انٹرویو
مصنف و ناول نگار
عبداللہ وسیم
میزبان:سارہ عمر
دنیا کے عظیم رہنماؤں میں سکندر اعظم کا نام بے حد مقبول ہے۔سکندر اعظم نے نہایت کم عمری میں دنیا فتح کی اور اس کے نام کی بازگشت آج تک تاریخ کے اوراق میں سنائی دیتی ہے۔کچھ ایسے ہی کم عمر،اعلی صلاحیتوں کے مالک افراد ہمارے اردگرد موجود ہیں جن سے ہم بے خبر رہتے ہیں۔ان باصلاحیت نوجوانوں کا کام ہی ان کے نام کا لوہا منواتا ہے۔آج ہماری نشست میں بھی ایک نامور شخصیت شامل ہیں جن کا کام اتنا منفرد ہے کہ ان کے نام کی بازگشت آپ کو جلد ہی ہر سو سنائی دے گی۔
عبداللہ وسیم نئے دور کے مصنف ہیں جن کی یکے بعد دیگرے کئی کتب نے قارئین کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ان کے ناول منفرد اسلوب اور نئے یونرا کے باعث قارئین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
کیوں کہ ہماری بھی عبداللہ سے حال ہی میں ملاقات ہوئی ہے سو چلیے آج آپ کو ان سے ملواتے ہیں اور ان کی شخصیت کے بہت سے پہلو جن سے ابھی ہم روشناس نہیں ہوئے،اس سے پردہ اٹھاتے ہیں۔
س:السلام علیکم عبداللہ!کیسے ہیں آپ؟
ج:وعلیکم اسلام! اللہ کا شکر ٹھیک۔ امید ہے آپ بھی خیریت سے ہیں۔(الحمدللہ)
س:اپنا مختصر سا تعارف کروائیے تاکہ ہمارے قارئین آپ کو جان سکیں۔
ج:میرا نام تو معلوم ہی ہے کہ عبداللہ وسیم ہے۔عمر تئیس سال ہے۔میں انجنئیرنگ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوں۔باقی تعارف آپ کو اگلے سوالات میں پڑھنے کو مل جائے گا۔
س: آپ کا تعلق کس شہر سے ہے اور جائے پیدائش کہاں ہے؟کچھ اپنے خاندان کے متعلق بتائیے کہ بہن بھائیوں میں کس نمبر پہ ہیں۔
ج: میرا تعلق پاکستان کے اس شہر سے ہے جہاں لوگ ہر وقت کھانا کھاتے رہتے ہیں۔جی جی گوجرانوالہ شہر ہی ہے۔ جائے پیدائش میرا ننیال شہر سرگودھا ہے۔
میرے خاندان میں پانچ افراد ہیں۔ ہم تین بہن بھائی ہیں۔ میں سب سے بڑا ہوں اور پھر دو بہنیں ہیں۔
س: آپ ابھی طالب علم ہیں،سو زمانہ طالب علمی میں لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
ج:جب لکھنا شروع کیا تھا تب طالب علم تھا لیکن دو سال ہوئے میری تعلیم مکمل ہو گئی شکر الحمداللہ۔ میں نے بی ایس سافٹ ویئر انجینرنگ کی ڈگری حاصل کی ہے۔
زمانہ طالب علمی میں ہی کتابیں پڑھنا شروع کی تھیں اور پھر جتنی زیادہ پڑھتا گیا ذہن میں کہانیاں جنم لینے لگیں۔ بس پھر ایک کوشش کی کہ شاید میں بھی لکھ سکوں۔ قارئین کو پسند آ گیا تو ٹھیک ورنہ کوئی بات نہیں۔ مجھے تب رائیٹر ہونے کا مطلب بھی نہیں پتا تھا لیکن تصویر پہ لوگوں کا بہت اچھا رسپانس آیا جس سے میری ہمت بڑھ گئی اور میں نے آگے لکھا۔ خیال تب آیا جب میں نمل پڑھ رہا تھا وہاں لفظ تصویر پڑھ کر کچھ کلک کیا۔ سوچا کہ اس نام سے کوئی کہانی لکھوں گا۔ تب میرے دوستوں نے میری مدد کی اور کہانی بنی۔ پہلا تجربہ تھا اسی لیے کچھ غلطیوں کے باوجود اچھا ہو گیا الحمداللہ۔
س:آپ کی کتب سے ہر قاری واقف ہے پھر بھی بتائیے گا کہ اب تک کتنی کتب شائع ہو چکی ہیں اور کتنی تحاریر لکھ چکے ہیں؟
ج: میری اب تک تین کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور تین میں سے دو کے دو ایڈیشن آ چکے ہیں الحمداللہ۔ تحاریر میں تصویر، TRIP، کہف، خوشی، ظلم، ضیف الرحمن (سفرنامہ)، ق شامل ہیں۔ کہف میرا سب سے طویل ناول ہے۔
س: لکھنے کا آغاز کس طرح ہوا؟کیا محرک تھا جس نے لکھنے کی جانب راغب کیا؟
ج: بس یہ سوچا کہ پیار محبت کی کہانیوں سے ہٹ کر کچھ لکھا جائے۔ عشق و محبت کی کہانیوں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ سب نہ لکھاج ائے لیکن صرف یہ سب ہی نہ لکھا جائے۔ کچھ منفرد لکھا جائے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت Genre ہیں۔ ایکسپلور کرنا چاہئے۔ میں یہی سوچ کر لکھنا شروع کیا تھا۔ مرڈر مسٹریز، ایڈونچر، فینٹسی اور بہت کچھ۔۔۔
س:کیا کتاب لکھنے سے پہلے اندازہ تھا کہ اسے اتنی پزیرائی ملے گی؟
ج: تصویر کے بارے میں سوچا تھا کہ کھٹے میٹھے ریویوز آئیں گے لیکن کہف لکھتے ہوئے مجھے اللہ کے ہاں یقین تھا کہ یہ ضرور سب کو پسند آئے گا کیونکہ اسے لکھتے ہوئے میں خود بھی کئی بار پڑھ چکا تھا۔ اللہ نےکہف کو اتنی کامیابی دی جس کا میں شکر ادا نہیں کر سکتا۔ باقی سب کے ریویوز بھی اچھے ہیں الحمداللہ۔ لوگ پسند کرتے ہیں۔ کچھ تنقید بھی کرتے ہیں لیکن خیر ہے۔ تجربات میں اضافہ ہوتا ہے۔
س: اکثر اوقات مصنفین لکھنے کا آغاز کسی ڈائجسٹ سے کرتے ہیں،لیکن مرد حضرات کی تحریر کو ڈائجسٹ میں جگہ نہیں دی جاتی۔آپ اس ناانصافی پہ کیا کہیں گے؟
ج: میں خود بہت حیران ہوں کہ یہ ناانصافی کیوں؟ مرد لکھاریوں کا کیا قصور ہے ویسے؟ مرد حاضرات بھی اچھے لکھاری ہو سکتے ہیں اور بہت سے مشہور بھی ہیں۔ اب عمر سعید کے بارے میں سنا تھا کہ وہ اپنی بہن بشری کا نام استعمال کر کے لکھتے رہے۔ ظاہر ہے مقصد یہ بھی تھا کہ ڈائجسٹ میں چھپ سکے۔ واللہ عالم یہ ناانصافی کیونکر ہے؟ آپ کو کانٹینٹ سے مطلب ہونا چاہیے نا کہ لکھاری کی جنس سے۔ جو اچھا لکھتے ہیں انہیں موقع دینا چاہئے۔
س: آپ کی سب کتابوں کے نام یک لفظی ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟
ج: جو کہانی پہ suit کر گئے وہی۔ میں نے ایسا خود نہیں کیا۔ ویسے میں نے ایک ناولٹ شروع کر کے ادھورا چھوڑ دیا تھا اس کا نام یک لفظی نہیں تھا۔
س: کچھ اپنی کتب کے متعلق بتائیے کہ ان سب کا موضوع ایک دوسرے سے کس حد تک جدا ہے؟
ج: کوشش ہے کہ قلم کے لیے اللہ کا پیغام آگے پہنچا سکوں۔ میری تمام تحریروں میں اللہ کے دین کی بات کی گئی ہے لیکن سب کے الگ الگ حصے ہیں۔ تصویر میں چھوٹی چھوٹی باتوں سے آغاز کیا اور کہف میں اللہ نے آیات پہ تدبر کرنے کا موقع دیا۔ ق بھی اسی طرح ہے۔ یعنی دین کی بات تو سب میں ہے لیکن الگ الگ حصوں میں۔
س: آپ ہمیشہ اچھوتے موضوعات منتخب کس طرح کرتے ہیں؟کہاں سے موٹیوشن ملتی ہے؟
ج: قرآن۔ آس پاس سے بھی جو موضوعات ملتے ہیں تو ان کے جواب میں بھی قرآن کے حوالے دیتا ہوں۔ الحمداللہ کہ اللہ نے مجھے اپنی کتاب سکھائی۔
س:کچھ اپنی جہد مسلسل کے متعلق بتائیے کہ مصنف بنتے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
ج:مصنف بننا اتنا مشکل نہیں رہا لیکن یہ پبلشنگ کے مرحلے بہت مشکل تھے۔ پہلے بہت غلطیاں کرلیں لیکن اب اللہ نے عقل دے دی ہے۔ پبلشنگ بہت مشکل ہے۔ خاص طور پہ ہمارے ملک میں جہاں لکھاریوں کو وہ مقام نہیں ملتا۔ المیہ!
س: ”ق“کی تھیم بے حد منفرد ہے کچھ اس کے متعلق بتائیں کہ یہ کس بارے میں ہے؟
ج: ق دل کے بارے میں ہے۔ دل ہمارے وجود کا وہ حصہ ہے جس میں احساسات ہوتے ہیں۔ احساس ہونا دل کو نرم رکھتا ہے۔ جب دل میں احساسات باقی نہ رہیں تو وہ سخت ہو جاتا ہے۔ اس سختی کے بعد انسان کے رویے کیا ہوتے ہیں یہ آپ ق پڑھ کر دیکھیں۔یہ کتاب ہمیں اپنے دل کا خیال رکھنا سکھاتی ہے۔
س:آپ کو اپنا کونسا ناول بے حد پسند ہے جس کے متعلق کہیں گے کہ یہ سب کو ضرور پڑھنا چاہیے؟
ج: بلاشبہ کہف۔ کہف کو لکھتے ہوئے میں نے اپنے اندر سکون محسوس کیا۔ کہف میرے دل کے بے حد قریب ہے۔ میں نے اسے ایک سال میں لکھا ہے اور میں نے اسے اتنی بار پڑھ لیا کہ کیا بتاوں۔ میں کہتا ہوں کہ میں چاہے سو ناولز لکھ لوں لیکن وہ سارے ایک طرف اور کہف ایک طرف۔ کہف کہف ہے۔ کہف جیسا کوئی نہیں۔ الحمداللہ یہ میرے حصے میں آیا۔
س: ”کھف“ آپ کی پہچان بنا۔کھف کا موضوع کیا ہے جو اسے اس قدر پزیرائی ملی؟
ج: کہف کا موضوع ہے "غار کے قیدی"۔ ہم انسان اپنی زندگی کے کچھ حالات و واقعات کے اثر اتنے کمزور ہو جاتے ہیں کہ ہم خود کو ایک نادیدہ غار میں قید کرلیتے ہیں۔ کہف اس بارے میں کہ غار میں قید ہونا کس قدر نقصان دہ ہے۔ خود ہمارے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔
س: نئے لکھاریوں کو ناول لکھنے کے بعد شائع کروانے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس متعلق آپ کا کیا تجربہ ہے؟
ج: پبلشنگ بہت مشکل کام ہے۔ آج کل ویسے تو سب چڑھتے سورج کے پجاری ہیں۔ مفت کتاب پبلش کروانا نئے لکھاری کے نصیب میں نہیں الا ما شاء اللہ اور پیسے دے کر پبلش کروانا ہے تو ایک گردہ بیچ دیں۔ کتاب ضرور چھپ جائے گی۔ صحت کا کچھ نہیں کہ سکتے۔
(آپ کے اس مشورے پہ نئے لکھاری واقعی گردہ نہ بیچ دیں۔ہاہاہا)
س: کیا کتابیں لکھنا اور بیچنا ذریعہ معاش بن سکتا ہے؟کیونکہ یہ سوال ہر نئے لکھاری کی جانب سے ضرور پوچھا جاتا ہے۔
ج: ہاں جی کتابوں بیچ کر میں اتنے پیسے کما لیے ہیں جن سے حال ہی میں لاہور بحریہ ٹاون میں پلاٹ لے لیا ہے۔ کنسٹرکشن اگلے ماہ جب کچھ کتابیں اور بک جائیں گی۔
(آپ کے اس جواب کو پڑھ کر ہو سکتا ہے کوئی حقیقا گردہ بیچ کر کتاب چھپوا لے کہ ہو سکتا ہے واقعی بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ بن جائے۔)
س: ایسا کونسا سوال ہے جو، جب بھی پوچھا جائے بے حد چڑ ہوتی ہے؟
ج: کوشش کرتا ہوں سب کو اچھا جواب دے دوں۔ بعض دفعہ بہت سے لوگ ایک ہی سوال کرتے ہیں تو سب کو الگ الگ جواب دینا کچھ مشکل لگتا ہے۔
س: نئے لکھاری ایسا کونسا سوال بار بار کرتے ہیں جسے پڑھ کر زچ ہو جاتے ہیں؟
ج: پبلشنگ کے حوالے سے ڈھیروں میسجز آتے ہیں اور یہ کہ لکھاری کیسے بنتے ہیں؟ ہم لکھنا چاہتے ہیں لیکن لکھ نہیں پاتے۔ میں بس ایک جواب دیتا ہوں کہ کوئی جبراً لکھاری نہیں بن سکتا۔ یہ اندر سے ہوتا ہے۔ کچھ کو اللہ نے قلم کی طاقت دی ہوتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہم جو سوچیں وہ بن جائیں۔ اللہ نے ہم سب سے الگ الگ کام لینے ہیں۔ اس کے فیصلے پر راضی رہیں۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ میں لکھاری بنوں گا۔
س: ہر انسان کو غم ہلکا کرنے کے لیے کندھا درکار ہوتا ہے۔آپ کے لیے وہ غمگسار ساتھی کون ہے؟
ج: کوئی پریشانی ہو تو بہنوں سے شیئر کر لیتا ہوں۔ باقی اللہ ہی ہے جو انسان کو حوصلہ دیتا ہے۔
س: آپ کا مقصد حیات کیا ہے ؟
ج: بس دعا ہے اللہ مجھ سے ایسے کام کروا دے جس سے وہ راضی ہو جائے اور میرے والدین خوش ہوں۔ ان شاء اللہ۔
س: آپ نے کم وقت میں ماشاءاللہ اتنی کامیابی حاصل کی، مستقل میں لکھنے کے حوالے سے کیا ارادے ہیں؟
ج: اللہ کا فضل رہا تو ضرور۔ مقصد حیات میں یہ بھی شامل ہے کہ جب بھی قلم اٹھاوں تو اس سے ایسی بات لکھوں جس سے کسی کی اصلاح ہو سکے۔
س:زمانہ قدیم اور دور حاضر کے کن ادباءکے کام سے بے حد متاثر ہیں؟
ج: جو اچھا کام کرتا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ میں کسی ایک کا نام نہیں لے سکتا۔
س: یہ بتائیں کہ آٹو گراف دیتے ہوئے عموماً کیا لکھتے ہیں؟
ج: دعا یا کوئی نصیحت۔
س: کیا گھر والے اور دوست احباب آپ کو کسی سلیبریٹی کی طرح ڈیل کرتے ہیں یا وہی حالات ہیں گھر کی مرغی دال برابر؟
ج: گھر میں مرغی دال برابر ہی ہوتی ہے۔ بس یہ کہتے ہیں مرغی اچھی غذا ہے لیکن گھر کی ہو تو دال کے برابر ہی ہے۔
س: اپنے فینز کے حوالے سے کوئی ایسا واقعہ سنائیں جو دلچسپ یا عجیب ہو اس لیے ذہن سے محو نہ ہوتا ہو۔
ج: میں انسٹا کی ہی حد تک فینز سے ملا ہوں۔ پبلک میں نہیں۔ اس سال بک فیئر پہ کچھ سے ملا تھا لیکن کچھ ایسا عجیب قصہ نہیں ہوا۔ اچھے لوگ ہیں۔
س:اچھا کچھ اپنی پسند ناپسند کے متعلق بتائیے۔
پسندیدہ مصنف:
کوئی ایک نہیں۔ جس کا کام اچھا وہ قابل تعریف۔
پسندیدہ شاعر:
شاعری سے لگاو نہیں رہا۔ اب حیران مت ہونا۔
پسندیدہ شعر:
کچھ اس طرح سے سودا کیا وقت نے مجھ سے
تجربہ دے کو وہ مجھ سے میری معصومیت لے گیا
حوالہ نامعلوم۔
پسندیدہ لباس:
جس میں ایزی ہوں۔ وائبز۔۔۔
پسندیدہ خوشبو:
کوئی ایک نہیں۔
پسندیدہ کھانا:
کچھ خاص نہیں
پسندیدہ رنگ:
کوئی ایک نہیں۔ بچپن میں سرخ رنگ پسند تھا۔ اب ایسا کچھ specific نہیں۔
پسندیدہ ملک:
پسندیدہ تو نہیں کوئی لیکن کچھ گھومنے کا شوق ہے بہت۔ اٹلی، استنبول(ناولز پڑھنے سے پہلے سے ہی پسند ہے)، دبئی اور انگلینڈ۔
س: مستقبل میں کن موضوعات پر لکھنے کا ارادہ ہے؟
ج:آج کل میں "دین کو مشکل بنا کر پیش کرنے" کے بارے میں لکھ رہا ہوں۔ اسی طرح کے اور بھی ہیں کچھ۔ موضوع میں ناول لکھتے ہوئے ہی چنتا ہوں۔
س: نئے لکھنے والے ایسی کونسی غلطی کرتے ہیں جو انہیں نہیں کرنی چاہیے؟
ج: جلد بازی۔ آج ناول لکھا آج ہی پبلش ہو جائے آج ہی لوگ پڑھ لیں۔ صبر سے کام لیں۔ اگر آپ اپنے قلم کے ساتھ مخلص ہیں تو اس میں برکت اللہ ڈال دے گا۔ آپ بس کوشش کریں۔
س: آخر میں اپنے پڑھنے والوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں؟
ج: ہر طرح کی کتابیں پڑھیں۔ ہر یونرا کی، ہر طرح کی۔ خود کو ایک ہی صنف یا ایک ہی لکھاری تک محدود نہ کریں۔ کتابوں اور لکھاریوں کو explore کریں۔ ایسے علم میں اضافہ ہوگا۔
عبداللہ آپ سے مل کر بے حد اچھا لگا۔یقینا ہمارے قارئین بھی یہ انٹرویو پڑھ کر بے حد محضوظ ہوئے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کو بے شمار کامیابیوں سے نوازے اور آپ اسی طرح بہترین ادب تخلیق کرتے رہیں۔آمین۔
اب ہمیں اجازت دیجیئے اگلی بار کسی نئی شخصیت کے ساتھ پھر حاضر ہوں گے اللہ
حافظ۔








Comments
Post a Comment