی چلائے جا رہے ہیں اور شدید پُرامید ہیں کہ اس پر پیچ مہم کا خاتمہ بھی موت کے کنواں کی طرح شاندار ہو گا۔مہنگائی گول گول گھومتی زمین پہ واپس آ جائے گی اور ہمارے اوپر چاروں طرف سے تالیوں اور نوٹوں کی بارش ہو جائے گی۔کبھی کبھی معاشرے کی حالت ممتاز بیگم جیسی بھی لگتی ہے جس کا سر انسان کا دھڑ جانور کا ہے۔ہمارے اردگرد بھی موجود انسانوں کے بس چہرے ہی انسانوں جیسے ہیں ورنہ کرتوت تو سب کے سب جانوروں والے ہی ہیں۔کہیں جانوروں کی طرح کسی کو ذبح کر دیا تو کبھی جانوروں کی طرح کسی کی عزت لوٹ لی۔اب تو جانور بھی انسانوں کے کرتوت دیکھ کر اپنے نام بدلنے کی سوچ رہے ہیں،حتی کہ کتوں اور گدھوں کو تو شدید تحفظات ہیں اور وہ سخت نالاں نظر آتے ہیں کہ ہمارے کرتوت اب اتنے بھی برے نہیں کہ حضرت انسان کو ہمارے ناموں سے پکارا جائے۔بلکہ انسان تو وہ ہیں جو کتوں اور گدھوں کا بھی تکہ فرائی اور سیخ کباب بنا دیتے ہیں۔چلیں اس پہ پھر کبھی بحث سہی!آپ اللہ تعالیٰ سے بس انسان کے انسان بننے کی دعا کیجیے۔

وہ کہتے ہیں نا!

فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا 

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...