Skip to main content

Posts

سرکس ہی سرکس

 سرکس ہی سرکس از سارہ عمر  الریاض، سعودی عرب۔ ایک زمانہ تھا کہ زندگی میں ٹی وی اور موبائل نام کی کوئی تفریح نہیں تھی سو دور دراز گاؤں اور شہروں میں کچھ کچھ عرصے کے لیے میلے اور سرکس کا انعقاد کیا جاتا۔کہیں بندر کا تماشا ہوتا تو کہیں بھالو کا،کہیں کوئی رسی پہ دونوں ہاتھ چھوڑے چل رہا ہوتا تو کہیں کوئی ٹانگیں لکڑی کے پٹے میں پھنسائے الٹا لٹک رہا ہوتا۔کہیں کوئی بازی گر منہ سے آگ نکال رہا ہے تو کہیں کوئی شعبدہ باز ٹوپی سے کبوتر نکال کر شائقین سے داد سمیٹ رہا ہے۔ان سب میں موت کا کنواں، سر کٹا آدمی اور سر الگ دھڑ الگ والی مخلوق کو دیکھنے کے لیے سب سے زیادہ رش ہوتا تھا۔ پھر زمانہ بدلہ،پہلے ٹی وی آیا پھر موبائل اور پھر انٹرنیٹ کی چکاچوند نے سب کو حیران کر دیا۔ اب تو کسی سرکس کو دیکھنے کے لیے نہ پیسے دینے کی ضرورت ہے،نہ مہینوں کا انتظار۔جس جانب منہ اٹھائیے ایک سرکس لگا ہوا ہے اور مقامی شائقین اپنا قیمتی وقت بھرپور طور سے اس کو دے رہے ہیں۔ سڑک پہ نکلیے تو ایک سے بڑھ کر ایک تماشا آپ کا منتظر ہے۔سڑک پہ جہاں گاڑیوں کا اژدھام ہے،وہاں بیچ میں کوئی دو چار موٹر سائیکل سوار زگ زیگ موٹر سائیکل گز...

انٹرویو عبد اللہ وسیم

 انٹرویو  مصنف و ناول نگار   عبداللہ وسیم  میزبان:سارہ عمر  دنیا کے عظیم رہنماؤں میں سکندر اعظم کا نام بے حد مقبول ہے۔سکندر اعظم نے نہایت کم عمری میں دنیا فتح کی اور اس کے نام کی بازگشت آج تک تاریخ کے اوراق میں سنائی دیتی ہے۔کچھ ایسے ہی کم عمر،اعلی صلاحیتوں کے مالک افراد ہمارے اردگرد موجود ہیں جن سے ہم بے خبر رہتے ہیں۔ان باصلاحیت نوجوانوں کا کام ہی ان کے نام کا لوہا منواتا ہے۔آج ہماری نشست میں بھی ایک نامور شخصیت شامل ہیں جن کا کام اتنا منفرد ہے کہ ان کے نام کی بازگشت آپ کو جلد ہی ہر سو سنائی دے گی۔ عبداللہ وسیم نئے دور کے مصنف ہیں جن کی یکے بعد دیگرے کئی کتب نے قارئین کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ان کے ناول منفرد اسلوب اور نئے یونرا کے باعث قارئین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ ہماری بھی عبداللہ سے حال ہی میں ملاقات ہوئی ہے سو چلیے آج آپ کو ان سے ملواتے ہیں اور ان کی شخصیت کے بہت سے پہلو جن سے ابھی ہم روشناس نہیں ہوئے،اس سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ س:السلام علیکم عبداللہ!کیسے ہیں آپ؟ ج:وعلیکم اسلام! اللہ کا شکر ٹھیک۔ امید ہے آپ بھی خیریت سے ہیں۔(الحمدللہ) س:اپنا مختص...

امی کے نام خط

امی کے نام خط سارہ عمر   السلام علیکم! امید کرتی ہوں آپ جہاں ہوں گی یقینا خوش ہوں گی۔بہت بار سوچا کچھ لکھوں مگر پھر لکھتے لکھتے رک جاتی ہوں ہمت نہیں کر پاتی۔خوشی کو لکھنا آسان ہے غم لکھنا بہت مشکل۔دل پہ جبر کرنا پڑتا ہے۔آج بہت ہمت کر کے کچھ الفاظ لکھنے کی سعی کی ہے۔کاش یہ آپ تک پہنچ پائیں۔ کہنے کو تو آپ کی بیٹی ایک مصنفہ ہے،الفاظ کے موتی پرو کے رنگ برنگ مالائیں تخلیق کر لیتی ہے مگر ماں سے محبت کا اظہار کرنے میں بہت چور ہے۔سال 2021 کا آخری مہینہ بھی اپنے اختتام کو ہے سال پہ سال بیت رہے ہیں مگر میں تو ابھی تک اسی لمحے میں قید ہوں جب آپ کے اس دارفانی سے رخصت ہونے کی خبر ملی تھی۔سنا تھا مرنے والوں پہ صبر آ جاتا ہے مجھے تو لگتا ہے ماں کی موت پہ کبھی صبر آ ہی نہیں سکتا۔یہ تو ساری زندگی کا روگ ہے جسے سینے سے لگائے ہم زندگی بسر کرتے رہتے ہیں۔کہنے کو دنیا کے سامنے ہنستے ہیں مگر چھپ چھپ کے اپنے آنسو اپنے ہی اندر گرا لیتے ہیں۔ دکھ اس بات کا نہیں آپ مجھے چھوڑ گئیں دکھ تو فقط اپنے پچھتاوں کا ہے کہ آپ کی خدمت کا حق ادا نہ کر سکی۔بیماری میں ملنے آئی بھی تو پردیسی بیٹی ہسپتال کے کوریڈور میں م...

انٹرویو عروبہ عامر

انٹرویو مصنفہ و ناول نگار عروبہ عامر میزبان:سارہ عمر  سکندر اعظم نے نہایت کم عمری میں دنیا فتح کی اور اس کے نام کی بازگشت آج تک تاریخ کے اوراق میں سنائی دیتی ہے۔کچھ ایسے ہی کم عمر،اعلی صلاحیتوں کے حامل افراد ہمارے اردگرد موجود ہیں جن سے ہم بے خبر رہتے ہیں۔اگر سکندر اعظم نے آدھی دنیا فتح کی تھی تو ہماری آج کی نشست میں شامل شخصیت نے بھی آدھے پاکستان کے دل تو فتح کر ہی لیے ہیں۔ان کا کام اتنا منفرد ہے کہ ان کے نام کی بازگشت بھی آپ کو جلد ہی ہر سو سنائی دے گی۔ ہماری آج کی شخصیت نہایت کم عمر مصنفہ،ناول نگار اور ایک باخلاق بزنس ویمن عروبہ عامر ہیں۔عروبہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ان کی کتب سراب،جال،امید اور تلاش اپنی مثال آپ ہیں۔عروبہ نا صرف ناول نگار ہیں بلکہ یہ قرآن اکیڈمی کی روح رواں بھی ہیں۔القلم بک اسٹور کے نام سے ان کا کسٹمائز تحائف بنانے کا بزنس بھی ہے جسے یہ بااسلوبی چلا رہی ہیں۔ عروبہ سے میری پہلی بار بات ایک سیشن کے بعد ہوئی جو انہوں نے خصوصی طور پر مسئلہ فلسطین اور تیسری جنگ عظیم کے حوالے سے رکھا تھا۔اس کے بعد کئی بار ہماری ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔میں نے عروبہ کو بہت ہمدرد،ملن...

انٹرویو ہارر رائٹر فلک زاہد

 انٹرویو فلک زاہد ہارر رائٹر ہانی کی مختلف اصناف ہیں جن میں افسانے اور رومانوی ناول زیادہ لکھے اور پڑھےک جاتے ہیں مگر ایک صنف ایسی بھی ہے جس پہ لکھنے والے لکھاری اور پڑھنے والے قاری بے حد مخصوص ہیں۔ڈراونی،پراسرار، اور خوفناک کہانیوں کی اگر بات کی جائے تو ایک مخصوص طبقہ ہی اس کا مطالعہ کرتا ہے اور نہایت ذوق و شوق سے ڈر ڈائجسٹ خرید کر پڑھتا ہے۔ان قارئین کو ڈراؤنی کہانیاں پڑھنے کا چسکا ہوتا ہے اور وہ اپنے پسندیدہ مصنف کی کہانیاں تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر آپ اسی طرح کے ایک قاری ہیں اور ڈر ڈائجسٹ پڑھتے رہے ہیں تو ڈراؤنی کہانیاں لکھنے والی مشہور زمانہ شخصیت فلک زاہد سے ضرور واقف ہوں گے۔جہاں کہیں ہارر کہانیوں کا نام لیا جائے وہاں فلک کا نام آنا لازم و ملزوم ہے۔ فلک کو نا صرف پاکستان کی کم عمر ترین مصنفہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے بلکہ وہ بھی سے ایوارڈ و اسناد بھی اپنے نام کروا چکی ہیں۔ان کو حال ہی میں تسنیم جعفری ایوارڈ اور کیش پرائز سے نوازا گیا ہے۔یہ اپنی ہارر کہانیوں کی کتب ”قدیم چرچ“ اور ”15 پراسرار کہانیاں“کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔ حال ہی اپنی کتاب ”لاش کی سالگرہ “پہ تبصرہ لکھوانے ک...

انٹرویو مصنف و ڈرامہ نگار امجد جاوید

 ادب اور ادیب مصنف،ناول نگار اور ڈراما نگار امجد جاوید انچارج: سارہ عمر ناول نگاری ایک فن ہے اور اس فن کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ہمارے معاشرے میں اردو ادب کی صنف میں ناول کو ایک جداگانہ حیثیت حاصل ہے،مشہور و معروف ڈرامے اکثر و بیشتر مشہور ناولوں کی کہانیوں پہ ہی عکس بند کیے جاتے ہیں۔جنہیں شائقین کی جانب سے بہت پزیرائی حاصل ہوتی ہے۔اردو ادب میں عشقِ حقیقی اور تصوف پہ لکھنے والے خاصے کم ہیں اور ان ادبا میں جن کا نام نمایاں ہے ان میں امجد جاوید صاحب کا نام سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے۔ امجد جاوید صاحب جیسے مصنف،صحافی، کالم نگار، ڈراما نگار، نقاد اور دانش ور کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ان کے لکھے الفاظ اور کتب کے مجموعے ان کے بہترین کام کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔وہ اب تک دو درجن سے زیادہ کتب، جن میں ناول، کہانیوں کے مجموعے، شاعری، تراجم ،دو ڈرامہ سیریل اور نجانے کتنی کہانیاں لکھ چکے ہیں۔ ان کی تخلیقات پر اب تک مختلف مدارج کے چار مقالے لکھے جا چکے ہیں اور بہت سے طالب علم ابھی بھی لکھ رہے ہیں۔ان کے ناول امرت کور، دھوپ کے پگھلنے تک، قلندر ذات، عشق کا قاف اور بے رنگ پیا بہت مشہور ہو ئے ہیں۔ چ...