Skip to main content

انٹرویو ہارر رائٹر فلک زاہد

 انٹرویو

فلک زاہد

ہارر رائٹر



ہانی کی مختلف اصناف ہیں جن میں افسانے اور رومانوی ناول زیادہ لکھے اور پڑھےک جاتے ہیں مگر ایک صنف ایسی بھی ہے جس پہ لکھنے والے لکھاری اور پڑھنے والے قاری بے حد مخصوص ہیں۔ڈراونی،پراسرار، اور خوفناک کہانیوں کی اگر بات کی جائے تو ایک مخصوص طبقہ ہی اس کا مطالعہ کرتا ہے اور نہایت ذوق و شوق سے ڈر ڈائجسٹ خرید کر پڑھتا ہے۔ان قارئین کو ڈراؤنی کہانیاں پڑھنے کا چسکا ہوتا ہے اور وہ اپنے پسندیدہ مصنف کی کہانیاں تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اگر آپ اسی طرح کے ایک قاری ہیں اور ڈر ڈائجسٹ پڑھتے رہے ہیں تو ڈراؤنی کہانیاں لکھنے والی مشہور زمانہ شخصیت فلک زاہد سے ضرور واقف ہوں گے۔جہاں کہیں ہارر کہانیوں کا نام لیا جائے وہاں فلک کا نام آنا لازم و ملزوم ہے۔

فلک کو نا صرف پاکستان کی کم عمر ترین مصنفہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے بلکہ وہ بھی سے ایوارڈ و اسناد بھی اپنے نام کروا چکی ہیں۔ان کو حال ہی میں تسنیم جعفری ایوارڈ اور کیش پرائز سے نوازا گیا ہے۔یہ اپنی ہارر کہانیوں کی کتب ”قدیم چرچ“ اور ”15 پراسرار کہانیاں“کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔

حال ہی اپنی کتاب ”لاش کی سالگرہ “پہ تبصرہ لکھوانے کے حوالے سے فلک سے بات ہوئی تو یہ جان کر بے حد مسرت ہوئی کہ فلک فطرتاً بھی بے حد ملنسار،گھلنے ملنے والی اور نہایت دوستانہ طبیعت کی مالک ہیں۔

چلیے آج ادب و ادیب کی بیٹھک میں آپ کی ملاقات فلک زاہد سے کرواتے ہیں تاکہ آپ بھی ان کے متعلق مزید جان سکیں اور ان کی دلچسپ باتوں کا مزہ لے سکیں۔

السلام علیکم فلک!کیسی ہیں آپ ؟

وعلیکم السلام! اللہ کا شکر ہے ٹھیک ہوں۔



سب سے پہلے تو اپنا مختصر سا تعارف کروائیے تاکہ نئے قارئین آپ کو جان سکیں۔

ج: میرا نام فلک زاہد ہے۔ میں 2 دسمبر کو لاہور میں پیدا ہوئی۔ میں ایک سٹوڈنٹ اور لکھاری ہوں۔ میں نے بہت کم عمری سے لکھنا شروع کیا۔ بچوں کے لیے ہارر اور مافوق الفطرت موضوعات پر لکھنے سے آغاز کیا بعدازاں بڑوں کے لیے ماہنامہ خوفناک لاہور اور ماہنامہ ڈر ڈائجسٹ کراچی میں ہارر سٹوریز اور ناولٹ لکھنے شروع کر دیے جن میں ایم الیاس اور ایم اے راحت جیسے نامور مصنفین لکھتے رہے ہیں۔


آپ کی جائے پیدائش کہاں کی ہے اور بہن بھائیوں میں کونسے نمبر پہ ہیں؟

ج: میری جائے پیدائش لاہور کی ہے اور میں بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہوں۔


س:آپ کی تعلیم مکمل ہو چکی ہے یا ابھی جاری ہے؟

ج: میری تعلیم ابھی جاری ہے، میں نے حال ہی میں ایف اے مکمل کیا ہے۔


س: سب سے پہلے ہمیں کچھ اپنے ادبی سفر کے متعلق بتائیے کہ لکھنے کا آغاز کیسے ہوا؟

ج: میں نے 2012 میں بہت کم عمری سے لکھنا شروع کیا جب میری عمر محض بارہ سال تھی۔ میں کہانیوں والے میگزینز اور کتابیں بہت شوق سے پڑھتی تھی۔ انہی کو پڑھتے ہوئے لکھنے کا بھی شوق پیدا ہوا اور میں نے لکھنے کا آغاز کر دیا۔ لکھنے میں میرا کوئی استاد نہیں ہے۔ میں نے خود ہی پڑھ پڑھ کر لکھنا سیکھا ہے یا یوں کہہ لیں یہ خدا داد صلاحیت ہے۔ خوش قسمتی سے میری لکھی پہلی کہانی ہی ہفتہ روزہ اخبار جہاں کراچی میں شائع ہوگئ۔ اس وقت میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔



س:آپ کے لکھنے کے سفر میں سب سے بڑی انسپریشن کون ہے؟کیا خاندان میں اور بھی کوئی لکھنے کی جانب مائل ہے؟

ج: میں اپنے پورے خاندان میں اکلوتی رائٹر ہوں جس کی چھ کتب منظر عام پر آ چکی ہیں۔ البتہ مطالعے کا شوق والدین سے وراثت میں ملا ہے وہی گھر میں اخبارات و رسائل لاکر رکھتے تھے جنہیں ان کے ساتھ ساتھ ہم بہن بھائی بھی شوق سے پڑھتے تھے۔ بڑوں کو دیکھ کر ہی بچے سیکھتے ہیں لہذا میرے والدین ہی میری انسپریشن ہیں۔



س: ڈراؤنی اور ہارر کہانیاں لکھنے قدرے مشکل کام ہے،اس کا خیال کیسے آیا کہ مجھے اسی صنف پہ کام کرنا ہے اور نام بنانا ہے؟

ج: مجھے دوسروں سے منفرد رہنا اور منفرد کام کرنے کا شوق ہے۔ یہ میرے مزاج کا حصہ ہے۔ میں نے بچپن میں بھی کبھی عام بچوں کی طرح بادشاہ ملکہ جیسی پریوں کی کہانیاں اتنی نہیں پڑھیں جس قدر شوق سے ہارر کہانیاں پڑھتی تھی جو بچوں کے لیے لکھی جاتی تھیں۔ اور پھر میں نے انگلش ہارر موویز بھی بہت دیکھی ہیں۔ مغرب میں اس صنف پر بہت کام ہوا ہے جبکہ مشرق میں خاص کر پاکستان میں اس پر زیادہ کام نہیں ہوا۔ پوری دنیا میں ہارر لکھنے والوں کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر خواتین محبت و عشق پر یا پھر معاشرتی مسائل پر لکھتی ہیں جبکہ ہارر یا سسپنس کہانیوں میں صرف مرد حضرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ چنانچہ جو میرا شوق تھا یعنی ہارر پڑھنا اور لکھنا میں نے اپنی اسی صنف کا انتخاب کیا اور اس میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کی اور دوسری خواتین کو ایک نئی راہ دکھائی۔ اب باقی خواتین بھی اس طرف طبع آزمائی کر رہی ہیں۔



س:آپ نے ہارر،سسپنس،مسٹری،تھرل، ایڈونچر سے بھرپور ناول لکھے ہیں۔ایسا فکشن لکھنے کے لیے انسپریشن کہاں سے لیتی ہیں؟

ج: ایک لکھاری کے لیے کوئی بات، واقع کچھ بھی انسپریشن کا سبب بن سکتا ہے۔ وہ کسی بھی فلم کے سین یا موسیقی کی دھن سے انسپریشن لے سکتا ہے۔ میں نے بچپن سے انوار علیگی، ایم اے راحت اور محمود احمد مودی کو بہت پڑھا ہے۔ ان کے علاوہ بھی سسپنس، مسٹری، تھرل اور ایڈونچر سے بھرپور کئی ناولز پڑھے ہیں اور کئ ڈائجسٹوں میں بےشمار لکھاریوں کو پڑھا ہے۔ وہی سب لکھنے کے لیے میری انسپریشن ہیں جن کو پڑھ پڑھ کر لکھنا سیکھا اور پھر انگریزی ہارر فلمیں دیکھ دیکھ کر بھی نت نئے آئیڈیاز ذہن میں پیدا ہوتے ہیں جنہیں صحفہ قرطاس پر منتقل کر دیتی ہوں۔



س:آپ کے نزدیک سسپنس،مسڑی اور تھرل کیا ہے؟

ج: سسپنس تھرل اور مسٹری وہ صنف ہے جو جرم و سزا کی کہانی بیان کرتی ہے اور ان کہانیوں میں دلچسپی اور لطف بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ کہانی انسان میں خوف و تجسس کو ابھارے۔ کیا کیوں کیسے جیسے سوالوں کو ذہن میں جگائے۔ یہ ایسی صنف ہوتی ہے جسے پڑھتے ہوئے قاری کا دوران خون بڑھ جائے اور اس کی دھڑکن تیز ہو جائے۔ وہ کہانی میں ڈوب کر خود بھی اس گتھی کو سلجھانے میں لگ جائے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے جرم کا مقصد کیا ہے کس نے کیا ہے مزید اور کیا ہوسکتا ہے اور ایک عمدہ مسٹری کے لئے ضروری ہے کہ اختتام میں قاری کو سارے سوالوں کے جواب ملیں اور سسپنس ایسا ہو کہ قاری بے ساختہ داد دے۔



س:کہتے ہیں جیسا لکھتے ہیں اس کے لیے ویسا پڑھنا بھی ضروری ہے تو آپ کس کس ہارر رائٹر کی کتب کا مطالعہ کر چکی ہیں اور خوفناک کہانیوں کے حوالے سے پسندیدہ مصنف کون ہے؟

میرے پسندیدہ مصنف انوار علیگی ہیں۔ ان کے علاوہ ایم اے راحت، محمود احمد مودی، مظہر الحق علوی، ایس امتیاز احمد، ایم الیاس، ضرغام محمود، ایس حبیب خان، ناصر محمود فرہاد، کاوش صدیقی، طاہر جاوید مغل، مونا شہزاد اور ربیعہ امجد کو بہت پڑھا ہے میں نے۔



س:کیا ہارر فلموں سے بھی کہانی کے لیے انسپریشن لیتی ہیں؟کوئی ایسی فلم جسے دیکھتے کوئی کہانی لکھنے کا خیال آیا ہو؟

جی ہاں! جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ ایک لکھاری کے لیے کوئی بھی چیز انسپریشن کا سبب بن سکتی ہے اسی طرح جس لکھاری کو جس صنف پر بھی مہارت حاصل ہو اس سے متعلقہ کوئی بھی کہانی اگر وہ پڑھے یا فلم دیکھے تو کئی نئے آئیڈیاز ذہن میں کلبلانے لگتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے کوئی کہانی پڑھتے ہوئے یا کوئی فلم دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں بھی نئے خیالات جنم لیتے ہیں۔ ہالی وڈ فلم The nun میری پسندیدہ ہارر مووی ہے جو میں نے کئ بار دیکھی ہے اور اسے دیکھتے ہوئے ایک کہانی کا پلاٹ بھی میں نے ذہن میں ترتیب دیا تھا جو تاحال تکمیل کے مراحل میں ہے۔


س: انگریزی ادب اور انگریزی فلموں میں ہارر سیریز کی بھرمار ہے اور اسے بے حد پزیرائی حاصل ہے،یہاں پاکستان میں اس صنف میں لکھنے والوں کا صرف مخصوص طبقہ کیوں ہے؟

ج: اس کی بڑی وجہ ایمان اور مذہب ہے۔ اگرچہ قرآن مجید میں جنات کے وجود کی تصدیق ہے اس کے باوجود ہمارے ہاں ان پر زیادہ یقین نہیں کیا جاتا اگر یقین کیا بھی جائے تو بھی اس طرف زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی جاتی۔ جبکہ دیگر مزاہب جیسا کہ ہندو مذہب میں کالی ماتا کالا جادو یا عیسائی مذہب میں شیطانی عمل چلہ کاٹنا وغیرہ جیسے عملیات کو کافی اہمیت حاصل ہے۔ مر کر دوبارہ جی اٹھنے یا روح کے بھٹکنے جیسے عقاید ان کا حصہ ہیں اسی لیے اس طرح کی کئ فلمیں اور کہانیاں منظر عام پر آتی ہیں جنہیں ہم فکشن سمجھ کر دیکھتے ہیں۔ جبکہ ہمارے مذہب میں صرف جنات کا ذکر ملتا ہے بھوت پریت جیسی چیزوں کا نہیں اس لیے لکھاری حضرات کوئی نیا خیال پیدا کرنے سے قاصر ہیں اور اس صنف پر کم ہی لکھتے ہیں۔


س:کیا کبھی ایسا ہوا کہ کچھ ڈروانی کہانی لکھتے خود کے ساتھ بھی کچھ واقعہ پیش آیا ہو،اگر کچھ ایسا ہے تو ضرور شئیر کیجیے۔

ج: نہیں فی الحال تک تو میرے ساتھ کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ البتہ رات کو تنہائی اور خاموشی میں ڈراؤنے واقعات لکھتے ہوئے دل میں کبھی کبھار خوف ضرور آجاتا ہے۔ یوں بھی میں ہارر رائٹر ہوں میرا کام ڈرنا نہیں بلکہ ڈرانا ہے۔


س:آپ کی اب تک کتنی کتب شائع ہو چکی ہیں اور کس کس پبلشر سے؟

ج: میری اب تک پانچ کتابیں شائع ہوچکی ہیں جبکہ چھٹی کتاب بہت جلد آنے والی ہے۔ چار کتابیں ہارر سٹوریز پر مشتمل ہیں۔ پہلی کتاب کا نام "15 پراسرار کہانیاں" ہے جس میں پندرہ سسپنس، ہارر اور تھرل سے بھرپور کہانیاں ہیں۔ اس کتاب کو الاسد پبلیکیشنز لاہور نے شائع کیا ہے۔ دوسری کتاب "بھوتوں کا تاج محل" ہے جسے میں نے بچوں کے لیے لکھا تھا تاہم بڑے بھی اس سے محظوظ ہوسکتے ہیں۔ اس کتاب کو اشا پبلیکیشنز نے شائع کیا ہے۔ تیسری کتاب "قدیم چرچ" ہے جو کہ مکمل ناولٹ ہے۔ اس کو علی میاں پبلیکیشنز لاہور نے شائع کیا ہے۔ چوتھی کتاب "داستانِ ہوشربا" میں نے بہترین ہارر رائیٹرز کو لیکر انکی کہانیوں کو مرتب کیا ہے جسے اپووا پبلیکیشنز نے شائع کیا ہے۔ پانچویں کتاب "وادی سحر کمراٹ" سفرنامہ ہے جو پاکستان کی جنت نظیر وادی کمراٹ سے واپسی پر میں نے تحریر کیا تھا۔ اسے بھی اپووا پبلیکیشنز نے شائع کیا ہے۔ چھٹی کتاب میری پہچان کے مطابق "ہارر رائٹر" کے نام سے بہت جلد دارالمصحف لاہور سے شائع ہوکر منظر عام پر آ رہی ہے۔


س:آپ کو اب تک کتنے ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے کچھ تفصیل بتائیے۔

ج:مجھے اب تک متعدد ایوارڈز، میڈلز اور سرٹیفیکٹس سے نوازا جاچکا ہے جن کی تعداد پچاس سے زائد ہے۔ جن میں قابلِ ذکر ایوارڈ کے نام یہ ہیں۔

پاکستان کی کم عمر لکھاری ہونے کا اعزاز میرے پاس ہے جس کے باعث مجھے اکادمی ادبیات نے انعم فاطمہ ایوارڈ بمعہ دس ہزار کیش پرائز سے نوازا۔ اس کے علاوہ میری کتاب قدیم چرچ کو بھی اکادمی ادبیات نے ایوارڈ سے نوازا۔ مجھے سفیر امین ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ اور اسکے علاوہ آل پاکستان رائٹرز ویلفیر ایسوسی ایشن (اپوا) نے کئی ایوارڈز سے نوازا جن میں قابلِ ذکر ایوارڈز بہترین ہارر رائٹر، بہترین مصنفہ اور بہترین کتاب ایوارڈ شامل ہیں۔ میری کتابیں 15 پراسرار کہانیاں، قدیم چرچ اور داستانِ ہوشربا کو ایوارڈ یافتہ قرار دیا جاچکا ہے۔ میری کتاب وادی سحر کمراٹ تسنیم جعفری ایوارڈ کے ساتھ پانچ ہزار کیش پرائز جیت چکی ہے۔ میں گولڈ میڈلسٹ بھی ہوں۔


س:آپ نے بارہ سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا اور سترہ سال کی عمر میں پہلی کتاب لکھی۔اس عمر میں تو بچوں کو کھیل کود اور پڑھائی سے فرصت نہیں ملتی تو یہ سب کیسے مینج کیا؟

ج: سب بہت آسانی سے مینج ہوگیا۔ پڑھائی کے وقت صرف پڑھتی تھی اور فراغت میں اپنا شوق پورا کر لیتی تھی۔ یعنی میری فرصت بھی اچھے مشاغل میں صرف ہوتی تھی۔


س:اپنی سب تحریر میں سے کونسی تحریر سب سے زیادہ پسند ہے؟

جس طرح ایک ماں کو اپنا ہر بچہ ہی پیارا اور عزیز ہوتا ہے لیکن لاڈلا کوئی ایک ہوتا ہے اسی طرح ایک لکھاری کو بھی اپنی ہر تحریر پیاری اور عزیز ہوتی ہے تاہم میری لاڈلی اور پسندیدہ تحریر میری "قدیم چرچ" ہے۔



س:کسی نئے پراجیکٹ پہ کام چل رہا ہے تو کچھ اس کے متعلق بھی بتائیے۔

ج: بہت جلد دارالمصحف لاہور سے شائع ہوکر میری نئ ہارر کہانیوں کا مجموعہ "ہارر رائٹر" کے نام سے منظر عام پر آ رہا ہے۔ اس میں ہارر اور سنسنی سے بھرپور ڈراؤنی کہانیاں شامل ہوں گی۔ ہارر رائٹر کتاب میں موجود میری ایک کہانی کا نام ہے اور ایک منفرد کردار میں نے کہانی میں تشکیل دیا ہے اسی بنا پر کتاب کا نام ہارر رائٹر رکھا ہے۔


س: آپ کیا سمجھتی ہیں کہ آپ کی لکھی تحاریر دیگر ہارر لکھنے والے لکھاریوں سے کیسے مختلف ہیں؟

ج: میں ہمیشہ اچھوتے موضوعات کی تلاش میں رہتی ہوں تاکہ کچھ منفرد تخلیق کر سکوں۔ میرا طرز تحریر زیادہ تر مغربی ہوتا ہے جس وجہ سے بعض قارئین کو کہانی کے ترجمہ ہونے کا گماں ہوتا ہے جبکہ وہ طبع زاد ہوتی ہیں۔ میں وسیع کینوس پر وسیع سوچ کے ساتھ لکھتی ہوں۔ مختلف مزاہب اور ان کی تہزیب پر ریسرچ کرتی ہوں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ ایسا لکھوں جو پہلے کبھی نہ لکھا گیا ہو۔ میری کہانیاں صلیب، چرچ اور ان سے متعلقہ عقائد کے گرد گھومتی ہیں۔ 


س:اپنی تحاریر کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہیں؟

ج: تحریر میں وسعت پیدا کرنے کے لیے اور اس کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے مطالعہ سے بڑھ کر بہترین لائحہ عمل کچھ نہیں ہے۔ میں کتابیں بہت شوق سے پڑھتی ہوں مطالعہ میرا جنون ہے جس سے میں نئے نئے الفاظ سیکھتی ہوں، نئ تہزیبوں سے واقفیت حاصل کرتی ہوں اور کہانیوں کے لیے نئے نئے پلاٹ اور خیالات ترتیب دیتی ہوں۔




س:بطور مصنفہ آپ کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

ج: الحمدللہ مجھے زیادہ مشکلات اور چیلنجز کا سامنا نہیں کرنا پڑا ادب کا حصہ بننے میں، کیونکہ میری زندگی بہت سی لڑکیوں سے آسان ہے اس معاملے میں مجھے میری فیملی کی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔ ہاں یہ درست یے کہ اپنا آپ منوانے کے لیے اکیلے ہی جدوجہد کرنی پڑتی ہے تاہم میری جدوجہد کو دیکھتے ہوئے میرے بابا اور میری بہنا نے میرا بہت ساتھ دیا آج میں جو ہوں انہی کی وجہ سے ہوں۔


س:آپ سوشل میڈیا پہ کافی ایکٹیو ہیں،سوشل میڈیا کے ذریعے کونسا ایسا مخلص دوست یا استاد ملا جس نے سیکھنے سیکھانے میں بے حد مدد کی ہو؟

ج: لکھنے، سیکھنے یا سیکھانے میں میرا کوئی استاد نہیں میں پہلے بھی بتا چکی ہوں البتہ سوشل میڈیا کے ذریعے کئ ایسے مخلص دوست احباب ملے جن میں سنئیرز و جونیئرز سب شامل ہیں ان سب نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر بہت حوصلہ افزائی کی۔ کسی ایک کا نام لینا زیادتی ہوگی۔ آج میں جو کچھ ہوں انہی دوست احباب اور محبت کرنے والے اپنے قارئین کی بدولت ہوں۔


س: آپ نے سفر نامے پہ بھی طبع آزمائی کی ہے،کچھ اس کے متعلق بتائیے کہ سفر نامہ لکھتے کن پہلوؤں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟

ج: باریک بینی سے ہر چیز کا مشاہدہ اور پھر دلچسپ انداز میں مشاہدات و تجربات اور اپنی گزری حسین یادوں کو سپردِ قلم کرنا بہُت ضروری ہوا کرتا ہے تاکہ آپکا قاری آپکے الفاظ کے ذریعے آپ کے ساتھ ساتھ سفر کرے۔ ان مشاہدات میں مطلوبہ مقامات کی معلومات بھی شامل ہیں جس کے متعلق آپ سفرنامہ لکھتے ہیں۔



س:اب تک کا سب سے یادگار سفر کونسا رہا؟

ج: یوں تو میں نے بہت سفر کیے ہیں مگر وادی کمراٹ میں گزرا وقت اور وہ سفر میرے لیے بہت یادگار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی کا پہلا سفرنامہ "وادی سحر کمراٹ" لکھا تاکہ کمراٹ کی حسین یادوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر سکوں۔


س:سفرنامے لکھنے والے سیاح سفر کے دلدادہ ہوتے ہیں،آپ کس جگہ جانے کی خواہش مند ہیں جہاں ابھی تک نہیں جا سکیں؟

ج: ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زندگی میں ایک بار مکہ و مدینہ کا سفر کرے۔ میری یہ خواہش ہے کہ میرے ساتھ ساتھ میرے بابا بھی حج و عمرہ کی سعادت حاصل کریں، اللہ کے گھر کعبہ شریف کی زیارت کریں اور رسول پاکﷺ کے روضہ مبارک پر حاضری دیں۔ اس کے علاوہ میری شدید خواہش ہے کہ اللہ پاک مجھے زیارات کے لیے سفر ایران و عراق نصیب کریں اور میں نجف میں مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور کربلا میں امام حسینؑ کے روضہ اقدس میں حاضری دوں۔




چلیے اب کچھ اپنی پسند نا پسند کے متعلق بتائیے۔


پسندیدہ کتاب: عصمت چغتائی کی ایک قطرہ خون (واقع کربلا پر لکھی داستاں)


پسندیدہ مصنف: انوار علیگی


پسندیدہ شاعر: نزار قبانی

 

پسندیدہ کھانا: چکن کا سالن

پسندیدہ لباس: جینز اور ٹاپ


پسندیدہ خوشبو: گلاب اور چنبیلی کی مہک



پسندیدہ رنگ: بلیک


س:لکھنے کے علاؤہ دیگر کن مشاغل کو باقاعدگی سے وقت دیتی ہیں؟

ج: مجھے گھومنے پھرنے کا بہت شوق ہے۔ اب تک پاکستان کے کئی خوبصورت شمالی علاقہ جات کی سیاحت کر چکی ہوں۔ سال میں دو تین بار ضرور کہیں نہ کہیں جاتی ہوں۔ اس کے علاوہ لاہور کی ادبی تقریبات و محافل میں شرکت کرنا اور کتابیں پڑھنے کا بہت شوق ہے۔ یہی سب میری مصروفیات اور مشاغل ہیں۔


س: اپنی کون سی خوبی بہت پسند ہے جس سے نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے؟

ج: دوسروں پر جلد بھروسہ کر لینے کی اور معاف کر دینے کی خوبی مجھ میں ہے جس سے اکثر اوقات نقصان بھی اٹھاتی ہوں۔


س:اپنی کونسی خامی بہت بری لگتی ہے؟

ج: میں بہت جلد غصے میں آجاتی ہوں اور بعض اوقات غصے پر قابو نہ پا سکنے کی وجہ سے تلخ جملے بول جاتی ہوں۔



س:اگر کوئی لکھاری ہارر لکھنا چاہے تو اسے کیا پیغام دیں گی؟

ج: میں یہ پیغام دینا چاہوں گی کہ اپنے مطالعہ میں وسعت کے ساتھ ساتھ اپنی معلومات میں بھی اضافہ کریں۔ اپنی منظر کشی مضبوط کریں۔ مختلف مزاہب و تہذیب سے واقفیت حاصل کریں تاکہ آپ سب روائتی روح کے انتقامی موضوعات سے ہٹ کر کچھ نیا تخلیق کر سکیں۔




س:آخر میں کوئی خاص پیغام اپنے قارئین کو دینا چاہیں گی۔

خوش رہیں اور خوش رکھیں۔ دوسروں کی زندگیوں میں رکاوٹ مت ڈالیں نہ ہی کسی کے نجی معاملات میں دخل اندازی کریں۔ کسی کے جذبات کے ساتھ مت کھیلیں۔ مخلص رہیں، دھوکا دہی اور جھوٹ سے گریز کریں۔











فلک آپ سے مل کر اور آپ کو جان کر بے حد اچھا لگا امید کرتی ہمارے قارئین بھی آپ سے مل کر ضرور محضوظ ہوئے ہوں گے۔

اب ہمیں اجازت دیجیئے اگلے ماہ پھر کسی نئی شخصیت کے ساتھ حاضر ہوں گے۔اللہ حافظ۔

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...