Skip to main content

Posts

انٹرویو عروبہ عامر

انٹرویو مصنفہ و ناول نگار عروبہ عامر میزبان:سارہ عمر  سکندر اعظم نے نہایت کم عمری میں دنیا فتح کی اور اس کے نام کی بازگشت آج تک تاریخ کے اوراق میں سنائی دیتی ہے۔کچھ ایسے ہی کم عمر،اعلی صلاحیتوں کے حامل افراد ہمارے اردگرد موجود ہیں جن سے ہم بے خبر رہتے ہیں۔اگر سکندر اعظم نے آدھی دنیا فتح کی تھی تو ہماری آج کی نشست میں شامل شخصیت نے بھی آدھے پاکستان کے دل تو فتح کر ہی لیے ہیں۔ان کا کام اتنا منفرد ہے کہ ان کے نام کی بازگشت بھی آپ کو جلد ہی ہر سو سنائی دے گی۔ ہماری آج کی شخصیت نہایت کم عمر مصنفہ،ناول نگار اور ایک باخلاق بزنس ویمن عروبہ عامر ہیں۔عروبہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ان کی کتب سراب،جال،امید اور تلاش اپنی مثال آپ ہیں۔عروبہ نا صرف ناول نگار ہیں بلکہ یہ قرآن اکیڈمی کی روح رواں بھی ہیں۔القلم بک اسٹور کے نام سے ان کا کسٹمائز تحائف بنانے کا بزنس بھی ہے جسے یہ بااسلوبی چلا رہی ہیں۔ عروبہ سے میری پہلی بار بات ایک سیشن کے بعد ہوئی جو انہوں نے خصوصی طور پر مسئلہ فلسطین اور تیسری جنگ عظیم کے حوالے سے رکھا تھا۔اس کے بعد کئی بار ہماری ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔میں نے عروبہ کو بہت ہمدرد،ملن...

انٹرویو ہارر رائٹر فلک زاہد

 انٹرویو فلک زاہد ہارر رائٹر ہانی کی مختلف اصناف ہیں جن میں افسانے اور رومانوی ناول زیادہ لکھے اور پڑھےک جاتے ہیں مگر ایک صنف ایسی بھی ہے جس پہ لکھنے والے لکھاری اور پڑھنے والے قاری بے حد مخصوص ہیں۔ڈراونی،پراسرار، اور خوفناک کہانیوں کی اگر بات کی جائے تو ایک مخصوص طبقہ ہی اس کا مطالعہ کرتا ہے اور نہایت ذوق و شوق سے ڈر ڈائجسٹ خرید کر پڑھتا ہے۔ان قارئین کو ڈراؤنی کہانیاں پڑھنے کا چسکا ہوتا ہے اور وہ اپنے پسندیدہ مصنف کی کہانیاں تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر آپ اسی طرح کے ایک قاری ہیں اور ڈر ڈائجسٹ پڑھتے رہے ہیں تو ڈراؤنی کہانیاں لکھنے والی مشہور زمانہ شخصیت فلک زاہد سے ضرور واقف ہوں گے۔جہاں کہیں ہارر کہانیوں کا نام لیا جائے وہاں فلک کا نام آنا لازم و ملزوم ہے۔ فلک کو نا صرف پاکستان کی کم عمر ترین مصنفہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے بلکہ وہ بھی سے ایوارڈ و اسناد بھی اپنے نام کروا چکی ہیں۔ان کو حال ہی میں تسنیم جعفری ایوارڈ اور کیش پرائز سے نوازا گیا ہے۔یہ اپنی ہارر کہانیوں کی کتب ”قدیم چرچ“ اور ”15 پراسرار کہانیاں“کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔ حال ہی اپنی کتاب ”لاش کی سالگرہ “پہ تبصرہ لکھوانے ک...

انٹرویو مصنف و ڈرامہ نگار امجد جاوید

 ادب اور ادیب مصنف،ناول نگار اور ڈراما نگار امجد جاوید انچارج: سارہ عمر ناول نگاری ایک فن ہے اور اس فن کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ہمارے معاشرے میں اردو ادب کی صنف میں ناول کو ایک جداگانہ حیثیت حاصل ہے،مشہور و معروف ڈرامے اکثر و بیشتر مشہور ناولوں کی کہانیوں پہ ہی عکس بند کیے جاتے ہیں۔جنہیں شائقین کی جانب سے بہت پزیرائی حاصل ہوتی ہے۔اردو ادب میں عشقِ حقیقی اور تصوف پہ لکھنے والے خاصے کم ہیں اور ان ادبا میں جن کا نام نمایاں ہے ان میں امجد جاوید صاحب کا نام سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے۔ امجد جاوید صاحب جیسے مصنف،صحافی، کالم نگار، ڈراما نگار، نقاد اور دانش ور کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ان کے لکھے الفاظ اور کتب کے مجموعے ان کے بہترین کام کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔وہ اب تک دو درجن سے زیادہ کتب، جن میں ناول، کہانیوں کے مجموعے، شاعری، تراجم ،دو ڈرامہ سیریل اور نجانے کتنی کہانیاں لکھ چکے ہیں۔ ان کی تخلیقات پر اب تک مختلف مدارج کے چار مقالے لکھے جا چکے ہیں اور بہت سے طالب علم ابھی بھی لکھ رہے ہیں۔ان کے ناول امرت کور، دھوپ کے پگھلنے تک، قلندر ذات، عشق کا قاف اور بے رنگ پیا بہت مشہور ہو ئے ہیں۔ چ...

گول روٹی،مزاحیہ تحریر

*گول روٹی* سارہ عمر  الریاض، سعودی عرب۔ زمانۂ قدیم سے اب تک عورت کے سگھڑاپے کی واحد نشانی گول روٹی قرار دی جاتی ہے۔ روٹی جتنی نرم، گول، خستہ، پھلکے کی مانند ہوگی عورت اتنی ہی سگھڑ ہوگی۔ بھلا بندہ پوچھے کہ عورت کے سگھڑاپے کا معیار جانچنے کے لیے اسے کیا نان بائی کی بیٹی بنانا ضروری ہے؟ گول روٹی کے بغیر کیا عورت سگھڑ نہیں کہلائی جا سکتی؟لیکن نہیں بھئی! زمانہ بدل گیا، دنیا چاند پہ پہنچ گئی، مریخ پہ زندگی کے آثار مل گئے۔جدید سے جدید ٹیکنالوجی آ گئی مگر نہیں بدلی تو دیسی ساسوں اور شوہروں کی سوچ نہیں بدلی۔ گول روٹی ہوگی تو بہو کو پورے نمبر ملیں گے ورنہ جتنا بھی پڑھ لے، جتنے مرضی میڈل حاصل کر لے، جتنی مرضی ڈگریوں کے ڈھیر لگا دے۔ گھر داری میں تو اسے کاٹا مار کر بڑا سا انڈا ہی ملے گا۔ یعنی سگھڑاپہ زویرہ بالکل زویرہ۔ گول روٹی نہیں تو کچھ نہیں۔ ارے بھئی لڑکی ڈاکٹر ہے، انجینئر ہے، قابل استانی ہے، سائنسدان ہے، آفیسر ہے یا جہاز اڑاتی ہے۔ ہماری بلا سے جو بھی کرتی ہو روٹی تو ہمیں بس گول ہی چاہیے۔ اب چاہے ہاتھ سے چھنڈ کر پتلی کرے یا بیل کر، کوئی قید تھوڑی ہے بس روٹی گول ہو۔ بالکل چاند کی طرح گول مٹو...

کدھر جائیں گے ؟طنز و مزاح

 مر کے بھی چین نہ پایا،تو کدھر جائیں گے؟ سارہ عمر ”زندگی مسائل،مصیبت اور قید خانے کا نام ہے۔“ فیاض میاں نے پان چباتے منہ سے روز کی طرح زہر اگلا تھا۔ ”تو کیا کریں رہنا تو یہیں ہے نا!کیا مر جائیں؟“ قیصر کو روز کی طرح آج بھی غصہ آیا تھا۔ابھی پچھلے ہفتے فیاض کی دکان سے سودا لینے آیا تھا تو سارا راشن بیس ہزار میں آ گیا تھا اور آج جب وہی چیزیں خریدنے کی نوبت آئی تو پچیس ہزار کا بل بنا کر پکڑا دیا۔ ”ارے بھئی یہ کیا مذاق ہے؟“ قیصر نے پوچھا تھا ”مذاق نہیں ہے میاں بل ہے بل۔۔۔“ فیاض میاں نے پان کی پیک تھوکتے اطلاع دی تھی۔ ”کبھی تو میں سوچتا ہوں کہ زندہ رہنے سے تو بہتر ہے بندہ مر ہی جائے۔“ قیصر کی تنخواہ میں گزارا کرنا ہی مشکل تھا اوپر سے بل دیکھ کر رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا۔ ”تو میاں یہ شغل بھی پورا کر کے دیکھ لو۔۔ہم کہہ رہے ہیں اگر جو تم اس ملک میں سکون سے مر کے بھی دیکھا دیو تو ہمارا نام بدل دیو۔۔۔“ فیاض میاں کا اطمینان اپنی جگہ بدستور قائم تھا۔ ”پہلے تو گھبرا کہ یہ کہیے تھے کہ مر جاوئیں گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جاوئیں گے۔۔۔ بس یہی حال ہے۔اب تو توبہ توبہ قبر ہی اتنی مہنگی ہو رہے ہے کہ ...

کچھ پل کی خوشی ۔حصہ دوئم

  کچھ پل کی خوشی حصہ دوم تحریر: زلیخا واجد مجددی معاونت: سارہ عمر گزشتہ کہانی کا خلاصہ: عمیر اور سبرینہ قطر میں کافی سال سے مقیم تھے اور ان کے دو بچے بھی تھے۔عمیر کے ہر وقت مصروف رہنے اور بیوی کو وقت نہ دینے کے باعث سبرینہ اپنے کیک بیک کرنے کے کاروبار کا آغاز کرتی ہے جہاں انسٹاگرام پہ اس کی ملاقات آزر سجیب نام کے ایک کافی بارٹنڈر سے ہوتی ہے۔وہ دن بدن اس کی محبت میں گرفتار ہوتی چلی جاتی ہے۔آزر سبرینہ کو دوست کے فلیٹ پر بلا کر نشہ آور دوائی پلا دیتا ہے جس کے بعد سبرینہ اپنی عزت سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔عمیر کو اپنے دوست شہریار کے ذریعے فلیٹ سے سبرینہ کا لاکٹ ملتا ہے اور وہ دونوں جب اسے واپس آزر کو دینے جاتے ہیں تو عمیر اسے قتل کر دیتا ہے جس پہ پولیس اسے گرفتار کر لیتی ہے جبکہ سبرینہ کچھ پل کی خوشی کی خاطر اپنے گھر،اپنی محبت،اپنے شوہر اور اپنے بچوں سب کو گنوا دیتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب آگے پڑھیے: عمیر کا ذہن اس وقت بری طرح منتشر تھا۔ خود کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پا کر وہ بے یقینی کی سی کیفیت میں خود کو بے وجود سا محسوس کر رہا تھا۔اس کو اپنا آپ بے وزن سا لگ رہا تھا ایسے جس طرح وہ ہوا کے...