Skip to main content

Posts

Showing posts from July, 2018

میری ماں میری جنت

میری ماں میری جنت سارا دن میں ان بچوں کے ساتھ خوار ہوتی رہتی ہوں مجال ہے کہ کوئی میرا ہاتھ بٹائے۔۔۔ ثانیہ خوب غصے سے چلا رہی تھی۔غصہ تو کافی دن کا چڑھا ہوا تھا اس لیے بول بول کر ہی اپنا غصہ نکال رہی تھی۔ ثانیہ کی شادی کو پانچ سال ہوئے تھے اور اس کے چار بچے تھے۔ان دونوں کی پسند کی شادی تھی اور دونوں کو بچوں کا بہت شوق تھا مگر اوپر تلے بچوں نے اسے نہایت چڑچڑا بنا دیا تھا۔پورا دن وہ کام میں لگی رہتی کھانا پکانا بچے سنبھالنا کپڑے دھونا صرف صفائی کے لیے ماسی آتی جو ایسی صفائی کرتی کہ گزارا ہی تھی۔میاں صاحب کو تو فضول کا خرچہ لگتی۔مگر ثانیہ کے لیے غنیمت تھی کچھ باتیں کر لیتی تو دل ہلکا ہو جاتا۔وہ بھی بچوں کے کچھ کام کر لیتی۔مگر دو دن سے ماسی بیمار تھی اور چھٹی پہ تھی۔گھر پھیلا ہوا تھا۔میاں صاحب کافی صفائی پسند واقع ہوئے تھے اور خیر سے اس کی ساس بھی ساتھ تھیں جو بوڑھی تھیں اور انکے کام بھی اس کے ذمے تھے۔ آج کچھ مہمانوں نے آنا تھا اور وہ کبھی کچن سے صفائی کرتی کبھی بچوں کو کھانا دیتی۔کبھی ڈسٹنگ کرتی چھوڑ کر بچے کا پیمپر بدلنے لگ جاتی۔میٹھا بنا کر رکھ لیا تھا۔برتن بھی دھو کے صاف کر لیئے تھے...

میرے قاتل

وہ کافی دیر سے پارک میں بیٹھا تھا یوں ہی بے مقصد۔۔۔مگر اس کے پیچھے بھی ایک مقصد تھا۔۔۔دیکھنے والوں کو لگتا کہ وہ اپنا وقت ضائع کر رہا تھا۔۔۔ پارک کے ایک پرسکون کونے میں بیٹھا وہ بہت غور سے وہاں کھیلتے بچوں کو دیکھ رہا تھا مگر کسی کو نہیں پتہ تھا کہ وہ بچوں کو نہیں کم عمر بچیوں کو دیکھ رہا تھا جیسے کوئی شکاری کسی شکار کو دیکھتا ہے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کافی دیر سے بازار میں بے مقصد ٹہل رہا تھا۔وہ نیا نیا ادھر آیا تھا اس لیے اسے ادھر کے رہن سہن کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔ بازار میں چہل پہل تھی وہ حیران تھا کہ سب عورتیں تو برقعوں میں پھر رہی ہیں مگر چھوٹی بچیاں تو بس لباس کا تکلف ہی کیے ہیں۔۔۔بغیر آستین کے کپڑے،کھلے گلے شوٹس،ٹائٹ پنٹس۔۔یہ لوگ اس لباس کے عادی تھے تبھی انہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔۔۔ وہ بہت دیر سے اس بچی کو دیکھ رہا تھا جس کی ماں کپڑوں کی دکان میں کھڑی تھی اور وہ ساتھ والی دکان کے آگے کھڑی کھلونوں میں مگن تھی۔۔۔ وہ ادھر ادھر دیکھتا آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا شکاری پہنچ رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پانچ چھ سال کی ...

حي على الفلاح

ہر شخص کی پیدائش دین فطرت پہ ہے۔ اللہ نے ہر انسان کو فطرت پہ پیدا کیا ہے یعنی پیدا ہونے والے تمام بچے اللہ کے ماننے والے اسی کے پیروکار ہیں۔آہستہ آہستہ بڑے ہو کر ان کے ماں باپ ان کو یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔ اتنی سی بات کیا یہ سمجھانے کے لیے کافی نہیں کہ اللہ نے اپنی مخلوق کو پہلے اپنا بنایا اور پھر چھوڑ دیا کہ جاؤ تم آزاد ہو اس دنیا میں جو چاہو کرو۔لیکن پلٹ کر تمہیں میرے ہی پاس آنا ہے۔ جہاں بھی چلے جاو یہ دنیا بہت بڑی ہے مگر اس کی نظروں سے بچ نہ پاؤ گے۔ نہ موت سے بچ پاؤ گے چاہے جتنے حربے آزما لو، یہ گھیر لے گی کبھی بھی کہیں بھی کیونکہ ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اس دنیا میں آنے کے بعد اکثر مسلمان ہی اپنے دین پہ عمل پیرا نہیں۔ حیرت ہے ان لوگوں پہ جن کے کانوں میں پانچ وقت آذان کی آواز آتی ہے اور وہ سن کر ان سنی کر دیتے ہیں۔ حیرت ہے ان لوگوں پہ جن کے سامنے لوگ اٹھ کر تمام کام چھوڑ کر وضو کرنے نماز پڑھنے جاتے ہیں مگر وہ فائلوں میں ایسے مگن ہو جاتے ہیں جیسے سارا کام نماز کے وقت میں ہی مکمل ہو جائے گا۔ کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو حجاب اور برقعے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں حالانکہ ی...

وطن کہانی

شہریار آج ہی لندن سے واپس آیا تھا۔کراچی جیسے بڑے  شاید شہریار چاچو زیادہ عقلمند ہیں تبھی سب ان کی سن رہے ہیں۔ چاچو لندن میں صفائی کون کرتا ہے جو اتنا صاف رہتا ہے؟اس نے کافی سوچ کے پوچھا۔ ارے وہاں بھی صفائی والے ہوتے ہیں۔۔شہریار بولا۔ تو چاچو انہیں ادھر لے آئیں نا تاکہ پاکستان بھی صاف ہو جائے وہ معصومیت سے بولا تو سب ہنس پڑے۔۔۔ ارے چھوٹو ادھر خود صفائی رکھنی پڑتی اتنا جرمانہ ہوتا ہے کہ کوڑا پھیکنا تو دور کی بات کوئی اشارہ بھی نہیں کاٹتا جگہ جگہ تو کیمرے لگے ہوتے ہیں اور پولیس تو اتنی تیز ہے کہ لگتا ہر اینٹ کے نیچے پولیس چھپی ہوئی ہے ادھر کچھ کرو نہیں ادھر سر پہ۔۔۔ مومی سر ہلا کر رہ گیا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ دن بعد ہی سارا خاندان سمندر پہ پکنک کرنے گیا تھا۔وہ ہاکس بے پہنچے تو شہریار نے منہ بنایا تھا کتنا گندا ہو گیا ہے اب یہ ایریا پہلے تو ایسا نہیں تھا۔دیکھو اس ہٹ کے پاس کتنا کوڑا پڑا ہے۔واقعی وہاں کافی بوتلیں ٹن ڈبے اور بچا کچا کھانا پڑا تھا۔صفائی کا کوئی انتظام نہ تھا ورنہ جگہ اچھی تھی۔۔۔ پہلے تو ساری زندگی ادھر ہی گزری تھی مگر لندن سے آنے کے بعد تو ک...

My writing journey

آمنہ آفتاب کی پوسٹ پڑھی مائیں سب سمجھ جاتی ہیں وہ جینئس ہوتی ہیں اور بچے لکھنے لکھانے کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہوتے۔۔ میرا بھی تجربہ کچھ ایسا ہے۔۔۔میں کالج میں تھی جب لکھنا شروع کیا۔شوق تھا،ولولہ تھا،نئے نئے خیال اور کہانیاں تھیں سب کچھ تھا مگر تجربہ اور ہمت کم تھی۔پہلا مرحلہ جو لکھنے کا تھا بہت مشکل سے طے ہوا کیونکہ تینوں بہنوں کا کمرہ مشترکہ تھا اور اکیلے ہونے کا سکون میسر نہ تھا اوپر سے میرے ابو ہمارے خاص طور سے میرے اوپر بہت نظر رکھتے تھے انہیں لگتا تھا یہ لڑکی کوئی بڑا کارنامہ کرے گی۔اوپر سے کچھ ایسا چھپ چھپا کے لکھنا انہیں مزید شک میں ڈال دیتا۔۔۔خیر اس کے بعد کسی طرح دو کہانیاں ڈائجسٹ میں بھجنے کا مرحلہ بھی طے کیا۔۔۔اور ماشااللہ ایک کہانی تو کئی مہینوں کے انتظار کے بعد کرن ڈائجسٹ میں چھپ گئی البتہ دوسری جوابی لفافحے میں واپس آگئی۔میں نے کبھی امی ابو کو نہیں بتایا کہ میں لکھنا چاہتی ہوں نہ ہی وہ کہانی دکھائی۔(فرضی نام سے چھپوائی تھی)یہ شاید کوئی 12 سال پرانی بات ہے۔میں پڑھتی رہی ماسٹرز کیا شادی ہوئی الحمد اللہ بیٹا ہوا مگر کچھ نہ لکھا دل ٹوٹا تھا حوصلہ نہیں تھا۔ناکامی کا سامنا کرن...

میری زندگی کا مشکل ترین وقت

اگر میں اپنی زندگی کے ارواق کی طرف نظر اٹھاوں تو کچھ لوگ زندگی میں ایسے ضرور ہوتے ہیں جو بہت اہم ہوتے ہیں۔ہماری زندگی کا محور انکی ذات کے گرد گھومتا ہے۔جو چلے جائیں تو انکا خلا کبھی پر نہیں ہوتا۔۔ کچھ ایسا ہی معاملہ آج کل میرے ساتھ بھی ہے۔۔۔ساس بہو کا رشتہ ہمیشہ سے ہی کچھ متنازعہ رہا ہے خوش قسمت بہووں ہوتی ہیں جنھیں اچھی ساس ملیں جن میں سے ایک خوش قسمت میں بھی ہوں۔۔۔ میری ساس میری خالہ اور میری تائی بھی تھیں۔ان تین رشتوں کی وجہ سے وہ کبھی ساس نہیں بن سکیں نہ میں نے بہو بن کر دیکھایا۔آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو انکی یادیں اور باتیں ہر وقت ہمارا پیچھا کرتی ہیں۔۔ میری خالہ کو کوئی دس سال پہلے برین ہیمرج ہوا تھا جس کے بعد ڈاکٹر نے انہیں دماغ کی سرجری بتائی مگر ان کے تینوں بیٹوں نے فیصلہ کیا کہ وہ سرجری نہیں کروائیں گے کیونکہ اس میں بچنے کے چانس بہت کم تھے۔ان کے برین ہیمرج کے بعد سارا گھر ان کے بیٹوں اور چھوٹی بیٹی نے سنمبھالا۔میں ان کی تیسری اور چھوٹی بہو ہوں۔مجھے سعودیہ آئے ساڑھے تین سال ہوئے۔میرا انکا ساتھ بہت تھوڑے عرصے رہا۔وہ برین ہیمرج کے بعد کبھی صحیح سے چل نہیں سکتی تھیں باہر وہ...

ایک خوشگوار یاد

یہ چار سال پہلے کی بات ہے جب میں وزٹ ویزے پہ سعودیہ آئی تھی۔میں اور میری جٹھانی ساس سسر کے ساتھ جس گھر میں رہتے تھے وہ چوتھی منزل پہ تھا۔میں نے کبھی اپنے گھر میں ویکیوم کلینر نہیں استعمال کیا تھا کیونکہ صفائی کے لیے کام والی تھی۔اب جب ادھر پہلی بار صفائی کی تو ویکیوم بھی صاف کرنا تھا جو کہ مجھے نہیں کرنا آتا تھا۔میں اپنی جٹھانی کے پاس گئی کہ مجھے اسے صاف کرنا سیکھا دیں۔اس وقت میرے بڑے جیٹھ جو الگ گھر میں رہتے تھے ساس سسر سے ملنے آئے ہوئے تھے اسی وقت گھر سے نیچے اترے تھے۔میری جٹھانی مجھے ویکیوم صاف کرنے کا طریقہ بتانے باہر گیلری میں لے گئی اور کہنے لگی اسے کھول کر ایسے جھاڑ دیتے ہیں۔نیچے گاڑیوں کی پارکنگ تھی مگر دن میں عموما خالی ہوتی تھی۔اس نے سارا کوڑا نیچے جھاڑ دیا۔میرے دل میں خیال آیا دیکھوں تو کدھر گرا ہے مگر نیچے دیکھ کے میری ہائے نکل گئی جس پہ جٹھانی نے بھی نیچے دیکھا تو نیچے ہمارے بڑے جیٹھ غصے سے اوپر دیکھ رہے تھے کیونکہ ان کے سفید کپڑوں پہ ہم نے کوڑا پھنک دیا تھا۔اوپر سے میری جٹھانی نے پریشانی میں ویکیوم کی جالی بھی ہاتھ سے چھوڑ دی جو بڑی سی گول سی تھی اور سیدھی جا کے جیٹھ کے ...

درد

درد کرنا کیا ہے آپ نے پیسوں کا؟۔تیمور نے غصے سے گرم روٹی کا نوالہ واپس رکھ دیا۔والد کی وفات کے بعد وہی گھر کا خرچہ اٹھا رہا تھا۔آج بھی اماں نے پیسوں کا تقاضا کیا تو اسکا پارہ چڑھ گیا تھا۔بوڑھی ماں نے کانپتے ہوئے اپنی اولاد کا چہرہ دیکھا۔کاش ایک لمحے کے لیے وہ اس درد کو محسوس کر سکے جو اس نے اسکی پیدائش کے وقت جھیلا تھا۔ سارہ عمر ۔

جاب

جاب تم جاب کیوں نہیں کرتی؟گھر کیوں بیٹھی ہو؟جب پتہ بھی ہے کہ گھر کے حالات اچھے نہیں ہیں۔بڑی بی نے اسے نصیحت کرتے ہوئے کہا۔ "آنٹی حالات تو ایسے ہی ہیں ہمیشہ سے سادگی سے جواب آیا تھا۔ " پھر بھی گھر کے حالات کی بہتری کے لئے ہی کر لو جاب۔"دوبارہ سے مشورہ آیا تھا۔ انشا اللہ ہو ہی جائیں گے حالات بھی ٹھیک دعا تو کرتے ہیں۔اس نے متانت سے جواب دیا۔ دعا کے ساتھ دوا بھی تو کرنی پڑتی ہے ناں! بڑی بی جوش سے بولیں۔آج وہ بہت موڈ میں تھیں۔ جی بالکل!امید تو کبھی نہیں چھوڑی۔"وہ اب بھی دیھما سا بولی۔ جب پتہ ہے میاں بے روزگار ہے تو کم از کم بیوی ہی ہاتھ بٹا دے ۔کیا حرج ہے بھلا؟" نصیحت کی پٹائی میں سے ایک کے بعد ایک نصیحت حاضر تھی۔ اگر میاں بے روزگار ہے تو یہ مطلب تو نہیں کہ عورت اپنے گھر اپنی چادر چاردیواری کو چھوڑ دے۔اس نے کچھ سمجھانے کی کوشش کی تھی ۔ دیکھو!تمھارے بھلے کی بات ہے ایسے تو گزارا نہیں ہوتا ناں! آنٹی عورت کے گھر سے نکلنے بغیر بھی گزارا ہو سکتا ہے ۔اس نے پھر سے انکا مشورہ ماننے سے...

Eidi ki qurbani...

#عیدی کی قربانی۔۔۔ ماما میری عیدی دیں۔ریان ضد کرنے لگا تو وہ اپنے ماضی میں پہنچ گئی۔ امی امی عیدی دے دیں۔رنگ برنگے کپڑے پہنے وہ عید کی نماز پڑھ کر آئی تھی۔کندھے پہ چھوٹا سا پرس جھول رہا تھا۔سویاں تو بنانے دو بعد میں دوں گی امی ٹال دیتی تھیں اور بعد کبھی نہیں آتی تھی۔ابو تو سب سے پہلے دے دیتے لیکن کبھی جو انہیں ٹوٹے پیسے چائیے ہوتے تو وہ انہی سے مانگ لیتے۔کتنے سال تو سمجھ میں ہی نہیں آئی تھی کہ رات ہوتے ہی یہ عیدی کہاں چلی جاتی ہے؟کبھی کبھی تو وہ عیدی کا پرس تکیے کے نیچے چھپا دیتی مگر ظالم چور کو سب جگہیں معلوم تھیں۔تھوڑی بڑی ہوئی تو بڑی بہن نے حساب رکھنا شروع کر دیا تھا وہ بہت سمجھ دار تبھی چھوٹے بہن بھائیوں کی عیدی لے کے حساب سے رکھتی کہ تایا چاچا اور پھوپھو کی دی ہوئی عیدی کس ترتیب سے ماموں اور خالہ کے بچوں میں تقسیم کرنی ہے۔تب اسے پتہ لگا تھا امی ابو کے پاس عیدی کے الگ سے پیسے نہیں ہوتے تبھی بڑی آپی انکی عیدی جمع کر کے سب تقسیم کے بعد بچنے والے پیسے امی کو دے دیتی بعض اوقات تو عیدی کے وہ نئے نوٹ اگلے سال کی عید کے لیے رکھ لیتی۔اب تو دل بھی نہیں کرتا تھا کوئی عیدی دے کونسا اس کو مل ج...

تتلی اور لڑکی

تتلی اور لڑکی مجھے تتلی اچھی لگتی ہے کیا تمہیں معلوم نہیں مجھے تتلی اچھی لگتی ہے کہ رنگ برنگی نازک نازک اڑتی پھرتی ہر ایک تتلی مجھے لڑکی لگتی ہے مجھے تتلی اچھی لگتی ہے سارہ عمر۔۔۔ ایک ادنی سی کاوش