میری ماں میری جنت سارا دن میں ان بچوں کے ساتھ خوار ہوتی رہتی ہوں مجال ہے کہ کوئی میرا ہاتھ بٹائے۔۔۔ ثانیہ خوب غصے سے چلا رہی تھی۔غصہ تو کافی دن کا چڑھا ہوا تھا اس لیے بول بول کر ہی اپنا غصہ نکال رہی تھی۔ ثانیہ کی شادی کو پانچ سال ہوئے تھے اور اس کے چار بچے تھے۔ان دونوں کی پسند کی شادی تھی اور دونوں کو بچوں کا بہت شوق تھا مگر اوپر تلے بچوں نے اسے نہایت چڑچڑا بنا دیا تھا۔پورا دن وہ کام میں لگی رہتی کھانا پکانا بچے سنبھالنا کپڑے دھونا صرف صفائی کے لیے ماسی آتی جو ایسی صفائی کرتی کہ گزارا ہی تھی۔میاں صاحب کو تو فضول کا خرچہ لگتی۔مگر ثانیہ کے لیے غنیمت تھی کچھ باتیں کر لیتی تو دل ہلکا ہو جاتا۔وہ بھی بچوں کے کچھ کام کر لیتی۔مگر دو دن سے ماسی بیمار تھی اور چھٹی پہ تھی۔گھر پھیلا ہوا تھا۔میاں صاحب کافی صفائی پسند واقع ہوئے تھے اور خیر سے اس کی ساس بھی ساتھ تھیں جو بوڑھی تھیں اور انکے کام بھی اس کے ذمے تھے۔ آج کچھ مہمانوں نے آنا تھا اور وہ کبھی کچن سے صفائی کرتی کبھی بچوں کو کھانا دیتی۔کبھی ڈسٹنگ کرتی چھوڑ کر بچے کا پیمپر بدلنے لگ جاتی۔میٹھا بنا کر رکھ لیا تھا۔برتن بھی دھو کے صاف کر لیئے تھے...
This is the blog of SARAH OMER A new writer from Riyadh KSA. Writing for her passion to write. Writing to make this world a peaceful place to live. Hope you will enjoy her writings