Skip to main content

Posts

خالی ہاتھ حصہ دوئم

اگلے دن صبح دس بجے میں اسے جگہ پہنچ گیا. مجھے لے کے ماہ نور ایک پارک میں بیٹھ گئی.اس ماہ جبین کا نام ماہ نور تھا. اس کے والد کے انتقال کو تین سال گزر گئے تھے اور اس کی والدہ ڈائلیسس پہ تھیں. ایک چھوٹی بہن جو پانچویں جماعت میں پڑھتی تھی وہی اس کا واحد سہارا تھی. ایسے حالات میں تنگ آ کر جب گھر سے نکلنے کا سوچا تو میٹرک پاس لڑکی کو کہیں پر بھی اچھی نوکری نہ مل سکی. اسکی کسی جاننے والی نے اسے اس ہوٹل کی نوکری کا بتایا تھا جہاں تماش بین روزانہ ہزاروں روپے لٹا دیتے ہیں. ہوٹل میں اس نے باقاعدہ رقص کی مہارت حاصل کر کے یہ کام شروع کر دیا تھا. اس کام میں اتنا پیسہ تھا کہ جتنا وہ چھ مہینے کی نوکری میں بھی نہ کما سکتی. اس کا ایک مخصوص رکشے والا ہر روز اسے مخصوص وقت پر اس کے گھر سے اٹھاتا اور رات کو گلی کنارے چھوڑ دیتا. اس کا گنجان آباد علاقے میں جلدی سو جانے والے لوگوں کو خبر بھی نہ تھی ان کے پڑوس میں رہنے والے اس گھر میں کفالت کون کر رہا ہے. وہ چاہتی تھی اگر اسے شادی کرکے سہارا دوں تو اس کی والدہ اور بہن کا خرچہ بھی میں اٹھاؤں. میں ان سب چیزوں کے لیے راضی تھا. مجھے ان باتوں پر کوئی اعتراض نہ ت...

موتی

یہ پچھلے سال کی بات ہے. میری بہن کی شادی تھی میں بہت مصروف تھی. انہی دنوں میں اپنے بیٹے کے ساتھ بازار گئی. گاڑی میں بیٹھے اسے ایک موتی ملا. وہ اسے دیکھ رہا تھا. میں نے بھی زیادہ دھیان نہیں دیا کہ پانچ سال کا بچہ ہے. میرا دھیان کسی دوسری طرف تھا جب اس نے وہ درمیانے سائز کا موتی لے کر اپنی ناک میں ڈال لیا. میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے. وہ موتی سانس لینے کی وجہ سے ناک کی ہڈی تک چلا گیا. مجھے اس نے بتایا تک نہیں کہ ڈانٹ پڑے گی. اگلے دن اس کی ناک سے خون سا نکلا. میں نے پونچھا اور اس کی ناک صاف کرنے لگی تو وہ چیخا. مجھے تب بھی سمجھ نہیں آئی کہ ہوا کیا ہے. صبح اسکول گیا واپس آ کر سویا تو مجھے لگا اس کی ناک میں کچھ سفید ہے لیکن جب ہاتھ لگوں تو وہ چیخے.. شام کو میں نے ہوم ورک کروانے کے لیے بیٹھایا. (میں جب بھی اسے ہوم ورک کرواؤں اور نہ کرے تو بہت غصہ آتا ہے.) اس دن بھی یہی ہوا وہ کام کر ہی نہیں رہا تھا. میں نے غصے میں آ کر ایک تھپڑ اس کے سر پہ رسید کیا کہ ایک دم ناک سے موتی نکل کر فرش پہ گر گیا. یہ دیکھ کر میری چیخیں نکل گئیں... میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اتنا بڑا بچہ...

خالی ہاتھ

ہال میں روشنیاں جگمگا رہیں تھیں. رقص و سرور کی محفل اپنے عروج پہ تھی. ہر کوئی مست تھا.صرف ایک وہی تھا جسے سوائے اس حسینہ کو دیکھنے کے کوئی اور کام ہی نہ تھا. وہ حسین تھی، خوبصورت تھی اور اس محفل کی جان تھی. اس کے دراز گیسو، لمبی غلافی آنکھیں، سرخ انگارہ سرخی سے سجے ہونٹ جہاں اسکو اپنی جانب کھینچ رہے تھے وہیں اس کے جسم کے نشیب و فراز، اس کے رقص کی رنگینی ہر ایک کے لیے ہی مرکز نگاہ بنی ہوئی تھی. بھلا کوئی اتنا خوبصورت بھی ہوتا ہے؟وہ حیران تھا.. .............................. کالج تک تو کبھی وہ کو ایجوکیشن میں بھی نہیں پڑھا تھا مگر یونیورسٹی میں نہ صرف کو ایجوکیشن تھی بلکہ اسے اپنے آبائی گاؤں کی حویلی چھوڑ کر شہر آنا پڑا تھا. جیسے ماں کی گود سے نکلا بچہ کھو جائے تو پریشان ہو جاتا ہے بالکل ایسا ہی حال منیر نواز ملک کا بھی تھا. جس کی حویلی میں بڑے بڑے زنان خانے اور مردان خانے تھے. وہ لڑکیوں کے ساتھ کلاس میں کیسے بیٹھتا؟ شہر کے لڑکے لڑکیوں کے ساتھ کرسیاں ڈھونڈتے تھے اور وہ کسی الگ تھلگ جگہ کی تلاش میں رہتا.. اوو شرمیلی بنو.. ذرا چوڑیاں پہنا دو.. لڑکوں نے بھی اب مذاق اڑانا شروع کر دیا تھا....

Collect moments not things

کتنی خوبصورت جگہ ہے.. میں جب پہلی بار ناران گئی تھی تو بس یہی حالت تھی. اونچے پہاڑ، خوبصورت وادیاں، آبشار، سرسبز درخت.. بس دل کرتا ہے دیکھتے ہی رہو.. جھیل سیف الملوک تو قدرتی حسن کا مجموعہ ہے. اسے دیکھ کر کوئی خود پہ اختیار نہ رکھ سکے. سارا وقت موبائیل سے تصویریں لینے میں گزرا اور میرے میاں صرف ان مناظر کو خود میں جذب کرتے رہے. کبھی کیمرے کی آنکھ سے باہر دیکھا ہے یہ دنیا بہت خوبصورت ہے... گھر آنے پہ انہوں نے کہا تھا. تب سے آج تک سارا دھیان ان لمحوں سے لطف انداز ہونے میں گزرتا ہے جو بھی کسی خوبصورت جگہ گزاریں..

اميد

اس کی سپورٹس کار چمچماتی سڑک پہ رواں تھی. اس نے کالے سوٹ پہ کالا اور سرخ باریک دوپٹہ گلے میں ڈال رکھا تھا جو ہوا سے اڑ رہا تھا. اس کا خوبصورت چہرہ دھوپ میں چمک رہا تھا. اس کے ہونٹوں پر نیچرل کلر کی لپ اسٹک لگی تھی. لمبی لمبی پلکوں پہ نفیس سا لائنر لگائیے. اس نے اپنی آنکھیں ایک ادا سے اٹھائی اور ریان کی جانب دیکھا. اس کے خوبصورت ہونٹ مسکرا رہے تھے. لمبی لمبی مخروطی انگلیوں سے اس نے اپنے سلکی بالوں کو ایک جھٹکا دیا اور ادا سے بولی اور کتنی دیر ہے ریان؟ بس آتا ہی ہوگا. ریان اس کی آنکھوں میں جھانکتا بولا. وہ دلکشی سے مسکرائی. گاڑی میں چلتے گانے میں وہ دونوں ہی کھو گئےتھے. تیرا میرا رشتہ پرانا.... وہ سننے لگی مگر اچانک گاڑی کو بریک لگی اور اس کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکرایا. آہ... اس کے منہ سے کراہ نکلی تھی. کٹ... ویل ڈن.... بیک اپ.... باقی کل... ڈائریکٹر ہدایات دینے لگا. وہ گاڑی سے اتری اور لمبی ہیل سے سہج سہج چلتی چینج روم میں چلی گئی. اس نے جلدی سے کپڑے چینج کیے تھے اگر ڈائریکٹر چلا جاتا تو مسئلہ ہو جانا تھا. کپڑے بدل کر باہر آئی. ا...

سمندر میں چابی

یہ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ہمارے پورے خاندان نے دمام جانے کا پلان بنایا۔۔تاکہ اچھی سی پکنک کی جائے اور سمندر پہ نہایا جائے۔چار پانچ فیملیز اکھٹے گئیں تھیں۔سب سمندر میں گھسے اور نمکین پانی میں خوب غوطے لگائے۔۔سوائے ہمارے میاں کے جن کو پانی سے زیادہ نیند پیاری ہے سو وہ سکون سے گاڑی میں اے سی لگا کر سوتے رہے اور باقی سب لوگ مزے کرتے رہے۔ جب سب نہا کر فارغ ہوئے تو ہمارے میاں صاحب آنکھیں ملتے اٹھے اور منہ ہاتھ دھونے چل پڑے۔۔ اسی وقت پتہ چلا کہ ان کے بڑے بھائی کی گاڑی کی چابی غائب ہے اور اب گاڑی نہیں کھول سکتی سو سب سامان بھی لوک ہو گیا ہے۔اضافی ابی بھی نہ تھی اور چابی تھی بھی ریمورٹ والی آٹومیٹک گاڑی کی۔اب تو سب کا رخ سمندر کی جانب تھا۔ ہمارے اونگتے ہوئے میاں صاحب نے خبر سننی اور کپڑے بدل کر سکون سے سمندر کے اندر گئے جدھر وہ نہائے تھے پہلا ہاتھ مارا چابی نکالی اور واپس آ گیا۔۔۔ سب لوگ حیرت سے انہیں تکتے ہی رہ گئے اور سب نے کہا کہ اتنی دور سے تم صرف چابی ڈھونڈنے کے لیے ہی آئے تھے۔۔۔ ہم خود یہی فرماتے رہے کہ پکنک تو منائی نہیں سمندر کا پانی توچکھا نہیں۔۔۔پھر اتنے سفر کا فائدہ؟؟ مگر پھر اق...

قصہ ان راتوں کا

ہر لکھاری ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔کوئی کسی مخصوص اوقات میں لکھتا ہے۔۔کوئی روز۔۔مجھے تو جب نزول ہو تبھی لکھتی ہوں۔۔ویسے اب تک میں نے سماجی معاشرتی موضوعات پہ ہی زیادہ لکھا ہے۔لیکن جب ایالف کتاب کی جانب سے خوفناک اور پرسرار کہانیاں منگوائیں گئیں تو سوچا اس پہ بھی قلم اٹھایا جائے۔۔ میںخود نہایت ڈرپوک واقع ہوئی ہوں اور مجھ سے کچھ بھی ہارر نہیں دیکھا جاتا۔۔پھر بھی ناجانے کیوں ایک حویلی کا قصہ لکھنا شروع کر دیا۔مری میں واقع ایک حویلی جس میں ایک پرسرار روح موجود تھی۔ساری کہانی دن کے اوقات میں لکھی تبھی اتنا خوف محسوس نہ ہوا۔قصہ اس حویلی کا مکمل ہوئی تو بھجوانے کے کچھ دن بعد ایک ایڈیٹر کا فون آیا کہ اس کو تھوڑا طویل کر دیا جائے تاکہ پڑھنے والے محظوظ ہو سکیں۔۔ اس دن میرے میاں صاحب حج پہ روانہ ہو رہے تھے۔ان کے جاتے ہی رات کا سکون میسر آتے ہی میں کاغذ قلم پکڑے بیٹھ گئی۔۔سوچ سوچ کر لکھ رہی تھی کہ لگا باہر دروازے پہ کھٹکا ہوا ہے۔ڈر ڈر کے دیکھا کوئی نہ تھا۔پھر کچھ لکھا تو لگا پہ دروازہ بج رہا ہے اس بار بھی کوئی نہیں تھا۔پھر بیٹھی ہی تھی کہ کمرے کا دروازہ بند ہو گیا۔۔مجھے لگا کہ مری کی چڑیل اس کم...