Skip to main content

امی کے نام خط

امی کے نام خط

سارہ عمر 







 السلام علیکم!

امید کرتی ہوں آپ جہاں ہوں گی یقینا خوش ہوں گی۔بہت بار سوچا کچھ لکھوں مگر پھر لکھتے لکھتے رک جاتی ہوں ہمت نہیں کر پاتی۔خوشی کو لکھنا آسان ہے غم لکھنا بہت مشکل۔دل پہ جبر کرنا پڑتا ہے۔آج بہت ہمت کر کے کچھ الفاظ لکھنے کی سعی کی ہے۔کاش یہ آپ تک پہنچ پائیں۔

کہنے کو تو آپ کی بیٹی ایک مصنفہ ہے،الفاظ کے موتی پرو کے رنگ برنگ مالائیں تخلیق کر لیتی ہے مگر ماں سے محبت کا اظہار کرنے میں بہت چور ہے۔سال 2021 کا آخری مہینہ بھی اپنے اختتام کو ہے سال پہ سال بیت رہے ہیں مگر میں تو ابھی تک اسی لمحے میں قید ہوں جب آپ کے اس دارفانی سے رخصت ہونے کی خبر ملی تھی۔سنا تھا مرنے والوں پہ صبر آ جاتا ہے مجھے تو لگتا ہے ماں کی موت پہ کبھی صبر آ ہی نہیں سکتا۔یہ تو ساری زندگی کا روگ ہے جسے سینے سے لگائے ہم زندگی بسر کرتے رہتے ہیں۔کہنے کو دنیا کے سامنے ہنستے ہیں مگر چھپ چھپ کے اپنے آنسو اپنے ہی اندر گرا لیتے ہیں۔

دکھ اس بات کا نہیں آپ مجھے چھوڑ گئیں دکھ تو فقط اپنے پچھتاوں کا ہے کہ آپ کی خدمت کا حق ادا نہ کر سکی۔بیماری میں ملنے آئی بھی تو پردیسی بیٹی ہسپتال کے کوریڈور میں موجود ہوتے ہوئے بھی لا شعوری طور پر پردیس کی فکر میں ہی گھلتی رہی۔وہ چند دن جو ہسپتال اور گھر کے بیچ پینڈولم کی طرح جھولتے گزرے وہ میری حیات کا سرمایہ ہیں۔بس وہ چند گھڑیاں جب آپ کا ہاتھ تھام کر آپ سے کہا تھا آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گی اور آپ نے کہا تھا میں تمہاری تحریر پڑھوں گی،ضرور پڑھوں گی،کبھی تو تمہاری کتاب بھی میرے ہاتھ ہو گی۔

میرا دل چاہتا ہے میں ایک بار آپ کو ابدی نیند سے جگا کر کہوں "امی ایک بار بس ایک بار میری چار کتابیں دیکھ لیجیے۔انہیں چھو کر دیکھیں یہ میں نے لکھی ہیں آپ کی بیٹی نے۔آپ کی بیٹی آپ کے جانے کے بعد دو سال تک راتوں کو سوئی نہیں۔اس کی راتیں جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتے اور انہیں پورا کرتے گزری ہے۔امی ایک بار کہیں سارہ تم نے میرا مان رکھ لیا۔ایک بار میرے لکھے الفاظ کو پڑھ کر میری حوصلہ افزائی کر دیں۔جس دن آپ کی موت کی خبر سنی تھی اس دن قسم کھائی کہ اپنی بساط سے بڑھ کر محنت کروں گی۔جس کتاب کو تھامنے کی خواہش لیے میری ماں اس دنیا سے چلی گئی اسے ممکن بنانا ہی میرا مقصد حیات ہے۔بے شک میں نے اس معاملے میں دھوکہ بھی کھایا مگر میرے قدموں کو لوگوں کے طعنے،لوگوں کی تنقید کبھی روک نہیں سکی۔

میرا دل چاہتا ہے اب بھی میں فون کروں تو آپ کی آواز سننے کو ملے۔اب بھی میں گھنٹوں گھنٹوں آپ سے باتیں کروں۔آپ سے اپنا حال کہہ سناؤں۔اپنی بہنوں کی نسبت خود کو بہت بدقسمت سمجھتی ہوں جو نہ تو آپ کی زندگی میں آپ کی خدمت کر سکی اور نہ ہی موت کے وقت بیٹی کے فرائض پورے کر سکی۔مجھے نہیں معلوم آپ اتنی جلدی ہمیں کیوں چھوڑ گئیں شاید ماؤں کو کبھی بچوں کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے۔

آج بھی تنہائی میں پہلی یاد آپ کی آتی ہے،کاش میں ایک بار آپ سے مل سکوں تو شاید وہ سب کہہ پاؤں جو آج تک نہیں کہہ پائی۔میرے لکھے الفاظ میں ربط نہیں شاید آپ کی یاد ہمیشہ میری سوچوں کو بے ربط کر دیتی ہے۔اپنی بیٹی کو معاف کر دیجیے گا وہ بیٹی ہونے کا حق نہیں ادا کر پائی۔

آپ کی بیٹی،


سارہ عمر

Comments

  1. Now its 5 years, but still I have sleepless nights...I have many books but no mother besides me... sometimes I feel like, I m going to meet her soon,very soon...May Allah raise her ranks in Jannah ameen

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...