Skip to main content

انٹرویو عروبہ عامر

انٹرویو

مصنفہ و ناول نگار

عروبہ عامر

میزبان:سارہ عمر 















سکندر اعظم نے نہایت کم عمری میں دنیا فتح کی اور اس کے نام کی بازگشت آج تک تاریخ کے اوراق میں سنائی دیتی ہے۔کچھ ایسے ہی کم عمر،اعلی صلاحیتوں کے حامل افراد ہمارے اردگرد موجود ہیں جن سے ہم بے خبر رہتے ہیں۔اگر سکندر اعظم نے آدھی دنیا فتح کی تھی تو ہماری آج کی نشست میں شامل شخصیت نے بھی آدھے پاکستان کے دل تو فتح کر ہی لیے ہیں۔ان کا کام اتنا منفرد ہے کہ ان کے نام کی بازگشت بھی آپ کو جلد ہی ہر سو سنائی دے گی۔
ہماری آج کی شخصیت نہایت کم عمر مصنفہ،ناول نگار اور ایک باخلاق بزنس ویمن عروبہ عامر ہیں۔عروبہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ان کی کتب سراب،جال،امید اور تلاش اپنی مثال آپ ہیں۔عروبہ نا صرف ناول نگار ہیں بلکہ یہ قرآن اکیڈمی کی روح رواں بھی ہیں۔القلم بک اسٹور کے نام سے ان کا کسٹمائز تحائف بنانے کا بزنس بھی ہے جسے یہ بااسلوبی چلا رہی ہیں۔
عروبہ سے میری پہلی بار بات ایک سیشن کے بعد ہوئی جو انہوں نے خصوصی طور پر مسئلہ فلسطین اور تیسری جنگ عظیم کے حوالے سے رکھا تھا۔اس کے بعد کئی بار ہماری ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔میں نے عروبہ کو بہت ہمدرد،ملنسار،عاجز اور نرم مزاج پایا۔
ان کی شخصیت کے بہت سے پہلوؤں سے ابھی ہم روشناس نہیں ہوئے سو اس انٹرویو میں ان کی شخصیت کے دیگر پہلوؤں سے بھی روشناس ہوں گے۔مزید انتظار کروائے بغیر آپ کو ملواتے ہیں عروبہ عامر سے
السلام علیکم عروبہ!کیسی ہیں آپ؟
وعلیکم السلام الحمدللہ، آپ کیسی ہیں؟
اپنا مختصر سا تعارف کروائیے تاکہ ہمارے قارئین آپ کو جان سکیں۔
میرا نام عروبہ عامر ہے اور میں کراچی میں پیدا ہوئی، میں نے سترہ سال کی عمر سے لکھنا شروع کیا، پہلے چند ماہ دو اخبارات کے لئے آرٹیکل لکھے پھر مجھے احساس ہوا کہ میں اپنی بات محدود صفحات پر کھل کر نہیں کہ پاتی، بس غیر ارادی طور پر "تلاش" ناول کا آغاز کیا اور جو جو اس چھوٹی عمر میں سیکھا تھا وہ لکھتی چلی گئی، امید کے برعکس تلاش میری پہچان بن گیا اور میرے پیارے ریڈرز نے مجھے لکھنے کے اس ہنر کو مزید بڑھانے کی طاقت دی، آج الحمدللہ میں پانچ کتابوں کی مصنفہ ہوں جن میں سے چار ناولٹ اور ایک سیلف ہیلپ بک ہے۔
س:آپ کی کتب سے ہر قاری واقف ہے پھر بھی بتائیے گا کہ اب تک کتنی کتب شائع ہو چکی ہیں؟
اب تک الحمدللہ چار کتابیں کئی کئی ایڈیشنز میں شائع ہوچکی ہیں اور پانچویں کتاب قسط وار آن لائن پبلش ہورہی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ایک بہت بڑی تعداد تک وہ پیغام پہنچ سکے جو "بے نقاب" کے ذریعے میں پہنچانا چاہتی ہوں، یہ میرا پہلا آن لائن ایکسپیرئنس ہے اور اللہ سے امید ہے کہ اس کتاب کو بڑی مقبولیت عطا کرے آمین

اب تک کن اعزازات سے نوازا جا چکا ہے؟
میری کتاب تلاش کو پیشن فائونڈیشن کی طرف سے بہترین بک آف دا ائیر سے نوازا گیا ہے ، میری کتاب تلاش کو قاسم علی شاہ نے بھی پڑھا ہے اور اس پر تفصیلی تبصرہ لکھ کر مجھے ارسال کیا تھا، میری بیشتر کتابوں پر تھیسس بھی ہوچکا ہے اور قطر کی یونی ورسٹی کے ایک پروفیسر نے اس کتاب کو پڑھنے کے بعد اپنے تمام شاگردوں کو بھی سجیسٹ کیا ، جس کے بعد مجھ سے انڈیا کے پبلشر نے رابطہ کیا اور آج انڈیا میں میری کتابیں تلاش اور امید دستیاب ہیں۔
لکھنے کا آغاز کس طرح ہوا؟کیا محرک تھا جس نے لکھنے کی جانب راغب کیا؟
جو انسان قلم اٹھاتا ہے وہ اپنے احساسات لکھتا ہے اور احساسات تب تک نہیں لکھے جاسکتے جب تک درد نہ سہا ہو، ہر انسان جس کی روح کو کوئی گہرا زخم لگا ہو یا زمانے کی گرد و غبار نے اسے میلا کردیا ہو وہی قلم اٹھاتا ہے، پھر یا تو مصنف بن جاتا ہے یا شاعر، اصل تاثیر بھی اسی کے کلام میں ہوتی ہے جو دل سے سیدھا کاغذ پر اترے۔

کیا کتاب لکھنے سے پہلے اندازہ تھا کہ اسے اتنی پزیرائی ملے گی؟
کتاب لکھنے سے پہلے بس ایک خواب تھا کہ اپنے ماں باپ کا سر فخر سے اونچا کرنا ہے اور ایک مشہور لکھاری بننا ہے، تلاش شروع کی تو ایسا لگتا تھا کہ یہ ناول سو صفحات کا بھی نہیں ہوگا، میری واحد دوست عدیلہ عمیر جو اب تک میرے ساتھ ہیں، ان سے اکثر کال پر لمبی لمبی ڈسکشن ہوتی، سینز سوچتے، کردار سوچتے اور ان کی کہانیاں بنتے تھے۔ بالآخر تلاش ناول ساڑھے چار سو صفحات پر جاکر ختم ہوا اور میں خود حیران رہ گئی، مجھے ایسا لگتا ہے کہ مجھ سے اللہ لکھواتا ہے، میں جیسے ہی پہلے حرف کا آغاز کرتی ہوں تو خیالات ایک قطار میں آنا شروع ہوتے ہیں اور جیسے اس جگہ سے اٹھتی ہوں خیالات کا تسلسل رک جاتا ہے۔
اکثر اوقات لکھنے کا آغاز کسی ڈائجسٹ سے کیا جاتا ہے کیا آپ کی تحاریر کبھی ڈائجسٹ میں شائع ہوئیں؟
نہیں میں نے پہلی کتاب ہی سیلف پبلش کی، میرے والد الحمدللہ پبلشر ہیں جن کی بدولت میں بہت بڑے بڑے دھوکے کھانے سے بچ گئی جس میں آج میرے فیلو رائٹرز پھنسے ہوئے ہیں، بڑا افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ لکھاریوں کی وہ قدر پاکستان اور انڈیا میں نہیں رہی، لکھنے لکھانے کا تعلق سراسر دل سے ہوتا ہے لیکن اس فیلڈ میں بھی اب ترجیح پیسہ ہے، پہلے شاعر ایک شعر کہتا تھا تو پورے گاؤں میں ڈھنڈورا پٹ جاتا تھا، لوگ اسے سراہتے تھے اور اس کا کلام سننے آتے تھے، اب تو جیسے یہ ہر دوسرے شخص کے لئے عام سی بات ہے۔
کچھ اپنی کتب کے متعلق بتائیے کہ ان سب کا موضوع ایک دوسرے سے کس حد تک جدا ہے؟

میری تمام کتابوں کا مرکز دین ضرور ہوتا ہے۔ ہماری ویلیوز ، ہماری روایات، ہمارے تہذیب جسے ہم بھلا بیٹھے ہیں، بحیثیت انسان ہمارے مسائل، ہمارے معاشرے کے مسائل اور ہمارا اللہ سے تعلق۔
ہر کتاب دوسرے سے مختلف ہے اور مقصد یہی ہوتا ہے کہ ایک کتاب میں بہت کچھ سیکھنے کو مل جائے، میرا ماننا ہے کہ اگر کوئی میری کتابوں پر پیسہ اور وقت خرچ کررہا ہے تو کم از کم اسے کچھ بہترین حاصل ہو۔ اگر نہ حاصل ہو تو میری کتابیں مجھے لاکر دے دیں، میں بخوشی رکھ لوں ، کیوں کہ جس قدر محنت اور ریسرچ سے میں لکھتی ہوں مجھے یقین ہے کہ وہ رائیگاں نہیں جاتی، اب تک الحمدللہ ہر ایک مطمئن ہوا ہے۔
”جال“کے متعلق آپ کا کہنا ہے کہ آپ نے نہایت حساس موضوع پہ لکھا ہے جس کی وجہ سے آپ کا اکاؤنٹ بھی شیڈو بین ہو چکا ہے۔یہ موضوع کیا ہے؟

جال یہویدوں کی سکرٹ سوسائٹیز کو ایکسپوز کرتی ہے، ان کے تقریباً تمام ایجنڈوں کو میں نے اوپر اوپر سے اتنا واضع کرکے کرداروں کے ذریعے لکھا ہے کہ کم از کم ہماری غفلت دور ہوجائے، اس کتاب میں لکھی گئی ہر چیز اپنے نام کے ساتھ بالکل حقیقی ہے، میں نے کسی جگہ یا کسی شخص کے نام میں تبدیلی نہیں کی سوائے کرداروں کے۔ آپ گوگل کرکے ایک ایک چیز کنفرم کرسکتے ہیں۔ اس کتاب کے بعد کئی لوگوں نے مزید ریسرچ کرکر کے مجھے بھیجی جسے دیکھ کر میرا دل بہت خوش ہوا، ہاں اکائونٹ گنوانے کا افسوس ہے لیکن جو اویرنس میں دینا چاہتی تھی وہ پہنچ رہی ہے۔
ہمیشہ اچھوتے موضوعات منتخب کرتے یہ خوف نہیں ہوتا کہ اس کا انجام کیسا ہو گا؟
مجھے یقین ہے کہ موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور سب سے بہترین موت مجاھد کی ہے، میرا قلم جتنا نوکدار ہوگا اتنے زور سے دشمن کے چبے گا، رومیو جیولٹ جیسی کہانیوں نے آج تک ہمیں کچھ نہیں دیا، بہتر ہے کہ اب ہم ان موضوعات پر بات کریں جو اس دور کے ہیں، جن سے انسان میں شعور پیدا ہوتا ہے، رومینس سے ہٹ کر بھی ایک زندگی ہے اور وہ آپ کی سوچ سے زیادہ خطرناک ہے!
آپ کا موقف ہے کہ ناول لکھتے وقت ڈاکٹر انجینئر سے ہٹ کر دیگر پیشے بھی متعارف کروائے جائیں،اس کے ذریعے قارئین کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟
وجہ یہ ہے کہ اب لوگ کچھ نیا سیکھنا چاہتے ہیں ، اپنی ایک الگ پہچان بنانا چاہتے ہیں، میری کوشش ہوتی ہے کہ ہر کتاب میں ایک نئی فیلڈ انٹروڈیوس کرواوں۔
تلاش میں موٹیویشنل سپیکر اور رائٹر کی فیلڈ دکھائی تھی۔ 
سراب میں ایک شیف اور مصور کی فیلڈ دکھائی تھی۔
جال میں ایک کالمسٹ اور ٹیکنالوجی کے متعلق فیلڈ دکھائی دی کیوں کہ ٹیکنالوجی اس دور کی ضرورت ہے۔
میں نے جال میں سنگنگ کی فیلڈ بھی دکھائی تھی لیکن اس وجہ سے کہ ہمیں معلوم ہوں کہ گانے کیسے تیار کئے جاتے ہیں اور کیسے ایک انسان کے دماغ کے ساتھ شیطان کھیل کھیلتا ہے۔
بے نقاب میں اب ایک سافٹ وئیر انجینئر اور جاسوس کے بارے میں کافی کچھ ہے ، اسی کے ساتھ سوشل میڈیا انفلئنسر کا موضوع بھی چھوا گیا ہے۔
کچھ اپنی جہد مسلسل کے متعلق بتائیے کہ مصنفہ بنتے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

مصنفہ بننا ہے تو آپ خالی مصنفہ بنیں، ساتھ اتنے پنگے نہ کریں جتنے میں نے کر رکھے ہیں، میرے چیلنجز اور ہیں جو بہت مشکل ہیں، آپ جانتی ہیں کہ میں تفسیر اور تدبر بھی پڑھاتی ہوں ، اب تک تعلیم القرآن کے ذریعے میں کافی کورسز کرواچکی ہوں۔ میں ایک بزنس وومن بھی ہوں جو اپنا برینڈ "القلم بک سٹور" چلاتی ہے، مجھے اپنے تمام برینڈز کی مارکیٹنگ بھی دیکھنی ہوتی ہے اور ہر وقت کوالٹی پر بھی نگاہ رکھنی پڑتی ہے، اس سب کے ساتھ میں سٹوڈنٹ بھی ہوں اور میں بزنس پڑھ رہی ہوں، اس سب کے درمیان ایسے موضوع پر کتابیں لکھنا جو بے تحاشہ ریسرچ اور وقت مانگتی ہوں تو یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ بے نقاب لکھتے وقت زیادہ محسوس ہورہا ہے۔
نئے لکھاریوں کو جو مسائل ہیں انہیں کیا مشورہ دیں گی؟
نئے لکھاری اپنی تحریر لکھ کر پبلشر کے حوالے کردیتے ہیں جو اس وقت تو آپ کو سبز باغ دکھاتے ہیں لیکن ہر پبلشر مخلص نہیں ہوتا، سب سے پہلی چیز تو کوشش کریں ادھر ادھر سے کچھ رقم کا انتظام کرکے اللہ پر توکل کریں اور سیلف پبلش کریں، اگر نہیں تو پہلی کتاب پبلشر کو دیں ، نام بننے کے بعد خود شائع کریں۔ دوسرا مشورہ یہ ہے کہ لمبے لمبے کانٹریکٹس نہ کریں، ایک ایڈیشن کی بات کریں صرف اور اس کا وقت طے کریں کہ یہ کانٹریکٹ صرف چھ ماہ کے لئے ہے، چھ ماہ کافی ہوتے ہیں !
کسی بھی کتاب کو شائع کرتے ہوئے تجربے کار رائٹر یا مخلص پبلشر سے مشورہ ضرور کریں، اندھا اعتماد نہ کریں۔
آپ کی کتب کے کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں،کیا آپ کو نامور پبلشرز کی جانب سے آفر آتی ہیں کہ وہ آپ کی کتاب چھاپیں؟
جی بالکل آئیں لیکن اس وقت بمشکل ایک آدھ کے علاوہ کوئی بھی اچھا پیپر نہیں دے رہا ہے، میری کوشش ہوتی ہے کہ کم سے کم منافع ہو لیکن پیپر اچھا ہو اور قیمت ہول سیل کی ہو، جب تک اللہ نے توفیق دی میں اپنی کتابیں خود ہی شائع کروں گی ۔
کیا ہمیشہ بڑے ناول ،بڑے آئیڈیا پہ ہی کام کیا؟چھوٹی تحاریر یا افسانے نہیں لکھے؟

جی میں نے اب تک ناولز پر کام کیا ہے اس کے علاوہ میں نے کئی سورتوں کی تشریح کی ہے، اپنے الفاظ میں کورسز تیار کئے ہیں ، تدبر بھی کئے ہیں لیکن تفسیر کو مدنظر رکھتے ہوئے، میرے استاد محترم کہتے ہیں کہ تفسیر کے بغیر تدبر ادھورا اور تدبر کے بغیر تفسیر۔ پہلے اس آیت کی قرآن سے تشریح سمجھیں پھر اس پر مزید غور و فکر کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اصل مطلب سے ہی غافل رہ جائیں اور بس خود ہی معنی اخذ کرنے لگ جائیں۔
اس کے علاوہ اب میرا ارادہ ہے کہ اپنی ویب سائٹ کے لئے آرٹیکلز لکھوں، نے نقاب کے بعد میں نے ایک گیپ لینا ہے اور اس دوران انشاٗاللہ آرٹیکلز کی صورت میں وقت کی ضرورت کے مطابق ہر اس موضوع پر بات کرنی ہے جس میں عوام کو صحیح رہنمائی کی ضرورت ہو۔
القلم بک سٹور کے بارے میں بتائیے ، یہ کیسا بزنس ہے اور اس میں کیا کیا سہولیات آپ لوگ دے رہے ہیں؟
القلم بک سٹور پاکستان کے چند قابل دماغوں کے ساتھ مل کر شروع کیا تھا جن کا یہ وژن تھا کہ ہم نے قرآن پاک کا پڑھنا ایک بار پھر عام کرنا ہے، ہمارے گھروں کے قرآن اکثر و بیشتر شدید بوسیدہ ہوتے ہیں جنہیں اٹھائو تو دس صفحات نکلنے لگتے ہیں، ہم نے یہ کام ویلویٹ کی جلد بندی سے شروع کیا تھا تاکہ قرآن محفوظ رہے اور دلکش لگے، لوگ اسے نکال کر روزانہ پڑھیں۔
پھر آہستہ آہستہ اس میں پراڈکٹس ایڈ ہوتے گئے اور آج وہ کام جو جاپان اور انڈیا کے پیجز کررہے ہیں وہ ہم پاکستان میں پرووائیڈ کررہے ہیں، بہترین ویلویٹ کی مدد سے ہم خوبصورت قرآن، ان کے باکسز، غلاف، جائے نمازیں، تسبیحات، پنج سورة، قرآن کشنز، ویلویٹ بیگز غرض ہر قسم کی فینسی چیزیں بنا رہے ہیں اور یہ سب ہماری اپنی مینوفیکچرنگ ہے۔ اللہ اس میں برکت ڈالے اور اسے پاکستان کا سب سے بڑا کسٹمائز ادارہ بنائے آمین۔

آپ کیا سمجھتی ہیں گھر بیٹھے خواتین ایسا کونسا کام کر سکتی ہیں جس سے وہ بہتر کما سکیں؟

گھر بیٹھے خواتین اپنے اندر ہنر کو تلاش کریں جیسے تلاش میں نور العین نے کیا، پھر اس کا استعمال کرکے ذریعہ معاش ڈھونڈیں، انشاٗاللہ اللہ نے توفیق دی تو میں ایک کورس کے ذریعے یہ تامم چیزیں سمجھائوں گی کہ کیسے ہنر ڈھونڈیں اور کتنی رقم سے سیٹ اپ شروع کریں، کیسے مارکیٹنگ کریں اور اپنا منی بزنس گرو کریں۔
س: کیا کتابیں لکھنا اور بیچنا ذریعہ معاش بن سکتا ہے؟کیونکہ مجھ سمیت میں نے کسی کو بھی صرف کتابیں بیچ کر خود انحصار ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔

ج:بالکل اگر آپ کے ریڈرز کو آپ کی کتابوں میں رومیو جیولٹ کے علاوہ کوئی کام کی چیز نظر آئے اور وہ واقعی اس سے زندگی کے بڑے بڑے سبق سیکھیں اور وہ کتاب ایک بزرگ کی طرح ان کی رہنمائی کریں تو یہ آپ کا ذریعہ معاش بنے گا، جتنی محنت کی ہوگی اتنا پھل ضرور ملتا ہے۔

آپ نے اپنے بزنس کو بڑے اچھے طریقے سے خود سنبھالا،اس حوالے سے آپ نے لوگوں کے رویوں کو کیسا پایا؟کیا لوگ تعاون کرتے ہیں یا زیادہ لوگ آرڈر کرنے کی بجائے وقت ضائع کرتے ہیں؟
لوگوں کے روئیے کھل کر القلم میں سامنے آئے، ورنہ مجھے اپنے ریڈرز سے الحمدللہ کوئی شکایت نہیں، وہ سب بہت اچھے ہیں، ہماری ٹیم سے کوتاہی ہوجاتی ہے لیکن وہ کھلے دل سے قبول کرتے ہیں، القلم میں چونکہ ہر طبقے کے لوگ آئے اور کتابیں پڑھنے والوں میں شعور بہت زیادہ ہوتا ہے ، القلم کے کسٹمرز میں سے کئی ایک کے ساتھ برا ایکسپیرئنس رہا ، بہت اچھے بھی تھے لیکن اکثر کسٹمائز آرڈرز پر انتظار نہیں کرتے، چاہتے ہیں کہ اگلے دن مل جائے جبکہ پاکستان بھر میں ایسا کوئی سسٹم نہیں کہ کام اگلے دن ہوجائے، میں مشورہ دوں گی کہ لوگ اپنے اندر برداشت پیدا کریں اور دوسرے کی محنت کو سراہنا سیکھیں۔

آپ تعلیم القرآن اکیڈمی کی بھی فعال رکن ہیں۔یہ سب ایک ساتھ مینج کیسے کرتی ہیں اس کی کچھ ٹپس دیں۔
یہ سوال نہ پوچھیں کہ کیسے مینج کررہی ہوں بس سارہ !

س:تعلیم القرآن میں کس طرح کے کورسز کروائے جاتے ہیں اور کوئی اس کا حصہ بننا چاہے تو کیا طریقہ کار ہے؟
تعلیم القرآن میں تفیسر کورسز ، تجوید القرآن، عربی اب آسان کورس، رمضان کورسز، عورتوں کے اصل حقوق کے اوپر کورس، اور تدبر کے فری سیشنز وغیرہ شامل ہیں۔ ہمارے ادارے میں تجربہ کار اور ملنسار باجیاں کام کررہی ہیں جن کے زیر نگرانی کئی سو طلبہ پڑھ رہے ہیں۔
نئے لکھاری ایسا کونسا سوال بار بار کرتے ہیں جسے پڑھ کر زچ ہو جاتی ہوں؟

نئے لکھاریوں کا آج کل سوال ہوتا ہے "بے نقاب کی قسط مہینے میں کتنی بار آئیں گی؟" 
ییقن کریں یہ سوال مجھے کبھی کبھی غصہ بھی دلاتا ہے کہ کیا یہ سب اتنا آسان ہے؟ میں ہزار بار بتا چکی ہوں کہ ہر ماہ کی دس تاریخ کو آئے گا انشاٗاللہ اور بہت طویل ناول نہیں ہے۔
آپ اپنے دکھ درد، اپنے مشورے کس انسان سے لیتی ہیں؟ آپ کے پیچھے کس شخص کا مضبوط سہارا ہے؟
میری کوشش ہوتی ہے کہ جو بھی مسئلہ ہے اپنے بیسٹ فرینڈ یعنی اللہ تعالی سے کہوں ، جب کرنا اسی نے ہے تو بندہ اسی کے آگے روئے اور مانگے، لیکن اللہ تعالی نے ہی ہمارے لئے انسان بنائے تاکہ ہم اپنا دکھ درد بانٹ سکیں اور مشورے کرسکیں۔ مجھے اب تک بہت لوگ ملے لیکن جن کے مشورے اور جن کے سمجھانے کے انداز سے میں سب سے زیادہ متاثر ہوں وہ میرے استاد محترم وقاص صاحب ہیں، میں نے ان سے کم وقت میں بہت کچھ سیکھا ، اللہ ان کے دل کی ہر جائز مراد پوری فرمائے اور انہیں میری رہنمائی کرنے پر آخرت میں بہترین صلہ دے کیوں کہ میری رہنمائی سے میرے قلم کی رہنمائی ہوتی ہے اور اسی قلم سے میری قوم کی رہنمائی ہوتی ہے۔
زندگی کا مقصد حیات کیا ہے ؟
زندگی کا مقصد حیات مسلمانوں کو یکجا کرنا اور یکجا ہوتے دیکھنا ہے، یہ میرے دل کی سب سے بڑی خواہش ہے جس کے لئے میں دن رات کوشش کرتی ہوں، چاہے وہ قلم ہو یا قرآن کا لیکچر۔

آپ نے کم وقت میں ماشاءاللہ اتنی کامیابی حاصل کی،یقینا آپ کے خواب بہت بڑے ہیں۔ایسا کونسا خواب ہے جو ابھی پورا ہونا رہتا ہے؟
خواب تو بہت ہیں ، خاص طور پر ایک خواب جو میں چاہتی ہوں کہ پورا ہو کبھی نہ کبھی، یا مجھے اس فیلڈ میں کچھ کرنے کا موقع ملے۔ میں ایسٹروفزکس پڑھانا چاہتی تھی تاکہ میں ان متشابہات آیتوں کو کچھ حد تک سمجھ سکوں جو اللہ نے آسمان، سپیس، سیارے، ستارے اور کہکشائوں کے بارے میں کہیں؛ مثال کے طور پر:
 تو مجھے قسم ہے ان جگہوں کی جہاں تارے ڈوبتے ہیں اور تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے (سورة الواقع ۷۶)
جب آپ اپنے دماغ میں کائنات کا تصور لاتے ہو تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کس قدر طاقت ور ہے لیکن وہ ہم جیسے عام بشر سے اتنی محبت کرتا ہے۔
س:زمانہ قدیم اور دور حاضر کے کن ادباءکے کام سے بے حد متاثر ہیں؟

زمانہ قدیم میں ڈاکٹر اسرار احمد، ان کی ایک ایک بات اب سچ ہوتی دکھائی دیتی ہے
زمانہ جدید میں استاد نعمان علی خان کی قرآن کے بارے میں علم اور حکمت کا لیول ۔
اچھا کچھ اپنی پسند ناپسند کے متعلق بتائیے۔

پسندیدہ مصنف
پسندیدہ مصنف کوئی ایک نہیں ہے، جس کا بھی کلام فطرت سے قریب ہو اور اس میں گہرائی ہو مجھے پسند آتا ہے۔
پسندیدہ شاعر
شاعری کے بارے میں اتنا علم نہیں ہاں احمد فراز صاحب بہترین شاعر ہیں۔
پسندیدہ شعر
کئی ایک :
احمد فراز کی یہ مکمل غزل
سُنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اُس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
اور
کتنا محروم ہوں میں، کتنا میسر ہے مجھے
ذرہ صحرا ہے مجھے، قطرہ سمندر ہے مجھے

پسندیدہ لباس
لباس میں خوبصورت پرنٹس کی لان کی شرٹس اور ٹرائوزر
پسندیدہ خوشبو
شہرِ مکہ میں حرم پاک سے آنے والی وہ خوشبو دنیا کی سب سے حسین خوشبو ہے۔

پسندیدہ رنگ
لائیٹ کلرز بڑے پسند ہیں مجھے اور خوبصورت ریڈ کلر 
آخر میں اپنے پڑھنے والوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں؟
پڑھنے والوں کو یہ پیغام دوں گی کہ اپنے اندر کے مسائل سے نکلنے کا حل اللہ سے تعلق کو مضبوط کرنا اور قرآن کو گہرائی سے سمجھنا ہے۔ جب آپ اپنے اندر کے مسائل سے جیت جائیں گے تو پھر امت کے مسائل کی طرف توجہ کیجئے، آپ کے کندھوں پر ذمہ داری ہے، اس پوری امت کی ذمہ داری۔
 اندھی تقلید نہ کریں اور جس عقیدے یا مسلک سے جڑے ہیں اس کو باپ دادا کا مسلک سمجھ کے نہ قبول کریں بلکہ پوری تحقیق کریں کہ کیا صحیح ہے کیا غلط ۔ کبھی کبھی ہم اپنی ہی کہانی میں غلط جگہ کھڑے ہوتے ہیں جس کا خمیازہ مرنے کے بعد بھگتنا پڑے گا جو ناقابل تلافی ہے۔ 
کسی بھی ورک پلیس پر کام کریں اپنے WHY کو ہمیشہ کلئیر رکھیں، کہیں کچھ مشکوک ہے تو تحقیق کریں۔ ایک مسلمان کو اپنے عقیدے سے لے کر اپنے معاملات تک کھلی آنکھیں رکھنی چاہئے تاکہ وہ کبھی دھوکے کا شکار نہ ہو کیوں کہ دھوکے کی زندگی ایک غلامانہ زندگی ہے۔

عروبہ آپ سے مل کر بے حد اچھا لگا۔یقینا ہمارے قارئین بھی بے حد محضوظ ہوئے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کو بے شمار کامیابیوں سے نوازے اور آپ اسی طرح بہترین ادب تخلیق کرتی رہیں۔آمین۔

اب ہمیں اجازت دیجیئے اگلی بار کسی نئی شخصیت کے ساتھ پھر حاضر ہوں گے اللہ حافظ۔

#interviewbysarahomer #aroobaamir #ashabeqalam #onlinemagzine #sarahomer 

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...